Baaghi TV

Tag: شاہی محل

  • شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    برطانیہ کے شاہی خاندان میں تعلقات کی بحالی کے آثار ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، جب شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے اگلے ماہ برطانیہ دورے کی تیاریاں سامنے آئی ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے اگلے ماہ اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ کے دورے کے دوران شاہ چارلس سوم کی جانب سے شاہی رہائش گاہ میں قیام کی دعوت قبول کر لی ہے 2022 کے بعد پہلی مرتبہ شہزادہ ہیری ڈیوک آف سسیکس، اور میگھن ڈچس آف سسیکس اپنے دونوں بچوں پرنس آرچی اور شہزادی للی بیٹ کے ہمراہ برطانیہ پہنچیں گے جبکہ 4 سال بعد بچوں کی بھی یہ پہلی آمد ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق شاہی خاندان کی جانب سے سسیکس خاندان کو ماضی میں بھی شاہی اسٹیٹ میں قیام کی پیشکش کی جاتی رہی تاہم پہلی بار ہیری اور میگھن نے یہ دعوت قبول کی ہے، وہ اپنے دورے کے دوران کچھ وقت شاہی رہائش گاہ اور کچھ وقت نجی رہائش گاہ میں گزاریں گے، اس پیش رفت کو شاہی خاندان میں ممکنہ مفاہمت کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن نے 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اس فیصلے کے بعد دونوں نے متعدد انٹرویوز اور ہیری کی خودنوشت میں شاہی خاندان، برطانوی ٹیبلوئڈ میڈیا اور بعض اداروں پر شدید تنقید کی تھی اور شاہی خاندان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

    میگھن مارکل آخری بار 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے برطانیہ آئی تھیں جبکہ شہزادہ ہیری اپنے والد شاہ چارلس سوم کی 2023 کی تاج پوشی میں اکیلے شریک ہوئے تھے گزشتہ برس ستمبر میں شہزادہ ہیری اور شاہ چارلس کے درمیان تقریباً 19 ماہ بعد کلیرنس ہاؤس میں نجی ملاقات ہوئی تھی یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب شاہ چارلس کینسر سے جنگ لڑ رہے ہیں،حالیہ برسوں میں شاہ چارلس اور شہزادہ ہیری کے درمیان محدود رابطے اور نجی ملاقاتوں نے تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا کی ہیں، جبکہ شہز ا دہ ولیم کے ساتھ اختلافات اب بھی برقرار بتائے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران شاہی سیکیورٹی فراہم کیے جانے کا امکان ہے، تاہم انتظامات کی تفصیلا ت سامنے نہیں آئیں۔

    شہزادہ ہیری نے امریکا کی سابق اداکارہ میگھن مارکل سے 19 مئی 2018 کو ونڈسر کیسل کے تاریخی سینٹ جارج چیپل میں شاہی طرز کی تقریب میں شادی کی تھی جس میں دنیا بھر کی معروف شخصیات نے شرکت کی اگرچہ ملکہ الزبتھ دوم نے اس شادی کی باقاعدہ منظوری دی تھی اور میگھن کو شاہی خاندان میں خوش آمدید بھی کہا تھا تاہم ان کے تعلقات بہت زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔

    بعد ازاں ہیری اور میگھن کے شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے امریکا منتقل ہونے اور ٹی وی انٹرویوز و ہیری کی کتاب میں شاہی خاندان پر تنقید کے باعث تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے میڈیا میں یہ تاثر ضرور رہا کہ ملکہ الزبتھ ان معاملات سے ناخوش تھیں لیکن انہوں نے کبھی عوامی سطح پر میگھن کے خلاف ذاتی ناراضی کا اظہار نہیں کیا،ملکہ برطانیہ نے 2020 میں شہزادہ ہیری اور میگھن کے شاہی فرائض چھوڑنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دونوں اور ان کے خاندان کے بدستور بہت عزیز ہیں۔

  • سویڈن میں ایک بار پھر شاہی محل کے باہرقرآن پاک کی بے حرمتی

    سویڈن میں ایک بار پھر شاہی محل کے باہرقرآن پاک کی بے حرمتی

    اسٹاک ہوم: سویڈن میں ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق چند ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ عراق سے تعلق رکھنے 2 ملعون افراد 37 سالہ سلوان مومیکا اور 48 سالہ سلوان نجم نے نے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سوئیڈش شاہی محل کے سامنے مرکزی چوک پر قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا 37 سالہ سلوان مومیکا اور 48 سالہ سلوان نجم نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا، جو کہ سویڈن کے آزادی اظہار رائے کے قوانین کے تحت جائز ہے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھے جو واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکتی رہی۔

    دونوں ملعون افراد کو سویڈن کے آزادی اظہار کے قانون کے تحت قرآن پاک کی بے حرمتی کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا جس کے بعد مسلمانوں کو قرآن پاک کے شہید صفحات جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہجوم کے درمیان فائر فائٹر والے ملبوسات پہنے گروپ نے ’نفرت ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔

    تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے گلو کاراسدعباس انتقال کر گئے

    سویڈن میں قرآن پاک کی بیحرمتی کا چند ہفتوں کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے رواں سال عید الاضحیٰ کے موقع ملعون شخص نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی۔

    جن لوگوں کو قرآن جلانے کی اجازت دی جاتی ہے انہیں ایک گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے، جس کے بعد پولیس انہیں منتشر کرتی ہے اور لوگوں کو بے حرمتی کی گئی مقدس کتاب کی باقیات کو جمع کرنے کی اجازت دیتی ہے اس موقع پر مومیکا اور نجم نے قرآن مجید کے متعدد صفحات چھاپے تھے جن میں عربی میں متن کے ساتھ ساتھ سویڈش میں ترجمہ بھی تھا جو پورے چوک میں پھیل گیا۔
    sweden
    اس جوڑے کے پولیس کی حفاظت کے تحت علاقے سے نکلنے کے بعد، کئی آدمی چوک کے اس پار پہنچ گئے، اور زمین سے اور شاہی محل کی طرف جانے والی دیواروں سے صفحات اٹھائے۔

    امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    اس سال سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے مسلم ممالک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں سے ان واقعات کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،جلانے سے سویڈن کے لیے سفارتی بحران پیدا ہو گیا ہے اور کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں سویڈن کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے-