Baaghi TV

Tag: شاہ رخ جتوئی

  • کراچی:شاہ زیب کےقاتل شاہ رخ جتوئی کو ملیر جیل سےرہا کردیا گیا

    کراچی:شاہ زیب کےقاتل شاہ رخ جتوئی کو ملیر جیل سےرہا کردیا گیا

    کراچی:شاہ زیب قتل کیس کےملزم شاہ رخ جتوئی کو کراچی کی ملیرجیل سے رہا کردیا گیا ہے۔تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو 10 برس قبل کراچی میں شاہ زیب خان نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انھیں مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

    فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے اور صلح کے بعد سزا ختم ہونے سے متعلق متعدد عدالتی فیصلے موجود ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں دہشت گردی کا کوئی عنصر نہیں، مقدمے سے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ملزمان کی سزا ختم کی جاتی ہے۔ کہ ذاتی رنجش اور جھگڑے میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جاسکتیں۔

    واضح رہے کہ شاہ زیب خان کے قتل کا واقعہ 24 دسمبر 2012 کو کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے شاہ زیب کو قتل کر دیا تھا۔اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے شاہ رخ اور ان کے ساتھی سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ دیگر دو مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    2019 میں سندھ ہائی کورٹ نے ہی شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی جانب سے دائر بریت کی اپیل مسترد کر دی تھی تاہم ان کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی، نواب سراج تالپور اور دیگرملزمان کو بری کردیا تھا۔

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

  • شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری

    شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شاہزیب قتل کیس کے ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : عدالتِ عظمیٰ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کی بریت کا 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جسے جسٹس مظاہر نقوی نے تحریر کیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پی ٹی آئی کے دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کی تجویز

    سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے، مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج تالپور سمیت دیگر ملزمان کو بری کیا جاتا ہے-

    فیصلے کے مطابق شاہ زیب قتل کیس انا پرستی کے نتیجے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ تھا، سول سوسائٹی نے زور دیا کہ اس کیس کے ذریعے انا پرستی کی نفی اور آئندہ نسلوں کے لیے مثال بنانا چاہیے۔

    چین پاکستان کےساتھ سی پیک منصوبوں پرعملی تعاون کو تیز کرنے کیلئے تیار

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صلح کے بعد سزا ختم ہونے سے متعلق متعددعدالتی فیصلے موجود ہیں،شاہ زیب قتل کیس میں دہشتگردی کا کوئی عنصر نہیں، قتل کیس ذاتی رنجش کا نتیجہ تھا لہٰذا ذاتی رنجش اور جھگڑے میں دہشتگردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ واضح رہے عدالت جذبات سے نہیں آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہے، شاہ رخ جتوئی سمیت ملزمان کو بری کرنے کا مقصد قانون کے تحت بے قصور کو سزائے موت سے بچانا تھا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت دی گئی ملزمان کی سزا ختم کی جاتی ہے، شاہ رخ جتوئی اور شریک ملزمان اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیے جائیں۔

    کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں پولیس اہلکار کو قتل کرنیوالا ملزم کس کا بیٹا ہے؟

  • سندھ حکومت شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی

    سندھ حکومت شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی

    اسلام آباد: سندھ حکومت قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں شاہ رخ جتوئی اور ساتھی مجرمان کی عمر قید کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی جس میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے شاہ رخ جتوئی پر سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی حمایت کردی کہا کہ جب قتل پر راضی نامہ ہوگیا تو دہشت گردی کی دفعات برقرار کیسے رہ سکتی ہے؟-

    شاہ رخ جتوئی کے وکیل نے کہا کہ شاہ رخ کے خلاف دہشت گردی کا کیس نہیں بنتا، سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ کا فیصلہ واضح ہے، راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی 8 سال سے جیل میں ہے۔

    شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت بتائے کیا دہشت گردی کی دفع الگ سے برقرار رہ سکتی ہے؟ اس پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ لطیف کھوسہ نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کے خلاف اصل کیس تو 302 کا تھا، جب قتل پر راضی نامہ ہوگیا تو دہشت گردی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ اگر شاہ زیب صرف زخمی ہوتا تو دہشتگردی کی دفعہ بھی نہ لگتی۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ راضی نامہ نہیں ہوسکتا ؟ وکیل شاہ رخ جتوئی نے کہا کہ اگر عدالت یہ قرار دے تو بہت لوگوں کا بھلا ہو جائے گا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، دہشت گردی اور قتل دو الگ الگ جرائم ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دہشت گردی کے کیس میں سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا سڑک پر کسی کو کلاشنکوف سے قتل کرنا دہشت گردی نہیں ہوگی؟ اس پر پراسیکیورٹر جنرل نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں یہ دہشت گردی ہے لیکن عدالتی فیصلے کے مطابق نہیں ہے، شاہ رخ جتوئی 17 سال کا بچہ تھا رات گیارہ بجے گلی میں واقعہ پیش آیا، مقتول کے اہل خانہ راضی نامہ کرکے آسٹریلیا منتقل ہو چکے ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی ،بلاول بھٹو

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو سوال اٹھائے ہیں ان پر فریقین کو مزید تیاری کا موقع دیتے ہیں، ضروری ہوا تو عدالتی معاون مقرر کرکے لارجر بنچ کی درخواست بھی کریں گے بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    قبل ازیں رواں ماہ جنوری میں کراچی کے پوش علاقے میں 2012 میں قتل ہونے والے شاہ زیب کے کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کے بعد سینٹرل جیل کے کئی مزید بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا کراچی کی سڑک پر کھلے عام نوجوان شاہ زیب کو گولیاں مار کر قتل کرنے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر 8 ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا۔

    شاہ رخ جتوئی کراچی میں قمرالاسلام اسپتال کی بالائی منزل پر رہ رہا تھا، قمرالاسلام اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہےجہاں شاہ رخ جتوئی سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ایک قیدی کے بجائے عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، شاہ رخ جتوئی کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے۔

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان…

  • شاہ رخ جتوئی جیل میں ہی ہے یا کہیں اور؟ سپریم کورٹ

    شاہ رخ جتوئی جیل میں ہی ہے یا کہیں اور؟ سپریم کورٹ

    شاہ رخ جتوئی جیل میں ہی ہے یا کہیں اور؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں شاہ رخ جتوئی کی عمر قید کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ شاہ رخ جتوئی کی صحت کیسی ہے؟ شاہ رخ جتوئی جیل میں ہی ہے یا کہیں اور؟ وکیل شریک مجرم اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شاہ رخ کے علاج کی خبریں ہی تو آڑھے آ گئی ہیں،سات سال پہلے صلح ہو چکی لیکن کیس کا تعین اب میڈیا کرتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا آپ پر اثرانداز ہو سکتا ہے لیکن عدالت پر نہیں، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس میڈیا چلاتا ہے؟ ایسی بات نہ کریں جو حقیقت کے منافی ہو، جسٹس امین الدین نے کہا کہ مقدمات ری شیڈول ہونے کی وجہ سے فائل نہیں پڑھ سکا،وکیل نے کہا کہ دہشتگردی کی دفعات عائد کرنے کا حکم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دیا،عدالت کے 7 رکنی بینچ کا فیصلہ بعد میں آیا جس کی رو سے یہ کیس دہشتگردی کا نہیں بنتا،

    جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام نکات کا آئندہ سماعت پر جائزہ لینگے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 3 ہفتے تک ملتوی کر دی

    شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نےنوٹس لے لیا

    پنجاب کی 42 جیلوں میں کتنے کم عمر قیدی؟

    شاہ زیب قتل کیس، عدالت نے ملزموں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    واضح رہے کہ قاتل شاہ رخ جتوئی کے جیل کے بجائے اسپتال میں آرام دہ زندگی گزارنے کا انکشاف ہواتھا کراچی کی سڑک پر کھلے عام نوجوان شاہ زیب کو گولیاں مار کر قتل کرنے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر 8 ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا شاہ رخ جتوئی کراچی میں قمرالاسلام اسپتال کی بالائی منزل پر رہ رہا تھا، قمرالاسلام اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہے جہاں شاہ رخ جتوئی سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ایک قیدی کے بجائے عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، شاہ رخ جتوئی کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے۔

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ جتوئی سمیت جس کو بھی انتظامیہ کے بندے نے مدد فراہم کی اس کے خلاف کارروائی ہوگی، مجھے اس کا پتہ چلا،پوری انکوائری کریں گے-

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کی سزائے موت عمرقید میں بدل دی تھی .کراچی میں شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزموں کی سزاوں کیخلاف اپیلوں کی سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ دو رکنی بینچ نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے عمر قید کو برقرار رکھا اور سزائے موت ختم کر دی، دیگر ملزمان سجاد تالپور اور غلام مرتضی کی عمر قید کی سزا عدالت نے برقرار رکھی.

    شاہ زیب قتل کیس ،ملزمان کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور

    واضح رہے کہ مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نے سزائے موت سنائی تھی جنہوں نے 25 دسمبر 2012 کو طالبعلم شاہ زیب کو قتل کیا تھا۔

  • شاہ رخ جتوئی کو اسپتال منتقل کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی،مراد علی شاہ

    شاہ رخ جتوئی کو اسپتال منتقل کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی،مراد علی شاہ

    اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو اسپتال منتقل کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ جتوئی سمیت جس کو بھی انتظامیہ کے بندے نے مدد فراہم کی اس کے خلاف کارروائی ہوگی، مجھے کل اس کا پتہ چلا،اسلام آباد سے واپس جاکر پوری انکوائری کریں گے-

    شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب میڈیا سڑک پر کھڑے ہوکر لوگوں سے رائے لیتا ہے اور وہ سندھ حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ مجھے پتہ چلتا ہے کہ کیا ہورہا ہے، میڈیا سمجھتا ہے ہم نے ایکسپوز کردیا، پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہے، لیکن ہمیں تو خوشی ہوتی ہے کہ ہمیں پتہ چلتا ہے اور ہم اس پر ایکشن لیتے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم بہت اچھا کام کررہےہیں اور انتظامیہ نے بڑا اچھا کام کیا ہےہم اپنی غلطی کو درست کرتے ہیں کہ میڈیا ہماری غلطیاں دکھاتا ہے۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا…

    وزیر اعلی سندھ نے حکمران جماعت پی ٹی آئی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کے دور میں آٹا چینی،ادویات پٹرولیم گیس کے اسکینڈلز آئے، ابھی تو ایک این جی اسکینڈل آرہاہے، فارن فنڈنگ میں معلوم چل گیا کہ حکومت کو کون کون فنڈز دیتا تھا۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی کا الزام دوسروں پر لگادیتی ہے، آٹا چینی یوریا کھاد بحران کا الزام سندھ حکومت پر لگادیا گیا، مری میں لوگ اپنے خاندانوں سمیت ٹھٹھر کر مر گئے، اسلام آباد سے ایک گھنٹے کی مسافت پر سانحہ مری رونما ہوا، سانحے کے ردعمل کو سب نے بخوبی دیکھ لیا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نےنوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ قاتل شاہ رخ جتوئی کے جیل کے بجائے اسپتال میں آرام دہ زندگی گزارنے کا انکشاف ہواتھا کراچی کی سڑک پر کھلے عام نوجوان شاہ زیب کو گولیاں مار کر قتل کرنے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر 8 ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا شاہ رخ جتوئی کراچی میں قمرالاسلام اسپتال کی بالائی منزل پر رہ رہا تھا، قمرالاسلام اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہے جہاں شاہ رخ جتوئی سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ایک قیدی کے بجائے عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا۔

    پنجاب کی 42 جیلوں میں کتنے کم عمر قیدی؟

    ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، شاہ رخ جتوئی کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے۔

    بعد ازاں شاہ رخ جتوئی کے بعد مزید بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف ہاوتھا باخبر ذرائع کے مطابق شاہ رخ جتوئی کی پرائیویٹ اسپتال سےجیل واپسی کے بعد کئی بااثرقیدی واپس جیل پہنچادیئےگئے ہیں جناح اسپتال میں ساڑھے پانچ مہینے سے موجود قیدی کشورکمار کو واپس سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا جبکہ متحدہ کے سعید بھرم سمیت 12مزید قیدی کراچی کے پرائیوٹ اسپتال سے سینٹرل جیل واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ سزایافتہ اوربااثرقیدیوں کوبہادرآباد کے ایک نجی اسپتال میں رکھاگیا تھاسزا یافتہ با اثرقیدیوں کوجناح اور دیگر سرکاری اسپتال کے جعلی خطوط پرنجی اسپتالوں میں رکھا گیا تھا۔

    پنجاب کی جیلوں میں سیکیورٹی کیمرے بند ہونے کا انکشاف

  • شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    کراچی کے پوش علاقے میں 2012 میں قتل ہونے والے شاہ زیب کے کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کے بعد سینٹرل جیل کے کئی مزید بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : قاتل شاہ رخ جتوئی کے جیل کے بجائے اسپتال میں آرام دہ زندگی گزارنے کا انکشاف ہواتھا کراچی کی سڑک پر کھلے عام نوجوان شاہ زیب کو گولیاں مار کر قتل کرنے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر 8 ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ: چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نےنوٹس لے لیا

    ذرائع کے مطابق شاہ رخ جتوئی کراچی میں قمرالاسلام اسپتال کی بالائی منزل پر رہ رہا تھا، قمرالاسلام اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہے جہاں شاہ رخ جتوئی سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ایک قیدی کے بجائے عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، شاہ رخ جتوئی کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے۔

    سندھ پولیس نے شاہ زیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کے نجی اسپتال میں منتقلی کی تصدیق کر دی ڈی آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ مجرم چار ماہ اسپتال میں رہا جب کہ اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی کمر میں تکلیف کے باعث زیر علاج تھا۔

    پنجاب کی جیلوں میں سیکیورٹی کیمرے بند ہونے کا انکشاف

    دوسری جانب سربراہ قمر الاسلام اسپتال سید معین ہمدانی نے کہا کہ مجرم شاہ رخ جتوئی کی نگرانی پر 24 گھنٹے پولیس اہلکار مامور تھے،10 جنوری کی صبح مجرم کی ہی اچانک درخواست پر اسے اسپتال سے فارغ کیا گیا۔

    ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو میڈیکل بورڈ کے بغیر اسپتال منتقل کیا گیا ۔اس حوالے سے محکمہ صحت کو جیل یا محکمہ داخلہ کا کوئی خط نہیں ملا جبکہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ کی اجازت اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی مجرم کو جیل سے علاج کے لئے اسپتال روانہ کیا گیا تھا۔

    پنجاب کی 42 جیلوں میں کتنے کم عمر قیدی؟

    دوسری جانب شاہ رخ جتوئی کے بعد مزید بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہےباخبر ذرائع کے مطابق شاہ رخ جتوئی کی پرائیویٹ اسپتال سےجیل واپسی کے بعد کئی بااثرقیدی واپس جیل پہنچادیئےگئے ہیں جناح اسپتال میں ساڑھے پانچ مہینے سے موجود قیدی کشورکمار کو واپس سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا جبکہ متحدہ کے سعید بھرم سمیت 12مزید قیدی کراچی کے پرائیوٹ اسپتال سے سینٹرل جیل واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق سزایافتہ اوربااثرقیدیوں کوبہادرآباد کے ایک نجی اسپتال میں رکھاگیا تھاسزا یافتہ با اثرقیدیوں کوجناح اور دیگر سرکاری اسپتال کے جعلی خطوط پرنجی اسپتالوں میں رکھا گیا تھا۔

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق جناح اسپتال میں اس وقت صرف 2 قیدی ہیں جنہیں جلد جیل واپس بھجوادیا جائے گا اُدھر ذرائع کا کہنا ہے کہ سزایافتہ بااثرقیدیوں کواسپتالوں میں رکھنابہت بڑامنافع بخش کاروباربن چکا ہے۔

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف