Baaghi TV

Tag: شاعر

  • ڈرامہ نویس  اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد

    ڈرامہ نویس اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد

    جس میں محنت تو ہو پر بھوک مٹائے نہ کبھی
    ہم نے وہ رزق ہی بونے سے بغاوت کی ہے

    علی زاہد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور سندھی کے معروف ادیب، شاعر، صحافی ، کالم نگار ، ڈرامہ نویس اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد صاحب 15 اگست 1973 میں تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو سندھ کے قصبہ خانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام زاہد علی اور عباسی قبیلے سے تعلق ہے لیکن وہ علی زاہد کے قلمی نام سے مشہور ہیں ۔ ان کی مادری زبان سندھی ہے لیکن اردو اور سندھی زبان میں لکھتے اور شاعری کرتے ہیں ۔ ان کی تعلیمی قابلیت بی اے اور ڈپلومہ ہولڈر ہیں ۔ انہوں نے نظم اور نثر میں لکھنے کا آغاز 1997 سے کیا جبکہ صحافتی کیریئر کا آغاز 1999 میں سندھی روزنامہ، شام اور ہلچل سے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا ۔

    روزنامہ سچ، روزنامہ، سندھو، روزنامہ تعمیر سندھ کے ادارتی صفحہ کے انچارج اور عبرت میگزین کے اسسٹنٹ ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جاگو سے کیا جس کے بعد روزنامہ ہلچل، سندھو، عبرت، عبرت میگزین، سندھ ڈائجسٹ، تعمیر سندھ اور سوب Sobh میں مجموعی طور پر 2000 کے لگ بھگ کالم، آرٹیکلز اور اداریے لکھے ہیں وہ اس وقت سندھی زبان کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ کاوش کے ایڈیٹوریل پیج کے انچارج کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور کالم نگاری بھی کر رہے ہیں ۔ علی زاہد ڈرامہ نگار بھی ہیں سندھ اور پنجاب میں انہوں نے متعدد ڈرامے اسٹیج کئے ہیں جبکہ سندھی زبان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل K T N کے ڈرامہ ” ھوء اکیلی” (وہ اکیلی) میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ۔

    علی زاہد کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں سندھی کی دو کتابیں ” ناچٹی” (رقاصہ) اور ” عدم کان اگتی” (عدم سے آگے) اور اردو شاعری کی کتاب” الفاظ کی خانہ بدوشی” شامل ہیں سندھی زبان کے نامور شاعر جمن دربدر کی سوانح حیات پر مبنی کتاب” وٹھی ہر ہر جنم وربو” بھی ان کی تصنیف ہے۔ علی زاہد ایک حساس ادیب، شاعر، صحافی اور کالم نگار ہیں جن کی تحریروں خواہ شاعری میں غم دنیا ، غم روزگار اور رومانویت شامل ہیں ۔ وہ ایک سیلانی طبیعت کے مالک ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمن در بدر کی زندگی پر بھی قلم اٹھایا ہے اس لیے قاری کو ان کی شاعری میں بوریت ، اکتاہٹ اور مایوسی کا احساس نہیں ہوتا۔

    علی زاہد کی اردو اور سندھی شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جس میں محنت تو ہو پر بھوک مٹائے نہ کبھی
    ہم نے وہ رزق ہی بونے سے بغاوت کی ہے

    جب بھی گیا موہن جو دڑو کی گلیوں میں
    چہرے سب جانے پہچانے لگے ہیں

    جو بت شکن تھے وہ بت ساز بن چکے کب کے
    خدا کی خلق پہ انساں کا دور دورا ہے

    تا عمر بھیڑیوں سے لڑا ہے سکون سے
    درویش جھونپڑی میں پڑا یے سکون سے
    میں لو میں، پیاس میں، افلاس میں بھی ہوں زاہد
    میں تھر کی ریت میں ، برسات میں ملوں گا تمھیں

    جنہوں نے عمر بھر انصاف رکھا تاک نسیاں پر
    لگی ٹھوکر تواٹھتے ہی ، سزا کی بات کرتے ہیں

    وہی ہے التجا اب بھی ، وہی گریہ غریبوں کا
    وہی تیور ہیں صاحب کے ، انا کی بات کرتے ہیں

    کچھ تھا بیزار زہد سے زاہد
    کچھ بے ایمان کر گئے تم بھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الائي ڪير آ مون ۾، الائي ڪير آهيان مان؟
    مٽيءَ تي ايئن پيو آهيان، مٽيءَ جو ڍير آهيان مان!

    بقا جي بات ناهي ڪا، فنا جو فلسفو آهيان،
    ٽِڪي پيو وقت آ مون ۾، جُڳن جو ڦير آهيان مان.

    اکين جي ساهمي تنهنجيءَ عجب هي تور ڪئي منهنجي!
    رَتِي منهنجو وزن نڪتو! مون سمجهو سير آهيان مان!

    اوهان جي ماڳ جا منظر مٺي ڌنڌلائبا هوندا،
    اگهو بس آرسي پنهنجي، گهڙيءَ جو مير آهيان مان.

    اهي سج، چنڊ، تارن جون سموريون روشنيون اڪري،
    وڌيو هو بيخوديءَ مان جو عدم ڏي، پير آهيان مان.

    پُڇو ٿا ڪير آ زاهد! ڪٿان آيو، ڪٿي ويندو!؟
    الائي ڇو نه ٿا سمجهو! الائي ڪير آهيان مان!
    ,………….

    رقص آ؟ ڇير آ؟ نه ٿو ڄاڻان،
    مون ۾ هي ڪير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    دل جي ڌڪ ڌڪ ۽ وقت جي ٽڪ ٽڪ،
    ضبط آ، ڦير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    بس خبر آ ته توسان عشق آهي،
    پاءُ آ، سير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    ڇو ٿيو آ ڪڏهن منُ ماڪوڙي؟
    ڇو ڪڏهن شير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    منهنجي بربادين پٺيان ڪنهنجو،
    هٿ آ، پير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    هي به ڪافي آ، هم قدم آهين،
    آخري سير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    دوست زاهد اکين جا اجرا سڀ،
    ڪنهنجي دل مير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.
    ,…………

    جاڳ جا ڌڻي شاعر, رات پڻ سفر آھي
    شاعري آ پنڌ اوکو, ڏآت پڻ سفر آھي

    سج کي ڏسي ڪوئي هو رڳو سفر ناهي
    ٻاٽ ۾ ھوء جگنوء جي جهات پڻ سفر آھي

    زندگيء جي شطرنج جي مونجھ ڪير ڪيئن سمجهي,
    .جيت ماڳ آھي پر مات پڻ سفر آھي

    تو پرن سان جهاڳيون هن, منزلون پکيئڙا پر
    جا ٽلي ٿي ٽاريء تي, لات پڻ سفر آھي.

    اڄ جو علي زاهد, ڪالھ آنء آدم هئس,
    وقت ئي سفر ناهي, ذات پڻ سفر آھي.

  • مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    ولی صاحب

    تاریخ پیدائش : 10 اگست 1908

    شاعری کی دنیا میں کچھ افسوسناک پہلو بھی واقع ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کافی ایسے شعرا گزرے ہیں جن کی شاعری یا ان کا کلام قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوتے ہیں کہ وہ زبان زد خاص و عام ہوتے ہیں مگر شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا یا پھر وہ شاعری کسی اور شاعر کے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہو جاتی ہے ایسے ہی شعراء کی فہرست میں برصغیر کے گیت نگار اور فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر ولی محمد خان المعروف ولی صاحب ہیں جن کا نعتیہ کلام دنیا بھر میں مشہور ہوا جس کا بول ہے

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    ایا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    اس نعتیہ کلام کو سب سے پہلے گانے کی سعادت 1937 میں گلوکارہ شمشاد بیگم کو حاصل ہوئی جس کی دھن مشہور موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے تیار کی تھی اس کے بعد نیرہ نور سمیت بہت سے گلوکاروں اور نعت خوانوں نے گایا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ میں نے فیس بک اور گوگل پر بہت سرچ کیا مگر شاعر کا نام کہیں بھی اس کلام کے ساتھ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ ولی صاحب نے 36 اردو فلموں کیلئے 200 کے لگ بھگ گیت لکھے ہیں ۔ ولی صاحب 10 اگست 1908 میں پونا ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1956 میں وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان میں آباد ہوئے مشہور شاعر ناظم پانی پتی ان کے بھائی تھے۔ ولی صاحب نے معروف اداکارہ ممتاز شانتی سے شادی کی۔ 1997 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    مشہور زمانہ نعت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنّت کی جوانی
    سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی

    عاشق ہوں مجھے عشق ہے دیوار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    واللہ رازدار ہیں طیبہٰ کے باب کے
    بکھرے ہوئے ورق مری دل کی کتاب کے
    مجھ کو سنبھالیئے مجھے اپنی جناب سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
    ہر اشک پہ اک خُلد ہے ہراشک کی قیمت
    تحفہ یہ ملا ہے مجھے دربار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    حاضر گدائے در ہے شہنشاہ ! السلام
    مولا سلام سرورِذی جاہ ! السلام
    دونوں جہاں کے قبلہ ء حاجات ! السلام

    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

  • میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی، میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی، میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی
    میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    بشریٰ سحر

    شاہدہ بشریٰ سحر 06 اگست 1972ء کولکاتا(ہندستان) میں پیدا ہوئیں تصنیف:نمودِ سحر (مجموعۂ کلام)2019 ہندوستان اور باہر کے کئی ممالک میں تخلیقات شائع ہوتی ہیں علاوہ ازیں مشاعروں میں شرکت ، ہوڑہ رائٹرز ایسوسی ایشن سے 22 مارچ کو ملنا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے پروگرام ملتوی ہوگیا۔
    منصب
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سکریٹری نشر و اشاعت
    بزمِ نثار، کولکاتا
    ۔ (2)سکریٹری نشر و شاعت
    صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی، کولکاتا
    ممبر شپ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بزمِ نثار، کولکاتا
    ۔ (2)صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی، کولکاتا
    ۔ (3)ہوڑہ رائٹرز ایسوسی ایشن
    پتا: 46 /1 /ایچ /15 ،گورا چاند روڈ
    کولکاتا 14

    معروف شاعرہ شاہدہ بشریٰ سحر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کا شعری مجموعہ ’نمودِ سحر‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مظفر نازنین ، کولکاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شہر نشاط کولکاتا ہندستان کی ایک معروف میٹرو پولیٹن سٹی ہے۔ اپنے اس شہر کی خاصیت بالکل مختلف ، منفرد اور جداگانہ ہے۔ اخلاق رواداری، مخلصانہ تہذیب، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی یہاں کا طرّہ امتیاز ہے۔ شہر نشاط کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں اردو بنگلہ کے معروف شاعر اور شاعرات نے جنم لیے۔ شعرا اور ادبا جو یہاں پیدا ہوئے بیشتر عالمی شہرت یافتہ ہے-

    یہ حقیقت ہے کہ کامیابی کی منزل کو طے کرنے میں لڑکیوں کو لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ مشکلوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس شہر میں شاہدہ بشریٰ سحر نے جنم لیا۔ جن کا پہلا شعری مجموعہ 152 صفحات پر مشتمل ”نمودِ سحر“ کی اشاعت 2019 میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے تحت ہوئی ہے جس کو وہ اپنے والد محترم شمیم الہدیٰ مرحوم اور اپنی والدہ محترمہ صادقہ شمیم مرحومہ کے نام اپنے ایک شعر کے ساتھ منسوب کرتی ہیں۔
    اولاد سے ماں باپ کا رشتہ جو ہے قائم
    اس رشتے سے رشتہ کوئی بڑھ کر نہیں ہوتا

    غزل کی تعریف کرتے ہوئے محترمہ شاہدہ بشریٰ سحر کہتی ہےں ”اردو شاعر میں غزل ایک مقبول صنف ہے جو شاعر اور شاعر نواز دونوں کی ادبی تسکین کا وسیلہ بنتی ہے۔ شاعری اس فن کا نام ہے جس میں گرد و پیش کے تمام حالات سے شاعر کو سابقہ پڑتا ہے۔ جن کو وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہوئے قلم کے ذریعہ سپرد قرطاس کرکے محفوظ کیا ہے۔ شاہدہ بشریٰ سحر ایک خدا ترس خاتون ہیں جو ہمیشہ تقدیر پر شاکر رہتی ہےں۔ موصوفہ کی شادی 1994ءمیں ہوئی اور 2010 میں شریک حیات نے داعی اجل کو لبیک کہا یعنی 16 سال کی قلیل مدت میں جب شوہر کا انتقال ہوچکا۔ بچے چھوٹے ہوں تو اس مشکل دور کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے یعنی یہ صاف شیشے کی مانند عیاں ہے کہ ذرہ سے آفتاب کا سفر طے کرنے میں شاہدہ بشریٰ کو صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور بہت مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ شاعر کا ایک شعر ہے جو بشریٰ سحر پرصادق آتا ہے۔
    رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد
    سرخرو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

    محترمہ شاہدہ بشریٰ سحر نے تمام پریشانیوں کے باوجود یکسوئی سے اپنا تعلیمی سفر شروع کیا اور ثابت قدمی کے ساتھ منزل کی جانب گامزن رہےں۔ حوصلہ انسان کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتا ہے۔شاہدہ بشریٰ سحر کی ایسے دور میں ملاقات ڈاکٹر نعیم انیس سے ہوئی۔ جو ان کے استاد بھی رہ چکے ہیں وہ کہتی ہیں انہوں نے مجھے دوبارہ پڑھنے کےلئے کہا اور ہماری امی نے بھی حوصلہ دیا تو میں نے اس راہ پر قدم بڑھایا اور ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی۔ سچی لگن، انتھک کوشش ہو تو خدا بھی ساتھ دیتا ہے۔ اس سے قبل کلکتہ کے صاحب دیوان شاعر محترم حلیم صابر سے بھی اصلاح لی۔ انہوں نے مطالعہ کرنے کی نصیحت کی۔ اس طرح کئی اساتذہ ملتے گئے اور ان کی رہنمائی موصوفہ کےلئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ چند غزلوں پر حضرت قیصر شمیم سے بھی اصلاح لی ۔ اس کے بعد کے دور میں مشہور شاعر ضمیر یوسف نے بھی ادبی رہنمائی کی اور اب باقاعدہ طور پر محترم حلیم صابر سے اصلاح لیتی ہےں اور ان کی احسان مند ہیں جنہوں نے شاعری کے میدان میں کھڑا ہونا سکھایا ہے۔ زیر نظر کتاب ”نمود سحر“ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اشرف احمد جعفری نے بھی ان کا پورا پورا ساتھ دیا ہے۔

    حمد باری تعالیٰ کے کچھ اشعار ملاحظہ کریں
    تیرے بندے بھٹک نہیں سکتے
    ظلمت زیست میں ضیاءتو ہے
    نعت سرور کونین کے چند اشعار ہیں جس سے وہ خوبصورت روح پرور نظارہ آنکھوں کے سامنے آجا تا ہے
    نبی کے نام سے حاصل سکوں ہو قلب مضطر کو
    خدا کا نام لوں تو ذہن و دل بیدار ہوجائے
    اگر آب کرم کا ایک قطرہ ہو عطا آقا
    تو یہ تپتی ہوئی ہستی مری گلزار ہوجائے
    بسالوں گنبد خضریٰ سحر میں اپنی آنکھوں سے
    اگر شہر مدینہ کا مجھے دیدار ہوجائے
    علم و ہنر کی اہمیت کے تعلق سے موصوفہ کی غزل کے خوبصورت اشعار ملاحظہ کریں
    عزت کے ساتھ گزرے گی اس کی ہی زندگی
    جو زندگی گزارے گا علم و ہنر کے ساتھ
    جب بھی اپنے لئے دعا کیجیے
    مجھ کو بھی یاد کر لیا کیجیے
    جس کے عیبوں کا تذکرہ کیجیے
    آئینہ سامنے رکھا کیجیے
    غیر کی عیب جوئی سے پہلے
    خود پہ بھی اک نظر کیا کیجئے
    شاعر اسے خوبصورت انداز میں اس طرح کہتا ہے
    نظر پڑتی نہیں اس کی کبھی اپنے گریباں پر
    وہ ظالم مسکراتا ہے مرے حالِ پریشاں پر
    یہ شعر ملاحظہ کریں
    عہد ماضی کے جھرونکوں سے جو جھانکا میں نے
    زلزلے آئے مرے قلب کے اندر کتنے
    بلاشبہ ماضی ایک یاد ہے۔ ماضی ایک تجربہ ہے اور ماضی ایک سبق ہے۔ کسی شاعر نے ماضی کے تعلق سے یوں کہا ہے
    یاد ماضی عذاب ہے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
    شاہدہ بشریٰ سحر کے دل میں خوفِ خدا ہے اور ماشاءاللہ کافی دیندار ، سنجیدہ طبیعت کی مالک ہےں جس کا ذکر انہوں نے اس شعر سے کیا ہے
    خدا اگر ہمارے دلوں میں نہ رہتا
    تو ہم سے خدا کی عبادت نہ ہوتی
    ایک عظیم شخصیت ہمیشہ ہی چاہتی ہے کہ اس کی شخصیت سے دوسروں کو فیض پہنچے۔ بقول شاعر
    جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹاتا ہے
    کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
    اس خوبصورت شعر کو شاہدہ بشریٰ سحر اپنے طور پر یوں کہتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    میں ہوں وہ شمع کہ جس گھر میں جلاؤگے مجھے
    نور سے اپنے میں روشن اسے کر جاؤں گی
    عیب جوئی کرنا یا غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ شاہدہ بشریٰ سحر اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ شعر رقم کرتی ہے۔
    غیر کی عیب جوئی سے پہلے
    خود پہ بھی اک نظر کیا کیجئے
    ماضی میں کسی شاعر نے اس جذبے کو مندرجہ ذیل شعر میں رقم کیا تھا۔
    نظر پڑتی نہیں اس کی کبھی اپنے گریباں پر
    وہ ظالم مسکراتا ہے میرے حال پریشاں پر
    بشری سحر خدا کی وحدانیت کے تعلق سے مندرجہ ذیل شعر رقم کرتی ہیں
    سجدہ خدا کو کرنا ہے یہ جان لے سحر
    اس کے سوا کسی کو نہ سجدہ کریں گے ہم
    اور پھر خدا سے لَو لگاتی ہیں اور خدا کی ذات سے امید رکھے ہوئی ہےں۔
    اللہ کے دامن سے لپٹ جاؤ سحر تم
    اور اس کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے
    آج بشریٰ سحر شہر نشاط کے مشاعرے میں شرکت کرتی ہیں بلکہ عالمی مشاعرے میں بھی جلوہ افروز ہوتی ہےں۔ اپنی اس کامیابی کو اپنے والدین کی دعاؤں کا اثر سمجھتی ہیں جو یوں بیان کرتی ہیں۔
    ماں باپ کی دعا نے سحر حوصلہ دیا
    قدموں کو میں نے پیچھے ہٹایا نہیں کبھی
    ان کا ذہن حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے جس کا اظہار اس شعر سے کرتی ہیں
    وطن پہ جاں لٹاتے ہیں
    اسے سجدہ نہیں کرتے
    اپنی منزل کی جانب گامزن اور رواں دواں رہتی ہیں۔ پوری مستعدی، تہذیبی اور ثابت قدمی کے ساتھ منزل کو پانے کی کوشش کی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا تھا
    میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
    بشریٰ سحر کے خوبصورت شعر اس ضمن میں ملاحظہ کریں
    منزل کی سمت اکیلے رواں ہم بھی کیا ہوئے
    تنہا تھے رفتہ رفتہ مگر قافلہ ہوئے
    آج کے دور میں جب وطن عزیز نےCovid-19 Pandemic اور Lock Door کے زیر اثر ہے۔ اس درد و کرب کے ماحول اور غم و الم کے سماں کو شاعرہ کی حساس ذہنیت اور دور اندیش نظریں دیکھتی ہےں اور یہ شعر رقم کرتی ہیں۔
    ہر شخص کرب ذات میں لپٹا ہوا ہے آج
    ہے کون جو جہاں میں اسیر الم نہیں
    دولت مند اور سرمایہ دارانہ نظام کےلئے شاہدہ بشریٰ سحر ایک طنزیہ شعر کہتی ہیں۔
    نہ جانے کون سا جادو ہے مال و دولت میں
    کہ مال داروں کو دنیا سلام کرتی ہے
    سنہرے ماضی میں ہندستان کے نامور شاعر جن کی زندگی درد و کرب مصائب و آلام سے لبریز ہے ، یوں کہا تھا
    تو امیر شہر ستمگراں – میں گدائے کوچہ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے – میں غریب ہوں تو برا ہے کیا
    موصوفہ کی شخصیت پختہ وعدہ کرنے کی ہے۔ وعدہ کیا تو وفا کی۔ اس سے کبھی فکریں نہیں
    ذلیل و خوار نہ کیوں کر ہو ایسی شخصیت
    جو وعدہ کرتی ہے وعدہ سے پھر مکرتی ہے
    میری فطرت میں ہے شامل یہ صفت
    وعدہ کرکے نہ مکرنا آیا
    کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جو شدید لگن ، جدوجہد اور محنت سے منزل کو پانے کی کوشش کرتا ہو۔
    کامیابی تو اسی نے پائی
    جس کو مشکل سے گزرنا آیا
    آج مغربی تہذیب کے پروردہ لوگوں کےلئے ایک خوبصورت شعر جو بلاشبہ نئی نسل کےلئے عبرت ہے۔
    نئی تہذیب کے دلدادہ لوگ
    بے حیائی کو حیا کہتے ہیں
    بشریٰ مری حیات کا منظر بدل گیا
    جب خواب عشق مرا حقیقت میں ڈھل گیا
    کیا جانے کس بزرگ کی کام آگئی دعا
    بادل مصیبتوں کا مرے سر سے ٹل گیا
    سو بار اس کے عزم کو کرتے ہیں ہم سلام
    ٹھوکر جو کھا کے راہ وفا میں سنبھل گیا
    بچوں کے ساتھ میں جو سحر کھیلتی رہی
    اور ان کو ہنستا دیکھ کے دل بھی بہل گیا
    میں نے پوری کتاب کا ”نمودِ سحر“ کا بغور مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ شاہدہ بشریٰ سحر نے زندگی کے تلخ حقائق و تجربات اور مشاہدات کا جائزہ لیا ہے۔ درد و کرب جو انکے ذہن میں پیوست ہے۔ اشعار کے آبشار سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور اسے اشعار کے گوہر سے پروکر اشعار کا ایک خوبصورت گلدستہ تیار کیا جو ”نمود سحر“ انکا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ میں ان کی اس شاہکار تخلیق پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں اور بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا انہیں صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ایک انسان بدلتا ہے جو پیکر کتنے
    میری آنکھوں نے دکھائے ہیں وہ منظر کتنے
    اپنی طاقت پہ بہت ناز جو کرتے تھے کبھی
    مل گئے خاک میں وہ ظلم کے لشکر کتنے
    عہد ماضی کے جھروکوں سے جو جھانکا میں نے
    زلزلے آئے مرے قلب کے اندر کتنے
    بن گئی شاخ ثمر دار مری ہستی جب
    لالچی ہاتھوں سے پھینکے گئے پتھر کتنے
    سرنگوں کر دیا طوفاں نے انھیں پل بھر میں
    سر اٹھائے تھے کھڑے پیڑ تناور کتنے
    جب بھی پھیلی ہے زمانے میں سحرؔ گمراہی
    آئے لوگوں کی ہدایت کو پیمبر کتنے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    درسِ وفا بطرزِ جفا دے گیا مجھے
    کیا جانے کس خطا کی سزا دے گیا مجھے
    دل پر ابھی بھی لذتِ الفت کا ہے اثر
    عہد شباب ایسا مزا دے گیا مجھے
    خوشبو کی طرح زندہ رہو اس زمانے میں
    اک پھول کھل کے درس بقا دے گیا مجھے
    میں بن کے پھول راہ میں جس کی بکھر گئی
    وہ خار بن کے زخم ہرا دے گیا مجھے
    کہتے ہیں غم اٹھانے کو زندہ رہیں گے آپ
    وہ بددعا کے ساتھ دعا دے گیا مجھے
    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کرسکی
    میرا ضمیر درسِ حیا دے گیا مجھے
    ایسی تو زندگی نے پلائی نہ تھی کبھی
    جام قضا عجیب مزہ دے گیا مجھے
    بشریٰ وہ ہمسفر مرا راہوں میں کھوگیا
    جو منزل وفا کا پتا دے گیا مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میری خوشیوں سے ہے یوں دیدۂ تر کا رشتہ
    جیسے ہوتا ہے شبِ غم سے سحر کا رشتہ
    اپنے پیروں کے میں چھالوں کی طرف کیوں دیکھوں
    تیری چاہت سے ہے جب میرے سفر کا رشتہ
    آج کل کون سمجھتا ہے کسی کے غم کو
    کس سے منسوب کروں زخم جگر کا رشتہ
    آنسوؤں سے مری آنکھوں کا وہی رشتہ ہے
    جیسے ہوتا ہے سمندر سے بھنور کا رشتہ
    میرے دل میں تری چاہت بھی اسی صورت ہے
    جس طرح نیل گگن سے ہے قمر کا رشتہ
    بس یہی میری تمنا ہے جبیں سائی کی
    اس کے در سے رہے قائم مرے سر کا رشتہ
    اس سے ہے میرا تعلق بھی اسی طرح سحرؔ
    جس طرح شاخ سے ہوتا ہے ثمر کا رشتہ

  • آئینۂ خیال تھا  عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    مجال ترک محبت نہ ایک بار ہوئی
    خیال ترک محبت تو بار بار کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وحشت رضا کلکتوی

    اردو کے معروف شاعر رضا علی المعروف وحشت رضا کلکتوی 18 ؍نومبر 1881ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ امپریل ریکارڈ ڈپارٹمنٹ میں چیف مولوی کے عہدے پر فائز رہے۔ بعدازاں کلکتہ میں اسلامیہ کالج میں اردو اور فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ 1931ء میں حکومت وقت نے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ شمس فرید پوری سے تلمذ حاصل تھا جو حضرتِ داغؔ کے شاگرد تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وحشت کلکتہ سے ہجرت کر کے ڈھاکہ چلے گئےاور وہیں30؍ جولائی 1956ء کو وفات پا گئے۔ وحشتؔ نے غالب کا تتبع بڑی خوبی سے کیا ہے ۔ کلام کا پہلا مجموعہ ’’دیوانِ وحشت‘‘ 1911ء میں شائع ہوا جس میں کچھ فارسی کلام بھی شامل تھا۔ ’’ترانۂ وحشت‘‘ کے نام سے مکمل کلام کا مجموعہ 1950ء میں چھپا۔ ’’نقوش و آثار‘‘ بھی ان کی تصنیف ہے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:288

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . . . . . .

    اے کاش مرے قتل ہی کا مژدہ وہ ہوتا
    آتا کسی صورت سے تو پیغام تمہارا

    دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا
    بیکسی میں کوئی تو پرسانِ حال آ ہی گیا

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا
    طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    میں نے مانا کام ہے نالۂ دل ناشاد کا
    ہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا

    ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
    جبینِ شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا

    ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے
    کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے

    رُخِ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ
    کہ جیسے ہو طلوعِ آفتاب آہستہ آہستہ

    نہیں ممکن لبِ عاشق سے حرف مدعا نکلے
    جسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے

    وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی
    نہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسی

    مجال ترک محبت نہ ایک بار ہوئی
    خیال ترک محبت تو بار بار کیا

    کس طرح حسن زباں کی ہو ترقی وحشتؔ
    میں اگر خدمت اردوئے معلیٰ نہ کروں

    خیال تک نہ کیا اہل انجمن نے ذرا
    تمام رات جلی شمع انجمن کے لیے

    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

    دونوں نے کیا ہے مجھ کو رسوا
    کچھ درد نے اور کچھ دوا نے

    ہوا ہے شوق سخن دل میں موجِ زن وحشتؔ
    کہ ہم صفیر مرا رعب سا سخنداں ہے

  • یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ،غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ،غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ماہر القادری

    اردو کے معروف شاعر ماہر القادری کا اصل نام نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ القادری ہے۔ وہ 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد بجنور سے نکلنے والے مشہور اخبار ’مدینہ‘ سے وابستہ ہو گئے۔ ’مدینہ‘ کے علاوہ اور بھی کئی اخباروں اور رسالوں کی ادارت کی۔ ممبئ میں قیام کے دوران فلموں کے لئے نغمے بھی لکھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان متقل ہو گئے۔ کراچی سے ماہنامہ ’فاران‘ جاری کیا جو بہت جلد اس وقت کے بہترین ادبی رسالوں میں شمار ہونے لگا۔ ماہر القادری نے تنقید ، تبصرہ ، سوانح ، ناول کے علاوہ اورکئی نثری اصناف میں لکھا ۔ ان کی نثری تحریریں اپنی شگفتگی اور رواں اسلوب بیان کی وجہ سے اب تک دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ ماہر القادری کی بیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: "آتشِ خاموش”، "شیرازہ” ، "محسوساتِ ِ ماہر”، "نغمات ِماہر” ، "جذباتِ ِ ماہر”، "کاروانِ حجاز” ، "زخم و مرہم” ، "یادِ رفتگاں” ، "فردوس” اور "طلسمِ حیات”۔ 12 مئی 1978ء کو جدہ میں ایک مشاعرے کے دوران حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار :

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
    غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
    دل یہ کہتا ہے فریبِ دوست کھاتے جائیے

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں
    انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی

    یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
    کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی

    نقابِ رخ اٹھایا جا رہا ہے
    وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

    پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
    محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

    اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے
    جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود

    یوں کر رہا ہوں ان کی محبت کے تذکرے
    جیسے کہ ان سے میری بڑی رسم و راہ تھی

    ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
    دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی

    مرے شوقِ دیدار کا حال سن کر
    قیامت کے وعدے کیے جا رہے ہیں

    چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے
    آگ پانی میں لگا کر چل دیئے

  • یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں ، جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں ، جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے
    شوق کو تعلق ہی کب ہے پائوں تھکنے سے

    ادیبؔ سہارنپوری

    اردو کے معروف شاعر عبدالرئوف المعروف ادیب سہارنپوری 28؍مئی 1920ء کو سہارنپور ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے 16 جولائی 1963 میں کراچی میں انتقال ہوا۔

    منتخب کلام

    منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے
    شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے

    اپنے اپنے حوصلوں اپنی طلب کی بات ہے
    چن لیا ہم نے انہیں سارا جہاں رہنے دیا

    راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں
    غم پالتی ہے عمر گریزاں نئے نئے

    ہزار بار ارادہ کئے بغیر بھی ہم
    چلے ہیں اٹھ کے تو اکثر گئے اسی کی طرف

    باندھ کر عہد وفا کوئی گیا ہے مجھ سے
    اے مری عمر رواں اور ذرا آہستہ

    یہی مہر و ماہ و انجم کو گلہ ہے مجھ سے یارب
    کہ انہیں بھی چین ملتا جو مجھے قرار ہوتا

    اک خلش کو حاصل عمرِ رواں رہنے دیا
    جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا

    آرزوئے قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے
    فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا

    کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
    عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا

    اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے
    چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا

    کون اس طرزِ جفاۓ آسماں کی داد دے
    باغ سارا پھونک ڈالا آشیاں رہنے دیا

    یہ بھی کیا جینے میں جینا ہے بغیر ان کے ادیبؔ
    شمع گل کر دی گئی باقی دھواں رہنے دیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے
    محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے

    یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں
    جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    کس کس سے اس امانت دیں کو بچایئے
    ملتے ہیں روز دشمن ایماں نئے نئے

    راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں
    غم پالتی ہے عمر گریزاں نئے نئے

    مسجد میں اور ذکر بتوں کا جناب شیخ
    شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے

    دم بھر دم اجل کو نہ حاصل ہوا فراغ
    ہوتے رہے چراغِ فروزاں نئے نئے

    خانہ خراب ہم سے جہاں میں کہاں ادیبؔ
    آباد کر رہے ہیں بیاباں نئے نئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا
    نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی, اُسے چاندنی نے جلادیا

    میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا, مجھے آپ اپنی خبر نہیں
    وہ شخص تھا میرا رہنما , اُسے راستوں میں گنوادیا

    جسے تو نے سمجھا رقیب تھا , وہی شخص تیرا نصیب تھا
    ترے ہاتھ کی وہ لکیر تھا, اسے ہاتھ سے ہی مٹادیا

    مری عمر کا ابھی گلستان ,تو کھلا ہوا ضرور پر!
    وہ پھول تھے تیری چاہ کے، انہیں موسموں نے گرا دیا

  • سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں، ہوا کےدوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں، ہوا کےدوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں
    ہوا کے دوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    خواجہ جاویدؔ اختر

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خواجہ جاویدؔ اختر 02؍ستمبر 1964ء کو کنانکارا میں 24 پارگناس، مغربی بنگال میں پیدا ہوئے تھے. انہوں نے 1989ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو ) کیا. انہوں نے پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل، اتر پردیش، الہ آباد کے دفتر میں سینئر اکاؤنٹ کے طور پر کام کیا. غزلوں کے مجموعے کی پہلی کتاب "نیند شرط نہیں” نام سے لکھا جو 2010ء میں شائع ہوئی۔13؍جولائی 2013ء میں الہٰ آباد میں خواجہ جاویدؔ اختر انتقال کر گئے.

    منتخب اشعار
    دل کی دنیا ہے مصیبت سے بھری رہتی ہے
    پھر بھی ہر شاخِ تمنا کی ہری رہتی ہے
    —–
    چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا
    کیا بد نصیب تھا وہ کہیں کا نہیں رہا
    —–
    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں
    ہوا کے دوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں
    —–
    موجوں کا شور و شر ہے برابر لگا ہوا
    دریا سے اس قدر ہے مرا گھر لگا ہوا
    —–
    گزرنا رہِ گزاروں سے بڑا آسان تھا پہلے
    علاقہ ہم جہاں رہتے ہیں وہ سنسان تھا پہلے
    —–
    زمیں سے اٹھے ہیں یا آسماں سے آئے ہیں
    یہ لوگ شہر میں جانے کہاں سے آئے ہیں
    —–
    میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے
    بہت اپنے بارے میں میں نے سنا ہے
    —–
    ہم اپنے وقت کے بالا بلند سورج تھے
    غروب ہو گئے کس طرح درمیاں سے ہم
    —–
    ہر وقت یہ احساس دلانے کا نہیں میں
    تیرا ہوں فقط سارے زمانے کا نہیں میں
    —–
    بناتے رہتے ہیں جاویدؔ کشتیاں لیکن
    ہم ان کے واسطے پھر بادباں بناتے ہیں

  • رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے، کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے

    رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے، کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے

    رحمت النساء ناز

    (پیدائش: 28 جون 1932ء
    وفات: 9 جولائی 2008ء)

    منتخب کلام

    کتنے لگے ہیں زخم جگر پر کسے خبر
    ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
    ——
    اب تو ہے صرف آمد فصل بہار یاد
    دل ایک پھول تھا جو سر شاخ جل گیا
    ——
    میں سب کچھ بھول جاتی ہوں
    کبھی موسم بھی بدلے تھے
    دھنک کے رنگ پھیلے تھے
    مرے آنگن میں بھی شاید
    کبھی اک چاند اترا تھا
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    وہ دن جب زندگی کو
    زندگی کی چاہ ہوتی تھی
    کسی کے اک اشارے پر
    دھڑکتا تھا کسی کا دل
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    ستاروں کا تبسّم
    مسکرانا غنچہ وگل کا
    مرا شہر نگاراں
    اور کئی مانوس رستے بھی
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    ——
    جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا
    محسوس یہ ہوا کوئی طوفان ٹل گیا
    اب تو ہے صرف آمدِ فصلِ بہار یاد
    دل ایک پھول تھا جو سرِ شاخ جل گیا
    جب تک کسی کا نقشِ کفِ پا ہمیں ملا
    ہم سے کچھ اور دور زمانہ نکل گیا
    ہر گُل کے ساتھ ساتھ ہے اک پاسبانِ گُل
    گُل چیں کو ارتباطِ گل و خار کھل گیا
    کچھ راہروانِ شوق بھٹکنے سے بچ گئے
    ہم کیا سنبھل گئے کہ زمانہ سنبھل گیا
    ممکن نہیں کہ بزمِ طرب تک پہنچ سکیں
    اب کاروانِ شوق کا رستہ بدل گیا
    اے نازؔ غم نہیں جو فرشتہ نہ بن سکا
    کیوں اہرمن کے روپ میں انسان ڈھل گیا
    ——
    ایک بوڑھا خزاں رسیدہ شجر
    جس نے اِک عمر سب کا ساتھ دیا
    جب مسافر اگر کوئی تھکتا
    یا، تپش دھوپ کی ستاتی اسے
    اس کے سائے میں بیٹھ جاتا تھا
    اس کے سائے میں کھیل کر بچّے
    ایسے خوش ہوتے جیسے جنت ہو
    اس کی بانہوں میں جُھولتے تھے کبھی
    اور شاخوں سے کھیلتے تھے کبھی
    چھاؤں میں اس کی بیٹھ کر کچھ لوگ
    اپنے دکھ سکھ کے قصّے کہتے تھے
    راز کتنے ہی دفن تھے اس جا
    آج اس میں نہ شاخ ہے نہ ثمر
    اب کسی کو نہیں ہے اس کا خیال
    ہائے بوڑھا خزاں رسیدہ شجر!
    ——
    رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے
    کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے
    کتنے لگے ہیں زخمِ جگر پر کسے خبر
    ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
    اشکوں نے راز دل کا کیا جب کبھی عیاں
    کتنی ہوئی ہے مجھ کو ندامت نہ پوچھیے
    ——
    کتنے لمحے ، کتنی گھڑیاں ، کتنے دن
    وقت کے بہتے سمندر کے حوالے کر گئے
    کتنی خوشیاں ، کتنے جذبے ، کتنے رشتے
    بھیک کے پیار کی خاطر غیروں سے منسوب کیے
    کتنا درد چھپایا اپنا ، کتنے پرائے دکھ اپنائے
    کتنے پتھر موم کیے ، کتنے پتھر کنکر چُن کر
    کتنے رستے آسان کیے
    ——
    اگر پیروں میں اک زنجیر پڑ جاتی تو اچھا تھا
    مرے سینے میں بھی پتھر کا دل ہوتا تو اچھا تھا
    مرے ہونٹوں پہ بھی اک مُہر لگ جاتی تو اچھا تھا
    سماعت بھی اگر میری کھو جاتی تو اچھا تھا
    جگر کی آگ بھی ٹھنڈی ، جو ہو جاتی تو اچھا تھا
    بھرم میرا اگر تھوڑا سا رہ جاتا تو اچھا تھا
    مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا
    وہ باقی آنکھ بھی پتھر کی ہو جاتی تو اچھا تھا
    مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا

  • وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے

    وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے

    وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے
    ہمارے درد دل میں کچھ کمی ہوتی تو اچھا تھا

    میر یٰسین علی خاں

    نواب میر یٰسین علی خان 4 جلائی 1908ء کو حیدرآباد میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا نواب میر حسن علی خاں دو گانوں کے جاگیردار اور داغ دہلوی کے شاگرد اور دوست بھی تھے۔ نواب میر یٰسین علی خان نے شروعاتی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کی اور آگے کی تعلیم کے لئے وہ علی گڑھ چلے گئے۔ جہاں سے انہونے بی اے کی ڈگری 1929ء میں اور ایم اے کی ڈگری 1931ء میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ حیدرآباد واپس آ گئے اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی۔ وہ 1971ء میں اس ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
    نواب میر یٰسین علی خان پدم بھوشن سے نوازے گئے ۔ وہ بزم ادب اردو حیدرآباد اور علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوشیشن لندن کے صدر رہے۔
    نواب میر یٰسین علی خان 1996ء کو لندن میں وفات پا گئے۔

    منتخب کلام

    میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا
    اپنا ملا سراغ مجھے بے خودی کے بعد

    کیا رسم احتیاط بھی دنیا سے اٹھ گئی
    یہ سوچنا پڑا مجھے تیری ہنسی کے بعد

    گھبرا کے مر نہ جائیے مرنے سے فائدہ
    اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد

    آئے ہیں اس جہاں میں تو جانا ضرور ہے
    کوئی کسی سے پہلے تو کوئی کسی کے بعد

    اے ابر نو بہار ٹھہر پی رہا ہوں میں
    جانا برس کے خوب مری مے کشی کے بعد

    مرتے تھے جس پہ ہم وہ فقط حسن ہی نہ تھا
    یہ راز ہم پہ آج کھلا عاشقی کے بعد

    اے موسم بہار ٹھہر آ رہا ہوں میں
    دامان چاک چاک کی بخیہ گری کے بعد

    کہتے ہیں جس کو موت ہے وقفہ حیات کا
    دریائے زیست ایک ہے ساحل جگہ جگہ

    دیر و حرم سے دور ہے شاید ترا مقام
    یاں ورنہ ہر قدم پہ ہے منزل جگہ جگہ

    خوش رنگ و خوش نگاہ خوش اندام خوب رو
    پھیلے ہوئے ہیں شہر میں قاتل جگہ جگہ

  • اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔

    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کےدرجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے