Baaghi TV

Tag: شاہد خاقان عباسی

  • اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کیسز بنتے ہیں لیکن گواہان نہیں آتے،ہم تو پہلے کہتے تھے کہ عدالتوں میں کیمرے لگوائیں،جس ملک میں عدالتی نظام غیر محفوظ ہو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا،

    کراچی میں عدالت پیشی کے موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سابق چیئر مین نیب عوام سے معافی مانگیں،شاید بچت ہوجائے،انصاف کی کرسی پر بیٹھنا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے،جھوٹےکیس بنائے گئے، تماشے لگائے گئے، جسٹس ر جاوید اقبال سے آج کوئی ہے جو سوال کرے کہ جعلی کیس کیوں بنائے، جعلی فیصلے کیوں کئےیہ ناانصافی کا نظام ہے، کسی دن ہم نے ہاتھ ڈالنا ہے جاوید اقبال پر، میں آج بھی کہتا ہوں کہ ناانصافی چھوڑیں، جس ملک کا نظام ناانصافی پر مبنی ہو وہ ملک نہیں چل سکتا،عدالتیں بھری ہوئی ہیں لیکن صرف تاریخ ملتی ہے، گواہ نہیں آتے، اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو غریب آدمی کو کیسے ملے گا،ان ممالک کو دیکھیں جو ترقی کر رہے ہیں وہان بنیادی چیز انصاف کا نظام ہے

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اگر انصاف نہیں ملتا تو نظام بدلیں،جو عرصہ جیل میں گزرا اسکا حساب کون دے گا ، جسٹس ر جاوید اقبال معافی مانگ لے تو شاید بچت ہو جائے، جو آدمی سپریم کورٹ کا جج رہا ہو اور کرسی پر بیٹھ کر جھوٹ بولے، جعلی مقدمے بنائے، کیا اسکا احتساب نہیں ہو گا؟ آئین میں کہاں‌لکھا ہے کہ کسی کو تاحیات نااہل کر دیں، ناانصافی نہ کیا کریں ،بھٹو صاحب کو اب کیا انصاف دیں گے، پھانسی تو لگا دیا، جعلی فیصلے دینے سے پہلے سوچا کریں،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اس میں الیکشن کچھ نہیں دے گا، ایک بڑی خرابی پیدا ہو گی، جب مجھ جیسا آدمی بات کر رہا ہے تو سمجھنے کی کوشش کریں، حالات سے خوفزدہ نہیں ہوں، اس بار جتنا الیکشن آسان ہے زندگی میں کبھی نہیں تھا،اس اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بنوں گا،میں نے جو فیصلہ کر لیا، اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، اگر نواز شریف نے بلایا تو چلا جاؤں گا لیکن فیصلہ یہی ہے،جو آج ملک کی سیاست ہے اس سے میرا اتفاق نہیں ، سیاست کا مقصد اقتدار رہ جائے تو یہ سیاست نہیں رہتی،سب کو اقتدار چاہئے،اقتدار کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا، عوام کے مسائل کی کوئی بات نہیں کر رہا ،

    دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے کراچی کی احتساب عدالت میں ملاقات کی ،آغا سراج درانی نے شاہد خاقان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو سندھ آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں،شاہد خاقان عباسی نے آغا سراج درانی کی طبیعت دریافت کی

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • شاہد خاقان عباسی فیض آباد دھرنا کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے

    شاہد خاقان عباسی فیض آباد دھرنا کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے

    راولپنڈی:سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم فیض آباد دھرنا کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے کمیشن کی جانب سے ایک ٹیلی فون کال پر بلایا گیا تھا جوکہ جنرل تحقیقات کر رہا ہے، البتہ جو ہوا بطور وزیر اعظم میری ذمہ داری تھی دھرنا ختم کرنے کے لیے معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا، دھرنے میں اگر کسی نے قانون توڑا تو قانونی کارروائی ہونی چاہیے، فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے معاہدے کا ڈرافٹ میں نے نہیں دیکھا تھا، اسے ختم کرانے کا فیصلہ حکومت کا تھا۔

    واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا، وہ اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک وزیراعظم رہے دو روز قبل راولپنڈی میں فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا تھا، تین رکنی کمیشن نے پنجاب پولیس کے سابق سربراہ عارف نواز اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ سلطان اعظم تیموری اور راولپنڈی ڈویژن کے سابق کمشنر ندیم اسلم چوہدری کو بھی طلب کیا تھا۔

    حج اسپانسر شپ اسکیم کا کوٹہ 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کر …

    گزشتہ روز عارف نواز نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز میں اپنی مصروفیات کو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے کا جواز بنایا سلطان اعظم تیموری اور ندیم اسلم چوہدری منگل کو وزارت داخلہ میں اس کے دفتر میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئےان افسران کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے۔

    سابق آئی جی پولیس سلطان اعظم تیموری نے کمیشن کو بتایا تھا کہ انہیں 8 دسمبر 2017 کو دارالحکومت کا پولیس چیف مقرر کیا گیا تھا جب کہ ٹی ایل پی کا دھرنا 24 اکتوبر کو شروع ہوا اور اسی سال 27 نومبر کو ختم ہوا، اس عرصے کے دورا وہ ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ تھے دھرنے کے سلسلے میں درج مقدمات کی پیروی پولیس نے حکومت کی ہدایت کے مطابق اس کے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے کی۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    سلطان اعظم تیموری نے اس طرح کے دھرنوں سے نمٹنے کے لیے ایک علیحدہ ایںٹی رائٹ فورس تشکیل دینے کی سفارش کی اس کے علاوہ ایسے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبہ، ایس او پیز اور پیشگی تیاری کی جانی چاہیے،سلطان اعظم تیموری سے اسلام آباد پہنچنے والے مظاہرین کو روکنے میں ناکامی اور دھرنے کے لیے ٹی ایل پی کو سہولت فراہم کرنے والوں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی گئی دونوں سابق عہدیداروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد کمیشن نے کارروائی آج بروز بدھ تک ملتوی کردی تھی-

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیا تھا،20 نومبر سے فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا۔

    لاہور میں مالکن نے گھریلو ملازمہ کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی

  • فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس میں کمیشن نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کر لیا

    شاہد خاقان عباسی کو 29 نومبر کو فیض آباد کمیشن میں طلب کیا گیا ہے،اسرار احمد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان ریکارڈ کریں گے ،شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیر اعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیاہے، ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز کو بھی کمیشن میں شامل کرلیا گیا۔ ڈپٹی سیکرٹری وزرات داخلہ محمد ایاز بطور سیکرٹری کمیشن مقرر کردئیے گئے ہیں، سابق آئی جی طاہر عالم تاحال والدہ کی بیماری کے باعث کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کے لیے متعدد ویڈیو حاصل کرلی ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیا تھا،ہ 20 نومبر سے فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا،کمیشن اپنی رپورٹ جمع کروائے گاجو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، شاہد خاقان عباسی

    انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان اور انڈیا کے ساتھ ہماری تجارت نہیں ہے،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ڈپلومیسی تجارت ہے کہ آپ کیا خرید رہے ہیں اور کیا بھیج رہے ہیں ہے، ایسٹ ایشاء کے پاس کوئی ٹرک روٹ نہیں ہے اس معاملے کو دیکھنا چاہیئے، ہماری گیس، ٹرک روٹس اور سفر کے مسائل کو دیکھنا ہوگا،پاکستان اور انڈیا میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل ہیں،اگر ائیر کوالٹی انڈیکس کا یہ مسائل ہے تو پانی اور باقی چیزوں کا اندازہ خود لگا لیں،دونوں ممالک کو سخت مسائل درپیش ہیں لیکن ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، ہمیں اپنے گھر کے مسائل کو حل کرنا ہوگا، غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے لیکن سب خاموش ہیں،کیا کسی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کئے، عوام بول رہی ہے لیکن تمام حکومتیں خاموش ہیں،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے 76 سالوں دنیا کے تمام سسٹمز کو آزمایا لیکن ہم ناکام ہوئے،اب وقت ہے کہ آئین کو آزمایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ، پاکستان میں اس وقت جمہوریت کی سخت ضرورت ہے،جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات کا ہونا ضروری ہے، اگر آنے والے انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو مسائل حل نہیں ہونگے، کامیاب معشیت کے لیے جمہوریت کا ہونا ضروری ہے،سیاست کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان آٹومیٹک اسلحے کے لائسنس دیتا ہے، حتی کے افعانستان اور لبنان فراہم نہیں کرتا،جب سیاسی مسائل حل ہونگے تو معیشت کے مسائل حل ہوجائے گے ، شاہد خاقان عباسی

  • شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا

    شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا

    اسلام آباد: شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی:شاہد خاقان عباسی کی اپنے آبائی علاقے کے لیگی وفد سے ملاقات ہوئی،وفد کے اصرار کے باوجود شاہد خاقان نے ن لیگ سے ٹکٹ نہ لینے کا موقف اختیار کیا،شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دیاشاہد خاقان نے وفد سے پارٹی میں نظر انداز کیے جانے کا شکوہ کیا-

    قبل ازیں نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے مسلم لیگ ن کے اجلاس میں بلایا نہیں گیا، میں نے شہباز شریف کو خود کہہ دیا تھا کہ مجھے پارٹی امور سے علیحدہ رکھیں،میں نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ پارٹی میں اگلی نسل آئے گی تو میں عہدے دار نہیں رہوں گا، مسلم لیگ ن میں موجود ہوں مگر نئے الیکشن میں حصہ لینے کا قائل نہیں-

    شاہد خاقان نے کہا کہ حلقے کے عوام کا مجھ پر بہت دباؤ ہے کہ الیکشن لڑوں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے،مسائل حل کرنے کے لیے تمام جماعتوں کو آپس میں بیٹھنا ہو گا سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو لوگ جیل میں ہیں، چاہے انہیں مقبولیت حاصل ہے یا نہیں، انہیں سیاست کو ایک طرف رکھنا پڑے گا، سب جماعتوں کو موقع مل چکا ہے، کوئی کچھ نہیں کر سکا،نواز شریف جب بلائیں گے حاضر ہو جاؤں گا، نیب کے ہوتے حکومت کا نظام نہیں چلے گا، یہ سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ ہے۔

    لودھراں: تیز رفتار ٹریلر کی موٹر سائیکل رکشےکو ٹکر ،ایک ہی خاندان …

    دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے،ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ میں نے شاہد خاقان کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے، دل کی گہرائیوں سے شاہد خاقان عباسی کو ایم کیو ایم میں شمولیت کی دعوت دی ہے، انہوں نے مجھے سنجیدگی سے سنا ہے، وہ سوچ کر جواب دیں گے۔

    روؤف صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 7، 8 برس سے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں، ہمیں عدالت سے ریلیف نہیں انصاف چاہئے، ہر کیس میں ہم باعزت بری ہوں گے، کس بات کی معافی مانگے، ہم بے گناہ ہیں، تضحیک آمیز مقدمات بنائے گئے، 11 سے 12 سو اشرفیہ خاندان ہیں ایسے ہیں جن کو ریلیف دیا جاتا ہے۔

    مزید 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • ان حالات میں الیکشن کا قائل نہیں ہوں، شاہد خاقان عباسی

    ان حالات میں الیکشن کا قائل نہیں ہوں، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن کے حق میں نہیں ہُوں ، پی ٹی آئی کا ایک اہم رول ہے۔
    نواز شریف ملنے بلائیں گے تو جاؤنگا ورنہ نہیں

    احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئے، ملکی مسائل کا حل یہ ہےکہ سٹیک ہولڈر کو آگے کے راستے کا تعین کرنا پڑے گا، ورنہ الیکشن سے کچھ نہیں ہو گا، ملکی معاملات بہتر نہیں ہوں گے، 35 سال سے سیاست میں ہوں، سیاست میں رہوں گا ان حالات میں الیکشن کا قائل نہیں ہوں، جو الیکشن عوام کو تکلیف دے اس کا کیا فائدہ، کیا پیغام لے کر عوام کے پاس جائیں گے؟ میں مایوس نہیں ہوں،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر جماعت اقتدار میں رہ چکی،ملکی مسائل کا حل کسی ایک جماعت کے پاس نہیں بلکہ اتحاد میں ہے،سیاسی لیڈر اندر باہر ہوتے رہتے ہیں،پی ٹی آئی اپوزیشن کی بڑی جماعت تھی، یقینا انکا ایک مقام سیاست میں ہے،میں نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اب کسی میں مشاورت میں شامل نہیں ہوتا، نواز شریف بلائیں گے تو ملنے چلا جاؤں گا، آخری ملاقات لندن میں ہوئی تھی، نیب کے ہوتے ہوئے حکومت کا نظام نہیں چل سکتا، یہ واحد ادارہ ہے جس کا مقصد صرف سیاستدانوں کا احتساب کرنا ہے

  • آج پارٹی اجلاس میں کیوں نہیں بُلایا گیا،شاہد خاقان عباسی نے بتا دیا

    آج پارٹی اجلاس میں کیوں نہیں بُلایا گیا،شاہد خاقان عباسی نے بتا دیا

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ انہیں آج ہونے والے پارٹی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی دوران گفتگو پارٹی اجلاس میں بلایا کیوں نہیں گیا؟ اس سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ پارٹی کے عہدیدار نہیں ہیں، اس لیے انہیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا، میں نے جنوری میں سینئیر وائس پریزیڈنٹ کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، جنوری کے بعد سے میں نے کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی کے معاملات سے جب استعفیٰ دے دیا تو اب میں عام ایم این اے عام ورکر ہوں، ایم این اے بھی نہیں ہوں وہ بھی ختم ہوگیا، اب ایک عام آدمی ہوں،پارٹی میں ہونا آپ کی ذات تک محدود ہوتا ہے، میں جب تک پارٹی میں ہوں تو پارٹی کا حصہ ہوں، اگر میری باتیں قابل قبول نہیں تو نکال دیں جماعت سے۔

    اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار کا دعویٰ

    واضح رہے کہ لاہور میں نواز شریف کی زیرِ صدارت ن لیگ کے سینئر رہنماؤں کا اجلاس ہوا جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہا، ذرائع کے مطابق نواز شریف نے عام انتخابات کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی اور سیاسی کشیدگی ختم کرنے کیلئے پارٹی رہنماؤں کی تجاویز پر غور کیا گیا،اجلاس میں نفرت انگیز سیاسی فضا کو ختم کرنے کیلئے نواز شریف کی تجویز پر جماعتوں کی کانفرنس منعقد کرنے پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی، اجلاس میں الیکشن رولز کیلئے سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ساتھ ہی رہنماؤں کی تجویز پر نواز شریف نے سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے واٹس ایپ سروس کی نئی سروس متعارف کرادی

    نوازشریف نے سیاسی جماعتوں سے رابطوں کیلئے رہنماؤں کو ٹاسک سونپ دیے، اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، ایاز صادق پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) کی قیادت سے رابطے کریں گے، ساتھ ہی ق لیگ، ایم کیو ایم اور آئی پی پی سے بھی سیاسی روابط کئے جائیں گے، سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے بھی روابط بڑھائے جائیں گے۔

    پی پی کے سابق ایم این اے کی بیٹے سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت

  • میں  لیڈر نوازشریف کو مانتا ہوں،  شہباز اور مریم نواز  کو نہیں. شاہد خاقان عباسی

    میں لیڈر نوازشریف کو مانتا ہوں، شہباز اور مریم نواز کو نہیں. شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ (نواز) کے سینیئر رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرا لیڈر نوازشریف ہے، شہبازشریف اور مریم نواز نہیں ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ ن لیگ میں شامل ہوں، بتا دیا ہے اور ان حالات میں الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اقتدار دیکھ چکی ہیں، عدم اعتماد کے بعد ہمیں حکومت نہیں بنانی چاہیےتھی۔

    جبکہ ان کا کہنا تھاکہ میرا لیڈر نوازشریف ہے، شہبازشریف اور مریم نواز نہیں، سیاسی جماعت کی جگہ موجود ہے لیکن وہ بعد کی بات ہے اور شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ میں ٹرتھ کمیشن کا قائل ہوں، اگر کبھی بنا تو سب سے پہلے میں خود پیش ہوجاؤں گا، ہم نے اپنی تاریخ کو مسخ کردیا ہے، ہمیں اقتدار کی جنگ اور کرسیوں کی لالچ سے پیچھے ہٹنا پڑےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگراں وزیراطلاعات سے روسی سفیر کی ملاقات؛ معیشت، تعلیم، ثقافت زیر بحث
    اسرائیل سے بھاگنے والوں کا ائیرپورٹ پر رش
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ حلقےکے لوگ فیصلہ کریں گے کہ استقبال کیلئےجانا ہے یا نہیں، پارٹی کی ذمہ داری تھی کہ نوازشریف سے جو نا انصافی ہوئی اسے درست کرتی ہے اور خیال رہے کہ گزشتہ دنوں شاہد خاقان عباسی نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔

  • شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل

    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل

    احتساب عدالت اسلام آباد ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کیخلاف ایل این جی ریفرنس اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل کر دیا گیا،

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی منتقلی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ قانون کے مطابق احتساب عدالت کے پاس ایل این جی ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں بنتا،پراسیکیوٹر کے مطابق بھی احتساب عدالت کا اس ریفرنس پر دائرہ اختیار نہیں، ایل این جی ریفرنس کو اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل کیا جاتا ہے، تفتیشی افسر مقدمے کا تمام ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں جمع کرائیں،اس کیس میں 5 ملزمان کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں، دیگر ملزمان کے وکلاء کی جانب سے بھی عدالتی دائرہ اختیار پر قانونی سوالات اٹھائے گئے، شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر نہیں کی گئی،تاہم شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت دلائل دیئے،

    کندھ کوٹ: ایک ماہ قبل اغواء ہونے والی تینوں لڑکیاں ڈاکوؤں کے چنگل سے بازیاب

    مسلم لیگ ن آفس اور عسکری ٹاور حملہ کیس: یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں …

    اگرایس ایچ اوکی شان میں گستاخی نہ ہوتواسےعدالت میں طلب کرکے وضاحت طلب کریں،وکیل شیخ …

    ریفرنس میں تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی،شاہد خاقان عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دیگر ملزمان کو فائدہ پہنچایا، ریفرنس میں نیب ترمیمی آرڈیننس کی سیکشن 9 کے تحت غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے کے شواہد موجود نہیں، ریفرنس انسدادِ کرپشن ایکٹ 1947 کے سیکشن 5 کے زمرے میں آتا ہے، احتساب عدالت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمات کی بھی سماعت نہیں کر سکتی،اسپیشل جج سینٹرل ہی انسدادِ کرپشن اور انسدادِ منی لانڈرنگ قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت کر سکتے ہیں،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی 2019 کو قومی احتساب بیورو نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا اور انہیں فروری 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا گیا گیا تھا۔ان پر الزام ہےکہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

    بعدازاں 3 دسمبر 2019 کو نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

  • نئی یا پرانی مردم شماری کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،خاقان عباسی

    نئی یا پرانی مردم شماری کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،خاقان عباسی

    تلہ گنگ: سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے جماعت جو فیصلہ کرےگی قبول ہوگا۔

    باغی ٹی وی: تلہ گنگ میں میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہو گا انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے جماعت جو فیصلہ کرےگی قبول ہوگا۔

    ان کا کہنا تھاکہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دن میں الیکشن ہوں گے، نئی یا پرانی مردم شماری کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ نہ میں وزیر ہوں اور نہ پارٹی کا کوئی عہدہ میرے پاس ہےاس کے باوجود جماعت جو ذمہ داری دے گی وہ مجھے قبول ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    خیال رہے کہ حکومتی اتحادیوں نے 9 اگست کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نگران وزیراعظم کے لیے مزید نام سامنے آ رہے ہیں ، اس حوالے سے اتحادی جماعتوں کی مشاورت کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے نگران وزیراعظم کیلئے شاہد خاقان عباسی کا نام بھی فہرست میں شامل ہے جبکہ حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد کے نام سامنے آ رہے ہیں،نگران وزیر اعظم کے لیے شہباز شریف نے تاحال اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ، وہ نواز شریف سے حتمی مشاورت کے بعد امیدوار کا نام دیں گے۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ