Baaghi TV

Tag: شانگلہ

  • سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی  پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کا کبل گرام ضلع شانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی زیر قیادت، مقامی پولیس شانگلہ اور ایلیٹ فورس نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا اور مؤثر جوائنٹ آپریشن کیا آپریشن کبل گرام کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج (FAK) کے تشکیل شدہ گروہ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی منصوبوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔

    خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ انتہائی مطلوب دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنہیں مقامی سطح پر سہولت کاری میسر تھی۔ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں اور شاہراہِ ریشم سے نزدیکی کے باعث یہ سٹرٹیجک روڈ کوریڈور اور چینی منصوبوں کے لیے مستقل خطرہ تھے۔

    اسی کے پیشِ نظر گزشتہ روز سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آپریشن کا آغاز کیا جب پولیس غاروں میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کی طرف بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں تین (03) دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ میں فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔

    اسی طرح ایک نامعلوم دہشت گرد جس کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ان تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد بقیہ شرپسندوں نے ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لی جہاں اُنہیں براہِ راست نشانہ بنانا مشکل تھا سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت دکھاتے ہوئے جب گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی، تو دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں نے آر پی جی RPG اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا تاکہ اپنے ساتھیوں کو فرار کا راستہ فراہم کر سکیں مگر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی سے اس حملے کو پسپا کر دیا۔

    تاہم فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوانوں نے اس آپریشن میں جامِ شہادت نوش کیا جسمیں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں اور اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیرِ علاج ہے۔

    شہید پولیس جوان

    کبل گرام میں اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ گروہ خطے کے سٹرٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی نگرانی بدستور جاری ہے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے آپریشنز میں شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور ہمیشہ قوم کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

  • شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

    شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

    شانگلہ: دراد علاقے کے 57 سالہ چرواہے شیر ملک نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچایا-

    شانگلہ کا ضلع حالیہ بارشوں اور طوفانی سیلاب سے بدترین متاثر ہوا ہے جہاں 36 افراد جاں بحق ہوئے۔صرف پورن تحصیل میں اب تک 31 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کے مطابق خواڑ بانڈہ اور شاتی درہ میں لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے دراد علاقے کے 57 سالہ چرواہے شیر ملک نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچایا۔

    یہ واقعہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب ان کے قریبی ہمسایہ گھر میں خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار سنائی دی اس گھر میں کوئی مرد موجود نہ تھا اور مکان چاروں طرف سے سیلابی پانی میں گھرا ہوا تھاشیر ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے بچوں کو نکالا اور پھر خواتین کو اپنے گھر منتقل کیا،اسی دوران ہمسایوں نے ان سے مویشیوں کو بچانے کی درخواست کی، جس پر وہ دوبارہ پانی میں گیا لیکن ایک بکری کو نکالتے وقت مکان کی چھت گر گئی اور چرواہا ملبے تلے دب گیا۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    چھت لوہے کی چادروں کی بنی ہوئی تھی جس سے ان کا ہاتھ کٹ گیا وہ تقریباً 3 گھنٹے تک پانی کے بیچ ملبے میں پھنسے رہے مگر بالآخر بڑی جدوجہد کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوگئے بعدازاں مقامی لوگ اور رشتہ دار انہیں پشاور اسپتال لے گئے جہاں سرجری کے بعد ان کا ہاتھ کاٹنا پڑا ان کا کٹا ہوا ہاتھ بعد میں ملبے سے برآمد ہوا۔</strong

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    شیر ملک نے کہا کہ ایک مسلمان اور انسان ہونے کے ناطے وہ ہمسایوں کی جانیں بچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، ورنہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح سیلاب کی نذر ہوجاتے جو پانی میں بہہ گئےحادثے کے بعد مقامی افراد ان کی مدد فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ان کی بہادری کو سراہنے والے شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مشکل وقت میں انہیں مالی امداد دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ سنبھال سکیں۔

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

  • چیئر لفٹ میں پھنسے بیٹےکو بچانے کی کوشش میں والد کی موت

    چیئر لفٹ میں پھنسے بیٹےکو بچانے کی کوشش میں والد کی موت

    خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں افسوناک واقعہ پیش آیا ہے، چیئر لفٹ میں پھنسے بیٹےکو بچانے کی کوشش میں والد کی موت ہو گئی

    بیٹا چئئر لفٹ میں پھنسا تو بچے کے والد نے رسی کے ذریعے چیئرلفٹ میں پھنسے بیٹے تک پہنچنے کی کوشش کی،رسی ٹوٹنے سے والد دریا کی لہروں میں بہہ گیا، باپ کے دریا میں گرنے کے بعد مقامی افراد بیٹے کو معلق چیئر لفٹ سے بچا لیا،بلندی سے دریائے سندھ میں گر نے والے باپ کی لاش کی تلاش جاری ہے۔

    کےپی میں لاتعداد ایسی خطرناک دیسی ڈولی(چئر لفٹ) موجود ہیں، جنکی سیفٹی کا معیار چیک کرنےکاکوئی نظام نہیں ہے،یہ اس صوبےپر گیارہ سال سےقابض ایک جماعت کی کارکردگی کی واضح مثال ہے

    ایک صارف وقاص خان نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہاکہ تصویر میں نظر آنے والا شخص آج شانگلہ کے علاقے شنگ میں چئیر لفٹ میں پھنسے اپنے بیٹے کو بچانے کیلئے دریا عبور کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلا گیا، پچھلے 9 سال سے صوبے میں انصاف کے دعویدار پی ٹی آئی کی حکومت ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ آج بھی شانگلہ اور آلائی کے لوگ سڑک جیسی بنیادی سہولت

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

  • شانگلہ  میں  جیپ گہری کھائی میں  گرنے سے 4  افراد جاں بحق

    شانگلہ میں جیپ گہری کھائی میں گرنے سے 4 افراد جاں بحق

    پشاور: شانگلہ بشام کے علاقے میں جیپ گہری کھائی میں گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق یہ حادثہ شانگلہ بشام کے علاقے برباٹکوٹ میں پیش آیا جہاں جیپ گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں جیپ میں سوار 4 مسافر جاں بحق اور اتنے ہی شدید زخمی ہوگئےمقامی لوگوں کی مدد سے لاشیں اور زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں کو بشام اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حادثہ جیپ کے بریک فیل ہوجانے کی وجہ سے پیش آیا۔

    قبل ازیں کلرکہار سالٹ رینج پر گیس باؤزر مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکراگیا، موٹروے پولیس کے مطابق افسوسناک حادثے میں 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے ابتدائی معلومات کے مطابق بریک فیل ہونے کے باعث گیس باؤزر ڈیوائڈر توڑتا ہوا مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکراگیا، گاڑی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سوار تھے، ٹکر کے بعد گیس باؤزر اور گاڑی گہری کھائی میں جاگرے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں کریم آباد کے مقام پر جیپ حادثے جاں بحق افراد کی تعداد 16ہوگئی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کےمطابق جیپ حادثے میں مزید 10افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16ہوگئی، حادثےمیں 3افراد زخمی ہوئے، مقامی افراد اور پاک فوج کی ٹیموں نے 6 جاں بحق افراد کی لاشیں نکال لیں، حادثے کے بعد لاپتہ 10افرادکی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے،آپریشن میں ماہرغوطہ خور، ریسکیواہلکار شریک ہیں تاہم دریا کے بہاؤ میں تیزی اور ٹھنڈے پانی کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سیاحوں کی گاڑی کیل سے تاؤبٹ جاتے ہوئے کریم آباد کے مقام پردریا میں جاگری تھی، حادثے کے دوران گاڑی کی چھت پرسوار چارافراد نے اپنی مدد آپ کے تحت جانیں بچائی تھی۔

  • شانگلہ:جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے  8 افراد جاں بحق

    شانگلہ:جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

    شانگلہ میں جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل الپوری کے علاقے پاگوڑی میں پیش آیا جہاں تیز رفتاری کے باعث جیپ کھائی میں جاگری، حادثے کے نتیجے میں 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دونوں زخمی دم توڑ گئے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ پہاڑیوں پر چار مقامات پر لگنے والی آگ پر پاک فوج کی معاونت سے کئی گھنٹے کی جدوجہد کے باوجود بھی مکمل قابو نہ پایا جاسکا شدید گرمی کے باعث اسلام آباد میں قائم مارگلہ کی پہاڑیوں سے اچانک آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے چار مقامات پر پھیل گئی اور اس کا دھواں کئی کلومیٹر دور سے بھی نظر آنے لگا۔

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ ہوگیا

    آتشزدگی کے باعث اٹھنے والا دھواں شہر میں پھیلا جس کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں تھوڑی دشواری پیش آئی انتظامیہ نے ریسکیو 1122 کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی تاہم اس میں ناکامی کا سامنا رہا وزیراعظم شہباز شریف نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر لگنے والی آگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو بجھانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی جس پر این ڈی ایم اے نے ہیلی کاپٹرز مہیا کیے اور بڑے پیمانے پر اقدامات کر کے آگ پر قابو پایا۔

    رفح کراسنگ پر اسرائیلی اور مصری فوجیوں کے درمیان جھڑپ

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق مارگلہ ہلز پر چار مقامات پر آگ لگی ہوئی تھی، جس پر قابو پانے کیلئے ہیلی کاپٹرز مہیا کیے گئے، زمینی رابطہ نہ ہو نے کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ایوی ایشن اسکوارڈن اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے آگ بجھانے میں معاونت کی۔

    گرمی کی شدت آئندہ 2 سے اڑھائی ہفتے تک جاری رہے گی،ماہرین

  • شانگلہ حملہ،سہولتکار و دہشتگرد گرفتار،گاڑی کہاں سے آئی تھی؟ اہم انکشاف

    شانگلہ حملہ،سہولتکار و دہشتگرد گرفتار،گاڑی کہاں سے آئی تھی؟ اہم انکشاف

    سیکورٹی اداروں کو ملی بڑّی کامیابی،خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ میں چینی انجینئرز پر خودکش حملے میں ملوث 10 سے زائد دہشتگرد اور ان کے سہولتکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بشام حملے میں ملوث دہشت گردوں کا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے، چینی باشندوں‌پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا تعلق کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے ہے،جس دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہ افغان شہری تھا،حملہ آور کو افغانستان سےلانے والا کمانڈر بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، گرفتار کئے گئےچار ملزمان میں دہشت گردوں کے سہولت کار بھی شامل ہیں، حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی ہمسایہ ملک افغانستان میں تیار کی گئی تھی

    چینی باشندوں پر حملے میں استعمال ہونے ولی بارود سے بھری گاڑی چمن کے راستے ڈی آئی خان درہ زندہ پہنچائی گئی تھی، گاڑی درہ زندہ سے چکدرہ پہنچانے والے ڈرائیور کو ڈھائی لاکھ روپے کرایہ دیا گیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکش حملہ آور کے موبائل سم کی مدد سے اہم گرفتاریاں کی گئی ہیں، موبائل سم جس شخص کے نام سے رجسٹرڈ تھی اس نے دوسرے شخص کو اور پھر دوسرے نے خودکش حملہ آور کو دی تھی،

    تفتیشی ٹیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی شانگلہ کے قریب پیٹرول پمپ پر 10 دن کھڑی رہی، گاڑی 10 دن تک 500 روپے فی دن کرائے پر پارک کی گئی تھی، خودکش حملے کے روز گاڑی کو دھماکے والی جگہ پہنچایا گیا، گاڑی کو چمن سے چکدرہ پہنچانے والے ایک سہولت کار کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیاحملے کے ماسٹر مائنڈ حضرت بلال داسو ڈیم حملے میں بھی ملوث اور مطلوب ہے، خودکش حملہ آور کے 2 ساتھی بھی گرفتار ہوئے ہیں، حضرت بلال کی گرفتاری جلد متوقع ہے، گاڑی کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے اسمگلر کے ذریعے چکدرہ پہنچایا گیا، اسمگلر ہفتے میں 20 سے 30 گاڑیاں چمن سے چکدرہ لے کر آتے ہیں

    بشام میں چینی باشندوں پر حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف درج

    چین کا پاکستان سے دہشت گردانہ حملے کی جلد از جلد جامع تحقیقات کا مطالبہ

    بشام واقعہ تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا،عطا تارڑ

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شانگلہ حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دہشتگرد ی میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشتگردی کے خاتمے کے عزم پر یکسو ہے

    حال ہی میں بشام کے علاقے میں دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں پانچ چینی انجینئرز ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک دشمن عناصر نے اس حساس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام میں حسب روایت مایوسی پھیلانا شروع کر دی اور سوشل میڈیا پر دعوے شروع کر دئیے کہ ڈیم پر چین کی جانب سے کام بند کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف چینی حکام کا کہنا ہے ڈیموں کے منصوبوں سے پاکستانی مزدوروں کو برطرف کرنے کی خبریں درست نہیں ،بشام خودکش حملے میں پانچ چینی انجینئرز کی المناک ہلاکت کے باوجود چین نے تربیلا ڈیم توسیعی منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے، 26 مارچ کو جاری سرکلر میں کمپنی نے کہا تھا کہ عارضی کام بندش کے باوجود ملازمین کو ان کے جائز قانونی حقوق ملیں گے، کمپنی نے ملازمین کو نکالنے کی خبریں مسترد کی تھیں ،چینی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں پاکستان کے ساتھ مل کر اعلیٰ معیار کی ترقی کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے

  • ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،بلاول

    ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،بلاول

    خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے داموڑی میں پیپلز پارٹی کا ورکرز کنونشن منعقد ہوا

    کنونشن سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے ثابت کر دیا بھٹو آج بھی زندہ ہے، شناگلہ کے لوگوں کا دل سےمشکور ہوں ،پاکستان کے عوام کومشکلات کا سامنا ہے ، معاشی حالات ابترہوتے جارہے ہیں ، انا کی سیاست کرنے والے پرانے سیاستدان عوامی مسائل سے آگاہ نہیں ،ملک میں تقسیم کی سیاست عروج پر ہے ،سیاست کو اختلاف رائے کے بجائے ذاتی دشمنی تک پہنچادیا گیا،ایک طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست جاری ہے ،دوسری طرف معاشی بحران بدسے بدتر ہوتاجارہاہے ،سیاستدان آج بھی پرانی سیاست کررہے ہیں،ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پرانے سیاستدان کو عوام کے اصل مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ انکے پاس ان مسائل کا کوئی حل ہے ،ہم نے اپنے لوگوں کو روزگار دینا ہے، سندھ میں ہم نے برج، سڑکیں بنائیں، جب تک مزدور خوشحال نہیں ملک خوشحال نہیں ہوسکتا، نوجوانوں کےلئے یوتھ کارڈ لائیں گے، مجھ پر آج تک نا کرپشن کا کیس ہے اور نا ہی خون کا داغ ،میرے مخالف بھی مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے، میرے ہاتھ صاف ہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو روزگار دلوائیں چاہے کہیں بھی ہو،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، میرے بزرگوں نے نوجوانوں کو بچانا ہے ،انا،نفرت،تقسیم کی سیاست کو جاری رکھنا ہے یا اپنی قسمت بدلنی ہے، اگر آپ اصل مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ،عوامی راج چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں،ہم ملکر جدوجہد کریں گے، قائد عوام کا نامکمل مشن پورا کریں گے،میرا ملک مشکل میں ہے عوام تکلیف میں ہے، آپ لوگ میرا ساتھ دیں،میں دکھاؤں گا کہ کیسے ملک اور عوام کی قسمت تبدیل کریں گے.سب سیاست دانوں کو پہچان چکا ہوں ،آٹھ فروری کو الیکشن ہے گھر گھر میں میرا پیغام، میرا منشور پہنچائیں،گھر گھر جا کر بتائیں پیپلز پارٹی عوام کی خدمت کر رہی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا مارتونگ شانگلہ میں جاں بحق ہونے والے 8 بچوں کے اہل خانہ کے لئے مالی امداد کا اعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف کا مارتونگ شانگلہ میں جاں بحق ہونے والے 8 بچوں کے اہل خانہ کے لئے مالی امداد کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے مارتنگ ضلع شانگلہ میں تودے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے 8 بچوں کے اہل خانہ کے لئے مالی امداد کا اعلان کر دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہر جاں بحق بچے کے اہل خانہ کے لئے 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا، تودہ گرنے سے زخمی ہونے والے شخص کو بھی وزیراعظم کی طرف سے مالی امداد دی جائے گی۔وزیراعظم نے مالی امداد کا اعلان اپنے مشیر اور خیبرپختونخوا میں ن لیگ کے صدر انجینئر امیر مقام کی درخواست پر کیا، انجینئر امیر مقام نے وزیراعظم کو خط لکھ کر مارتنگ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لئے امداد کی اپیل کی تھی۔شہباز شریف نے انجینئر امیرمقام کو متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے تعزیت کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں کے نام پیغام میں کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

  • شانگلہ میں امیرمقام کے قافلے پر فائرنگ

    شانگلہ میں امیرمقام کے قافلے پر فائرنگ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کے قافلے پر شانگلہ میں فائرنگ کی گئی۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام پر مارتونگ کےمقام پر نامعلوم افراد نے میرے قافلے پر فائرنگ کی، گارڈز کی جوابی فائرنگ سے مسلح افراد فرار ہوگئےامیر مقام پر حملہ مارتونگ میں نادرا آفس کے افتتاح اور جلسے کیلئے جاتے ہوئے کیا گیا، 2014 میں بھی اسی مقام پر حملے کی کوشش کی گئی تھی، پولیس نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا آر پی او ملاکنڈ ناصرمحمود ستی کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔امیر مقام دورہ مکمل کرکے چلے گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے-

    تربت میں خاتون خودکش حملہ آور کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید،2 زخمی

    کراچی: اسپتال میں مردہ حالت میں لائی جانے والی لڑکی ٹک ٹاکر نکلی

    وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرے ہوئے کہا ہے کہ وہ امیر مقام پر دہشت گردوں کےحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے امیر مقام محفوظ رہے شہباز شریف نے امیر مقام سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کے جذبے، بہادری اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا۔

    واضح رہے کہ دو سال قبل اگست 2020 میں مالم جبہ میں ن لیگ کے رہنما امیر مقام کی قیام گاہ میں اچانک آگ لگ گئی تھی، آگ لگنے کے وقت بنگلے میں سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی سمیت کئی مہمان بھی موجود تھے امیر مقام کے بنگلے میں آگ مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کے سبب لگی تھی۔

    چارسدہ ڈی ایچ کیو میں مریضوں کے ساتھ نا مناسب رویے پر وزیر اعلی کا …

    مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کے غیر حاضر 11 اراکین پی ٹی آئی سے …

  • پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات:گھرکوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات:گھرکوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    لاہور:پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات آگ لگنے کے واقعات نےآزمائش میں‌ ڈال دیا،دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی شمال مغربی وادی سوات اپنی برف پوش چوٹیوں، چمکتی نیلی جھیلوں، سرسبز و شاداب مرتفع اور گھنے جنگلات کی وجہ سے ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    وادی سوات اپنے مماثل دلکش مناظر کی وجہ سے "پاکستان کا سوئٹزرلینڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ وادی گزشتہ سال تقریباً 2 ملین لوگوں کی طرف سے دیکھنے والی پسندیدہ جگہ رہی۔اس کے باوجود، یہ حال ہی میں بڑے پیمانے پر جنگل کی آگ کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے جس نے پچھلے تین ہفتوں کے دوران 14,000 ایکڑ سے زیادہ جنگل کے احاطہ کو جلا دیا ہے۔

    ہری پور: نجف پور کے پہاڑوں پر آگ لگ گئی

    خشک موسمی حالات کے علاوہ، بہت سی آگ مقامی لوگوں نے جان بوجھ کر لگائی تھی تاکہ صدیوں پرانے قانون سے فائدہ اٹھایا جا سکے جو انہیں جنگلات کی ملکیت حکومت کے ساتھ بانٹنے کی اجازت دیتا ہے۔”شمائلات” یا مشترکہ جائیداد کا قانون، جسے طاقتور یوسف زئی قبیلے نے 16ویں صدی میں وادی سوات پر قبضہ کرنے کے بعد متعارف کرایا تھا، مقامی برادریوں کو جنگلات کی ملکیت حکومت کے ساتھ بانٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

    شانگلہ اور سوات کے پہاڑی سلسلوں میں آگ بھڑک اٹھی

    قانون کے مطابق، وہ جنگلات کے خالی حصے کو کاٹ سکتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے چراگاہوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔تاہم، وہ درختوں کو نہیں کاٹ سکتے سوائے شاخوں کے یا جلانے والی لکڑیوں کے۔شاید اسی وجہ سے آگ لگائی جارہی ہے یہ قانون، جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں بھی تبدیل نہیں ہوا،1969 میں سابقہ ​​شاہی ریاست کے شامل ہونے کے بعد پاکستان نے بھی کچھ ترامیم کے ساتھ اپنایا تھا۔

    شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات کے ترجمان لطیف الرحمان نے کہا کہ "ہم نے سوات میں حالیہ برسوں میں جان بوجھ کر جنگل میں لگنے والی آگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھا ہے۔ اور اس رجحان کے پیچھے بنیادی مقصد زراعت کے لیے مزید زمینیں حاصل کرنا ہے۔” جس میں سوات واقع ہے۔

    لطیف الرحمان کہتے ہیں کہ مقامی لوگ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی ضروریات کی وجہ سے اپنی زرعی زمینوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان جرائم پیشہ افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ "اس کے لیے، درختوں سے جنگل کی زمینوں کو صاف کرنے کا بہترین طریقہ آگ ہے۔

    "ان کی غلط رائے میں، درخت زراعت سے کم اہم ہیں۔ یہ پورے ماحولیاتی سائیکل کو برباد کر رہا ہے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات کو بڑھا رہا ہے،” انہوں نے برقرار رکھا۔

    چین ؛کرونا کے بعد نیا عذاب ، جنگلات کوآگ لگ گئی 19 آگ بجھانے والے ہلاک درجنوں موت…

    پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کے سربراہ محمد نفیس نے کہا کہ شمائلٹ دراصل صدیوں پرانی قبائلی روایت ہے جسے بعد میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت اور پاکستانی حکومت نے قانون کا درجہ دے دیا تھا۔شاملات کی اصل روایت کے مطابق نفیس نے کہا کہ دریا، پہاڑ، ندیاں اور جنگل کسی قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہیں۔

    لیکن 1969 کی شمولیت کے بعد پاکستانی حکومت نے جنگل کے درختوں کو ریاست کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کچھ تبدیلیاں کیں، جبکہ مقامی لوگوں کو جنگل کی زمینوں کی کٹائی اور گھریلو استعمال کے لیے درختوں کی شاخیں حاصل کرنے کا حق دیا گیا۔

    ایک اور غیر تحریری قانون، اس نے آگے کہا، ایک کسان جس کی زمین پہاڑی جنگل کو چھوتی ہے، ملحقہ جنگل کے جھاڑو کو صاف کرنے اور اسے اپنی زمین کے ٹکڑے میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    "وادی سوات میں جنگل کی آگ” کے عنوان سے ایک مقالہ لکھنے والے نفیس کا کہنا ہے کہ خوبصورت وادی میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی کے پیچھے جان بوجھ کر لگنے والی آگ اور لاپرواہی دو اہم عوامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں آزادی کے وقت سوات میں جنگلات کا 30 فیصد حصہ تھا جو آہستہ آہستہ کم ہو کر 15 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے۔

    "فی الحال، صرف دور دراز اور اونچے پہاڑ ہی گھنے جنگلات کے ساتھ بچ گئے ہیں۔ بصورت دیگر، کم اونچائی والے پہاڑوں پر جنگلات زرعی زمینوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

    اس وقت سوات میں 70% جنگلات شاملات کے قانون کے تحت آتے ہیں، جب کہ باقی 30% یا تو ریاست کے کنٹرول میں ہیں یا نجی ملکیت میں ہیں۔سوات اور شانگلہ اور بونیر کے ملحقہ اضلاع میں چیڑ کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق ہوا سے لگنے والی آگ نے ہزاروں درخت جل کر راکھ کر دیے ہیں اور پرندوں اور جانوروں کی کئی نایاب نسلوں کو ہلاک کر دیا ہے۔شانگلہ ضلع میں گزشتہ ہفتے جنگل میں لگنے والی آگ سے تین خواتین سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    محکمہ جنگلات کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 200 سے زائد جنگلات میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، خاص طور پر سوات، شانگلہ اور بونیر کے اضلاع میں۔210 جنگل کی آگ میں سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 55 مقامی لوگوں نے جان بوجھ کر شروع کیں، جب کہ صرف 12 آگ خشک موسم کی وجہ سے لگی۔ بقیہ 143 آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔اس نے مزید کہا کہ تقریباً دو درجن مقامی لوگوں کو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران جان بوجھ کر جنگلات کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    سوات کے چیف فاریسٹ آفیسر وسیم خان کہتے ہیں کہ جنگلات سے لگنے والی آگ میں سے 95 فیصد یا تو "شمائلات” یا نجی ملکیت میں آتی ہیں۔انہوں نے "بے قابو” سیاحت، مقامی لوگوں کی "لاپرواہی” اور آسمانی بجلی کو جنگل کی آگ کے لیے دیگر محرکات کے طور پر حوالہ دیا، جو ان کے بقول ایک طویل عرصے سے چل رہا مسئلہ ہے۔

    "بہت سے معاملات میں، مقامی لوگ اونچائی پر چلنے والی چراگاہوں اور سڑی ہوئی اور خشک گھاس کے جنگلات کو کنٹرول شدہ جلانے کے ذریعے صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ کنٹرول شدہ جلنا بعض اوقات بے قابو ہو کر پورے جنگل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے،‘‘ اس نے کہا۔

    اطلاعات کے مطابق پکنک کرنے والوں کے ایک گروپ کی جانب سے جھاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد ایک بہت بڑی جنگل میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں دیودار کے ایک جنگل کو تباہ کر دیا اور تین افراد ہلاک ہو گئے۔حکومت کی جنگلات کی کاوشوں کو نقصان پہنچانا

    محکمہ جنگلات کے ترجمان رحمان نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر آگ لگانے میں ملوث پائے جانے والے مشتبہ افراد پر جیل کی سزا کے ساتھ بھاری جرمانے عائد کرے گی۔

    ماضی میں فوجداری قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر آگ لگانے میں ملوث شخص کو ہر درخت کے لیے 100,000 پاکستانی روپے ($487) تک جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    پاکستان ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔

    جنگل کی آگ کی تازہ ترین لہر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرچم بردار "10 بلین ٹری سونامی” منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے، جن کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی اب بھی صوبہ خیبر پختونخواہ پر حکومت کر رہی ہے۔
    درخت لگانے کے پرجوش منصوبے، جس کا مقصد ملک کے تیزی سے ختم ہونے والے جنگلات کے احاطہ کو بحال کرنا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

    پاکستان نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اشتراک سے اپنی تاریخ میں پہلی بار عالمی یوم ماحولیات کی تقریبات کی میزبانی کی۔