Baaghi TV

Tag: شاہی عید گاہ مسجد

  • ہندو انتہا پسندوں کا یو پی کی شاہی عیدگاہ مسجد کو بابری طرز پر منہدم کرنے کا مطالبہ

    ہندو انتہا پسندوں کا یو پی کی شاہی عیدگاہ مسجد کو بابری طرز پر منہدم کرنے کا مطالبہ

    اتر پردیش (یو پی) کے ضلع متھرا میں واقع تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد کو لے کر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازع بیانات سامنے آتے رہتے ہیں تازہ ترین اشتعال انگیز بیانات میں، شری چترگپت پیٹھ کے سربراہ سوامی سچیانند نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالتوں کا انتظار کرنے کے بجائے 1992 میں بابری مسجد کی طرح متھرا کی اس مسجد کے گنبد کو گرا دیں –

    ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کو مغل شہنشاہ اورنگزیب نے ہندو دیوتا کرشن کی جائے پیدائش (کرشن جنم بھومی) کے مقام پر مندر توڑ کر تعمیر کیا تھا،ہندو پنڈتوں اور انتہا پسند تنظیمیں بابری مسجد کے انہدام کی طرز پر اس مقام پر بھی عیدگاہ کو ہٹا کر مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

    اس حوالے سے ہندو فریقین نے مسجد کو ہٹانے کے لیے عدالتوں میں متعدد مقدمات دائر کر رکھے ہیں جو زیرِ التوا ہیں سپریم کورٹ اور الہ آباد ہائی کورٹ کی نگرانی میں تنازع کے پرامن حل کے لیے مختلف سطحوں پر مفاہمتی کوششیں (جیسے کہ مقامی سطح پر لوک عدالتوں کا انعقاد) بھی کی جا رہی ہیں، جس میں ہندو فریق نے مسجد کو ہٹانے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے زمین کی منتقلی کی تجویز دی –

    اتر پردیش کے ضلع متھرا میں واقع تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد کو لے کر ہندو انتہا پسند تنظیموں اور مبلغین کی جانب سے متنازع بیانات سامنے آتے رہے ہیں ماضی میں بین الاقوامی ہندو پریشد کے رہنما پروین توگڑیا جیسے ہندو پنڈتوں نے ایودھیا کی بابری مسجد کی طرز پر متھرا کی اس تاریخی مسجد کو ہٹانے اور وہاں مندر تعمیر کرنے کے کھلے مطالبات کیے ہیں۔

    دوسری جانب، مسجد کمیٹی اور یو پی سنی سینٹرل وقف بورڈ کا موقف ہے کہ مسجد کی زمین سے متعلق 1968 میں فریقین کے مابین باہمی سمجھوتہ ہو چکا ہے، اور 1991 کا ‘پلسز آف ورشپ ایکٹ’ (Places of Worship Act) مذہبی مقامات کی حیثیت بدلنے کی ممانعت کرتا ہے۔

  • بھارتی عدالت نے  17 ویں صدی کی شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی منظوری دے دی

    بھارتی عدالت نے 17 ویں صدی کی شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی منظوری دے دی

    متھرا میں ایک شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک درخواست کو اتر پردیش کی ایک عدالت نے منظوری دیدی ہے –

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست میں "کرشن جنم بھومی” یا بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پرمسجد تعمیر کرنے کا دعوی کیا گیا ہےیہ مقدمہ ہندو تنظیموں کی طرف سے17ویں صدی کی شاہی عیدگاہ مسجدکو کٹرا کیشو دیو مندر سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جن کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے جسے ہندو دیوتا کرشنا کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔

    بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نےایک اورمسجد نذرآتش کر دی،مسلمانوں کےگھروں کو آگ لگا دی

    درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد، بھگوان کرشن کی جائے پیدائش کے قریب مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر 1669-70 میں تعمیر کی گئی تھی در خواست میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ بھگوان کرشن کی جانب سے شری کرشن کی جائے پیدائش کی 13.37 ایکڑ زمین واپس دی جائے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً چار سو سال قبل اورنگزیب کے حکم سےاس کے بڑے حصے پر مندر کو مسمار کرنے کے بعد کیشو دیو ٹیلا اور شاہی عیدگاہ مسجد زمین پر ناجائز قبضہ کر کے تعمیر کی گئی تھی اس درخواست میں بھی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ دھرماستھلا ایکٹ (عبادت کے مقامات ایکٹ) 1991 کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    ہندوانتہا پسندوں نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کومندرقراردے دیا

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات کا نظم و نسق اور امن و امان ریاست کی فہرست میں شامل ہیں ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میں قانون اور قواعد بنانے کا اختیار ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ نے یہ قانون بنا کر ریاستوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہےمرکز کا یہ قدم آئین کےوفاقی ڈھانچے کے نظام کو نقصان پہنچانے والا ہےلہٰذا عدالت اسےغیرقانونی قرار دے کر منسوخ کرے۔

    واضح رہے کہ لکھنو سے تعلق رکھنے والی رنجنا اگنی ہوتری نامی خاتون نے کٹرا کیشو دیو مندر کے "بچے بھگوان کرشن کے دوست” کے طور پر مقدمہ دائر کیا تھا-

    تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں