Baaghi TV

Tag: شاہ سلمان

  • شاہ سلمان کا فلسطینیوں کے حوالے سے اہم شاہی فرمان جاری کردیا

    شاہ سلمان کا فلسطینیوں کے حوالے سے اہم شاہی فرمان جاری کردیا

    ریاض: سعودی عرب کے فرمانروا خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے ایک ہزار فلسطینی مرد و خواتین کو حج کی ادائیگی کے لیے مدعو کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ حاجی ان فلسطینی خاندانوں سے ہوں گے جن کے افراد اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے میں شہید یا زخمی ہوئے ہیں اس اقدام کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہےیہ میزبانی خادمِ حرمین شریفین کے خصوصی حج و عمرہ پروگرام کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی نگرانی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کر رہی ہے، اس پروگرام کے تحت ہر سال مختلف ممالک سے منتخب افراد کو شاہی مہمانوں کے طور پر حج اور عمرہ کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

    حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی

    وزارتِ اسلامی امور کا کہنا ہےکہ جیسے ہی شاہی فرمان جاری ہوا، ایک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا گیا تاکہ فلسطینی مہمانوں کے لیے حج کے انتظامات کو خوش اسلوبی سے ممکن بنایا جا سکے اس میں سفری سہولیات، رہائش، خوراک اور مناسکِ حج کی ادائیگی میں رہنمائی شامل ہو گی۔

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی عوام شدید بحران اور ظلم کا سامنا کر رہے ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے ان کی حمایت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے سعودی عرب کا یہ فیصلہ نہ صرف مذہبی جذبے کا مظہر ہے بلکہ مسلم امہ کے لیے اتحاد اور ہمدردی کا ایک عملی نمونہ بھی ہے۔

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • رمضان المبارک:شاہ سلمان نے بڑے اعلانات کر دیئے

    رمضان المبارک:شاہ سلمان نے بڑے اعلانات کر دیئے

    ریاض: رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملت اسلامیہ کو مبارک دیتے ہوئے اہم اعلانا ت کردیئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ یہ مہینہ درگزر اور صبر کا درس دیتا ہے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کی ہدایت پر رمضان کی خوشی میں قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی، علاوہ ازیں معمولی جرائم میں قید اسیروں کی سزاؤں کو ختم کرکے انھیں رہا بھی کردیا گیا تاکہ وہ یہ بابرکت مہینہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ منا سکیں۔

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اس بابرکت مہینے میں اللہ کے مہمان بننے والے معتمرین کو ہر طرح کا آرام مہیا کرنے اور شایان شان استقبال کی ہدایت بھی کی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے روزہ داروں کی سہولت کے لیے شہری اداروں کو ہمہ وقت چوکنے رہنے اور خاص انتظامات کرنے کا حکم بھی دیا،سعودی فرمانروا کے حکم پر ٹریفک کو رواں رکھنے اور دونوں مقدس مساجد میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    سیالکوٹ: آسٹریلین ہائی کمشنر کا چیمبر آف کامرس کا دورہ، تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال

    اپنی موت کی پیشگوئی کرنیوالے نجومی کو محبوبہ نے زہر دے دیا

    پنجاب کے مختلف شہروں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 6 ملزمان گرفتار

  • وزیراعظم  شاہ سلمان کی صحت یابی کے لیے دعاگو

    وزیراعظم شاہ سلمان کی صحت یابی کے لیے دعاگو

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ شاہ سلمان پاکستان کے مخلص دوست اور امت مسلمہ کے لیڈر ہیں، شاہ سلمان کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے بارے میں گہری تشویش کے ساتھ پتہ چلا ہے، شاہ سلمان بن عبدالعزیز پاکستان کے مخلص دوست ہیں، اس کے علاوہ وہ خادم الحرمین الشریفین کی حیثیت سے پوری امت مسلمہ کے رہنما بھی ہیں،شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خبر کا سن کر فکر ہے، پاکستان کے عوام میرے ساتھ ہیں اور ہم شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

    اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تعیناتی کیخلاف دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

    میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے ، لطیف کھوسہ

    پی ٹی آئی کی حکومت معیشت کو جس گہری کھائی میں پھینک کر گئی ہے،سیف …

  • پاکستانیوں کو یوم آزادی مبارک، ترقی و خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں: شاہ سلمان

    پاکستانیوں کو یوم آزادی مبارک، ترقی و خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں: شاہ سلمان

    اسلام آباد: سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی پر مبارکباد کے پیغامات بھیجے گئے ہیں۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر عارف علوی کے نام تہنیتی مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں۔

    شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ ہم پوری پاکستانی قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد پيش کرتے ہیں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور اسکی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام کو قومی دن پربہت مبارک ہو،ہماری نیک خواہشات اور دعائیں پاکستان کیلئے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔

    اس سے پہلے پاکستان میں چین کے سفیر نے بھی مبارکباد کے پیغام بھیجے ہیں ،جیسا کہ کل پاکستانی قوم اپنا 75 یوم آزادی منارہے ہیں اور اس خوشی کے موقع پر جہاں ہرپاکستانی خوش ہے وہاں پاکستان سے محبت کرنے والی اقوام بھی بہت زیادہ خوش ہیں

    اس سلسلے میں پاکستان کی آزادی کی اگرسب سے زیادہ کسی ملک کو ہے تو وہ چین ہے ، چینی حکومت، عوام اورچینی کے دنیا بھر میں مصروف خدمت شہری جب بھی پاکستان کا یوم آزادی آتا ہے مبارکباد اور خوشی کے پیغامات بھیجتے ہیں ، کچھ ایسے ہی اس بار ہورہا ہے ،

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والےویڈیوکلپس میں پاکستان میں‌چینی سفیر نے پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستانیوں کو یوم ازدی کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ پاکستان ہمیشہ پھلتا پھولتا رہے

    ایسے ہی پاکستان میں موجود چینی شہری بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ،چین کی پاکستان میں پاورکمپنی کے چینی ملازمین نے پاکستانیوں کے ساتھ مل کرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے یوم آزادی کے سلسلے میں مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے

    ایسے ہی سی پیک اورنج لائن پر کام کرنے والے چینی انجیئنرز نے بھی پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر یوم ازادی مبارک ہو کے پیغآمات بھیجے ہیں‌

    ایسے ہی سی ایم ای سی چلی فارم پر کام کرنے والے چینی شہریوں نے پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر اہل پاکستان کو مبارکباد کا پیغامات بھیجے ہیں

    ذرائع کے مطابق چینی طالب علم بھی خوشی کے اس موقع پر کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ انہوں نے بھی یوم آزادی کے سلسلے میں مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں‌

  • سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

    سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

    ریاض: سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو علیل ہونے کے باعث اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی العربیہ کے مطابق شاہ سلمان اچانک بیمار ہوگئےہیں جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    شاہی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہےکہ86سالہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹرز کی ٹیم فرمانروا کا معائنہ کر رہی ہے۔

    شاہ سلمان2015 میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے۔ اس سے قبل وہ48 سال تک ریاض کے ڈپٹی گورنر اور گورنر بھی رہے۔

    شاہ سلمان سعودی عرب کے وزیردفاع بھی رہے ہیں۔ انہیں 2012 میں سعودی عرب کے بادشاہ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور2015 میں ان کے بھائی عبداللہ کی موت کے بعد انہیں بادشاہت ملی۔ سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز31دسمبر1935 میں پیدا ہوائے۔

    انہیں 19 سال کی عمر میں 17مارچ1954 میں ریاض کا ڈپٹی گورنربنایا گیا اور 19 اپریل 1955 تک اس عہدے پر رہے۔ پانچ فروری1963 کو انہیں ریاض کا گورنر بنا دیا گیا۔

    سعودی فرماں روا 1963 سے پانچ نومبر2011 تک ریاض کے گورنر رہے۔ پانچ دہائیوں تک ریاض کا گورنر رہتے ہوئے انہوں نے سیاحت اور دیگر اہم شعبوں کو پروان چڑھایا۔

    انہوں نے اپنے دور اقتدار میں معاشی بہتری پر زیادہ توجہ دی اور اس کیلئے مختلف ممالک کے دورے بھی کیے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار شاہ سلمان کو ڈپٹی وزیراعظم بھی بنایا گیا۔

  • مسجدالحرام میں تکمیل قرآن کا روح پروراجتماع،شاہ سلمان سمیت 20 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت

    مسجدالحرام میں تکمیل قرآن کا روح پروراجتماع،شاہ سلمان سمیت 20 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت

    مکۃ المکرمہ : مسجد الحرام میں رمضان المبارک کی انتیسویں شب تکمیل قرآن کے روح پروراجتماع میں 20 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق حرمین شریفین کے امورکی نگراں وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسجد الحرام میں ختم قرآن اوردعا میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان سمیت 20 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔


    دوسری جانب سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے آج شہریوں سے شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ نماز عید کی ادائیگی کے لئے اجازت نامے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔

    سعودی وزات حج اور عمرہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسجد الحرام اورمسجد نبوی ﷺ میں نماز عید کے لئے پیشگی اجازت کی شرط ختم کردی گئی ہےعیدالفطر کی نماز کے لئے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم عمرے کی ادائیگی کے لئے ایپلیکیشن کے ذریعے پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    وفاقی مذہبی امور نے حج 2022 کے لیے درخواستوں کی وصولی کا اعلان کردیا ہے جو یکم سے 13 مئی تک 50 ہزار پیشگی رقم کی ادائیگی کے ساتھ دی جا سکیں گی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے اسلام آباد میں حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حج اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں گئیں تاہم ان میں اضافہ متوقع ہے اور 7 سے 10 لاکھ روپے تک اخراجات ہوسکتے ہیں کورونا وبا کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبے متاثرہوئے، وہیں حج کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اب جبکہ وبائی مرض سے کافی حد تک نجات مل چکی ہے اس لیے سعودی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر حج کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ جس میں پاکستانیوں کا کوٹہ 81 ہزار 132 ہے۔

    مسجدالحرام کی صفائی کیلئے اسمارٹ روبوٹس بھی عملے میں شامل

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حج تیاریوں کے لیے 16 مئی 2022 تک کا وقت دیا گیا ہے اس لیے وزارت مذہبی امور نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کی چھٹیوں میں وقت کے ضیاع سے بچنے کے لیے حج درخواستیں 50 ہزار کی پیشگی رقم کے ساتھ وصول کی جائیں، یہ سلسلہ یکم مئی سے 13 مئی تک جاری رہے گا جبکہ درخواستیں آن لائن بھی جمع کروائی جا سکتی ہیں۔

    یاد رہے کہ سعودی حکومت نے رواں سال 10 لاکھ عازمین کو حج کرنے کی اجازت دی ہے، جس کے مطابق پاکستان کے حصے میں 81 ہزار 132 افراد کا کوٹہ آیا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال سعودی حکومت کے قوانین کے مطابق 65 سال سے زائد عمر کے افراد حج ادا نہیں کرسکیں گے۔

    غیر قانونی تارکین وطن کی امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش ناکام

  • سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور امریکی صدر جو بائیڈن کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور امریکی صدر جو بائیڈن کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا

    سعودی عرب کے فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر جو بائیڈن کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ٹیلیفونک رابطے میں سعودی عرب میں شہری اہداف کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی کارروائیوں سمیت علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے دونوں رہنماوں نے تعاون مضبوط بنانے اور خطے میں استحکام کے حصول کی ضرورت پر بھی بات چیت کی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کوملازمین پرترس آگیا:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    شاہ سلمان نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کی فنڈنگ کے انسداد کے سلسلے میں مشترکہ سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا اور بنائے رکھنا ضروری ہےانہوں نے سعودی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے سلسلے میں مملکت کی مدد سے متعلق عہد کی پابندی کو سراہا۔

    شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کے ساتھ ہے خطے میں ایران نواز عناصر کی تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہےمملکت خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے تمام اسباب کے ازالے اور مکالمہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

    حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن میں جامع سیاسی حل تک رسائی کا خواہشمند ہے اور یمنی عوام کی ترقی اور امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہے سعودی عرب، یمن کی تعمیر نو اور یمنی عوام کے لیے انسانیت نواز امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔

    کنگ سلمان نے تیل منڈیوں کے توازن و استحکام کے تحفظ کی اہمیت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اوپیک پلس کا تاریخی معاہدہ اہم ہے اور اسے برقرار رکھنا ضروری ہے-

    امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے سٹراٹیجک تاریخی تعلقات مضبوط ہیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان شراکت کے استحکام کو دونوں کے مفادات کے حصول اور خطے نیز عالمی امن واستحکام کے لیے بے حد اہم قرار دیا‘۔

    امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں اعلان

  • کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    ریاض :سعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنے قومی ترانہ اور سبز پرچم سے متعلق شاہی فرمان میں تبدیلی کے قریب ہے جو اسلامی عقائد اور اسلام کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی غیرمنتخب شوریٰ کونسل نے تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا اور یہ سعودی ولی عہد کی جانب سے سعودی قومیت اور قومی فخر کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

    شوریٰ کے فیصلوں پر موجودہ قوانین اور ڈھانچہ اثرانداز نہیں ہوتا تاہم ووٹ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کے اراکین کا تقرر فرماں روا کرتے ہیں اور اس کے فیصلے عموماً قیادت کی رضامندی سے ہوتے ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ میں بتایا کہ تبدیلیاں پرچم، نعرہ اور قومی ترانے کے نظام میں ترامیم کے حق میں ہیں لیکن اس کے مندرجات سے نہیں ہیں۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیاں ریاستی نشانات کے باقاعدہ استعمال کے لیے واضح تعریف، پرچم کی اہمیت کی آگاہی پھیلانے اور پرچم کو بے حرمتی یا نظرانداز ہونے سے بچانے کے حوالے سے ہیں۔

    اس حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ ہفتے سعودی پولیس نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ سعودی پرچم کو کچرا کنڈی میں جمع کرکے اس کی بے حرمتی کی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شوریٰ کونسل نے پرچم سے متعلق تقریباً 50 سالہ پرانے شاہی فرمان میں ترامیم کے ڈرافٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترامیم کونسل کے رکن سعد العطیبی نے پیش کی تھیں اور کونسل کے اراکین میں بحث سے قبل ذیلی کمیٹی میں زیر بحث آئی تھیں۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے بزرگ والد شاہ سلمان کی حمایت کے ساتھ سعودی شناخت کا تعین نو کر رہے ہیں، جس کی تعریف پہلے سے وضع نہیں کی گئی ہے۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں جاری ہونے والا شاہی فرمان ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری کو سعودی عرب کا یوم تاسیس منایا جائے گا۔

    قومی دن 18 ویں صدی میں محمد بن سعود کی جانب سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش کی یاد میں منایا جائے گا۔

    حکومت نے ہدایات دی ہیں کہ اسی ہفتے میں سعودی عرب میں ریسٹورنٹس اور کافی شاپس عربک کافی کو سعودی کافی کا نام دیں جو ثفاقتی عناصر کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی کوشش ہے، جس سے سعودی شناخت اور اس کے روایات کا اظہار ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ 1973 میں سعودی پرچم میں سفید رنگ میں کلمہ طیبہ لکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے آخری پیغمر ہیں۔

    سعودی پرچم میں کلمہ طیبہ کے نیچے تلوار ہے، اسی طرح مکہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان زائرین عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں جہاں پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی ولادت ہوئی اور وحی نازل ہوئی۔

    سعودی عرب کے پرچم اور قومی ترانے کے قانون میں تبدیلی سے متعلق شوریٰ کونسل کی تجاویز صرف سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں جو حتمی منظوری کے لیے فرماں روا شاہ سلمان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

  • ایران مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لانے میں تعاون کرے ،شاہ سلمان

    ایران مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لانے میں تعاون کرے ،شاہ سلمان

    ریاض: سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی خطے کے استحکام اورامن کو نقصان پہنچانے والی پالیسی پرگہری تشویش ہے ایران کی حوثی باغیوں کی حمایت کی وجہ سے یمن جنگ کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق بدھ کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر شاہ سلمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے مجلس شوریٰ سے خطاب کیا جس میں امید ظاہر کی ہے کہ ایران ’عدم استحکام اور جارحیت‘ کی پالیسی ترک کرے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لانے میں تعاون کرے گا۔

    سعودی عرب،کرونا کا پھیلاؤ، ایک بار پھر پابندیاں نافذ

    سال کے اختتام پرکی جانے والی تقریر میں سعودی عرب کے شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے نیوکلئیرپروگرام کے حوالے سے عالمی برادری سے تعاون نہیں کررہا ایران مملکت کا ہمسایہ ملک ہے ہم امید کرتے ہیں کہ یہ منفی پالیسی اور خطے میں اپنا برتاؤ تبدیل کرتے ہوئے بات چیت اور تعاون کا راستہ اختیار کرے گا –

    سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے،امریکی حساس اداروں کا دعویٰ

    خطاب میں شاہ سلمان نے یمن تنازع کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے پہل کرنے اور لبنان کے عوام کی حمایت کا عہد کیا جنہیں معاشی بحران اور حزب اللہ سے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

    سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت

    شاہ سلمان نے سعودی عرب اس مشکل وقت میں برادر لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہےانہوں نے تمام لبنانی قیادت اور رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کو پہلے درجے کا مقام دیں اور لبنانی ریاست پر دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے غلبے کا سلسلہ روکیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی بند نہیں کی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے،نصیر الدین شاہ

    بین الاقوامی سطح پر شاہ سلمان نے افغانستان کے امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا تا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی آماج گاہ نہ بن سکے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی امن کے لئے مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

    یاد رہے کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزہز آل سعود نے مجلس شوری کے آٹھویں اجلاس کا ورچوئل کال کے ذریعے افتتاح کیا اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے-

    سعودی عرب: تیز رفتار کار دیوار توڑ کر مسجد میں داخل، 5 نمازی شدید زخمی

  • شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج میں آپ کو سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بتاوں گا۔ کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر
    Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macron
    سے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔
    ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔