Baaghi TV

Tag: شاہنواز امیر

  • سارہ انعام کیس،ثمینہ شاہ کی بریت کیخلاف درخواست دائر

    سارہ انعام کیس،ثمینہ شاہ کی بریت کیخلاف درخواست دائر

    سارہ انعام قتل کیس میں مقتولہ کے والد انعام الرحیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا،

    مقتولہ سارہ انعام کے والد انعام الرحیم نے مجرم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کو بری کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،سارہ انعام کے والدنے وکیل راؤ عبد الرحیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیشن عدالت نے ثمینہ شاہ کو کیس سے بری کیا،سیشن عدالت کا ثمینہ شاہ کو کیس سے بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ثمینہ شاہ کو زیادہ سے زیادہ سزا سنائی جائے،

    اس موقع پر عدالت کے باہر مقتولہ سارہ انعام کے والد انعام الرحیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ والے روز فارم ہاؤس پر 3 افراد تھے،شاہنواز امیر نے قتل کیا، جبکہ اس کی والدہ ثمینہ شاہ بھی وہاں موجود تھی، ایسا ہو نہیں سکتا کہ ثمینہ شاہ جرم میں ملوث نہ ہو، مجرم شاہنواز امیر کو جو سزا سنائی گئی اس سے مطمئن ہوں

    سارہ انعام قتل کیس میں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا رکھی ہے،عدالت نے فیصلہ ملزم اور مقتولہ سارہ انعام کے اہل خانہ کی موجودگی میں سنایا تھا,فیصلے کے وقت عدالت میں شاہنواز امیر کے والد ایاز امیر اور شریک ملزمہ والدہ ثمینہ شاہ بھی موجود تھیں. عدالت نے ملزم شاہنواز کی والدہ ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا،عدالت نے ملزم شاہنواز امیر پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا.

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو 23 ستمبر 2022 کی رات قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے،قتل کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا،

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    شاہنواز امیر نے اپنی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی

  • سارہ انعام قتل کیس،  عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    سارہ انعام قتل کیس، عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،سارہ انعام قتل کیس میں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    جج ناصر جاوید رانا نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے فیصلہ ملزم اور مقتولہ سارہ انعام کے اہل خانہ کی موجودگی میں سنایا,فیصلے کے وقت عدالت میں شاہنواز امیر کے والد ایاز امیر اور شریک ملزمہ والدہ ثمینہ شاہ بھی موجود تھیں. عدالت نے ملزم شاہنواز کی والدہ ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا،عدالت نے ملزم شاہنواز امیر پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا ،عدالت نے 9 دسمبر کو سارہ انعام قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا

    شاہنواز امیر کسی رعایت کا مستحق نہیں،مرنے تک پھانسی کے پھندے پرلٹکایاجائے،عدالت
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے جج ناصر جاوید رانا نےسارہ انعام قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، تفصیلی فیصلہ 75 صفحات پر مشتمل ہے، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ استغاثہ مجرم شاہنواز امیر کیخلاف مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے، ملزم شاہنواز امیر نے جان بوجھ کر سارہ انعام کو وزنی ڈمبل کے پے در پے، بے رحم ضربات لگا کر قتل کیا لہٰذا عدالت شاہنواز امیر کو مجرم قرار دیتی ہے ،شاہنواز امیر کسی بھی رحم کے مستحق نہیں ہیں،عدالت شاہنواز امیر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 بی کے تحت سزائے موت کا حکم سناتی ہے، مجرم کو مرنے تک پھانسی کے پھندے سے لٹکایا جائے اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ سارہ انعام کے لواحقین کو ادا کیا جائے، اگر مجرم جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس سے زمین کے واجبات کی مد میں جرمانہ وصول کیا جائے، دیوالیہ ہونے کی صورت میں مجرم کو 6 ماہ کی قید مزید بھگتنا ہوگی،عدالت نے پولیس کو مال مقدمہ کی مد میں تحویل میں لیے گئے مقتولہ سارہ انعام کے خون آلود کپڑے اور دیگر چیزیں سارہ انعام کے والد کوواپس کرنے کا حکم بھی دیا،

    عدالت نے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ کیس میںشریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا ثمینہ شاہ کو بعد میں قتل میں معاونت کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا ان پر قتل میں معاونت کے الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیاجا سکا،جب واقعہ ہواتو ثمینہ شاہ فارم ہاؤس پر تھیں مگر سارہ انعام کے قتل میں معاونت کا کوئی ثبوت نہیں، تفتیش اور ٹرائل میں بھی ثمینہ شاہ کے خلاف کوئی مجرمانہ مواد ریکارڈ پر نہیں لایا گیا،وقوعہ کے بعد ثمینہ شاہ نے خود پولیس کو فون کرکے سارہ کے قتل سے آگاہ کیا شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو شک کا فائدہ دے کر مقدمے سے بری کیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو 23 ستمبر 2022 کی رات قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے،قتل کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا،

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • سارہ انعام قتل کیس، ناقص تفتیش،ملزم شاہنواز امیر کلاشنکوف برآمدگی کیس میں بری

    سارہ انعام قتل کیس، ناقص تفتیش،ملزم شاہنواز امیر کلاشنکوف برآمدگی کیس میں بری

    ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ،سارہ انعام قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم شاہنواز امیر کیخلاف کلاشنکوف برآمدگی کا کیس

    عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں پولیس کی ناقص تفتیش کا انکشاف سامنے آیا،عدالت نے کلاشنکوف برآمدگی کیس میں ملزم کی رہائی کی روبکار جاری کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزم کیخلاف الزام ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ،استغاثہ کے شواہد میں ایک سے زائد شکوک وشبہات پائے گئے، شک کا فائدہ ملنا ملزم کا حق ہے، کیس کی کمپلینٹ پولیس اسٹیشن کو بھجوانے والے کانسٹیبل طارق کو بطور گواہ عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا،اتنے اہم گواہ کو عدالت پیش نہ کرنے کے قانون شہادت کے تحت نتائج ہیں ، پرائیویٹ شخص کو گواہ نہ بنانا بھی ایک اور بڑا سقم ہے ،

    سارہ انعام کیس میں دوران تفتیش پولیس نے شاہنواز امیر سے غیر اسلحہ یافتہ کلاشنکوف برآمد کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ، آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت 25 ستمبر 2022 کو تھانہ شہزاد ٹاؤن مقدمہ درج کیا گیا تھا.

    ملزم شاہنواز امیر کیخلاف سارہ انعام قتل کیس کے حتمی دلائل جاری ہیں،سارہ انعام قتل کیس میں حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا جائے گا

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • سارہ انعام قتل کیس،شاہنواز امیر نے سارہ کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،پراسیکیوٹر

    سارہ انعام قتل کیس،شاہنواز امیر نے سارہ کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،پراسیکیوٹر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصرجاویدرانا نے کیس کی سماعت کی،پراسیکیوٹر راناحسن عباس کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کر دیا گیا،پراسیکیوٹررانا حسن عباس نے عدالت میں کہا کہ سارہ انعام کو ایک انجری نہیں، متعدد انجریاں ہیں، سارہ انعام کو ٹارچر کیاگیا، جسم پر بیشتر زخموں کے نشانات ہیں،تفتیش میں کسی تیسرے شخص کا ڈی این اے نہیں آیا، تفتیش میں شاہنواز امیر کا ڈی این اے میچ ہوا ہے،شاہنواز امیر نے ثبوتوں کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی،فارم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج دو دن قبل ڈس کنکٹ کردی تھی، شاہنواز امیر نے سارہ انعام کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،سارہ انعام کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے تھے شاہ نواز امیر کی سارہ انعام کے ساتھ ہونے والی واٹس ایپ چیٹ ریکور ہو چکی ہے سارہ انعام ملزم سے پوچھتی رہیں کہ میرے ساتھ ایسی بد سلوکی کیوں کر رہے ہیں طلاق کے میسجز بھی ریکور ہو چکے ہیں ملزم نے پیغامات کو ڈیلیٹ کیا تھا,سارہ انعام کو ساری رات ٹارچر کیا گیا، منہ پر تھپڑوں کے نشانات جبکہ بازوؤں پر بھی زخم تھے جنہیں دیکھ کر قتل سے پہلے تشدد ثابت ہوتا ہے سارہ انعام کی لاش پر متعدد جگہ بری طرح نیل بھی پڑے ہوئے تھے رپورٹ کےمطابق موت پوسٹ مارٹم کے وقت سے 12 سے 24 گھنٹے پہلے ہوئی, شاہ نواز امیر کی والدہ گھر پر موجود تھیں کیسے ہو سکتا ہے کہ سارہ کی آواز نہ آئی ہو، ملزمہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو آگاہ کرنے کی بجائے ملزم کے والد ایاز امیر کو کال کی, ملزم کی والدہ نے والد کو کال کی، پولیس کو کال کیوں نہیں کی؟سارہ انعام ابوظبی میں اعلیٰ عہدے پر نوکری کرتی تھیں، اُنہیں پاکستان بلا کر بری طرح ٹارچر کیا گیا، وہ ایک اہم زندگی تھیں جو ضائع ہو چکی، واپس نہیں آ سکتی,پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے عدالت سے ملزم شاہ نواز امیر کے لیے سزائے موت کی استدعا کرتے ہوئے اپنے حتمی دلائل مکمل کر لیے

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • سارہ انعام قتل کیس،ملزم کا فارنزک شدہ ڈیٹا لینے کی درخواست مسترد

    سارہ انعام قتل کیس،ملزم کا فارنزک شدہ ڈیٹا لینے کی درخواست مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی، جج اعظم خان نے کیس کی سماعت کی

    پراسیکیوٹر رانا حسن عباس اور وکیل صفائی بشارت اللّٰہ عدالت میں پیش ہوئے ،دورانِ سماعت پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے ایف آئی اے سے ملزم کا فارنزک شدہ ڈیٹا لینے کی درخواست کی جس کو عدالت نے مسترد کر دیا، جج اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں ضرورت پڑی تو ملزم کے موبائل اور لیپ ٹاپ کا ڈیٹا منگوا لیں گے ، سارہ انعام قتل کیس کی سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    گزشتہ سماعت پر سارہ انعام کے والد انعام الرحیم پر وکیلِ ملزم بشارت اللّٰہ نے جرح کی تھی، دوران جرح انعام الرحیم نے ملزم کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اگست میں میری بیٹی سارہ انعام ابوظبی میں مقیم تھیں پولیس کو بتایا کہ اسلام آباد میں سارہ انعام کی موجودگی پر پریشان ہو گئے تھے ،گزشتہ سال 22 ستمبر کو میری بیٹی سارہ انعام سے فون پر بات ہوئی اس وقت مجھے سارہ انعام نے نہیں بتایا کہ ان کی طلاق ہو گئی ہے بیٹی نے مجھے بتایا کہ وہ شاہ نواز امیر کے گھر پر موجود ہیں ،

    وکیلِ صفائی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی بیٹی نے آپ سے اجازت لے کر شاہنواز امیر سے شادی کی تھی؟ انعام الرحیم نے جواب دیا کہ میری بیٹی سارہ انعام نے شاہ نواز امیر سے شادی کا مجھے نہیں بتایا تھا، سارہ کی شاہ نواز امیر سے جان پہچان کا پہلے سے علم تھا گزشتہ سال سارہ انعام کے پاکستان پہنچنے کا مجھے معلوم نہیں تھا بیٹی سارہ انعام نے بعد میں پاکستان پہنچنے اورشادی کا بتایا تھا

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

    شاہنواز امیر نے پولیس کو ڈمبل کا بھی بتایا جو صوفے کے نیچے چھپایا ہوا تھا،

  • جس ملک کا سابق وزیراعظم عورتوں کے ریپ کو انکے لباس سے جوڑے تو عام آدمی کی عورت بارے کیا سوچ ہوگی جواد احمد

    جس ملک کا سابق وزیراعظم عورتوں کے ریپ کو انکے لباس سے جوڑے تو عام آدمی کی عورت بارے کیا سوچ ہوگی جواد احمد

    ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے جس بے دردی سے اپنی اہلیہ کا قتل کیا ہے اس پر درد دل رکھنے والے تڑپ اٹھے ہیں. برابری پارٹی پارٹی کے چئیرمین جواد احمد نے کہا ہے کہ ہم منافق ہیں اپنی عورت کو تو ہم بچا کر رکھنا چاہتا ہے لیکن دوسرے کی عورت پر ایسے نظر رکھتے ہیں جیسے کہ ہم بازار میں کھڑے ہیں اور اسکے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں لیکن جب ان کی اپنے گھر کی عورت ان کی باتوں سے اتفاق نہ کرے تو ایسے میں وہ اپنی عورتوں کو بھی ایسی عورتوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جن کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کیا جائے. خصوصی طور پر اگر وہ بات نہیں مان رہی اپنے ذہن کے مطابق چلنا چاہتی ہے تو اسکو مار دیا جائے یا قتل کر دیا جائے بیچ کا کوئی راستہ انہیں سمجھ نہیں آتا. انڈیپینڈینٹ ہے تو بدکرادری کا الزام لگا دیا جائے. ایسی سوچ

    بڑے خاندانوں سے لیکر چھوٹے خاندانوں تک پائی جاتی ہے. ہمارے ہاں جو ادیب اور دانشور ہیں وہ عورتوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں یا سوچ رکھتے ہیں کہ انسان پریشان ہوجاتا ہے. جیوڈشری میں بھی ایسی ہی سوچ کے مرد ہیں ورنہ عورتوں کو قتل کرنے والوں کو ضرور سزائیں ملیں. پدرسری نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے. انصاف کا نظام تب بدلے گا جب عورت کو اس کا اصل مقام دیاجائے گا اسکو انسان سمجھ کر ٹریٹ کیا جائےگا جب سوسائٹی کی سوچ بدلے گی. کل جو واقعہ رونما ہوا ہے اسکے بارے سن کر دل بہت پریشان ہوا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم عورتوں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں.