Baaghi TV

Tag: شاعر

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے،  ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

    وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے، ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

    میں تو لمحات کی سازش کا نشانہ ٹھہرا
    تو جو ٹھہرا تو ترے ساتھ زمانہ ٹھہرا

    اردو کے نامور شاعر محمد فاروق شمیم 30؍مئی 1953ء کو اورنگ آباد، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ”پیشِ رو غزلیں“ 2000ء میں شائع ہوا ۔

    فاروق شمیمؔ صاحب کے منتخب کلام نذر قارئین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہر ایک لفظ میں پوشیدہ اک الاؤ نہ رکھ
    ہے دوستی تو تکلف کا رکھ رکھاؤ نہ رکھ

    ہر ایک عکس روانی کی نذر ہوتا ہے
    ندی سے کون یہ جا کر کہے بہاؤ نہ رکھ

    یہ اور بات زمانے پہ آشکار نہ ہو
    مری نظر سے چھپا کر تو دل کا گھاؤ نہ رکھ

    حصارِ ذات سے کٹ کر تو جی نہیں سکتے
    بھنور کی زد سے یوں محفوظ اپنی ناؤ نہ رکھ

    یہ انکسار مبارک شمیمؔ تجھ کو مگر
    اب اتنا شاخ ثمر دار میں جھکاؤ نہ رکھ

    ▬▬▬

    میں تو لمحات کی سازش کا نشانہ ٹھہرا
    تو جو ٹھہرا تو ترے ساتھ زمانہ ٹھہرا

    آنے والے کسی موسم سے ہمیں کیا لینا
    دل ہی جب درد کی خوشبو کا خزانہ ٹھہرا

    یاد ہے راکھ تلے ایک شرارے کی طرح
    یہ جو بجھ جائے ہواؤں کا بہانہ ٹھہرا

    جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے
    جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا

    عکس بکھرے ہوئے چہروں کے ہیں ہر سمت شمیمؔ
    دل ہمارا بھی کوئی آئنہ خانہ ٹھہرا

    ══════

    سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں
    آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں

    وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے
    ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

    یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن
    زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں

    لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے
    جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں

    یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیمؔ
    ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں

  • خدائے سخن ،ملک الشعراء ،سرتاج الشعراء اور امام المتغزلین میر تقی میر

    خدائے سخن ،ملک الشعراء ،سرتاج الشعراء اور امام المتغزلین میر تقی میر

    خدائے سخن ،ملک الشعراء ،سرتاج الشعراء اور امام المتغزلین میر تقی میر

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
    مرزا اسد اللہ خاں غالب

    نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
    ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
    شیخ ابراہیم ذوق

    شعر میرے بھی ہیں پُر درد و لیکن حسرت
    میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں

    حسرت موہانی

    سرتاجِ شعرائے اردو خداۓ سخن”میر تقی میر” یہ ایک ایسا نام ہے جس سے زبان و ادب سےدلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو ناواقف و نا آشنا ہو میر تقی نام اور تخلص میر28 مئی 1723 میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد علی تھا۔ میردس سال کے ہوئے ان کا والد کا انتقال ہو گیا۔ سوتیلے بھائیوں نے میر کو والد کی جائیداد میں کچھ نہ دیا۔ مجبورا میر کوآگرہ چھوڑنا پڑا اور تلاش معاش کے لئے دہلی پہنچے ۔ اور اپنے سوتیلے ماموں خان آرزو کے یہاں قیام کیا لیکن بدقسمتی سے میر یہاں بھی سکون سے نہ رہ سکے کیونکہ سوتیلے بھائیوں کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی گھر سے نکال دیا۔

    اس کے بعد میر پر جنون کی حالت طاری ہوئی کچھ مدت کے بعد ہوش ٹھکانے آئے تو تلاش معاش کے سلسلے میں بھٹکتے پھرے کبھی متھرا گئے کبھی اجمیر ۔ جب دہلی برباد ہوگئی تو میرلکھنو پہنچے۔ لکھنو میں انکی بڑی عزت افزائی ہوئی کیونکہ ان کے لکھنو پہنچنے سے پہلے انکی شاعری کا چرچہ وہاں پہنچ چکا تھا۔ نواب آصف الدولہ نے میر کو ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد میر نے لکھنو میں ہی باقی زندگی بسر کی۔

    میر اپنے دور کے احساس زوال اور انسانی الم کے مظہر ہیں۔ ان کی شاعری اس تما م شکست و ریخت کے خلاف ایک غیر منظم احتجاج ہے۔ میر کا تصور، زندگی حزنیہ تھا لیکن مایوس کن نہیں صرف اس میں غم و الم کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہمیں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کر تا ہے۔

    🌿چند مشہور مثنویاں🌿

    میر صاحب کی مقبولیت ان کی غزلوں سے ہوئی لیکن انہوں نے چند مثنویاں بھی تحریر کی جو حسب ذیل ہیں:

    1)مثنوی اخگر نامہ (2) شعلۂ عشق (3) جوش عشق (4) دریائے عشق (5) اعجازِ عشق (6) خواب و خیال (7) معاملاتِ عشق وغیرہ۔ ان کے علاوہ شعرائے اردو کا ایک تذکرہ ” نکات الشعراء ” 1165ھ مطابق 1752ء میں تحریر کی جسے اردو زبان کا پہلا تذکرہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔

    وفات
    یہ حرماں نصیب شہنشاہ غزل کا انتقال ۸۷سال کی عمر میں ٢٢ ستمبر ١٨١٠ء میں لکھنو میں ہی ہوا اور وہی دفن کئے گئے۔

    🌿چند منتخب اشعار🌿

    میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
    خاکِ ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    لوگ بہت پوچھا کرتے ہیں کہئے میاں کیا ہے عشق
    کچھ کہتے ہیں سرِ الہیٰ کچھ کہتے ہیں خدا ہے عشق
    ۞۔۔۞۔۔۞
    کچھ زرد زرد چہرہ کچھ لاغری بدن کی
    کیا عشق میں ہوا ہے اے میرؔ حال تیرا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
    اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
    ۞۔۔۞۔۔۞
    اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
    پھر ملیں گے اگر خدا لایا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
    نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
    کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ
    کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو
    ۞۔۔۞۔۔۞
    ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
    دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
    ۞۔۔۞۔۔۞
    دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
    ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو
    ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
    تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

    لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
    آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
    اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
    ۞۔۔۞۔۔۞
    میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
    قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
    شمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
    منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
    ۞۔۔۞۔۔۞
    جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس
    ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
    مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
    ۞۔۔۞۔۔۞

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد

    اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد

    فکر معیار سخن باعث آزار ہوئی
    تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا

    اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد 1932 میں لنڈھورا، ضلع سہارن پور(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور منتقل ہوگئے۔ میٹرک تک تعلیم پائی۔ کچھ دنوں ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ کالم نویسی بھی کی۔ اقبال ساجد نے مجبوری میں اپنا کلام بہت سستے داموں بیچ دیا تھا۔ انھیں اس بات کا دکھ بھی تھا۔

    جب اقبال ساجد نے اپنے اشعار بیچنا چھوڑ دیے تو مجبوری میں انھیں ایسے پیشے اختیار کرنا پڑے جسے ہمارے معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ نازش حیدری ان کے استاد تھے۔ فاقہ کشی اور کثرت شراب نوشی کے باعث 18 مئی 1988 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ان کا شعری مجموعہ ” اثاثہ” کے نام سے ان کی وفات کے بعد شائع کیا گیا۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:271

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار
    لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

    سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
    میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

    اندر تھی جتنی آگ وہ ٹھنڈی نہ ہو سکی
    پانی تھا صرف گھاس کے اوپر پڑا ہوا

    اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
    جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

    بڑھ گیا ہے اس قدر اب سرخ رو ہونے کا شوق
    لوگ اپنے خون سے جسموں کو تر کرنے لگے

    درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکن
    ساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا

    ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی
    میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

    فکر معیار سخن باعث آزار ہوئی
    تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا

    میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا
    اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

    میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر
    آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

    مرے ہی حرف دکھاتے تھے میری شکل مجھے
    یہ اشتہار مرے روبرو بھی ہونا تھا

    ساجدؔ تو پھر سے خانۂ دل میں تلاش کر
    ممکن ہے کوئی یاد پرانی نکل پڑے

    وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا
    کردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

    سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو
    میں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہئے مجھ کو

  • ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی ، جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

    ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی ، جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

    اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
    جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

    محشر بدایونی

    نام فاروق احمد اور تخلص محشر تھا۔ 04مئی 1922ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1947ء میں پاکستان آگئے۔ اگست 1950 میں محکمۂ سپلائی سے منتقل ہوکر ریڈیو پاکستان میں ’’آہنگ‘‘ کے مدیر معاون کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پھر ایک عرصے تک ’’آہنگ ‘ ‘ کے مدیر رہے۔ ان کے والد تاریخ گو شاعر تھے۔

    اس طرح شاعری محشر بدایونی کو ورثے میں ملی۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ریڈیو پاکستان سے ریٹائر منٹ کے بعد کراچی میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہو گئے۔ 09 نومبر 1994ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’غزل دریا‘(آدمی جی ایوارڈ یافتہ) ’چراغ میرے ہم نوا‘، ’فصل فردا‘، ’شہروفا‘، ’گردش کوزہ‘، ’حرف ثنا‘، ’بین باجے‘، ’شاعر نامہ‘،’ سائنس نامہ‘، ’جگ مگ تارے‘ (بچوں کی شاعری)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:131

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
    جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

    جس کے لئے بچہ رویا تھا اور پونچھے تھے آنسو بابا نے
    وہ بچہ اب بھی زندہ ہے وہ مہنگا کھلونا ٹوٹ گیا

    ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی
    جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

    ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں
    اس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی

    ابھی سر کا لہو تھمنے نہ پایا
    ادھر سے ایک پتھر اور آیا

    میں اتنی روشنی پھیلا چکا ہوں
    کہ بجھ بھی جاؤں تو اب غم نہیں ہے

    کرے دریا نہ پل مسمار میرے
    ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے

  • اردو زبان کے معروف شاعرعشرت رومانی

    اردو زبان کے معروف شاعرعشرت رومانی

    سوچا تمہیں تو درد کی صدیاں پگھل گئیں
    دیکھا تمہیں تو وقت کے دریا ٹھہر گئے

    اردو زبان کے شاعرعشرت رومانی کا اصل نام سید محمد عشرت ہے بھارت میں سید محمد عقیل کے گھر 01 جنوری 1936ء کو پیدا ہوئے
    شاعری کی ابتدا 1950ء میں کی پہلی نظم 1958ءمیں ماہنامہ شمع میں شائع ہوئی ،پہلی غزل کی اشاعت 1960 میں ادبِ لطیف، لاہور میں ہوئی 25 اپریل 2021ء کو خلاق حقیقی سے جا ملے-

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)چند ہم عصر افسانہ نگار ،2004ء-2004
    ۔ (2)شعور عصر-2002
    ۔ (3)صبح آنے کو ہے-2000
    مستقل پتا:بی۔ 14بلاک سی، رابعہ ڈپلیکس اسکیم 33
    گلزار ہجری مین یونیورسٹی روڈ
    ڈاکخانہ کراچی یونیورسٹی کراچی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بچھڑ کے ہم سے ملنا چاہتی ہے
    محبت اور کیا کیا چاہتی ہے
    کسی صحرائے وحشت میں اتر کر
    محبت خود سمٹنا چاہتی ہے
    جسے سورج نے جھلسایا ہے برسوں
    وہی کونپل پنپنا چاہتی ہے
    کوئی موج بلا ہے اور تنہا
    سمندر کو نگلنا چاہتی ہے
    جھلستے سورجوں کی بھٹیوں میں
    ہر اک ساعت پگھلنا چاہتی ہے
    کوئی زخمی پرندہ مر رہا ہے
    بصارت منہ چھپانا چاہتی ہے
    سمندر شب اترنے کو ہے عشرتؔ
    یہ بستی ڈوب جانا چاہتی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے
    کچھ لوگ ڈوبتے ہوئے دھل کر نکھر گئے
    سورج چمک اٹھا تو نگاہیں بھٹک گئیں
    آئی جو صبح نو تو بصارت سے ڈر گئے
    دریا بپھر گئے تو سمندر سے جا ملے
    ڈوبے جو ان کے ساتھ کنارے کدھر گئے
    دلہن کی سرخ مانگ سے افشاں جو گر گئی
    لمحوں کی شوخ جھیل میں تارے بکھر گئے
    پھر دشت انتظار میں کھلنے لگے کنول
    پلکوں سے جھانکتے ہوئے لمحے سنور گئے
    بجھتے ہوئے چراغ ہتھیلی پہ جل گئے
    جھونکے تمہاری یاد کے دل میں اتر گئے
    سوچا تمہیں تو درد کی صدیاں پگھل گئیں
    دیکھا تمہیں تو وقت کے دریا ٹھہر گئے
    تم تو بھری بہار میں کھلتے رہے مگر
    ہم زخم کائنات تھے کانٹوں سے بھر گئے
    عشرتؔ شب نشاط کے جگنو لئے ہوئے
    ہم جشن زر نگاہ میں پریوں کے گھر گئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    موسم زرنگاہ آوارہ
    کاروان بہار آوارہ
    شاخ در شاخ پھول شرمائے
    ہو گئی ہے بہار آوارہ
    شہر در شہر یوں بھٹکتا ہوں
    جیسے ہو تیرا پیار آوارہ
    یوں سر راہ ایک پھول کھلا
    جیسے اک شاہکار آوارہ
    اس طرح دیس دیس پھرتے ہیں
    جیسے ابر بہار آوارہ

  • اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی

    اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

    عزیز حامد مدنی

    اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی 15جون 1922ءکو رائے پور (سی پی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد نے 1898ءمیں علی گڑھ سے گریجویشن کیا تھا اور وہ علامہ شبلی نعمانی کے شاگرد تھے۔ عزیز حامد مدنی نے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا۔ بعدازاں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے اور پھر اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔

    عزیز حامد مدنی کا شمار اردو کے جدید ترین اور اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ ایک جداگانہ اسلوب کے مالک تھے اور ان کے موضوعات کی انفرادیت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ان کے شعری مجموعے چشم نگراں، دشت امکاں اور نخل گماں کے نام سے اور ان کی تنقیدی کتب جدید اردو شاعری اور آج بازار میں پابجولاں چلو ان کے نام سے اشاعت پذیر ہوئیں۔حال ہی میں ان کے کلام کی کلیات بھی شائع ہوچکی ہے ۔

    عزیز حامد مدنی نے عمر بھر شادی نہیں کی 23 اپریل 1991ءکوکراچی میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ کراچی میں لیاقت آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

    جب آئی ساعت بے باکی تیری بے لباسی کی
    تو آئینے میں جتنے زاویے تھے رہ گئے جل کر

    کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے
    تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا

  • اردو کے مصنف، شاعر، نقاد اور پروفیسرملک زادہ منظور احمد

    اردو کے مصنف، شاعر، نقاد اور پروفیسرملک زادہ منظور احمد

    دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
    ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

    ملک زادہ منظور احمد

    ملک زادہ منظور احمد اردو کے مصنف، شاعر، نقاد، پروفیسر اور مشاعروں میں منفرد فن نظامت کے لیے شہرت رکھتے تھے ملک زادہ منظور احمد 17 اکتوبر، 1929ء کو بھارت کے فیض آباد ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کاخاندان ایک سادات گھرانہ تھا۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ملک زادہ نے تین مختلف شعبوں، یعنی انگریزی، تاریخ اور اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد: فکروفن کے عنوان سے مقالہ تحریر کرکے پی ایچ ڈی مکمل کی۔

    ملازمت
    ۔۔۔۔۔
    ملک زادہ 1951ء میں جی وی ایس کالج، مہاراج گنج میں تاریخ کے لیکچرر بنے۔ 1952ء میں وہ جارج اسلامیہ کالج، گورکھپور میں تاریخ کے لیکچرر بنے۔ اس کے بعد 1964ء تک وہ انگریزی ادبیات کے لیکچرر بنے۔ 1964ء سے 1968ء تک ریڈر، صدر شعبہ اور پروفیسر بنے۔ وہ 1990ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔

    مدیر، رسالہ امکان۔ یہ ایک ماہنامہ کی شکل میں شروع ہوا۔ اس میں منظور ایک کالم کسک کے عنوان سے لکھتے جو بہت مشہور ہوا۔ اسی کالم میں ایک بار منظور نے لکھا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ امکان ان کی زندگی میں بند نہ ہو صدر، آل انڈیا اردو رابطہ کمیٹی، صدر، فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی، لکھنو اور رکن، ایگزیکیٹیو کمیٹی، لکھنؤ یونیورسٹی رہے-

    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کالج گرل، 1954ء (ناول)
    ۔ (2)اردو کا مسئلہ (مقالہ)، 1957ء
    ۔ (3)سحر سخن 1961ء، (مجموعہ کلام)
    ۔ (4)ابوالکلام آزاد: فکرروفن، 1964ء
    (تحریروں کا تنقیدی جائزہ)
    ۔ (5)ابوالکلام آزاد الہلال کے آئینے میں
    ۔ (6)غبارخاطر کا تنقیدی جائزہ
    ۔ (7)سحر ستم (مجموعہ کلام)
    ۔ (8)رقص شرر، 2004ء
    (خود نوشت سوانح حیات)
    اس کتاب کے مطالعے سے اُس دور کی
    ادبی تہذیب کا اندازہ ہوتا ہے۔
    اس زمانے میں خاص شاعرات کے
    مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ اس طرح کا
    پہلا مشاعرہ منظور کی کوششوں سے
    گورکھپور میں منعقد ہوا تھا۔
    شاعرات بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر
    مشاعرے میں آتی تھیں۔
    یہ لوگ دلکش ترنم سے سطحی اور
    غیر معیاری غزلیں پڑھا کرتی تھیں
    جن کا خالق کوئی اور ہوا کرتا تھا۔
    ۔ (9)انتخات غزلیات نظیر اکبر آبادی
    (منتخب غزلیں)
    ۔ 200 کتابوں کے پیش لفظ

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    اترپردیش اردو اکادمی کا اعزاز
    ۔ (2)اترپردیش اردو اکادمی کا ایوارڈ
    برائے فروغ اردو
    ۔ (3)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا اعزاز
    ۔ (4)آل انڈیا میر اکیڈمی کی جانب سے
    امتیاز میراعزاز
    ۔ (5)آل انڈیا میر اکیڈمی کی جانب سے
    افتخاز میراعزاز
    ۔ (6)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    خدابخش کتب خانے کا اعزاز
    ۔ (7)مے کش اکبرآبادی ایوارڈ
    ۔ (8)ہری ونش رائے بچن ایوارڈ
    ۔ (9)صوفی جمیل اختر ایوارڈ
    ۔ (10)عالمی اردو کانفرنس، نئی دہلی
    کی جانب سے فراق سمان
    ۔ (11)زندگی بھر کی کامیابیوں کے لیے
    مومن خان مومن اعزاز
    ۔ (12)گریٹر شکاگو کی سابق عثمانیہ یونیورسٹی
    کے سابقہ طلبا کی جانب سے فخر اردو ایوارڈ
    ۔ (13)پریاگ کوی سمیلن کی جانب سے
    ساہتیہ سرسوت ایوارڈ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    شمع کی طرح شب غم میں پگھلتے رہئے
    صبح ہو جائے گی جلتے ہیں تو جلتے رہئے
    وقت چلتا ہے اڑاتا ہوا لمحات کی گرد
    پیرہن فکر کا ہر روز بدلتے رہئے
    آئنہ سامنے آئے گا تو سچ بولے گا
    آپ چہرے جو بدلتے ہیں بدلتے رہئے
    آئی منزل تو قدم آپ ہی رک جائیں گے
    زیست کو راہ سفر جان کے چلتے رہیے
    صبح ہو جائے گی ہاتھ آ نہ سکے گا مہتاب
    آپ اگر خواب میں چلتے ہیں تو چلتے رہئے
    عہد امروز ہو یا وعدۂ فردا منظورؔ
    ٹوٹنے والے کھلونے ہیں بہلتے رہئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مرا ہی پر سکوں چہرا بہت تھا
    میں اپنے آپ میں بکھرا بہت تھا
    بہت تھی تشنگی دریا بہت تھا
    سرابوں سے ڈھکا صحرا بہت تھا
    سلامت تھا وہاں بھی میرا داماں
    بہاروں کا جہاں چرچا بہت تھا
    انہیں ٹھہرے سمندر نے ڈبویا
    جنہیں طوفاں کا اندازا بہت تھا
    اڑاتا خاک کیا میں دشت و در کی
    مرے اندر مرا صحرا بہت تھا
    زمیں قدموں تلے نیچی بہت تھی
    سروں پر آسماں اونچا بہت تھا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
    ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

    چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے
    جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

    خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
    آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے

    دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی
    کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا

    انہیں ٹھہرے سمندر نے ڈبویا
    جنہیں طوفاں کا اندازا بہت تھا

    عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
    کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

    وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد
    بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے

    رسم تعظیم نہ رسوا ہو جائے
    اتنا مت جھکئے کہ سجدہ ہو جائے

    جن سفینوں نے کبھی توڑا تھا موجوں کا غرور
    اس جگہ ڈوبے جہاں دریا میں طغیانی نہ تھی

    حال پریشاں سن کر میرا آنکھ میں اس کی آنسو ہیں
    میں نے اس سے جھوٹ کہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    روشن چہرہ بھیگی زلفیں دوں کس کو کس پر ترجیح
    ایک قصیدہ دھوپ کا لکھوں ایک غزل برسات کے نام

    دیوانہ ہر اک حال میں دیوانہ رہے گا
    فرزانہ کہا جائے کہ دیوانہ کہا جائے

    زندگی میں پہلے اتنی تو پریشانی نہ تھی
    تنگ دامانی تھی لیکن چاک دامانی نہ تھی

    کیا جانئے کیسی تھی وہ ہوا چونکا نہ شجر پتہ نہ ہلا
    بیٹھا تھا میں جس کے سائے میں منظورؔ وہی دیوار گری

    کھل اٹھے گل یا کھلے دست حنائی تیرے
    ہر طرف تو ہے تو پھر تیرا پتا کس سے کریں

    عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر
    شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    اب دیکھ کے اپنی صورت کو اک چوٹ سی دل پر لگتی ہے
    گزرے ہوئے لمحے کہتے ہیں آئینہ بھی پتھر ہوتا ہے

    نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے
    خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے

    کچھ غم جاناں کچھ غم دوراں دونوں میری ذات کے نام
    ایک غزل منسوب ہے اس سے ایک غزل حالات کے نام

    وقت شاہد ہے کہ ہر دور میں عیسیٰ کی طرح
    ہم صلیبوں پہ لیے اپنی صداقت آئے

    بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے مرا وجود
    میں خود کو ڈھونڈھتا ہوں مجھے خد و خال دے

    دور عشرت نے سنوارے ہیں غزل کے گیسو
    فکر کے پہلو مگر غم کی بدولت آئے

    کاش دولت غم ہی اپنے پاس بچ رہتی
    وہ بھی ان کو دے بیٹھے ایسی مات کھائی ہے

  • پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا  کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھائوں میں

    فارغ بخاری

    ممتاز شاعر فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا وہ 11؍نومبر 1917ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشرقی زبانوں کے کئی امتحانات پاس کئے۔ فارغ بخاری نظریاتی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے لیکن اس نظریاتی وابستگی نے ان کی تخلیقی کشادگی کو کم نہیں ہونے دیا۔ وہ موضوع ، زبان اور شعری ہیئتوں میں نئے نئے تجربے کرتے رہے۔ ان کا ایک نمایاں تجربہ غزل کے فارم میں ہے ۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے ’’غزلیہ‘‘ میں غزل کی ہیئت اور تکنیک کو ایک نئے انداز میں برتا ہے ۔

    فارغ نے اردو کی ادبی صحافت میں بھی اہم کردار اداکیا ۔ وہ ماہنامہ ’نغمۂ حیات‘ اور ہفت روزہ ’شباب‘ کے مدیر رہے اور ’سنگ میل‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی نکالا۔

    فارغ بخاری کی مطبوعات کے نام یہ ہیں۔ ’زیروبم‘ ’شیشے کے پیرہن‘ ’ خوشبو کا سفر‘ ’غزلیہ‘ ’ادبیات سرحد‘ ’پشتو کے لوک گیت‘ ’سرحد کے لوک گیت‘ باچا خان‘ ’پشتو شاعری‘ ’رحمان بابا کے افکار‘ ’جرأت عاشقاں-

    فارغؔ بخاری کو ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے لئے حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ 13؍اپریل 1997ء کو پشاور میں انتقال ہوا۔

    فارغؔ بخاری کے چند منتخب اشعار

    تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے
    یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا
    کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
    سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

    جلتے موسم میں کوئی فارغؔ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

    دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
    دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

    زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں
    بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

    سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں
    نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

    محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
    خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

    منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
    جو اپنی زباں سے بولتا ہے

    نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے
    پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

    کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی
    راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

    کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے
    جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

    ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول
    ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

    ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی
    کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے

    یہی ہے دور غمِ عاشقی تو کیا ہوگا
    اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

    یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
    جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔