Baaghi TV

Tag: شاہ محمود قریشی

  • نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا

    پولیس نے شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار کرلیا ،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کی 15 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے، سائفر کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں رہا ہوئے ، جیل سے نکلتے ہیں راولپنڈی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا، بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا.شاہ محمود قریشی کو پولیس دھکے مارتے ہوئے گاڑی تک لے کر گئی، بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو بٹھایا گیا، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا سامان بھی گاڑی تک پہنچایا گیا.

    اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ظلم ، ناانصافی،سپریم کورٹ کے آرڈر کا مذاق اڑایا گیا، مجھے دوبارہ جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، انتقامی سیاست کی جا رہی، بے گنا ہ ہوں،

    رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی کا جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا،

    میرے والد برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ،لحاظ نہیں کیا گیا،مہر بانو قریشی
    راولپنڈی: شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی اور وکیل بیرسٹر تیمور ملک جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے ،شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے جوڈیشل کمپلیکس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا، ہمیں بتایا گیا کہ کسی نئے مقدمے میں شاہ محمود کو گرفتار کیا گیا، ہمیں نہیں بتایا جارہا کہ نہیں کہاں لے کر گئے، انہیں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا یا نہیں،میرے والد کی گرفتاری کے وقت نہ رتبے کا لحاظ کیا گیا اور نہ ہی عمر کا، برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ہیں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا،الیکشن لڑنا شاہ محمود قریشی کا حق ہے ان کو دینا چاہیئے،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

  • رہائی کا خواب ادھورا، شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے احکامات

    رہائی کا خواب ادھورا، شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے احکامات

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے احکامات جاری کر دیئے گئے

    نظر بندی کے احکامات ڈی سی راولپنڈی نے جاری کئے، سی پی او راولپنڈی کی ایڈوائس پر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شاہ محمود قریشی کے تھری ایم پی او کے تحت آرڈر جاری کیے، نظر بندی کے احکامات کے مطابق شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مقدمات میں نامزد ہیں، 9 مئی کے مقدمات میں شاہ محمود قریشی سے تفتیش درکار ہے۔شاہ محمود قریشی کو 15 روز کے لئے اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا گیا ہے

    دوسری جانب تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی آج اڈیالہ جیل سے رہائی کا امکان ہے،شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ضمانتی مچلکے لے کر اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، شاہ محمود قریشی کی ضمانت تین روز قبل منظور ہوئی تھی، چھٹیوں کی وجہ سے انکی رہائی نہ ہو سکی تھی، آج شاہ محمود قریشی کی اڈیالہ جیل سے رہائی کا امکان ہے،شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    اڈیالہ جیل: بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء نے فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دے دیا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوئی ملزمان نے دستخط بھی نہیں کئے، پراسیکیوٹر نے غلط بتایا کہ فرد جرم عائد ہوئی کل اس پر احتجاج کرینگے، ہماری آج صرف درخواستوں پر بحث ہوئی، شاہ محمود قریشی کی وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے بھی فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بانی چیئرمین سے تفصیلی ملاقات ہوئی مکمل گائیڈ لائن لی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہوگی، الیکشن کمیشن فوری ہمارا انتخابی نشان الاٹ کرے، سات دن میں الاٹمنٹ لازم تھا آج دس دن ہوگئے،حالیہ دہشت گردی پر بانی چیئرمین نے افسوس کا اظہار کیا، شفاف انتخابات کے تقاضے پورے کئے جائیں،پی ٹی آئی کو ائیسولیٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، قیمتی انتخابی اوقات میں پورا الیکشن کمیشن سب کچھ چھوڑ کر جیل پہنچ گیا،ہمیں انتخابی مہم کے لیے لیونگ پلیئنگ فیلڈ دی جائے،الیکشن کمیشن سے انتخابی کنونشن کی اجازت مانگی ہے، الیکشن کمیشن فوری انتخابی شیڈول کا اعلان کرے، بلے کا نشان ہم سے واپس لینے کا ہمیں سب سے بڑا خدشہ ہے، انتخابی ٹکٹوں پر ٹکٹ جاری کرنا آخری مرحلہ میں ہے، پی ڈی ایم کی کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہوگا،الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان ختم نہیں کر سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سائفر کیس میں فرد جرم کی نفی کر دی اور کہا کہ ہماری درخواستوں پر بحث ہوئی اس کا فیصلہ آئے گا تو فرد جرم کی طرف عدالت بڑھے گی،

    عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اوپن ٹرائل کے نام پر صرف من پسند افراد کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، فیملی کے لوگوں کو بھی سماعت کے دوران آواز نہیں آتی، مخصوص لسٹ سے اسکرینگ کی جاتی ہے اور صرف انہی لوگوں کو اندر بلایا جاتا ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، فرد جرم عائد ہونے سے قبل کسی کو بھی مجرم نہیں کیا جاتا،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پہلے طے کیا جائے کہ وہ مجرم ہے بھی یا نہیں، انٹرنیشنل میڈیا کے 4 لوگوں کے نام دیئے لیکن کسی کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا، اوپن ٹرائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کلئیرنس کروانا لازمی ہے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔ عدالت نے استغاثہ کو آئندہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے 14 دسمبر کو گواہان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں طلب کر لئے،ملزمان نےعدالتی کارروائی پر احتجاج اور فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،ایف آئی کے اسپیشل پراسیکیوٹرز شاہ خاور اور ذوالفقار عباسی نقوی عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عثمان گل اور شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،

    باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ،سزائے موت سے نہیں ڈرتا،عمران خان
    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ سائفر کو جلسہ میں لہرایا گیا اور اس کے مندرجات کو زیربحث لایا گیا، ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو سائفر رکھنے کا کوئی اختیار نہ تھا، سائفر کو جان بوجھ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، اس عمل سے ملک کے تشخص اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جج صاحب اس میں ایک اور فقرہ شامل کردیں۔ بڑا ظلم کیا جو جنرل باجوہ اور ڈونلڈلو کو ایکسپوز کیا، باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ہے، سزائے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ سائفر حکومت گرانے کے لیے لکھا گیا جو گرا دی گئی، سائفر کے اندر سازش ہے جو چھپائی جارہی ہے، میڈیا کو بولنے کی اجازت نہیں تو فئیر ٹرائل کیسے ہوسکتا ہے، فئیر ٹرائل نہ ہوا تو اس کی ذمہ داری تمام عمر آپ پر رہے گی، قانون کے تحت دستاویزات اور ویڈیو دیکھنے کے لیے سات دن کا وقت دیا جائے۔

    ملزمان پر فرد جرم تین مختلف الزامات کے تحت سنائی گئی،چارج شیٹ کے مطابق عمران خان نےبطور وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے بطور وزیر خارجہ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔ ملزمان نے 27 مارچ 2022 کو سیکرٹ ڈاکومنٹ کو عوامی ریلی میں لہرایا۔ ملزمان نے جان بوجھ کر ذاتی مفادات کے لیے سائفر کو استعمال کیا،ملزمان کے غیر قانونی اقدام سے ملکی تشخص، سیکیورٹی اور خارجہ معاملات کو نقصان پہنچا، بطور وزیر اعظم سائفر آپکے قبضہ اور کنٹرول میں تھا،جو وزارت خارجہ کو واپس نہیں کیا گیا۔

    فرد جرم سنتے ہی شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا، عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمینٹ کو بے نقاب کرکے ظلم کیا میرے جرم میں یہ بھی شامل کریں، ہماری حکومت کو گرا کر ہمیں ہی ملزم بنادیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے جس کی حکومت گری ہو وہی ملزم ہو، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ ایسا نہ کریں، غلط بات نہ کریں، یہ عدالت ہے، آپ کا لہجہ مناسب نہیں، آپ پہلے عدالت کی بات سن لیں،
    عمران خان کے بار بار بولنے پر عدالت نے انہیں خاموش کرادیا

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ سینکڑوں سائفر دیکھے لیکن یہ ان میں سے منفرد تھا، وزیر خارجہ کو دنیا بھر میں چیف ڈپلومیٹ کہا جاتا ہے،ایک مراسلہ آتا ہے جو چیف ڈپلومیٹ کی نظر سے نہیں گزارا جاتا، میری نظر سے سائفر اوجھل رکھنے کی کوئی تو وجہ ہوگی، آٹھ مارچ کو فون پر اسد مجید سے بات ہوئی، اسد مجید کو بلائیے اور پوچھیے، پھر حقائق قوم کے سامنے آئیں گے۔ چیزوں کو خفیہ رکھ کر یک طرفہ ٹرائل نہ چلایا جائے،دو محب وطن شہریوں کو اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے میں بے گناہ ہوں، مجھے سزا دینا چاہتے ہیں ہم نے اسی مٹی میں جانا ہے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد،عمران خان کی 3 شاہ محمود قریشی کی 2 کیسز میں ضمانت کی درخواستیں منظورکر لی گئیں

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی3 درخواست ضمانت30ہزار روپےمچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی،اے ٹی سی اسلام آباد نے شاہ محمود قریشی کی 2مقدمات میں ضمانت کی درخواست منظور کی،پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جان بوجھ کر احتجاج کروایا،شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جائیں،جج نے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی اور سابق پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ دیگر شریک ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، شاہ محمود قریشی، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی پانچوں درخواستیں منظور کی جاتی ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • شاہ محمود قریشی  پارٹی کے وائس چئیرمین مقرر

    شاہ محمود قریشی پارٹی کے وائس چئیرمین مقرر

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئٰی) کے سینئر مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کو پارٹی کے وائس چیئرمین مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی و ی: تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین جبکہ چودھری پرویز الہی تحریک انصاف کے مرکزی صدر ہوں گے،اس کے علاوہ فردوس شمیم نقوی،سینیٹر سیف اللہ ابڑو،قاسم سوری،مشتا ق غنی کو نائب صدور مقرر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہو ئے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں چیئرمین کیلئے بیرسٹر گوہر علی خان کے علاوہ کسی اور نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھا-

    بشریٰ بی بی آڈیوکال ریکارڈ‌ اور لیک کرنے کیخلاف عدالت پہنچ گئیں

    چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور تحریک انصاف خیبرپختونخوا، یاسمین راشد پنجاب کی صدر منتخب ہوئی ہیں اس کے علاوہ منیر احمد بلوچ بلوچستان، جبکہ حلیم عادل شیخ سندھ کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

    اللہ ہی جانے کون بشر ہے

  • 9مئی لندن پلان کا حصہّ تھا مجھے غیر آئینی طور پر پکڑاگیا،سابق چئیرمین پی ٹی‌آئی

    9مئی لندن پلان کا حصہّ تھا مجھے غیر آئینی طور پر پکڑاگیا،سابق چئیرمین پی ٹی‌آئی

    راولپنڈی: سابق وزیر اعظم اور سابق چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جان دینے کو تیار ہوں،9مئی لندن پلان کا حصہّ تھا مجھے غیر آئینی طور پر پکڑاگیا-

    باغی ٹی وی: سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمودقریشی کی کمرہ عدالت میں موجود میڈیا سے سوالات و جوابات دیئے ،صحافی نے سوال کیا کہ آپ سے کسی نے مزاکرات کئے ،سابق چئیرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ مجھ سے نہ کوئی ملا نہ مزاکرات کئے ،اس سوال پر کہ حالات بتاتے ہیں آپ کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا ؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جان دینے کو تیار ہوں،9مئی لندن پلان کا حصہّ تھا مجھے غیر آئینی طور پر پکڑاگیا-

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اڑتالیس گھنٹوں میں دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیا، یاسمین راشد واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ لوگ اندر نہ جائیں، سی سی ٹی وی دیکھ لیں ان کو کون اندر لے کر گیا-

    عمران خان کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی …

    شاہ محمود قریشی سے صحافی نے سوال کیا کہ شاہ محمود قریشی صاحب بیرسٹر گوہر کو چیرمین بنایا گیا ،جس پر شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں خان کیساتھ کل بھی تھا اور آج بھی ہوں آئندہ بھی رہوں گا ،چیرمین کی موجودگی میں بتانا چاہتا ہوں کہ جو خان سے اور قانون کی حکمرانی سے محبت کرتے ہیں نظریاتی ہیں وہ باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں-

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو انہوں نے بشریٰ بی بی کے سابقہ خاوند کے زریعے کرایا ہے جھوٹا الزام لگایا ہے انتہائی اخلاق سے گرے ہوئے لوگ ہیں ، قسم اٹھانے کیلیے تیار ہوں اور قرآن پر ہاتھ رکھنے کیلئے تیار ہوں بشری کو اس دن دیکھا جس دن میرا نکاح ہؤا، قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ کا کپتان آخری سانس تک لڑنے کیلئے تیار ہے ، لندن پلان نواز شریف کو لانے ہمیں جیلوں میں ڈالنے اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کیلئے تھا-

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی …

    عمران خان نے کہا کہ میں آج آپ کو واضح کر رہا ہوں الیکشن پی ٹی آئی جیتے گی، مجیب الرحمٰن کیخلاف انہوں نے کیا کیا پر اس نے 162 سیٹیں جیتیں تھیں، حالات دیکھ کر خدشہ ہے کہیں یہ الیکشن سے بھاگ ہی نہ جائیں ۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مہاتما گاندھی کو آپ نے دیکھا تھا کہ اس کو کسی عہدے کی ضرورت نہیں تھی ،اس وقت میں بھی اس اسٹیج پر پہنچ چکا ہوں مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ،خان اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے دلوں میں بس چکا ہوں ۔

    سابق چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 6.17 کی گروتھ کو صفر پر لے آئے ہیں ،لوگ کیا پاگل ہیں انہیں نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کیا ہے ۔

    ایک اور پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار

  • سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    افیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں کمرہ عدالت میں موجود تھیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت پیش ہوئے،جج نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ ابھی تک جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ، جج نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں، انہیں تو پیش کریں، بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو آج عدالت پیش کرنا چاہیے تھا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھیں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا سائفرکیس کی گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا گیا، عدالت نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروایں گے، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کا 23 نومبر کو چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن کا آرڈر تھا، پھر خصوصی عدالت نے اپنے ہی آرڈر پر نظر ثانی کردی ، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو خط بھیجاتھا،آپ کا آرڈر جیل میں ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے، اڈیالہ جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی ممنوع ہے، یہ طے ہونا چاہیے کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ کیا خطرات کے حوالے سے دیکھنا عدالت کا اختیار ہے ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو ناکافی ہے، منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیے ،جج نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خط کے ساتھ سیکیورٹی رپورٹس بھی منسلک ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ جیل مینوئل میں لکھا ہے اڈیالہ جیل ممنوعہ جگہ ہے، موبائل استعمال نہیں ہوسکتا ،جج نے کہا کہ صحافیوں کی موجودگی جیل میں ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی ،وکیل صفائی نے کہا کہ آپ کو جیل کو عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ جگہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا ، جج نے کہا کہ بالکل ہوگا اور صحافیوں کی موجودگی بھی جیل میں ٹرائل کے دوران ہوگی ، وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا، اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کہ آخر کیوں جیل میں سماعت ہورہی، وزارتِ قانون نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے احکامات کی پابند ہے،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کی زمہ داری سیکیورٹی کی ہے،فردجرم، نقول کی تقسیم سب کچھ ملزم کی موجودگی میں ہونا چاہیے،سائفرکیس کی آج کی سماعت کا اختتام کیا ہوگا؟ کیا وزارتِ قانون کو ڈائریکشن عدالت دے سکتی؟ نہیں دے سکتی،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا،
    خصوصی عدالت جیل میں ٹرائل کرنے کی پابند تھی لیکن سماعت جیل سے مشروط ہے، میں وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کا انتظار کررہاہوں، اگر نوٹیفیکیشن نہ آیا تو میں ملزمان کو عدالت پیش کرنے کا نوٹس جاری کروں گا، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت ہی ادھر لے جائیں،جج نے کہا کہ عدالت لے چلیں گے جیل میں فکر نہ کریں، ٹرائل پینڈنگ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اصل ملزم ہے، شاہ محمود قریشی شریک ملزم ہیں، عدالتی سماعت کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کی سماعتیں غیرقانونی قرار نہیں دیں، اوپن کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیاتھا، وکیل صفائی نے کہا کہ خصوصی عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو قید رکھنا غیرقانونی ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر زولفقار نقوی نے کہا کہ وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کا آج انتظار کرلیں،جج نے کہا کہ دھوپ سیکیں، نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن آگیاہے، اس کیس کو کل کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ کل کیسے مینج ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات بھی ہیں، کل حاضری لگا لیں گے۔علی بخاری ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدالتی عملہ نے نوٹیفکیشن پڑھا، جج ابوالحسنات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن میں تحریر کیاگیاہے، درخواست نمٹادی ہے۔وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پر دلائل بھی نہیں ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کل جیل میں دے دینا پھر۔ان کی پروڈکشن کا مسئلہ ہے، کل اگلی تاریخ دے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ کچھ وکلاء لاہور سے آئے ہوئے، ہماری بھی دیگر کیسز میں تاریخیں ہوتی ہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کی کرلیں حاضری ہی لگانی ہے۔
    اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کی استدعا کردی،عدالت میں کہا کہ میں تو آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کے حق میں ہوں،عدالت نے کہا کہ میں نے اطلاع دینی ہے دوسرے اقدامات ہونے ہیں آج ہی کیسے کریں۔نوٹیفکیشن کے بغیر بھی کیسے جاسکتا ہوں۔ وکلاء نے کہا کہ اگلے ہفتے کیلئے رکھ لیں۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ کبھی نہیں کہتے تاخیر کریں، لمبی تاریخیں رکھیں۔ ہفتے کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بند ہوتی ہیں، لیکن ٹرائل کورٹس میں ہمارے کیسز ہوتے ہیں، ہفتہ اور پیر کے روز ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، 5 دسمبر رکھ لیں۔
    پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے 5 دسمبر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جج نے کہا کہ 5 دسمبر کو سماعت رکھ لیں گے لیکن حاضری کے حوالے سے تو سماعت رکھنی ہے نا، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری مقرر تھی، اس بات پر کیا کہیں گے؟ جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اطلاع کرنی تھی اور وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا آج، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم انتظار کرلیتےہیں، آپ آج ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کروا دیں،اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ چاہتےکیا ہیں؟ ڈیڑھ گھنٹے سے یہی باتیں کررہےہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ کوئی اسٹے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اسلام ہائیکورٹ اور نہ آپ نے اپنا آرڈر پر عملدرآمد کروایا، انٹراکورٹ اپیل پر حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے۔سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 23 نومبر 2023 کو حکم دیا کہ 28 نومبر کو ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کیا جائے، عدالت نے 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا حکم دے دیا، 23 نومبر کے حکم نامے کی موجودگی میں 28 نومبر کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، عدالت 23 نومبر 2023 کے حکم نامے پر عملدرآمد کروائے، 21 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 23 نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے،28 نومبر کو اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے خط کے ذریعے عدالت کو پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے روکا، خصوصی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خط پر انحصار کرتے ہوئے ٹرائل جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے، خصوصی عدالت کا 28 نومبر کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ 23 نومبر کے پروڈکشن آرڈر کے حکم نامے پر نظر ثانی ہے، اپنے احکامات پر نظر ثانی کرنا اس عدالت کا مینڈیٹ نہیں ہے،خصوصی عدالت نے جیل ٹرائل کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا کہ اس سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی،خصوصی عدالت کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جیل ایک ممنوعہ جگہ ہے جہاں فوٹوگرافی، بغیر اجازت داخلہ منع ہے، ایک ہائی سکیورٹی جیل کو اوپن عدالت اور عوام کی رسائی میں قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے،

  • سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    درخواست میں ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کر دی گئی،درخواست ایڈوکیٹ علی بخاری کے توسط سے دائر کی گئی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 8 نومبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،درخواست گزار کیخلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا، عدالت ضمانت مسترد کرکے ہدایت کرتی ہے ٹرائل کو 4 ہفتے میں مکمل کیا جائے ،

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو