Baaghi TV

Tag: شریف

  • وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد :وزیراعظم شہبازشریف نے حکومتی اتحادی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس آج (پیر کو) طلب کرلیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پرغورہوگا اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    اجلاس آج شام 6 بجےوزیراعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں تینوں مسلح افواج کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ہنگامی اجلاس میں وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے جبکہ اجلاس میں حکومت کے تمام اتحادی بھی شریک ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں بشمول طالبِعلموں کو الحمداللّہ با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مزیدکہا کہ گزشتہ روز جیسے ہی یہ میرے علم میں لایا گیاتو میں نے تمام تر وسائل استعمال کرکے ان کے ریسکیو کی ہدایت کی تھی، پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے پر پاک آرمی سمیت تمام اہلکار شاباشی کے مستحق ہیں۔

  • نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:عمران خان

    نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:عمران خان

    اسلام آباد:نوازشریف پرتاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹانےکےلیےسازشیں کی جارہی ہیں‌:ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے پراپیگنڈے کے بعد بین آ جائے، ڈیل کی جائے اگر عمران خان سے پابندی ہٹاتے ہیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف جو نااہل ہوا ہوا ہے اس پر بھی تاحیات نا اہلی کی پابندی ہٹا دیں۔ لیگی قائد کو این آر او ٹو دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔

    زوم کانفرنس میں بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اگر شہباز گل نے کچھ کہہ دیا اور اس میں ایک جملہ بالکل قابل اعتراض تھا جو نہیں کہنا چاہیے تھا، اس پر نجی ٹی وی کے خلاف کیسے ایکشن لے لیا، نیوز ایڈیٹر کو کیسے اٹھا لیا؟

    عمران خان نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پلاننگ ہے کہ تحریک انصاف پر سختی کرو، نجی ٹی وی پر سختی کر دی۔ شہباز گل کوئی بات کہہ گیا ہے تو چینل کا کیا قصور ہے۔ ایسا صرف اس لیے کیا گیا تاکہ ٹی وی کا منہ بند کیا جائے اور دیگر چینلز کو ڈرایا جائے۔17 جولائی کو دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی جیتی جس کے بعد یہ گھبرا گئے اور اب یہ اپنے پلان سی پر چلے گئے ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کو فوج سے لڑانے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے ناک آؤٹ کرنے کے لیے توشہ خانہ کیس، ممنوعہ فنڈنگ کیس چلا رہے ہیں۔ ان کی پلاننگ ہے تحریک انصاف پر سختی کرو، نجی ٹی وی کو بین کر دیا۔ پلان یہ ہے جو میری آواز ہے اسے بند کیا جائے۔ مخالف چینلز پر پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے پراپیگنڈے کے بعد بند آ جائے، ڈیل کی جائے اگر عمران خان سے بین ہٹاتے ہیں تو نواز شریف جو نااہل ہوا ہوا ہے وہ بین بھی ہٹا دیں۔ یہ اتنا خوفناک پلان ہے اس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا یہ کوئی سوچ نہیں رہا۔پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے کیونکہ ہماری پارٹی تمام صوبوں میں ہے، باقی پارٹی صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگی قائد کے خلاف پانامہ کیس کا میرے خلاف توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کیس سے موازنہ کر رہے ہیں اور کسی قسم کی ڈیل کروا رہے ہیں۔ میں کسی ڈیل کا حصہ نہ بنا نہ بن سکتا ہوں۔ یہ ڈیل پاکستان کی تباہی ہے یہ این آر او کی ایک قسم ہے۔ یہ نواز شریف کو این آر او ٹو دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ میں اپنا مکمل لائحہ عمل لاہور میں ہونے والے ہاکی گراؤنڈ جلسے میں بتاؤں گا۔ لیکن آج یہ کہنا چاہتا ہوں یہ جو سازش چل رہی ہے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مجھے راستے سے ہٹایا جائے لیکن اصل میں ملک کو وہاں دھکیل رہے ہیں جہاں دشمن چاہتا ہے۔

  • منی لانڈرنگ کرنےوالوں کوچھپنےکی جگہ نہیں ملےگی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان

    منی لانڈرنگ کرنےوالوں کوچھپنےکی جگہ نہیں ملےگی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان

    لندن:منی لانڈرنگ کرنے والوں کو برطانیہ میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی:برطانوی وزیراعظم کااعلان نوازشریف پریشان ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا اعلان کر دیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے اکنامک کرائمز بل میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیصلہ روسی امیر طبقے پر پابندیوں میں سست روی کے الزامات کے بعد کیا گیا ہے۔ ترمیمی بل یورپی یونین اور امریکا کی طے سزاؤں کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو برطانیہ میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، یہ اقدامات برطانیہ کی سرزمین پر منی لانڈرنگ کرنے کی کوشش کرنے والے مجرم اشرافیہ پر دباؤ بڑھائے گا۔

    سینیئر کنزرویٹو ٹام ٹوگن ہاٹ نے کہا کہ انھیں ’بہت تشویش’ ہے کہ پابندیاں عائد کرنے میں تاخیر ان لوگوں کو اس دولت کو کہیں اور چھپانے کا موقع دے سکتی ہے جو انھوں نے گزشتہ 20 سال سے روسی عوام سے چوری کر کے یہاں چھپائی تھی۔انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام میں کہا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہو گا۔

    امید کی جا رہی ہے کہ اس بل کو جسے تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، پیر کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔اپنی ترامیم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’مناسبت کے ٹیسٹ‘ کو ہٹا دیا جائے گا جو اس طرح کے افراد پر پابندیاں عائد کرتے وقت پورا کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

    یہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے اپنے حقیقی مالکان کا اعلان کرنے کی آخری مہلت کو بھی 18 ماہ سے چھ ماہ تک کم کر رہا ہے۔ اس اصول کی تعمیل نہ کرنے پر جرمانہ 500 پاؤنڈ یومیہ سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ یومیہ کر رہا ہے۔توقع ہے کہ اس ماہ کے وسط تک یہ بل قانون بن جائے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زبردست دباؤ مسلط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا، جب تک یہ جارحیت بند نہیں ہو جاتی ہم پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور مزید پابندیاں عاید کریں گے۔

  • عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    لاہور:عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کی چودھری برادران سے ملاقات کا امکان،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور لیگی صدر شہباز شریف کا چند روز میں ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ چودھری برادران سے آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے رہنما اس سے قبل ملاقات کر چکے ہیں، شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے سیاسی رابطوں کا اختیار دیا ہے۔

    دوسری طرف سیاسی منظر نامہ پر بڑی سیاسی ملاقات کا امکان ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی آئندہ چند روز میں چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ملاقات کا امکان ہے۔ لیگی صدر چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی چوہدری برادران کیساتھ ملاقات میں سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • بھٹواورشریف فیملی کےعلاوہ ہر پاکستانی کوحکمرانی کا  حق:ملک قبضہ گروپ کےسپردنہیں کرسکتے:فوادچوہدری

    بھٹواورشریف فیملی کےعلاوہ ہر پاکستانی کوحکمرانی کا حق:ملک قبضہ گروپ کےسپردنہیں کرسکتے:فوادچوہدری

    جہلم: بھٹواورشریف فیملی کےعلاوہ بھی پاکستانیوں‌ کواس ملک پرحکمرانی کا حق ہے:ملک کواس قبضہ گروپ کے سپرد نہیں کرسکتے،اس ملک پرحکمرانی کا ہرایک کو حق ہے:پاکستان انکے اور مریم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا،قوم ان کو دیکھ چکی: اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ ملک بہت عظیم ہے اور اس ملک کی قیادت کیلئے بلاول اور مریم دونوں بہت بھولے ہیں لہٰذا یہ ملک ان کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

    جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے پیچھے سازش ہے،کسی بھی قسم کےتشدد کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں جب معیشت ملی تو دیوالیہ حالت میں تھی مگر ہم نےگری ہوئی معیشت کواپنایا اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی، آج پاکستان میں 929 بڑی
    وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ اپوزیشن کو سینیٹ میں بھی شکست کاسامنا کرنا پڑا، جس ایوان میں (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی کو نام نہاداکثریت حاصل تھی انہیں وہاں بھی شکست ہوئی، اپوزیشن کی کوئی پالیسی نہیں ہے، یہ ایوان میں کچھ اور باہر کچھ کہتے ہیں، ہمارے کوئی سیاسی مخالفین نہیں، ہم اپنے ووٹر کو جوابدہ ہیں اس لیے پی ٹی آئی کا ووٹر ہمیں پالیسی ڈکٹیٹ کرےگا۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ یہ ملک بلاول اورمریم کےحوالے نہیں کیاجاسکتا، یہ ملک بہت عظیم ہے اور اس ملک کی قیادت کیلئے یہ دونوں بہت بھولے ہیں لہٰذا بلاول کوچاہیےکہ میئرکراچی کا الیکشن لڑیں، دونوں کو چاہیے کہ نیچے سے اوپر آنے کا سفر شروع کریں، بلاول اور مریم کا قد نہیں ہے کہ وہ خود کو قومی لیڈر کہیں، ان کا انحصار مولانا فضل الرحمان کے مدرسے کے بچوں پر ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ راوی ریور روڈہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بلکہ پورا شہر ہے اور شہربسانے سے متعلق فیصلہ حکومت نے کرنا ہوتا ہے، عدلیہ پالیسی فیصلہ سازی میں تو نہیں آسکتی اور جب بھی عدلیہ نے پالیسی فیصلہ سازی میں دخل اندازی کی ہے تو ملک کو نقصان ہوا اس لیے جتنا ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر چلیں گے اتنا فائدہ ہوگا۔

    ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ احتساب کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، ہمارا ووٹر ہمیں اس کی اجازت نہیں دےگا۔

  • میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟

    میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟

    لندن:میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟،اطلاعات کے مطابق معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ نے لندن میں جہاں میاں نوازشریف کا محل ہے اس علاقے کے قریب سے اپنے موبائل کے ذریعے ایک اہم خبر بریک کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی نہیں گھبرائیں

    حریم شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے خلاف بے شک جتنی بھی تحقیقات کی جائیں میں تحقیقات سے نہیں گھبراتی۔حریم شاہ نے حال ہی میں دیے گئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی سے ناامیدی اور مایوسی کا اظہار کیا۔

    ویڈیو پیغام میں حریم کا کہناتھا کہ جب ہم پاکستانی پیسوں کو ڈالر میں ایکسچینج کرواتے ہیں تو ہمیں پھر ضرور رونا آتا ہے کہ وزیر اعظم عمران کو جب ہم نے ووٹ دیا تو انھوں نے ہمارے اندر ایک امید جگائی تھی کہ پاسپورٹ اور پاکستانی کرنسی کی اہمیت کا لیول عمران خان کے دورحکومت میں بہت اونچا ہوگا۔

    معروف ٹک ٹاکر نے کہا کہ عمران خان سے مایوس ہوئی ہوں انہوں نے کچھ نہیں کیا ،ایک امید ہے کہ شاید کوئی ایسا وزیراعظم آئے جو پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر لے جائے۔

    حریم نے مزید کہا کہ لیکن اسی طرح اگر ہم بغیر تحقیق کے ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہے اور بغیر تحقیق کے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے اور جہاں تک بات اداروں کی تحقیق کی ہے تو بے شک تحقیقات کی جائیں میں تحقیقات سے نہیں گھبراتی اس کے بعد اور چیزیں واضح ہو جائیں گی کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

    خیال رہے کہ حریم شاہ کے برطانیہ رقم منتقلی کے دعوے کے بعد ایف آئی اے کے حرکت میں آنے پر ٹک ٹاکر اب اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔

    حریم شاہ کی بھاری رقم کے ساتھ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہوں نے ایک کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ان کے ساتھ موجود شخص نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ساری رقم جو حریم کی ویڈیو میں موجود ہے وہ ان کی ہے اور وہ منی ایکسچینج کا کام کرتے ہیں جب کہ ان کا تمام پیسہ قانونی ہے۔

  • حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    لاہور :طاقتورحمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع،،اطلاعات کے مطابق بینکنگ جرائم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مقدمات میں عبوری ضمانتوں کا تحریری فیصلہ جاری کرديا ہے۔

    تحریری فیصلے کے مطابق شہباز شریف اورحمزہ شہبازکی ضمانت میں21جنوری تک توسیع کی گئی ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز متعلقہ عدالت سے عبوری درخواست ضمانت کے لیے رجوع کریں۔

    درخواست گزار کے وکلا کی استدعا پر متعلقہ عدالت سے رجوع کی مہلت دی گئی ہے، ضمانت کے لیے مہلت دینے پر ایف آئی اے وکلاء کو اعتراض نہیں ہے۔

    فیصلہ کے مطابق ایف آئی اے نے اس عدالت کا دائرہ اختیار نہ ہونے پر چالان واپس لینے کی استدعا کی گزشتہ روزعدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے دائرچالان واپس کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی بنکنگ جراٸم کورٹ کے جج راٸے طاہر صابر نے شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے کو چالان واپس کردیا۔ عدالت نے سات روز کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    قبل ازیں بینکنگ جرائم کورٹ میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر مل کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت نے شہبازشریف کی حاضری معافی درخواست منظور کرلی۔

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے

  • ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    لاہور:ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے وطن واپس نہ آنے کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے نومبر 2019ء کو برطانیہ روانہ ہوئے تھے اور تاحال واپس نہ آ سکے، ان کی برطانیہ جانے سے متعلق پاکستان مسلم لیگ ن کےصدر میاں محمد شہباز شریف نے عدالت میں گارنٹی دی تھی۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف وطن واپسی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیخلاف عدالت سےرجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی ضمانت دی تھی، نواز شریف کے واپس نہ آنے پر شہباز شریف کے خلاف کاروائی کی درخواست کی جائیگی۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی واپسی کے لیے عدالتوں کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا، شہبازشریف نے نوازشریف کی وطن واپسی کی عدالت میں ضمانت دی تھی، نوازشریف کوکہا تھا کہ جرمانہ ادا کریں اورعلاج کے لیے باہرچلے جائیں، نوازشریف کوواپس لانے کے لیے 10 دن تک عدالت یاد دہانی کے لیے جارہے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے مسلم لیگ ن کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم جلد واپس آ جائیں گے، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ آئندہ ماہ لندن جاؤں گا اور نواز شریف کو واپس لے کر آؤں گا۔

    آج میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ن لیگ والے نہیں بلکہ ہم مسلم لیگ ن کے قائد کو وطن واپس لائیں گے کیونکہ حکومت ملزمان کی حوالگی سے متعلق برطانیہ سےبات کر رہی ہے۔

  • جنید صفدرکی30 لاکھ کی شال:امریکی قانون بھی شرمندہ:مقروض ملک کے شہزادے کی عیاشی پرتبصرے

    جنید صفدرکی30 لاکھ کی شال:امریکی قانون بھی شرمندہ:مقروض ملک کے شہزادے کی عیاشی پرتبصرے

    لاہور:جنید صفدرکی30 لاکھ کی شال:امریکی قانون بھی شرمندہ:مقروض ملک کے شہزادے کی عیاشی پرتبصرے ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ابھی تک بیٹے کی شادی پر مریم نواز کے ملبوسات کا چرچا تھا، لیکن شریف شاہی فیملی کے شہزادے جنید صفدر کی وہ شال توجہ کا مرکز بن گئی ہے جو انھوں نے اپنی مہندی پر اوڑھی تھی۔

     

     

    مہندی کی تقریب میں جنید نے ایک سنہرے رنگ کی شال اوڑھی تھی جس کے بارے میں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ’شاہ توش‘ سے بنی ہوئی شال تھی جس کی قیمت لاکھوں میں ہوگی۔

     

    ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان ابھی تک مقروض ہے لیکن جنید صفدر نے مہندی پر 30 لاکھ کی شال اوڑھی۔بعض نے کہا ہےکہ سیانوں نے سچ فرمایا کہ”چوری دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز”

     

     

    اس چادر کے بارے میں حیران کن تفصیلات سامنے آرہی ہیں ، کہا جاتا ہےکہ دراصل شاہ توش کا دھاگا ایک خاص نسل کے ہرن کے بالوں سے بنایا جاتا ہے، جو پاکستان میں پایا ہی نہیں جاتا، نیشنل جیوگرافک کے مطابق شاہ توش کا دھاگا تبت کے علاقے ’چینگٹنگ‘ میں پائے جانے والے ہرن کے بالوں سے بنتا ہے، اور ایک شال بنانے میں تقریباً 4 تبتی ہرنوں کے بال استعمال ہوتے ہیں۔

     

     

    شال کے لیے اس ہرن کا غیر قانونی طور شکار کیا جاتا ہے، کھال اسمگلرز کو بیچی جاتی ہے، اور بھارت میں ان سے ملبوسات تیار ہوتے ہیں، امریکا کی ’فش اینڈ وائلڈ لائف سروس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ہرن کی کھال سے تقریباً سارا کپڑا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بنایا جاتا ہے۔

     

     

    تبت میں پائی جانے والی ہرن کی یہ نسل دنیا بھر میں اس کے بالوں سے بننے والے کپڑے کی ڈیمانڈ کے سبب معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے، ان کی تعداد دنیا میں 1 سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان رہ گئی ہے، دنیا کے بیش تر ممالک بشمول امریکا، انڈیا، نیپال اور چین میں تبت کے اس ہرن کے بالوں سے بنے کپڑے کی تجارت پر پابندی ہے۔

     

     

    امریکا میں اس کے کپڑے کی تجارت پر 1 سال کی سزا ہو سکتی ہے اور 1 لاکھ سے 2 لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن پاکسان ایسے شہزادوں کے لیے مفتوحہ سرزمین کا درجہ رکھتی ہیں جہاں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ، عدل کے دروازوں پرکوئی پہرے دار نہیں اورپھراپنے ہی بنائے ہوئے شخصی قوانین کی آڑ میں وہ عیاشیاں کرتے ہیں کہ جن عیاشیوں پرامریکہ اوردیگر ملکوں میں سزائیں ملتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں پولیس اہلکاروں کی سیکورٹی میں دہشت پیدا کرنے والے نیویارک اورلندن کی سڑکوں پرشرم کے مارے پگڈنڈیوں پرمُڑ مُڑ کردیکھتے ہیں کہ کوئی پاکستانی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا