Baaghi TV

Tag: شبر زیدی

  • میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ،شبر زیدی کا ردعمل

    میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ،شبر زیدی کا ردعمل

    سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کا نجی چینل کو دئیے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے ،شبر زیدی کے مطابق اس نے سسٹم پر تنقید کی تھی پارٹی پر نہیں ،شبر زیدی
    نے کہا نجی چینل پر جو نشر کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد پر تبصرے نہ کیے جائیں، مزید شبر زیدی نے کہا کہ میرا مکمل انٹرو دیکھا جائے ، میں یقینی بناوں گا غیر ضرورت ایڈیٹنگ نہ ہو، میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ، شبر زیدی نے کہا کہ مافیا نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اکنامک پالیسی چلنے نہیں دی ، واضح رہے کہ شبر زیدی نے جیو نیوز کو انٹرویو میں پی ٹی آئی کے حوالے سے انکشافات کئے ہے پی ٹی آئی حکومت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے، کہتے ہیں ان سے ن لیگ کے اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں، شہزاد اکبر ایک صوفے پر بیٹھ جاتے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی انہيں بلاتے تھے اور کہتے تھے کہ شہزاد یہ کہہ رہا ہے ، بتاؤ کیا کرنا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ملک کی خراب معیشت کا بتایا ، مشورے دیے لیکن وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہيں تھے۔
    شبر زیدی نے مزید بتایا کہ انہوں نے ملتان کے بڑے زمیندار کو نوٹس بھیجا تو شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آگئے ، تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے لگے تو اسد قیصر کے ساتھ ایم این ایز آگئے اور کہا وہ ٹیکس نہیں دے سکتے، قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین تحریک انصاف کے پاس پہنچ گئے۔

  • شبر زیدی اور اسد عمر آمنے سامنے

    شبر زیدی اور اسد عمر آمنے سامنے

    پی ٹی آئی حکومت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت چلتی رہتی تو مدت ختم ہونے تک ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا۔جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے تھے مگر وہ اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھے، (ن) لیگ کے اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں۔
    انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آئے، نصراللہ دریشک نے کہا کہ تم ابھی بچے ہو، یہ تمہارے بس کا کام نہیں۔
    شبر زیدی نے مزید کہا کہ تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی، خیبر پختونخوا سے ارکان اسمبلی نے کہا آپ ہمارے علاقے میں نہیں آسکتے، قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس آکر بیٹھ گئے کہ شبر زیدی کو روکیں۔
    دوسری جانب اسد عمر نے شبر زیدی کے بیان پر ٹوئیٹر کے زریعے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ’تحریک انصاف کی حکومت اگست 2018 میں بنی تھی، پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر 9.8 ارب ڈالر تھے، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کا مہینہ اپریل 2019 تھا، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کے وقت زر مبادلہ کے ذخائر 8.7 ارب ڈالر تھے، یہ ڈیفالٹ کی کہانی کہاں سے آگئی؟ موجودہ حکومت کے دور میں زر مبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہو گئے تھے پھر بھی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں ہوا تو 8.7 ارب ڈالر پر ڈیفالٹ کیسے ہوتا؟

  • تحریک انصاف حکومت چلتی رہتی تو ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا،شبر زیدی

    تحریک انصاف حکومت چلتی رہتی تو ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا،شبر زیدی

    تحریک انصاف کی حکومت کے دوران چیئرمین ایف بی آر رہنے والے شبر زیدی نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت چلتی رہتی تو ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا

    نجی ٹی وی جیو کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کو مشورے دیتے تھے مگر وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوتے تھے، ہم سے ن لیگی اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں، شبرزیدی کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آئے نصراللہ دریشک نے کہا کہ تم ابھی بچے ہو،یہ تمہارے بس کا کام نہیں

    شبر زیدی نے عمران خان حکومت کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جس پر خیبر پختونخوا سے ارکان اسمبلی نے کہا آپ ہمارے علاقے میں نہیں آ سکتے، ہمیں کہا گیا کہ اس کو ختم کریں، قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس آکر بیٹھ گئے کہ شبر زیدی کو روکیں ،میں نے نہیں مانا اور کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا،

    عمران خان کو کہا تھا کہ یہ پوزیشن ہے اور حکومت ڈیفالٹ کی طرف جا رہی ہے، جس پر عمران خان نے اسد عمر کو فون کیا، اور کہا کہ شبر یہ کہہ رہا ہے، جس پر اسد عمر نے کہا کہ صحیح کہہ رہا، تو عمران خان نے کہا بتایا نہیں،اس وقت عمران خان کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھے

    ڈاؤیونیورسٹی ایشیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل
    تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے آگے
    سلمان خان نے نوازالدین صدیقی کی اہلیہ کو ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنے سے منع کر دیا
    قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور
    مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کےمزید 6 اراکین پی ٹی آئی سے فارغ

  • قرضوں کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا. شبر زیدی

    قرضوں کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا. شبر زیدی

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس صرف 38 دن رہ گئے ہیں، اور حکومت کے اقدامات معیشت کے حوالے سے نہیں ہیں، بجٹ میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس میں آئی ایم ایف نے سب سے بڑا اعتراض ایمنسٹی اسکیم پر کیا تھا۔ شبر زیدی نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں آئی ایم ایم کے پروگرام کےبعد پاکستان مشکلات سے نکل جائے گا، لیکن اس کے برعکس آئی ایم ایف کے پروگرام کے باجود پاکستان بیورونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتا، چاہے اس کے بعد بھی پروگرام آجائے۔

    سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملنے سے پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، بلکہ ملکی قرضے اتارنے کے لئے ہمیں ان قرضوں کو ری پروفائل کرانا پڑے گا، یہ ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، وزیرخزانہ بھی اس حقیقت سے آشنا تھے۔ شبر زیدی نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آنے والی کوئی بھی حکومت معاشی حالات میں عام آدمی کےلئے بہتری لائے گی تو ہم لوگوں کو بے وقوف بنارہے ہیں، موجودہ شکل میں ملک معاشی طور پر نہیں چل سکتا، یہ ناامیدی نہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈاؤیونیورسٹی ایشیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل
    تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے آگے
    سلمان خان نے نوازالدین صدیقی کی اہلیہ کو ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنے سے منع کر دیا
    قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور
    مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کےمزید 6 اراکین پی ٹی آئی سے فارغ
    سابق چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں کتابوں میں لکھی ہوتی ہیں، اور آئی ایم ایف جب بھی پاکستان آیا اس نے یہی کہا کہ پالیسی ریٹ اور ایکسیچینج ریٹ کو اسی طریقہ کار سے چلائیں جس طرح کتابوں میں لکھا ہے، ہم نے وہی کیا اور پالیسی ریٹ کو 21 فیصد پر لئے گئے، اور ایکسیچینج کو فری کیا، جو کرنا بھی چاہئے۔ شبر زیدی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام بیرونی سرمایہ کار افراد میرے کلائنٹ ہیں، اور یہ جب بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آتے ہیں تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کب آنا ہے اور کب واپس جانا ہے، اس وقت پاکستان کسی بیرونی سرماریہ کار کے لئے سازگار نہیں ہے، 300 روپے کے ڈالر پر بیرونی سرمایہ کاری کی بات کرنا بے وقوفی والی بات ہے۔

  • سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟  اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، اور شبر زیدی نے شرکت کی، کھرا سچ پروگرام میں سوال کرتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ اسد عمر اور شبر زیدی دونوں یہاں ہیں، دونوں پر الزام ہے کہ آپ فنانس اور پلاننگ منسٹر رہے ہیں،اس ملک میں سگریٹ روزانہ پچاس لاکھ پیے جاتے ہیں، انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو سگریٹ کی کیون نہیں بڑھتی، بارہ پونڈ کی ملنے والی ڈبی سگریٹ کی یہاں پاکستان میں ایک ڈالر کی مل رہی ہے،ایسے ایٹم جن کا مافیا مضبوط تھا انکا ٹیکس نہیں بڑھایا گیا،اگر اسکو ٹیکس بڑھاتے تو ہر سال زیادہ آمدن ہوتی ، لیکن کسی نے ٹیکس نہیں بڑھایا ،

    شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی کا ریٹ 74 پرسنٹ ہے،ایک سگریٹ پیتے ہیں تو اس میں سے ایک روپے میں سے 74 پیسے گورنمنٹ کے پاس چلے جاتے ہیں،میرا ذاتی ویو ہے کہ ہم سگریٹ پر اور ٹیکس نہیں لگا سکتے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں کرنا، تیل سے عام آدمی کو فرق نہیں پڑتا، وہ آپ کو فنڈ دیتے ہیں،سگریٹ کی قیمت کو انٹرنیشنل قیمت کے مطابق کیوں نہیں کیا جاتا،مالبرو بیرون ممالک میں 12 پونڈ کی مل رہی ہے،سگریٹ بچوں کی زندگی لے رہی ہے اس پر ٹیکس نہیں بڑھا رہے،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں، ڈونر کا تعلق نہیں، انٹرنیشنل کمپنیر دو روپے کسی کو ڈونیشن نہیں دیتی، شبر زیدی جو بات کر رہے ہیں وہ صحیح کر رہے ہیں، سموکنگ کم نہیں ہوتی، ڈیوٹی اور نان ڈیوٹی پر شفٹ ہو جاتی ہے، مافیا بول دیں، یا کچھ بھی، سب نے کوشش کی، جو پہلے تھے انہوں نے بھی کوشش کی لیکن نہیں کر پا رہے،مافیا کے ہاتھوں شکست ہوئی، ہمارے ہاں سے کوئی پیسے نہیں کھا رہا تھا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے سٹے لے لئے جاتے ہیں، اسد عمر کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کو سٹے اس لئے زیادہ ملتے ہیں کیونکہ اندر سے لوگ ملے ہوتے ہیں، فیصل سلطان پرپوزل لے کر آئے تھے، میں متفق ہوں آپکی بات سے، بنیادی چیز ریونیو نہیں بلکہ صحت، زندگی ہونی چاہئے،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

  • چئیرمین ایف بی آر اپنے دوست پر مہربان ، ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹھیکہ دے دیا ، اب  اربوں روپے قومی خزانے  کی بجائے دوست کی کمپنی کے اکاونٹ میں‌ جائیں گے ،

    چئیرمین ایف بی آر اپنے دوست پر مہربان ، ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹھیکہ دے دیا ، اب اربوں روپے قومی خزانے کی بجائے دوست کی کمپنی کے اکاونٹ میں‌ جائیں گے ،

    لاہور : اپنے ہی گراتے ہیں‌نشمین پہ بجلیاں ، پاسبان ‌ہی ڈاکوبن گئے ، جن پر تکہ تھا وہی پتے ہوادینے لگے ، وزیراعظم عمران خان کے دست راست پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے کے دعویدار ، ایف بی آر کے چیئرمین اپنے عہدے کی آڑ میں‌اپنے ہی ساتھیوں کو نوازنے لگے ،مبینہ حقائق کے مطابق چئیرمین ایف بی آر نے اپنے کسی دوست کو نوازنے کے لیے ایک بہت بڑا ٹھیکہ دے دیا ہے ،

    ذرائع کےمطابق پاکستانی کے سب سے بڑے معاشی استحکام کے ادارے ایف بی آر میں اربوں روپے کی کرپشن کے نئے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے یہ خبریں‌موصول ہوئی ہیں‌کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے دوست کو اربوں روپے سے نوازنے کیلئے ایف بی آر کے اختیارات ایک نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ٹوبیکو سکیٹر کو کنٹرول کرے گی اور سگریٹ کمپنیوں اور سگریٹ درآمد کنندگان افسران کی بجائے کمپنی کے مرہون منت ہو جائیں گے۔

    اس سکینڈل کی سے متعلق جو تفیصیلات منظر عام پر آئی ہیں‌ا س کے مطابق چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے دوست کی کمپنی SICPAاور ARWIN TECK (PVT) کو 5 سال کا ٹھیکہ دینے کیلئےایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس کا عنوان ”الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم آف ٹو بیکو پروڈکٹ رکھا گیا ہے“۔ یہ ایف بی آر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا ٹینڈر ہے جس کے تحت سرکاری اختیارات ایک نجی کمپنی کو سونپے جا رہے ہیں جو 5 سال تک لائسنس حاصل کر کے سگریٹ اور ٹوبیکو سیکٹر پر اپنی اجارہ داری قائم رکھے گئی۔

    چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے دوست کی کمپنی SICPAاور ARWIN TECK (PVT) ہر سال 6 ارب روپے سے زائد کا ریونیو اکٹھا کرے گی اور یہ تمام ریونیو قومی خزانہ میں جانے کی بجائے کمپنی کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو گا۔یوں پانچ سال کے دورانیے میں یہ کمپنی 30 ارب کا ریونیو اپنی جیب میں‌ڈال کر قومی خزانے کو اس سے زیادہ ہی نقصان پہنچائے گی ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ شبر زیدی نے اپنے دوست کی کمپنی کو نوازنے کے لیے اس کمپنی کو ٹھیکہ دینے کیلئے ٹینڈر دستاویزات میں ایسا ردوبدل کیا ہے کہ یہ ٹھیکہ زیدی صاحب کے یار خاص کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں‌مل سکتا ،

    ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ٹوبیکو کمپنیوں کی طرف سے اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے کی ذمہ داری اسی کمپنی کو دینے جارہے ہیں‌جو پاکستان کی 50 سے زائد ٹوبیکو کمپنیوں سے بنائے جانے والے سگریٹ کے پیک پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت ایک خاص کوڈ چسپاں کرے گی۔پھر شبر زیدی کے دوست کی یہ کپمنی فیس سگریٹ بنانے والے کمپنیوں سے وصول کرے گی جبکہ فیلڈ میں سرگرم ایف بی آر کے افسران اپنے موبائل فون کے ذریعے اس کوڈ سے معلومات حاصل کریں گے۔

    ذرائع کا کہناہے کہ شبر زیدی ٹو بیکو سیکٹر کا کنڑول اپنی دوست کی کمپنی کے حوالے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کررہےہیں، اس مقصد کے لیے ایک ایس آر او بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت ٹینڈر حاصل کرنے والی نجی کمپنی سگریٹ فیکٹریوں کے گیٹ پر ایک الیکٹرانک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تنصیب کرے گی جس کا کنکشن براہ راست ایف بی آر سے ہو گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کی نیٹ ورکنگ اس طرح کی جارہی ہے کہ جو بھی پیسہ وصول ہوگا وہ اس پرائیویٹ کمپنی کے اکاونٹ میں جائےگا اوریہ کمپنی کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوگی

    دوسری طرف اس وقت میڈیا پر چھاجانے والی خبروں کی ایف بی آر کے ذریعے نے تصدیق کردی ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی اس کام کا ٹینڈر اپنے دوست کی کمپنی دے چکے ہیں تاہم کاغذی کاروائی کے لئے یہ ٹینڈر دیا گیا ہے تاکہ خاموشی اور خفیہ طریقہ سے کی جانے والے کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔

    پاکستان کے کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح نجی کمپنی کو لائسنس دینے کے بعد سگریٹ کمپنیوں پر نجی کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی جس کا نقصان یہ ہوگا کہ سرکاری افسران کا کردار عملاً ختم ہو جائے گا۔ یاد رہےکہ قومی خزانہ کو اس سیکٹر سے سالانہ 117 ارب روپے کا ریونیو آتا ہے جو اب نجی کمپنی کے رحم و کرم پر ہوگا۔ یہ بھی خبریں‌گردش کررہی ہیں‌کہ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے جبکہ حماد اظہر کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق شبر زیدی کی طرف سے اپنے دوست کو نوازنے کی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد ابھی تک چئیرمین ایف بی آر کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں‌آیا ، بعض حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سارے معاملے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کردیا گیا ہے جو کہ اس وقت نیویارک میں موجود ہیں، وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ وہ واپس آکر اس سارے معاملے کی تحقیق کریں گے پھر اس پر فیصلہ دیں‌گے