Baaghi TV

Tag: شاہ محمود قریشی

  • اعظم خان نے اعتراف کیا  سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نےبانی پی ٹی آئی پر چارج فریم عدالت کے سامنے پڑھے اور کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں عدالت کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ سائفر کاپی کیسے اور کس کس جگہ گیا اور کس کس آدمی نے کیا کہا،میں نے عدالت کے سامنے تمام گواہان کے بیانات نہیں پڑھنے .میں آج یہ بتاؤں گا کہ سائفر کی کاپی بانی پی ٹی آئی تک کیسے پہنچا ، بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی وزرات خارجہ کو واپس نہیں کی،بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی جو ان کو واپس کرنی تھی ، محمد نعمان نے سائفر ٹیلی گرام 8 مارچ کی صبح وصول کیا تھا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ آپ سائفر موومنٹ سے متعلق جو کچھ آپ بتا رہے ہیں وہ ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ لیپ ٹاپ سے پڑھ رہے ہیں لیکن ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ یہ چیزیں تحریری طور پر ہمیں دیدیں، ہم سے لکھنے میں کچھ رہ نہ جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ تمام چیزیں میں پہلے عدالت میں بیان کر چکا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آئیں نا ذرا ہمیں یہ بتائیں کہ سائفر دستاویز اعظم خان تک کیسے پہنچا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے اعتراف کیا کہ اُن کے سٹاف نے انہیں وزیراعظم کی کاپی دی اور وزیراعظم نے سائفر کاپی اپنے پاس رکھ لی اور واپس نہیں کی،اعظم خان نے بیان میں کہا کہ عمران خان نے جب سائفر کاپی پڑھی تو پُرجوش ہو گئے، وزیراعظم نے سائفر کاپی پڑھنے کیلئے اپنے پاس رکھ لی، کچھ دن بعد واپس مانگنے پر انہوں نے کہا کہ سائفر کاپی گم ہو گئی، سٹاف اور ملٹری سیکرٹری کو ڈھونڈنے کا کہا ہے،

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اسکو سائفر کہہ رہے ہیں، ہمارے لیے سپریم کورٹ نے معاملہ آسان کردیا ہے کہ یہ سائفر تھا ہی نہیں جسکو آپ معمہ بنا رہے ہیں، سائفر تو کوڈڈ لینگویج میں ہوتا ہے ، یہ تو ٹرانسلیشن ہے جس کی کاپی عمران خان کو دی گئی تھی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کاپی اعظم خان تک آ گئی تو وزیراعظم کو بھی دی گئی ہوگی، عمران خان نے کبھی سائفر کاپی موصول کرنے سے انکار نہیں کیا، کیا سائفر کاپی اعظم خان سے وزیراعظم کو جانے کی بھی کوئی شہادت موجود ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ نہیں، اعظم خان کا بیان ہے، اُسکی کوئی شہادت نہیں ہوتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے سائفر دستاویز وزیراعظم کو دیا ہو گا اگر دستاویز دیا گیا ہے تو ہی ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم کے سیکرٹری نے تو ڈی مارش کا فیصلہ نہیں کیا ہو گا، ہمیں کیسے معلوم ہو کہ وزیراعظم نے سائفر واپس نہیں کیا ہو گا؟

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں وہ یہ کہہ رہا ہے یہ وہ کہہ رہا ہے اُسے مان لیں لیکن ڈاکومنٹ تو ریکارڈ پر ہی نہیں،یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ قتل ہو گیا، سینے میں کلہاڑی مار دی، گولی مار دی،ڈیڈ باڈی سامنے پڑی ہے لیکن وہ نہیں دکھانی، یہ کہنا ہے کہ فلاں کہہ رہا ہے فلاں کہہ رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے یہ پبلک کر دیا وہ کر دیا کیا پبلک کیا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دستاویز سے متعلق اِس گواہ نے یہ کہہ دیا اُس گواہ نے وہ کہہ دیا، اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ میں ابھی آگے چل کر اس متعلق دلائل دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ کو ہم تو نہیں جانتے نہ ہی عدالتی ریکارڈ پر ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کیا مواد پبلک ہوا میں اس متعلق دلائل نہیں دے رہا بعد میں دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قابلِ احتساب دستاویز کا کیا مطلب ہے؟سائفر گائیڈلائنز کا کتابچہ کب کا ہے؟ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نےکہا کہ 2003 میں اس کتابچے میں ترمیم کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ گائیڈلائنز کتابچہ 1947 سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ گائیڈلائنز بُک کی اکثر شقیں تقسیم سے پہلے کی ہیں، 1964 اور 2003 میں ترامیم ہوئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ گائیڈلائنز پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزرات خارجہ کو بھیجا تھا ، اس کیس میں چار چیزوں کو عدالت نے دیکھنا ہے، سائفر کی کاپی ملزمان کے پاس پہنچی تھی یا نہیں ؟ ڈاکومنٹ ملزمان کے پاس فزیکل فارم میں موصول ہوا تھا یا نہیں ؟آپ نے ابھی کہا سائفر کا متن پبلک کر دیا گیا وہ ڈاکومنٹ کہاں ہے جو پبلک ہوا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں آگے چل کر عدالت کو اس سے متعلق بتاؤں گا ،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • شاہ محمود قریشی پرامید ہیں، انصاف ملے گا، مہر بانو قریشی

    شاہ محمود قریشی پرامید ہیں، انصاف ملے گا، مہر بانو قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما،شاہ محمود قریشی کی بیٹی کا کہنا ہے کہ انکی اپنے والد سے گزشتہ پیر کو جیل میں ملاقات ہوئی تھی،شاہ محمود قریشی بالکل ٹھیک ہیں،انہیں جلد انصاف ملے گا اور وہ رہا ہوں گے

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمو د قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی پُر امید ہیں، ان کو ملک میں انصاف ہوتا نظر آ رہا ہے،6 ججز کی آئین کی بالادستی کے لیے بہادری سے شاہ محمود کا حوصلہ بڑھا، کرب سے گزرنے کے باوجود ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، 16 اپریل کو سائفرسزاؤں کے خلاف ہماری اپیل پر سماعت ہے، امید ہے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مزید کوئی بہانے بازی نہیں ہو گی،پراسیکیوشن کے پاس سائفر کیس میں کوئی دلیل نہیں

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔ملاقات کرنے والوں میں شاہ محمود قریشی کی اہلیہ مہرین قریشی، مہر بانو قریشی اور گوہر بانو قریشی شامل ہیں،

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • شاہ محمود قریشی کو نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی، بیٹے کا دعویٰ

    شاہ محمود قریشی کو نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی، بیٹے کا دعویٰ

    تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ انکے والد شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل میں نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی

    زین قریشی نےدرگاہ بہاؤالدین زکریا میں نماز عید کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والد کو عید کی نماز ادا نہیں کرنے دی گئی، عید پر قیدیوں سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے لیکن عید کے موقع پر ہمیں والد سے نہیں ملنے دیا گیا، وزیرِ اعظم نے کہا تھا بےگناہ افراد کو رہا کیا جائے گا، وعدہ پورا ہونے کا انتظار ہے۔

    زین قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش ہے اور دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ہماری افواج کی قربانیاں رنگ لائیں گی،نیا بجٹ آنے کو ہے، حکومت آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے، دعا ہے عوام کو ریلیف ملے،ملک میں امن ہو گا تو معاشی استحکام بھی آئے گا.

    عید الفطر بھائی چارے، روا داری، امن اور پُرامن بقائے باہمی کی علامت ہے،بلاول

    فتنوں کا سامنا ہوجائے تو مردانہ وار مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    عید پر اپنے قومی ہیروز کے غیر متزلزل حوصلے کو یاد رکھیں،افواج پاکستان

    واضح رہے کہ آج پاکستان بھر میں عید الفطر منائی جا رہی ہے،پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عید کی نماز کے اجتماعات ہوئے جس میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی، نماز عید کے اجتماعات میں ملکی سلامتی و خوشحالی کے لئے دعائیں کی گئیں،

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

    عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

    تحریک انصاف راولپنڈی کی لیگل ٹیم کے ایڈووکیٹ فیصل ملک کا کہنا ہے آج ہمارے علم میں آیا ہے کہ عمران خان آئی اور شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے کیسز کے چالان کی نقول تقسیم کی گئی ہیں

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ فیصل ملک کا کہنا تھا کہ چالان کی نقول 25 مارچ کو وکلاء کی غیر موجودگی میں ملزمان میں اڈیالہ جیل میں تقسیم کر دی گئی ہیں، وکلاء کی غیر موجودگی میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو نقول فراہم کرنے پر ہمارا اعتراض ہے ،آج تھانہ مورگاہ، تھانہ ٹیکسلا اور کینٹ کے 69 ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی، ہم لائحہ عمل طے کریں گے، استدعا کریں گے کہ جو کاپیز تقسیم کی گئی ہیں وہ ہمیں بھی دی جائیں،چالان کے ساتھ میٹریل موجود نہیں ہے تو بعد میں کیسے لگایا جا سکتا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کررہے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکلاء سلمان صفدر، سکندر ذوالقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں اسپیشل پراسیکیوٹرز حامد علی شاہ اور ذوالفقار نقوی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،علی محمد خان، بیرسٹر علی ظفر، اور عمران خان کی بہنیں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خاندانی افراد، منتخب نمائندے، سنیٹرز اور وکلاء قیادت کی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت موجود تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے12 اکتوبر 2022 کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے پڑھی اور کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نے کمپلینٹ دائر کی ، پانچ اکتوبر 2022 کو کس نے انکوائری شروع کی اس حوالے سے کوئی دستاویز عدالتی ریکارڈ پر نہیں ،اگر یہ دستاویز ریکارڈ پر نا ہو تو کیس کی بنیاد ہی نہیں تو کیس ختم ہو جائے گا ، تفتیشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچ اکتوبر کو انکوائری ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر شروع کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو انکوائری شروع کرنے کا کہا؟وفاقی کابینہ نے انکوائری کی منظوری دے کر سیکرٹری داخلہ کو اختیار دیا،کیا سیکرٹری داخلہ نے یہ اختیار ایف آئی اے کو ڈیلیگیٹ کر دیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ایف آئی اے کو کہا کہ انکوائری کریں اور معاملہ دیکھیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس کی بنیاد ہی ہِل گئی اور ساری عمارت ہی منہدم ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ہارڈ کور کرمنل کیس نہیں، وائٹ کالر کرائم بھی نہیں، اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے، یہ ہائبرڈ قسم کا کیس ہے اور اس میں نئی عدالتی نظیر تیار ہو گی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جتنے بھی کیسز بانی پی ٹی آئی کے خلاف آئے ہیں وہ آؤٹ دا باکس ہی رہے ہیں ، توشہ خانہ ، سائفر ، عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ بھی اسی طرح ہی آیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ وائٹ کلر کیس بھی نہیں نا ہی مرڈر کیس کی طرح کہہ سکتے ہیں یہ مکس ہائبرڈ کیس ہے ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم کا کیس ہے ، یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں کہ ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں ،میں میرٹ پر دلائل دوں گا ، عدالت نے کہا کہ حق جرح ختم ہو جائے آپ کی حق تلفی ہوتی ہے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم عدالت کی نظر میں favourite child ہوتا ہے ،شام کے ٹرائل کی کیا حیثیت ہو گی ؟ اس حوالے سے بھی پوچھیں گے ، کیا بے چینی تھی کہ رات کے نو بجے بھی ٹرائل ہو رہا تھا ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اِس کیس کے مدعی ہیں اور انکی شکایت پر انکوائری کا آغاز کس نے کیا اُسکو گواہ نہیں بنایا گیا بیان قلمبند نہیں کیا گیا، یہ بنیادی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے اِس کیس کی بنیاد ہِل گئی اور عمارت زمین بوس ہو گئی،

    وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے وکیل سکندر ذوالقرنین ایک دن دانت میں تکلیف کی وجہ سے جیل سماعت میں پیش نہیں ہو سکے، اگلے ہی روز ٹرائل جج نے سرکاری وکلاء مقرر کر دیے، سوال یہی ہے کہ کیا جلدی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو کیا جلدی تھی، وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن شاید جج صاحب نے کوئی ڈیدلائن پوری کرنی تھی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ یہ دونوں سرکاری وکیل عدالت نے تعینات کیے تھے ،کیا ایڈوکیٹ جنرل نے نام بھیجے تھے ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی ایڈوکیٹ جنرل نے یہ تعینات کئے تھے ، عدالت نے کہا کہ پھر تو ہمیں ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس کرکے سننا پڑے گا ، ان سرکاری وکلا کی اسٹینڈنگ کیا تھی ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سائفر کیس کا ٹرائل اسلام آباد کی تاریخ کا متنازعہ ترین ٹرائل تھا اور ٹرائل کورٹ کے جج نے اس ٹرائل کو متنازعہ بنایا، اعلیٰ عدالت کی کسی ڈائریکشن کے بغیر ٹرائل جج نے جلدبازی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی قدغن نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل نہیں ہو سکتا، روزانہ کی بنیاد پر بھی ٹرائل منطقی طور پر ہونا چاہیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو مرتبہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کا ٹرائل کلعدم کیا سر ہم کتنی بار آپ سے آکر شکایت لگاتے،ہم اڈیالہ جیل میں تھوڑا لیٹ پہنچ تھےتو پتہ چلتا تھا کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے گئے ہیں دو تین دن بعد ہمیں کاپیاں فراہم کی جاتی تھیں،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی، ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟  شاہ محمود

    ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ شاہ محمود

    راولپنڈی: تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول کس منہ سے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کریں گے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو جماعتیں پی ٹی آئی کو توڑ کر بنائی گئیں ان کے لیے شرمندگی ہے، ہمارے جیتے ہوئے الیکشن نہیں مان رہے، درخواست ہے عوام کا مینڈیٹ چوری نہ کریں، الیکشن میں جیتے ہوئے لوگ بھی اس الیکشن کو نہیں مان رہے، انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے،تمام سیاسی جماعتیں جن کامینڈیٹ چرایا گیا ہے وہ اکٹھی ہو جائیں-

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے، چیف جسٹس تحقیقات کرائیں، ان انتخابات سے سیاسی استحکام نہیں آ سکتا،قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،انتخابات کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی میری بیٹی 14 ہزار کی لیڈ سے جیت رہی تھی، ایک دم رزلٹ آنا بند ہوگئے، 4 بجے تک جاگتا رہا رزلٹ نہیں آرہے تھے، میری بیٹی کے پاس 281 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 موجود ہیں، 16 ہزار 555 ووٹ مسترد ہوئے اس کے باوجود جیت رہے تھے-

    سری لنکا میں عام انتخابات اگلے برس کرانے کا فیصلہ

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لنگڑی لولی حکومت بنا بھی لی تو چل نہیں سکے گی، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ہم الیکشن کمیشن جارہے ہیں،ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ اگر حکومت بن بھی گئی تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی، عالمی میڈیا پاکستان میں ہونے والے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہہ رہا ہے۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

  • الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کو 5 سال کیلئے نا اہل قرار دیا

    الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کو 5 سال کیلئے نا اہل قرار دیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 5 سال کےلیے نا اہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کیجانب سے نوٹیفکیشن میں شاہ محمود قریشی کو عام انتخابات 2024 کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی کو جرم کا مرتکب قرار دیا ہے، عدالت شاہ محمود قریشی کو 10 سال قید با مشقت کی سزا سنا چکی ہے اور انہیں آئین کے آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل کیا گیا شاہ محمود قریشی الیکشن ایکٹ 232 کے تحت بھی نااہل قرار دئیے جاتے ہیں اور ان کی نااہلی کی مدت 5 سال ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

  • مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں،سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں،سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے

    سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ 77 صفحات پر مشتمل ہے جو خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جاری کیا ہے، سائفر کیس کے تفصیلی فیصلے میں 20 فائڈنگز پر مشتمل ہے، فائنڈنگز میں سائفر، چمش دید گواہ اور سیکرٹ دستاویزات کی اہمیت شامل ہیں، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا نامناسب طریقہ کار سے فئیر ٹرائل کی استدعا کی گئی، دونوں مجرمان کا دوران ٹرائل عدالت کے سامنے رویہ مدِنظر رکھا گیا، دونوں مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں، ہمدردیاں لینے کے لیے بے یار و مددگار بننے کی کوشش کی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ فائنڈنگز میں کہا گیا کہ فیئر ٹرائل کا حق چالاک ملزم کے لیے نہیں، سائفر کو اپنے لیے استعمال کیا گیا جس کا اثر پڑا، بطور وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اپنے عہد کی خلاف وزری کی، پاکستان اور امریکا کے تعلق کو نقصان پہنچایا،سائفر کے معاملے سے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑا، جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا، عمران خان نے سائفر وزارت خارجہ کو واپس نہیں بھیجا،17 ماہ کی تحقیقات سے ثابت ہوا، سائفر کیس تاخیر سے دائر نہیں کیا، سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا
    سائفر کیس میں عمران خان کو 5 مختلف شقوں کے تحت مجموعی طور پر 5 دفعہ سزا سنائی گئی ہے،تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مجرم ثابت ہوئے ہیں، دونوں کو 10،10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے،جو ثبوت عدالت میں پیش کئے گئے وہ ناقابل تردید ہیں،عدالت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے، 5 ون سی، 5 ون ڈی، 9 کے تحت قصور وار قرار دیتی ہے، اور عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے کے تحت 10 سال قید بامشقت کی سزا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 ون سی کے جرم میں دو سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانے کی سزا سناتی ہے،عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 ون ڈی کے جرم میں بھی دو سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانے کی سزا سناتی ہے، عدالت دونوں ملزمان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 34 کے تحت مجرم قرار دیتی ہے،عدالت شاہ محمود قریشی کو بھی 10 سال قید بامشقت کی سزا سناتی ہے، تمام دفعات کے تحت دی گئی سزاؤں کی مدت فوری اور ایک ساتھ تصور ہوگی،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کر دیا ہے

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سیکریٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا آج بھی عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا،ملک عبدالرحمان عمران خان کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسٹیٹ کونسل ملزمان کی نمائندگی کرتے ہوئے گواہان پر جرح کریں گے

    عدالتی فیصلے پر اڈیالہ جیل میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور انہوں نے جیل کے کمرہ عدالت میں اسٹیٹ ڈیفنس کونسل یونس شاہ سے فائل چھین کر دیوار پر دے ماری جج نے شاہ محمود قریشی کو بدتمیزی پر وارننگ دی، عمران خان نے بھی خصوصی عدالت کے جج سے آج بھی سماعت کے دوران بدتمیزی کی

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے تلخ کلامی،شاہ محمود قریشی کا غصہ، پراسیکیوٹر کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا مسترد
    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی ،بانی تحریک انصاف کے وکلا کی عدم موجودگی کے باعث سائفر کیس میں گواہوں کے بیانات پر جرح شروع نہ ہوسکی ،عدالت کے احکامات پر سرکار کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری وکلا بھی پیش ہوئے،سرکاری وکیل ایڈووکیٹ عبد الرحمن بانی تحریک انصاف کی طرف سے اور حضرت یونس شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیش ہوئے ،

    بانی تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی نےسرکاری وکلا صفائی پر اظہار عدم اعتمادکر دیا،جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین اور بانی تحریک انصاف کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی،شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل صفائی کی دی گئی کیس کی فائل ہوا میں اچھال دی ،عمران خان نے کہا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے ۔ جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی ، مشاورت نہیں کرنے نہیں دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا ، جج نے کہا کہ جتنا آپ کو ریلیف دیا جا سکتا تھا میں نے دیا،سائیکل فراہمی کی بات ہو یا پھر وکلا سے ملاقات میں نے آپ کی درخواست منظور کی، میرے ریکارڈ پر 75 درخواستیں ہیں جو ملاقاتوں سے متعلق ہیں،عمران خان نے کہا کہ آپ نے تو ملاقات کا آرڈر کیا لیکن ملاقات کرائی نہیں گئی،

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ادھر بھی سرکار ادھر بھی سرکار یہ مذاق ہو رہا ہے، ہمیں اتنا حق نہیں کہ اپنے وکلا کے ذریعے کیس لڑ سکیں،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی کاروائی اردو میں ہونی چاہیے،سرکار کی طرف سے تعینات کردہ وکیل صفائی جو انگریزی بول رہے ہیں وہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی،جو کچھ ہو رہا ہے یہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں سے متصادم ہے،پاکستان کی تاریخ میں ایسا ٹرائل نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ نے فیصلہ سنانا ہے تو ایسے ہی سنا دیں، انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے ۔نہ اللہ کا ڈر ہے کسی کو نہ ہی آئین و قانون کا۔

    مان نہ مان میں تیرا مہمان، عمران خان کا سرکاری وکلا پر طنز
    عمران خان نے جج سے استدعا کی کہ ان گھس بیٹھیوں کو تو باہر بھیجیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کو یہاں طوطا مینا کی کہانی کے لیے بٹھا دیا گیا ہے۔ ہمارے وکلا کو جیل کے اندر نہیں آنے دیا جا رہا ۔اوپن ٹرائل میں کسی کو جیل آنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جج نے کہا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اگر آپ خود جرح کرنا چاہتے ہیں تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ تین مرتبہ تاریخ دی مگر آپ کے وکلا نے آنے کی زحمت نہیں کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری ڈرامہ نہیں چلے گا اس طرح سے ٹرائل کی کیا ویلیو رہ جائے گی ۔جج نے کہا کہ” میرے لیے آسان تھا کہ میں ڈیفنس کا حق ختم کر دیتا ۔ لیکن میں نے پھر بھی سٹیٹ ڈیفنس کا حق دیا۔ اس کسٹڈی کی وجہ سے مجھے یہاں جیل آنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی تو کسی ماں کے بچے ہیں جن کے کیس جوڈیشل کمپلیکس میں چھوڑ کر آیا ہوں۔میں آرڈر کر کر کے تھک گیا ہوں مگر آپ کے وکیل نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ اگر ٹرائل میں رکاوٹیں آتی ہیں تو عدالت ضمانت کینسل کر سکتی ہے”۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا گیا۔جیل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کیس میں اُٹھا لیا گیا۔ جج نے کہا کہ شاہ صاحب اس کیس کو لٹکانے کا کیا فائدہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جج صاحب جیل میں کوئی خوشی سے نہیں رہتا۔میں اپنا وکیل پیش کرنا چاہتا ہوں سرکاری وکیلوں پر اعتبار نہیں۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بلا لیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نامزد کردہ وکیلوں سے ڈیفنس کروایا جا رہا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا۔عثمان گل نے کہا کہ نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ سائفر کیس کا فیصلہ پانچ فروری تک ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نجم سیٹھی کو عدالت بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ کہاں سے یہ انفارمیشن ملی۔ جج نے کہا کہ آپ کو نجم سیٹھی کی باتوں پر اعتبار ہے یا عدالت پر اعتبار۔ پراسکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں ملزمان کی سائفر کیس میں ضمانت خارج کی جائے، جج نے کہا کہ ضمانت کا معاملہ خود دیکھوں گا یہ میرا معاملہ ہے۔ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ فیئر ٹرائل وہ نہیں جو وکلا صفائی مانگ رہے ہیں، فیئر ٹرائل وہی ہے جو قانون میں دیا ہوا ہے ۔عدالت نے جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ان کے وکلا سے فون پر بات کروانے کی ہدایت کی ،وکلاء سے مشاورت کیلئے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی اپنے وکیلوں سے بات کروانے کا حکم
    وقفہ کے دوران میڈیا نمائندوں کو جیل سے باہر بھجوا دیا گیا،معزز عدلیہ نے سائفر کی سماعت 15 منٹ کیلئے روک دی، وکلاء کی جانب سے گواہوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ روک دیا گیا،ایڈووکیٹ عثمان ریاض نے عدالت سے 15 منٹ کا وقت مانگا تھا ،15منٹ کے وقفے کے بعد معزز جج صاحبان دوبارہ کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی کے ڈیفینس کونسل بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈیفینس کونسل کے ساتھ بدتمیزی کی اور فائل چھین کر دیوار پر دے ماری ، شاہ محمود قریشی نے فرمائش کی کہ میری بات بیرسٹر گوہر سے کرائی جائے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بیرسٹر گوہر سے بات کرنے کی اجازت دے دی،عمران خان نے بھی اپنے ڈیفینس وکیل سکندرذوالقرنین سے بات کرنے کی اپیل کی،معزز جج نے پولیس کو بانی پی ٹی آئی کی اُن کے ڈیفینس کونسل سے بات کرانے کا حکم دیا

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،