Baaghi TV

Tag: شمالی غزہ

  • غزہ پر اسرائیلی بمباری، جبالیہ میں خواتین و بچوں سمیت 50 فلسطینی شہید

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، جبالیہ میں خواتین و بچوں سمیت 50 فلسطینی شہید

    شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ اور قریبی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 50 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں 22 بچے اور 15 خواتین شامل ہیں۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، حملے رات گئے کیے گئے جب متعدد رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک ہسپتال کے عملے نے تصدیق کی ہے کہ شہداء کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں درجنوں لاشیں فرش پر پڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل سے خطاب میں اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں دانستہ طور پر انسانی بحران پیدا کرنے اور فلسطینیوں کو بدترین حالات میں دھکیلنے کا الزام لگایا۔

    ٹام فلیچر نے اسرائیل سے غزہ کی 10 ہفتوں سے جاری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور امریکی-اسرائیلی انسانی امداد کے انتظام کو ایک ظاہری بہانہ قرار دیا، جس کے ذریعے فلسطینیوں کو مزید بے دخل اور زیرِ عتاب کیا جا رہا ہے۔مقامی حکام کے مطابق، بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کل 70 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جبالیہ اور اس کے اطراف کے علاقوں سے تھا۔ شہریوں نے رات بھر شدید دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جبکہ ویڈیوز میں آسمان کو چیرتے شعلے اور تباہ شدہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    کراچی میں لرزہ خیز واردات: بیٹوں نے باپ کو کمانے کا کہنے پر قتل کر دیا

    دوبارہ جارحیت ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا،خواجہ آصف

    دوبارہ جارحیت ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا،خواجہ آصف

    آپریشن بنیان مرصوص،تباہ شدہ بھارتی طیاروں کی تعداد سات ہو گئی

    عمران خان کے پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی اجازت

  • اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    شمالی غزہ کے آخری اسپتالوں میں سے ایک کو اسرائیلی فوج نے زبردستی خالی کرا لیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں خظرے میں پڑ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمال ادواں اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صیہونی فوج نے انتظامیہ کو مریضوں اور عملے کو صحن میں داخل کرنے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اسرائیلی فوجی اسپتال میں داخل ہوئے اور باقی مریضوں کو بھی نکال دیا۔اسرائیلی فوج نےکہا تھا کہ وہ اسپتال کے علاقے میں ایک آپریشن کر رہی ہے، جسے اس نے ‘حماس کے دہشت گردوں کا گڑھ’ قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے آپریشن شروع کرنے سے قبل ہسپتال سے شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے اسپتال خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔فوج نے یہ نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم اس ہفتے کے اوائل میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا تھا کہ وہ کمال ادوان اسپتال میں موجود افراد کو قریبی انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صباح کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک ہے کیونکہ آئی سی یو میں ایسے مریض ہیں جو کوما میں ہیں اور انہیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور انہیں منتقل کرنے سے وہ خطرے میں پڑ جائیں گے ان مریضوں کی منتقلی صرف خصوصی گاڑیوں میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل کمال ادوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں پانچ طبی عملے سمیت تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری
    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شمالی غزہ سے ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جنہیں بھوک پیاس، تکالیف، مایوسی اور موت کے خطرات کا سامنا ہے۔

    یو این کی رپورٹ کے مطابق علاقے میں اسرائیلی فوج کی بمباری اور زمینی حملے بدستور جاری ہیں۔ اس نے لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی بھی روک رکھی ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی متعدد درخواستوں کے باوجود امدادی مشن علاقے میں رسائی نہیں پا سکے۔امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہر طرح کے اشاریوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی غزہ کے حالات انتہائی تباہ کن ہو چکے ہیں۔علاقہ عملاً محاصرے میں ہے جہاں امدادی اداروں کو نہ تو رسائی مل رہی ہے اور نہ ہی ان کے لیے تحفظ کی کوئی ضمانت ہے۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی جاری ہے اور ایسے حالات میں امداد کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے.جینز لائرکے نے شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے امدادی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے حالات کی کچھ یوں منظرکشی کی ہے کہ جب کوئی ایسی صورتحال دیکھتا ہے تو کچھ کرنے کے لیے چھلانگ لگانا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی کیونکہ اس کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہے۔جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں عرب لیگ کی نمائندہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ اسرائیل کی جانب سے ‘انروا’ کو ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ ادارہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ناقابل انتقال حقوق اور مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی برادری کے اتفاق رائے کی علامت ہے۔عرب لیگ کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ ‘انروا’ کے خلاف اسرائیل کی کوئی بھی جارحیت اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ سے متعلق کنونشن کی کھلی پامالی ہو گی۔’اوچا’ نے بتایا ہے مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کو محض نفاذ قانون کے اقدامات نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ شہریوں کے خلاف جنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔5 اور 11 نومبر کے درمیانی عرصہ میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں 11 فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ ان میں تین افراد فضائی حملوں میں مارے گئے۔ ایک واقعے میں اسرائیلی آباد کار نے حملہ آور فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ ایک فلسطینی شہری اپنے پاس موجود دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔اسرائیل کی فورسز نے مشرقی یروشلم میں مزید نو رہائشی عمارتیں منہدم کر دی ہیں جن میں رہنے والے 23 بچوں سمیت 50 فلسطینی بے گھر ہو گئے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں، ان سے بدسلوکی اور توہین آمیز سلوک کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعات گزشتہ مہینے پناہ گزینوں کے کیمپوں اور قصبوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکام نے راملہ میں جانچ پڑتال کی متعدد چوکیاں روزانہ چند گھنٹوں کے لیے دوبارہ کھول دی ہیں اور علاقے تک رسائی میں حائل کڑی رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں متعدد مندوبین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ‘انروا’ کے خلاف پابندی سے متعلق قوانین کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا۔

    برطانیہ اور سندھ یکساں تخلیقی روایاں رکھتے ہیں، مراد علی شاہ

    وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

  • اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نشل کشی جاری، اسرائیلی جارحیت اور قتل عام اس قدر بڑھ چکا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں شہید فلسطینوں کی لاشوں کو دفنانے کیلئے کفن ختم ہوچکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش جو اس وقت شمالی غزہ میں موجود ہیں کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے کئی زخمی شہید ہوگئے اور ہم ان کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے اسپتالوں میں کفن ختم ہوچکے ہیں اور ہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں موجود کپڑے عطیہ کریں۔

    عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی حکام اور سول سروسز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والے درجنوں افراد کی لاشیں سڑکوں پر بکھری ہوئی ہیں یا عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوئی ہیں تاہم مسلسل بمباری کے باعث ان تک پہنچنا مشکل ہورہا ہے۔

    عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آج صبح سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہو چکے ہیں ان میں سے 37 شمالی غزہ میں مارے گئے، اسرائیلی فوج شمالی غزہ میں 18 روز سے جاری محاصرے کے دوران 640 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ کے زیر محاصرہ علاقے جبالیہ کے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امداد نہ پہنچی تو آئندہ چند گھنٹوں میں اسپتال میں موجود زخمی زندہ نہیں بچیں گے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے دنیا فوری طور پر ادویات، امداد اور طبی عملے کی فراہمی کےلیے اقدامات کرے اگر ایسانہ کیا گیا تو آئندہ چند گھنٹوں میں زخمی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، گلیوں میں جو کوئی نظر آتا ہے اس پر گولی چلائی جاتی ہے، یہاں موجود لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 42 ہزار 600 سے زائد افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں جبکہ99 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  • غزہ میں بھوکےکتے انسانی لاشیں کھا رہے ہیں،  ایمرجنسی سروسز کے سربراہ کا انکشاف

    غزہ میں بھوکےکتے انسانی لاشیں کھا رہے ہیں، ایمرجنسی سروسز کے سربراہ کا انکشاف

    شمالی غزہ میں ایمرجنسی سروسز کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہاں کتے انسانی لاشیں کھا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ فارس افانہ کا کہنا تھا شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں اسرائیلی بمباری کے باعث ہر طرف لاشیں گلیوں میں پڑی ہیں، سڑکیں تباہ ہیں اور خواتین اور بچے بدترین بھوک و افلاس کا شکار ہیں-

    فارس افانہ کا کہنا تھا اسرائیلی فورسز ہر وہ چیز تباہ کر رہے ہیں جس سے زندگی کے آثار ملتے ہوں، مجھے اور میری ٹیم کو کچھ ایسی لاشیں ملی ہیں جن پر جانوروں کے کاٹنے کے نشانے موجود ہیں اور انہیں پہچاننے میں بھی دشواری کا سامنا ہےبھوکے کتے سڑک پر پڑی لاشیں کھا رہے ہیں جس کی وجہ سے لاشوں کی شناخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اس نے سی این این کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک نوجوان لڑکے کی باقیات دکھائی دے رہی ہیں جس کے جسم کو آوارہ کتوں نے کھلایا تھا جبکہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے گزشتہ 12 روز سے محاصرے کا شکار جبالیہ کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور حاملہ خواتین پھنسے ہوئے ہیں۔

    ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

    اقوام متحدہ کی جانب سے اتوار کو جاری رپورٹ کے مطابق جبالیہ کیمپ سے 50 ہزار افراد ہجرت کر چکے ہیں جبکہ شمالی غزہ میں موجود 4 لاکھ سے زائد آبادی اسرائیلی بمباری اور محاصرے کی وجہ سے بھوک کا شکار ہے اقوام متحدہ نے صیہونی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کے لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ یا تو وہ ہجرت کریں یا پھر بھوک و افلاس کے لیے تیار رہیں۔

    خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی شہری گرفتار