Baaghi TV

Tag: شاعر

  • اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    پابہ جولاں اپنے شانوں پر ہے اپنی صلیب
    میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہ باطل میں ہوں

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کارسروربارہ بنکوی کااصل نام سعید الرحمن تھاوہ 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یوپی،ہندستان) میں پیدا ہوئے تھے قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی۔جہاں انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اورپھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل ، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو،آخری اسٹیشن،چاند اورچاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ اسی دوران انھوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

    آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ’’کیمپ 333‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 03 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے سروربارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے ”سنگ آفتاب“ اور ”سوزگیتی“ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغِ جادہ
    یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
    یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
    کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
    میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
    ترے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
    سرِ انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
    وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
    ہو برائے شامِ ہجراں لبِ ناز سے فروزاں
    کوئی ایک شمعِ پیماں کوئی اک چراغِ وعدہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔ا
    ●تو عروس شامِ خیال بھی تو جمال روئے سحر بھی ہے
    یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے
    یہ مرا نصیب ہے ہم نشیں سر راہ بھی نہ ملے کہیں
    وہی مرا جادۂ جستجو وہی ان کی راہ گزر بھی ہے
    نہ ہو مضمحل مرے ہم سفر تجھے شاید اس کی نہیں خبر
    انہیں ظلمتوں ہی کے دوش پر ابھی کاروانِ سحر بھی ہے
    ہمہ کشمکش مری زندگی کبھی آ کے دیکھ یہ بے بسی
    تری یاد وجہِ سکوں سہی وہی راز دیدۂ تر بھی ہے
    ترے قرب نے جو بڑھا دیئے کبھی مٹ سکے نہ وہ فاصلے
    وہی پاؤں ہیں وہی آبلے وہی اپنا ذوقِ سفر بھی ہے
    بہ ہزار دانش و آگہی مری مصلحت ہے ابھی یہی
    میں سرورؔ رہرو شب سہی مری دسترس میں سحر بھی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
    ہوں جوار یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں
    پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
    میں سفیرِ حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں
    جشنِ فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
    حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
    دم بخود ہوں اب سرِ مقتل یہ منظر دیکھ کر
    میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صفِ قاتل میں ہوں
    اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوئے جس سے سرورؔ
    آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں

  • ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    افتخار امام صدیقی

    افتخار امام صدیقی، 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی یہیں رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انھوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اور ماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انھوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاؤ کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائی ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک تھے اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے تھے۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انھوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں 04 اپریل 2021ء کو افتخار امام صدیقی انتقال کر گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

  • نظم اور غزل کے معروف ترین شاعر نذیر بنارسی

    نظم اور غزل کے معروف ترین شاعر نذیر بنارسی

    اندھیرا مانگنے آیا تھا روشنی کی بھیک
    ہم اپنا گھر نہ جلاتے تو اور کیا کرتے

    نذیر بنارسی کا شمار نظم اور غزل کے معروف ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ 25 نومبر 1909 کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد بنارس کے مشہور طبیب تھے۔ نذیر بھی طبابت کے اس آبائی پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ شاعری میں نذیر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی نظموں کے موضوعات اپنے آس پاس بکھری ہوئی زندگی کے حقیقی رنگوں سے چنے۔ انھوں نے اپنے وقت کی اہم سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی شخصیات پر طویل طویل نظمیں بھی لکھیں۔ نذیر کے شعری مجموعے ’گنگ وجمن‘ راشٹر کی امانت راشٹر کے حوالے‘ ’جواہر سے لال تک‘ ’ غلامی سے آزادی تک‘ اور ’کتاب غزل‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ نذیر کی شاعری ایک طور سے ان کے عہد کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی اتھل پتھل کا تخلیقی دستاویز ہے۔ 23 مارچ 1996 کو بنارس میں انتقال ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    بدگمانی کو بڑھا کر تم نے یہ کیا کر دیا
    خود بھی تنہا ہو گئے مجھ کو بھی تنہا کر دیا

    ایک دیوانے کو جو آئے ہیں سمجھانے کئی
    پہلے میں دیوانہ تھا اور اب ہیں دیوانے کئی

    اندھیرا مانگنے آیا تھا روشنی کی بھیک
    ہم اپنا گھر نہ جلاتے تو اور کیا کرتے

    یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی
    مری خیریت بھی پوچھی کسی اور کی زبانی

    عمر بھر کی بات بگڑی اک ذرا سی بات میں
    ایک لمحہ زندگی بھر کی کمائی کھا گیا

    یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں
    زندگی دو دن کی ہے دو دن میں ہم کیا کیا کریں

    وہ آئنہ ہوں جو کبھی کمرے میں سجا تھا
    اب گر کے جو ٹوٹا ہوں تو رستے میں پڑا ہوں

    مری بے زبان آنکھوں سے گرے ہیں چند قطرے
    وہ سمجھ سکیں تو آنسو نہ سمجھ سکیں تو پانی

    راستہ روکے ہوئے کب سے کھڑی ہے دنیا
    نہ ادھر ہوتی ہے ظالم نہ ادھر ہوتی ہے

    جی میں آتا ہے کہ دیں پردے سے پردے کا جواب
    ہم سے وہ پردہ کریں دنیا سے ہم پردا کریں

    دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں
    لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں

    آس ہی سے دل میں پیدا زندگی ہونے لگی
    شمع جلنے بھی نہ پائی روشنی ہونے لگی

    دل کی اجڑی ہوئی حالت پہ نہ جائے کوئی
    شہر آباد ہوئے ہیں اسی ویرانے سے

    ایک جھونکا اس طرح زنجیر در کھڑکا گیا
    میں یہ سمجھا بھولنے والے کو میں یاد آ گیا

  • اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش 10؍فروری1914ء میں کاندھلہ، مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ والدین کی غربت کی وجہ سے چوتھی جماعت سے آگے نہ پڑھ سکے تاہم اپنے طور پر اردو، فارسی اور عربی زبان کا مطالعہ کیا، تلاش معاش میں لاہور آگئے اور پھر تمام عمر یہیں گزاری۔ یہاں انھوں نے مزدوری، چوکی داری، چپراسی اور باغ بانی کے فرائض انجام دیے۔ فرصت کے اوقات میں کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔

    دوران مطالعہ انھیں شعروسخن سے دل چسپی ہوگئی۔ تاجور نجیب آبادی سے اصلاح لینے لگے۔جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو ’’مکتبۂ دانش‘‘ کے نام سے اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کیا۔ ان کا سرمایۂ شعری زیادہ تر نظموں پر مشتمل ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے خطاب سے حکومت نے نوازا ۔ احسان دانش کو مذہب سے گہرا لگاؤ تھا۔ انھیں حج بیت اللہ اور روضۂ اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی 22 مارچ1982ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

    دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
    میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضورؐ کی

    اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
    اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
    ساتھ چل موج صبا ہو جیسے
    لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
    تو مجھ بھول گیا ہو جیسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن
    تیری تلخی میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظر فریب کھا گئی تو کیا ہو گا
    حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا
    غم حیات سے ہے بے شک خودکشی آساں
    مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انھیں ہم نے خطا وار ہمی تھے
    ….
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    احسان دانش
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے

    ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست
    دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے

    اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر
    گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے

    دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا
    راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے

    بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن
    لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے

    کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں
    سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے

    ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے
    جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

    ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی
    کل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے

    پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر
    مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے

    ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر
    جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے

    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے

  • اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    افتخارحسین عارف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، سابق صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سابق سربراہ اردو مرکز لندن،تہران میں ایکو (ECO) کے ثقافی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس وقت مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کی اصل تاریخ پیدائش 21 مارچ 1944ء ہے جبکہ کاغذات میں 1943ء درج ہے سو اسی نسبت سے آپ کے بارے لکھا جاتا ہے کہ آپ 21 مارچ، 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا۔ پھر پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔

    بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین بنے۔ اس کے بعد اکادمی ادبیات کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ جبکہ نومبر 2008ء سے مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے کے بعد آج کل اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ایکو تنظیم کے ثقافتی شعبے کو سبنھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں ہونی والی ادبی اور علمی محفلوں کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں افتخارعارف صاحب کی شرکت تقریبا ایک لازمی امر بن گئی ہے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کا اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔

    اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بنا پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارہواں کھلاڑی
    ۔ (2)مہر دو نیم
    ۔ (3)حرفِ باریاب
    ۔ (4)جہان معلوم
    ۔ (5)شہر علم کے دروازے پر
    ۔ (6)کتاب دل و دنیا کلیات
    ۔ (7)Writen in the
    ۔ Season of Fear
    ۔ (8)مکالمہ
    ۔ (9)در کلوندہ
    ۔ (10)افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو

    اہم اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔ Faiz International Award 1988
    ۔۔۔۔۔۔ Waseeqa-e-eEtraaf 1994
    ۔۔۔۔۔۔ Baba-e-Urdu Award 1995
    ۔۔۔۔۔۔ Naqoosh Award 1994
    ۔۔۔۔۔۔ تمغا حسن کارکردگی1989
    ۔۔۔۔۔۔ ستارۂ امتیاز1999
    ۔۔۔۔۔۔ ہلال امتیاز2005

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
    ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

    دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
    آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
    جان بہت شرمندہ ہیں

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
    کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

    بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
    اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
    جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

    راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
    اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

    زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
    میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

    میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
    جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

    دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
    اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
    اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
    ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
    ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

    جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
    پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

    بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
    عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

    کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
    عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
    جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
    کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

    اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
    اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
    کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

    خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
    اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
    وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

    روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
    زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

    یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
    یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

    شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
    سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

    مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
    مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

    اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
    دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
    ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

    وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
    نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
    جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
    اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

    جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
    جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    بس ایک خواب کی صورت کہیں ہے گھر میرا
    مکاں کے ہوتے ہوئے لا مکاں کے ہوتے ہوئے

    کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
    عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں

    سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
    اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

    کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
    نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
    ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

    اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
    یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

    تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
    کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا

    یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
    ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
    میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

    ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
    زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
    ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
    تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

    میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
    مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

    میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
    اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے

    یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
    جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

    کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
    بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

    روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
    رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے
    مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
    اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
    ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
    یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

    جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
    اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
    صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

    ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
    تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

    خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
    ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

    یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
    اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

    سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

    عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
    نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

    ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
    عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے

    ہمیں بھی عافیت جاں کا ہے خیال بہت
    ہمیں بھی حلقۂ نا معتبر میں رکھا جائے

    یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
    اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

    کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
    جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
    راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

    جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
    ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

    مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
    بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

  • یوم وفات مضطر خیر آبادی

    یوم وفات مضطر خیر آبادی

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مضطر خیر آبادی کا اصل نام سید محمد افتخار حسین جبکہ مضطر تخلص تھا – ’اعتبار الملک‘ ، ’اقتدار جنگ بہادر‘ خطاب ملے، 1865ء میں خیرآباد(یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسے اور شمس العلماء عبدالحق خیرآبادی کے بھانجے تھے۔

    محمد حسین ، بسمل(بڑے بھائی) اور امیر مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ مضطر ریاست ٹونک کے درباری شاعر تھے۔ ان کا دیوان چھپا نہیں۔ جاں نثاراختران کے فرزند رشید تھے20 مارچ1927ء کوگوالیارمیں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:241

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
    اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

    مصیبت اور لمبی زندگانی
    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت
    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    بوسے اپنے عارض گلفام کے
    لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو
    ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں
    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
    اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

    اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے
    خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

    ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
    یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

    مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو
    کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

    ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ
    وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر
    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
    بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

    یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
    بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

    مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
    گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

    ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو
    اپنا قصہ تمام کرنا تھا

    دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا
    مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

    اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں
    ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

    آئنہ دیکھ کر غرور فضول
    بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا
    تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

    وقت آرام کا نہیں ملتا
    کام بھی کام کا نہیں ملتا

    صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
    دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

    ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
    ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

    وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
    ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

    زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے
    اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

    اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم
    کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

    بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
    آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
    یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

    حال دل اغیار سے کہنا پڑا
    گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

    میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو
    خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

    اپنی محفل میں رقیبوں کو بلایا اس نے
    ان میں بھی خاص انہیں جن کی ضرورت دیکھی

    عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن
    آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

    حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
    پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

    میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں
    جو مرے درد کی دوا نہ کرے

    تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
    ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

    انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا
    میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

    آؤ تو میرے آئنۂ دل کے سامنے
    ایسا حسیں دکھاؤں کہ ایسا نہ ہو کہیں

    ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
    تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

    ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
    کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

    جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ
    مکمل وفا کی سند ہو گئی

    حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
    دل کے اندر قیام ہے تیرا

    دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں
    تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

    بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
    اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

    پردے والے بھی کہیں آتے ہیں گھر سے باہر
    اب جو آ بیٹھے ہو تم دل میں تو بیٹھے رہنا

    اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
    گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

    تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
    یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

    اے حنا رنگ محبت تو ہے مجھ میں بھی نہاں
    تیرے دھوکے میں کوئی پیس نہ ڈالے مجھ کو

    زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
    کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

    فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
    فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے

    جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
    کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

    دل کیا کرے جو راز محبت کا کھل گیا
    میں کیا کروں کہ عشق ہی اک نامور سے ہے

    عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
    اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

    آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی
    اور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

    ساقی نے لگی دل کی اس طرح بجھا دی تھی
    اک بوند چھڑک دی تھی اک بوند چکھا دی تھی

    خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
    کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا

    احباب و اقارب کے برتاؤ کوئی دیکھے
    اول تو مجھے گاڑھا اوپر سے دباتے ہیں

    کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں
    اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

    تیری رحمت کا نام سن سن کر
    مبتلا ہو گیا گناہوں میں

    اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
    کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

    باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
    جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے

    کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
    کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
    یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
    توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی

    کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
    یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

    جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
    کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

    دل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے
    اتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے

    میری ارمان بھری آنکھ کی تاثیر ہے یہ
    جس کو میں پیار سے دیکھوں گا وہی تو ہوگا

    نہیں منظور جب ملنا تو وعدے کی ضرورت کیا
    یہ تم کو جھوٹی موٹی عادت اقرار کیسی ہے

    دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو
    تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

    اس کا بھی ایک وقت ہے آنے دو موت کو
    مضطرؔ خدا کی یاد ابھی کیوں کرے کوئی

    پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں
    آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

    محبت قدرداں ہوتی تو پھر کاہے کا رونا تھا
    ہمیں بھی تم سمجھتے تم کو جیسا ہم سمجھتے ہیں

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
    مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
    کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

    اپنے دل کو تری آنکھوں پہ فدا کرتا ہوں
    آج بیمار پہ بیمار کی قربانی ہے

    طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
    اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

    خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
    ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے

    خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
    خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

    تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک
    عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

    میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

    تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
    تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

    کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
    عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو

    دیکھ کر کعبے کو خالی میں یہ کہہ کر آ گیا
    ایسے گھر کو کیا کروں گا جس کے اندر تو نہیں

    تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
    جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے

    چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
    یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

    کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
    اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

    کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
    اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

    وہاں جا کر کیے ہیں میں نے سجدے اپنی ہستی کو
    جہاں بندہ پہنچ کر خود خدا معلوم ہوتا ہے

    نہیں ہوں میں تو تری بندگی کے کیا معنی
    نہیں ہے تو تو خدا کون ہے زمانے کا

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    لطف قربت ہے مے پرستی میں
    میں خدا دیکھتا ہوں مستی میں

    دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں
    مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

    ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
    کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

    بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
    ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
    آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

    کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
    مری صورت حال دیکھی گئی

    قبر پر کیا ہوا جو میلا ہے
    مرنے والا نرا اکیلا ہے

    عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
    ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو
    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
    وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

    یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
    خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے

    گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
    کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

    اے خدا دنیا پہ اب قبضہ بتوں کا چاہیے
    ایک گھر تیرے لیے ان سب نے خالی کر دیا

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا
    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
    اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

    کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں
    ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

    نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں
    کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

    ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
    مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

    یہ تو ممکن نہیں محبت میں
    آپ جو کچھ کہیں وہ ہم نہ کریں

    نظر کے سامنے کعبہ بھی ہے کلیسا بھی
    یہی تو وقت ہے تقدیر آزمانے کا

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے
    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
    بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا

    اب کون پھرے کوئے بت دشمن دیں سے
    اللہ کے گھر کیوں نہ چلے جائیں یہیں سے

    جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
    یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

    دل ان کو مفت دینے میں دشمن کو رشک کیوں
    ہم اپنا مال دیتے ہیں اس میں کسی کا کیا

    جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
    میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

    اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
    دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

    بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
    مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے

    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

    عاشقوں کی روح کو تعلیم وحدت کے لیے
    جس جگہ اللہ رہتا ہے وہاں رہنا پڑا

    محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
    خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

    نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی
    ہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

    یہ تو سمجھا میں خدا کو کہ خدا ہے لیکن
    یہ نہ سمجھا کہ سمجھ میں مری کیوں کر آیا

    زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں
    اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

    کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے
    ان بتوں کو سلام کرنا تھا

    ساقی مرا کھنچا تھا تو میں نے منا لیا
    یہ کس طرح منے جو دھری ہے کھنچی ہوئی

    کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
    جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

    تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
    قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں

    آہ رسا خدا کے لیے دیکھ بھال کے
    ان کا بھی گھر ملا ہوا دشمن کے گھر سے ہے

    وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
    وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے

    حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
    ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے

    کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
    تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا

    صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
    دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ
    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
    ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ

    وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا
    رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

    اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
    آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

    ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی
    ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

    خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
    فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

    دھوکے سے بلا کر جو ملا تھا تو وہ مجھ سے
    جب ملتے ہیں کہتے ہیں دغاباز کہیں کا

    میری ہستی سے تو اچھی ہیں ہوائیں یا رب
    کہ جو آزاد پھرا کرتی ہیں میدانوں میں

    قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد
    یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

    خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
    میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا

    نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
    قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی

    جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
    ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

    پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے
    اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

    وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی
    نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

    بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
    خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    مرا رونا ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے
    ذرا روکے رہو اپنی ہنسی تم

    جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
    کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

    میرے غبار کی یہ تعلی تو دیکھیے
    اتنا بڑھا کہ عرش معلی سے مل گیا

    یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرا
    یہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری

    رنج غربت میں دیکھ کر مجھ کو
    دل صحرا بھی باغ باغ ہوا

    تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
    یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ کیوں جی جس کو تم چاہو وہ کیوں اچھا
    وہ اچھا کیوں ہے اور ہم جس کو چاہیں وہ برا کیوں ہے

    یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
    وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

    میں تری راہ طلب میں بہ تمنائے وصال
    محو ایسا ہوں کہ مٹنے کا بھی کچھ دھیان نہیں

    نمک پاش زخم جگر اب تو آ جا
    مرا دل بہت بے مزہ ہو رہا ہے

    پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی
    اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

    زلف کا حال تک کبھی نہ سنا
    کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

    قیس نے پردۂ محمل کو جو دیکھا تو کہا
    یہ بھی اللہ کرے میرا گریباں ہو جائے

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ
    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
    ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

    خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
    قضا آئی حیات جاوداں کی

    روح دیتی رہی ترغیب تعلی برسوں
    ہم مگر تیری گلی چھوڑ کے اوپر نہ گئے

    قاصد نے خبر آمد دلبر کی اڑا دی
    آیا بھی تو کم بخت نے بے پر کی اڑا دی

    جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
    چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

    ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے
    اس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

    اڑا کر خاک ہم کعبے جو پہنچے
    حقیقت کھل گئی کوئے بتاں کی

    میرا دل مضطرؔ بت کافر سے لگا ہے
    اور آنکھ مری سوئے خدا دیکھ رہی ہے

  • وہی حالات ہیں فقیروں کے ، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

    وہی حالات ہیں فقیروں کے ، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

    ایسے دستور کو صبح بے نور کو
    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    قلندرانہ مزاج کے مالک انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب 24 مارچ 1928ء میں قصبہ دسویا ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ آزادی کے بعد کراچی آ گئے ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، روزنامہ جنگ میں ملازمت کی۔ کچھہ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ لائلپور ٹیکسٹائل مل میں بھی ملازم رہے۔ بالآخر 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔
    یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
    جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
    پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع ہوا
    ایوب خان اور یحییٰ خان کے ادوار آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ 1960ء کے عشرے ميں اسیری کے دوران کی گئی شاعری کا مجموعہ ”سرِمقتل” کے عنوان سے شائع ہوا جو حکومتِ نے ضبط کرلیا۔

    ایوب خاں نے نام نہاد دستور پیش کیا تو جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم کہی
    ۔۔ایسے دستور کو میں نہیں مانتا۔۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اکژیتی پارٹی کو منتقل نہیں کیا بلکہ گولیاں برسایئں تو جالب کہ رہے تھے
    محبت گولیوں سے بو رہے ہو
    وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
    گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
    یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

    1974ء میں بھٹو دور میں نام نہاد حیدرآباد سازش کیس بنا توجالب کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی:
    قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا

    لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو

    ضیاء الحق کے مارشل لا میں جب حیدرآباد سازش کیس ختم ہوا اور اس کے اسیروں کو رہائی ملی تو انہوں نے اوروں کی طرح بھٹو دشمنی میں نہ ہی ضیاءالحق سے ہاتھ نہیں ملایا بلکہ کہا ظلمت کو ضیا ء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا:

    وہی حالات ہیں فقیروں کے
    دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
    ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
    پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

    جالب کے مجموعے
    برگِ آوارہ، سرِ مقتل، صراط مستقیم ،ذکر بہتے خوں کا ،گنبدِ بے در، اس شہرِ خرابی میں ، گوشے میں قفس کے ،حرفِ حق ، حرفِ سرِ دار ،عہد ستم ، کلیات حبیب جالب

    جالب نے فلم کیلئے بھی کافی لکھا ۔ ہم ایک ہیں‘موت کا نشہ ‘ناگ منی‘دو راستے‘ زخمی‘ بھروسا قابلِ ذکر ہیں ۔ فلم زرقا میں ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘ کو بہت مقبولیت ملی ۔

    حبیب جالب کے کچھ اشعار

    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
    اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

    لاکھہ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
    ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

    ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
    دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھہ کہتے ہیں

    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر

    آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
    یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

    چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھہ سے پہلے
    ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

    دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھہ سہتے ہیں
    ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

    دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں
    دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

    دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
    دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

    ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
    دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھہ کہتے ہیں

    اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
    آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

    اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
    دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

    جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
    آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

    جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
    دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

    کچھہ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
    کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

    کچھہ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
    بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

    لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
    ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

    نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
    عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

    پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
    جستجو آج بھی اسی کی ہے

    تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
    الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

    ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ
    دیر تک ان کا انتظار رہا

    اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
    ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا

    یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
    لیکن یہ کیا کہ شہر تراچھوڑ جائیں ہم

    آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
    یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

    دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھہ سہتے ہیں
    ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

    اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
    آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

    اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
    دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

    جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
    آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

    جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
    دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

    کچھہ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
    کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

    کچھہ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
    بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

    لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
    ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

    نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
    عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

    پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
    جستجو آج بھی اسی کی ہے

    تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
    الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

    ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ
    دیر تک ان کا انتظار رہا

    اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
    ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا

    یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
    لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

  • ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آبا اور نامور شاعر رحمان فارس

    ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آبا اور نامور شاعر رحمان فارس

    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں
    کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں

    رحمان فارس

    رحمان فارس :27 فروری 1976ء کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیدا ہوئے اور روزگار کے اعتبار سے سول سروس آف پاکستان سے مُنسلک ہیں۔ آج کل ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آباد تعینات ہیں۔ شاعری کا اولین مجموعہ ”عشق بخیر“ کے نام سے اشاعت پذیر ھے۔ مُشاعروں کے حوالے سے دُنیا بھر میں مدعو کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک امریکہ، یورپ کے متعدد ممالک، مشرقِ وُسطٰی کے بیشتر ممالک، ہندوستان، بنگلہ دیش، چین، تُرکی اور آسٹریلیا کے مشاعروں میں اپنا کلام پیش کرکے سامعین و حاضرین کی کثیر تعداد سے دادِ سُخن وصول کرچکے ہیں۔ امریکہ کے حالیہ ادبی دورے کا سفرنامہ زیرِ طبع ہے۔

    پاکستان ٹیلی ویژن کے ادبی پروگرامز کے اینکرپرسن ہیں۔ مؤقر انگریزی جرائد میں متعدد کالمز لکھ چُکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں
    کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں
    مجھ کو خود میں جگہ نہیں ملتی
    تو ہے موجود اس قدر مجھ میں
    موسم گریہ ایک گزارش ہے
    غم کے پکنے تلک ٹھہر مجھ میں
    بے گھری اب مرا مقدر ہے
    عشق نے کر لیا ہے گھر مجھ میں
    آپ کا دھیان خون کے مانند
    دوڑتا ہے ادھر ادھر مجھ میں
    حوصلہ ہو تو بات بن جائے
    حوصلہ ہی نہیں مگر مجھ میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
    مگر اے یار تیرا یار ہوں میں
    جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا
    علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں
    خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی
    صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں
    اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں
    کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں
    مری تو ساری دنیا بس تمہی ہو
    غلط کیا ہے جو دنیا دار ہوں میں
    کہانی میں جو ہوتا ہی نہیں ہے
    کہانی کا وہی کردار ہوں میں
    یہ طے کرتا ہے دستک دینے والا
    کہاں در ہوں کہاں دیوار ہوں میں
    کوئی سمجھائے میرے دشمنوں کو
    ذرا سی دوستی کی مار ہوں میں
    مجھے پتھر سمجھ کر پیش مت آ
    ذرا سا رحم کر جاں دار ہوں میں
    بس اتنا سوچ کر کیجے کوئی حکم
    بڑا منہ زور خدمت گار ہوں میں
    کوئی شک ہے تو بے شک آزما لے
    ترا ہونے کا دعوے دار ہوں میں
    اگر ہر حال میں خوش رہنا فن ہے
    تو پھر سب سے بڑا فن کار ہوں میں
    زمانہ تو مجھے کہتا ہے فارسؔ
    مگر فارسؔ کا پردہ دار ہوں میں
    انہیں کھلنا سکھاتا ہوں میں فارسؔ
    گلابوں کا سہولت کار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی
    کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی
    بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
    پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی
    امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
    یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی
    چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
    کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی
    وہ امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ
    جمال یار نے پہنی قبا اداسی کی
    اسی امید پہ آنکھیں برستی رہتی ہیں
    کہ ایک دن تو سنے گا خدا اداسی کی
    شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے
    ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی
    دل فسردہ کو میں نے تو مار ہی ڈالا
    سو میں تو ٹھیک ہوں اب تو سنا اداسی کی
    ذرا سا چھو لیں تو گھنٹوں دہکتی رہتی ہے
    ہمیں تو مار گئی یہ ادا اداسی کی
    بہت دنوں سے میں اس سے نہیں ملا فارسؔ
    کہیں سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی

  • ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت

    کلیم عثمانی

    کلیم عثمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار ہیں، جو اپنے گیت تیرا سایا جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں، ملی نغمہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 فروری، 1928ء کو دیوبند، سہارنپور، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م احتشام الہٰی تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے جا ملتا ہے۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ والد فضل الہٰی بیکل بھی اپنے زمانے کے اچھے شاعر تھے۔ شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لی۔1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گیا۔ کلیم عثمانی نے یہاں احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔

    ان کی آواز میں ترنم تھا اس لیے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔ پھر انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955ء میں فلم انتخاب کے گیت تحریر کیے اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی۔اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھاؤں کے نغمے لکھے۔ فلم راز کے لیے تحریر کردہ ان کا نغمہ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا بے مقبول ہوا۔ یہ نغمہ زبیدہ خانم نے گایاتھا اور اس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔

    1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔ یہ گیت رونا لیلیٰ نے گایا تھا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ بعد ازاں کلیم عثمانی لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کیے جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔

    1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے اور اسے مہدی حسن نے گایا۔

    کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہوا۔

    مشہور نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں (فرض اور مامتا)
    تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا (گھرانہ)
    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا (ہم دونوں)
    میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا (راز)
    پیار کر کے ہم بہت پچھتائے (عندلیب)
    تیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی (زندگی)
    مستی میں جھومے فضا(نازنین)

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    دیوار حرف (غزلیات)
    ماہ حرا (نعتیہ مجموعہ)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی نے 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
    اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں
    ہم نے کرکے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت
    منہ چھپا کر آستین میں دیر تک روتے رہے
    رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت
    اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے
    ہم نے اس سے دل لگانے کی سزا پائی بہت
    آئینہ بن کے وہ صورت سامنے جب آئی
    عکس اپنا دیکھ کر مجھ کو ہنسی آئی بہت
    میں تو جھونکا تھا اسیرِ دام کیا ہوتا کلیم
    اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح
    چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح
    خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
    شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح
    پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
    پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح
    بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گزاری ہے حیات
    میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 اگست، 2000ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن میں کریم بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کےمشہور اور ہر دل عزیز اور سرائیکی کے نمائندہ شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔

    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیےبھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑبیلنے پڑتے ہیں انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہےبظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہےلیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی –

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں-

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍلدﯾﻦﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ، ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ –

    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ –
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن