دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔
Tag: شوبیز

فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے
بھارتی اداکارہ راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے کامیابی یہ ناکامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں صرف اچھا کام کرنا چاہتی ہوں.
اداکارہ راکل پریت سنگھ بالی وڈ کے لیے نئی لیکن جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری کے بڑے اداکاروں میں شامل ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے اجے دیوگن کے ساتھ فلم ’دے دے پیار دے‘ میں کام کیا ہے جس میں وہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں.
دلی یونیورسیٹی سے تعلق رکھنے والی راکل پریت سنگھ کو بچپن سے ھی فلموں کا شوق تھا پنجابی آرمی آفیسر کے گھر پیدا ہونے والی راکل پریت سنگھ نے 18 سال کی ہی عمر میں ہی ماڈلنگ کرنا شروع کر دیا تھا.
کہا جاتا ہے کہ راکل پریت سنگھ نے جنوبی بھارت کی فلموں سے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا ہے. لیکن راکل پریت سنگھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کے ان کی پہلی فلم ہندی یاریاں تھی.
راکل پریت سنگھ نے کیا ہے کہ کامیابی ہویہ ناکامی مجھے ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہے .
مجھے بس اپنی فلم کی رلیز سے مطلب ہے کہ وہ کدھر کدھر رلیز ہو رہی ہے.
راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے بس کیمرے کے سامنے رہنا پسند ہے مجھے پیسے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں پیسے کے لیے کام کرتی ہوں
مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس
مائرہ فلم کی دنیا میں تو ویسے سب کے دلوں پر راج کرتی ہی ہیں لیکن انہوں نے پنجابی گانے پر ڈانس کر کہ اج سب کو دیکھا دیا ہے کہ وہ ایک اچھی ڈانسر بھی ہیں.
مئراہ نے ایک پنجابی گانے پر ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے بہت سے لوگ بہت شوق سے دیکھ بھی رہے ہیں اور اگئے بھی شیئر کر رہیے ہیں.
ویڈیو میں مئرہ کے ساتھ بلال بھی اپنا جلوہ دیکھاتے ہوے نطر آہ رہے ہیں بلال تو کچھ ہی دیر میں پیچھے ہٹ گئے لیکن کافی دیر تک اپنی اداوں کا جلوہ دیکھاتی رہیتی ہیں.
maira-khan-ka-punjabi-dance
یاد رہے کہ ڈانس کی ویڈیو مائرہ اور بلال کی عید الضحیٰ پر انے والی نئی فلم سپر سٹار کی شوٹینگ کے درمیان بنائی گئی تھی امید ہے کہ فلم بھی گانے کی طرح سب کے دلوں پر راج کرے گی
باجی بنی انویسٹر
فلم میرا یعنی باجی جس کی کاسٹ میں آمنہ الیاس، اسامہ خالد بٹ ،علی کازمی، محسن عباس ،نیر اعجاز ،نشو ،اور باجی یعنی میرا شامل ہیں
اس فلم میں ساری کاسٹ ایک طرف اور میرا جو کہ اس فلم کا ٹایٹل رول ادا کر رہی ہیں ایک طرف کیونکہ ساری فلم میں آپ کو باجی باجی ےیعنی میرا ہی نظر آیے گی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم باجی کی انویسٹر خود میرا ہی ہیں اس کا اندازا لوگوں کو تب ہوا جب ،اے ار وای، کے مارنگ شو میں فلم کی پرموشن کے لیے ساری کاسٹ اور فلم کے ڈائرئکٹر ثاقب ملک بھی آئے تو ثاقب ملک نے ایک انقشاف کیا کہ میں پچھلے 15 سال سے فلم بنانے کی کوشیش کر رہا تھا انہوں نے یہ بھی یہ کہا کہ کئی سین شوٹ کرتے ہوئے میرا نے میری مدد کی کہ کون سا سین کتنا وایڈ ہونا چاہیے اور کتنا ٹایٹ ہونا چاہیے ثاقب ملک جو کہ بڑے مانے ہوئے ویڈیو ڈائریکٹر ہیں کیا انہوں نے پندرہ سالوں میں فلم بنانے کی یہ تیاری کر رکھی تھی کہ سیٹ پر ان کو کوئی دوسرا بتا رہا ہے کہ سین کو شوٹ کس طرح سے کرنا ہے ایک تو میرا یعنی باجی نے یہ ثابت کر دیا کہ تم ٹی وی والوں کو کیا پتا کی فلم کیسے شوٹ کرتے ہیں اور اتنے مانے جانے والے ویڈیؤ ڈائریکٹر خوشی سے ان کی بات مانتے رہے یا تو انہوں نے کہی اندر اپنے اپ میں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ واقع ہم ٹی وی والوں کو فلم شوٹ کرنا نہیں آتی یہ پھر وہ باجی یعنی میرا جی کی بات اس لیے مان رہے تھے کہ وہ خود اس فلم کی انویسٹر ہیں اس لیے ساری فلم میں خود باجی یعنی میرا جی خود دیکھائی دے رہی ہیں اور باقی ساری کاسٹ صرف سپورٹینگ کاسٹ کے طور پر کام کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے صرف نیر اعجاز کے علاوہ فلم دیکھنے والوں کو کسی نے متاثر نہیں کیا وہ بھی اس لیے کہ نیر اعجاز فلم سے ہیں باقی سب لوگ ٹی وی سے ہیں اور ایک دفع پھر ٹی وی والوں نے فلم دیکھنے والوں کو بہت مایوس کیا اور اس فلم کے میوزک نے بھی فلم کو زرہ سپارٹ نہیں کیا جیسا کہ دیکھا گیا ہے اس خطے میں ہٹ ہونے والی فلموں کی کہانی اچھی اور موسیقی بہت دل آویز ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے لوگ فلم دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے اور بار بار اس فلم کو دیکھنے کے لیے سینما گھروں میں اتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوتا نہ کوئی آچھی کہانی لکھنے والے کو ترجح دیتا ہے اور نہ ہی اچھی موسیقی یعنی فلم کی موسیقی ترتیب دینے والے کے پیچھے کوئی جاتا ہے فلم کا گانا بھی سکرپٹ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو کہانی کو لے کر آگے چلتا ہے فلم کے گانے میں جو شعاری ہوتی ہیں وہ گانے سے پہلے والی کہانی کو گانے کے بعد والی کہانی سے جوڑتی ہے یہ ائک فلم والا ہی سوچ سکتا ہے کہ گانے کی سچویشن کیسے بنانی ہے جبکہ ٹی وی والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اسی لیے فلم باجی کا کوئی گانا لوگوں کے کانوں سے ہوتا کی دلوں میں نہیں اترا اس فلم کی موسیقی دینے والوں نے کچھ پرانی لائن اور پرانی دھنوں کو ہی ری ڈو کر دیا کیا ہمارے پاس اسے موسیقار یہ شاعر موجود نہیں جو کسی بھی فلم کے لیے نئے گانے بنا سکیں وسے ثاقب ملک کی پندرہ سال کی محنت یہ رنگ لائے گی کیا انہوں نے ایسا سوچا ہوگا لہازا ہماری پنجابی فلم کا مزاق اڑاتے تھے یہ اڑاتے ہیں وہ اپنے فلم دیکھنے والوں کی تعداد اتنی تو بنا لیں جتنی پنجابی فلم دیکھنے والوں کی تھی
اگر اپ کو فلم بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو فلم بنایئں ضرور بنایئں اپنے پیسوں سے بنایئں یہ کسی کے پیسوں سے بنایئں ایک بات کا خیال رکھیں کہ اپنے کام کے ساتھ انصاف ضرور کریں جو لوگ اپنی محنت کی کمائی سے ٹکٹ لے کر آپکی فلم دیکھنے اتے ہیں خدارا انکو مایوس مت کریں .
فلم ماڈرن ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ثاقب ملک کو چاہیے کہ وہ بھی سینما میں بیٹھ کر فلمیں دیکھا کریں گھر میں ٹی وی پر فلم دیکھنے سے کبھی نہیں پتا چلے گا کہ فلم کیسے بناتے ہیں
ارتضیٰ بنی میرا ،میرا بنی باجی (ثاقب کی ) اور باجی ارتضیٰ سفر دوبارہ شروع .
پرانی فلموں میں ہسپتال کی نرس کا کردار ماں نبھاتی تھی لیکن اب ہیرون بنی باجی
جہان ثاقب ملک کو خاص طور پر ناظرین سے معافی مانگنی چاہیے جو سر میں درد لے کر اٹھے وہاں ایس سلمان اور مرحومہ نیر سلطانہ کی قبر پر جا کر بھی معافی مانگنی چاہیے .
ثاقب ملک نے باجی ٹائٹل کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کچھ عرصہ پہلے مومنہ اور آحد رضا میر نے ،کوکو کورینا، کے ساتھ کیا لہازا میں اپنے حصے کی پیناڈول کھانے جا رہا ہوں
رتیش دیشمکھ نے کی کپتان سرفراز خان کی حمایت
کرکٹ میچز میں خراب کارکردگی کے باعث قومی کرکٹ ٹیم کو ان دنوں شدید تنقید اور عوام کی طرف سے انتہائی غم و غصے کا سامنا ہے ۔ اور اس وجہ سے قومی کرکٹ ٹیم کا کہیں آنا جانا بھی محال ہوگیا ہے ۔
چند دن پہلے ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک پاکستانی شخص قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے سامنے اس کے لیے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ اس وقت سرفراز احمد کا بیٹا بھی ان کے ساتھ موجود ہے ۔
یہ وڈیو دیکھتے ہی کرکٹ شائقین خاص طور پر کیپٹن سرفراز احمد کے مداحوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ بالی وڈ اداکار رتیش دیشمکھ کپتان سرفراز خان کی حمایت میں کھڑے ہوگے ہیں ۔ رتیش دیشمکھ نے ٹویٹر پر اس وڈیو پر شدید تنقید کی ہے ۔ رتیش دیشمکھ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ” تاریخ میں ہر کپتان نے اپنے کیرئیر میں اہم میچ میں شکست حاصل کی ہے۔ سرفراز احمد اس طرح کے رویے کے مستحق نہیں، یہ ہراسانی ہے، یہ تو دیکھیں کہ ان کے ساتھ ان کا بچہ بھی موجود ہے۔‘‘

فلم ‘’پرے ہٹ لو‘‘ کا ٹریلر ریلیز
فلم ‘’پرے ہٹ لو‘‘ کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ شائقین کو اس فلم کا بہت بے چینی سے انتظار ہے ۔یہ فلم عیدالضحیٰ کے موقع پر ریلیز ہو گی۔اس فلم کا ٹریلر یوٹیوب پر اب تک دو لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے ۔
اس فلم کے ہدایت کار عاصم رضا ہیں ۔ اس فلم میں ماہرہ خاں ، شہریار منور ، مایا علی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جبکہ دیگر اداکاروں میں ندیم بیگ ، زارا نور عباس ، احمد علی بٹ ، اور حنا دلپزیر شامل ہیں ۔ اداکارہ میرا ، سونیا جہاں اور فواد خاں بھی فلم میں نظر آٸیں گے ۔
اس فلم میں ماہرہ خاں اپنی پہلی فلموں کی نسبت زیادہ منفرد اور خوبصورت نظر آرہی ہیں ۔ اس فلم میں فواد خاں کی انٹری بھی ان کی مداحوں کے لیے اس فلم کی توجہ کا باعث ہے ۔اس فلم میں شہریار منور اپنی زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں تو مایا علی ان کی زندگی میں خوشی کی لہر بن کر آتی ہیں ۔ لیکن شہریار نور اس سے بےخبر ہے کہ مایا علی اسے دھوکہ دے رہی ہیں ۔ ایک طرف مایا علی کا شہریار نور سے رومانس جب کہ دوسری طرف مایا علی کا شہریار نور کو دھوکہ دینا فلم کا یہ سسپنس یقیناً شائقین کو فلم سے جوڑے رکھے گا۔

” باجی ” عوام میں بہت مقبول ہوگی
اداکارہ میرا نے فلم باجی کے ریڈ کارپٹ لانچ کے موقع پر اداکارہ آمنہ الیاس اور عثمان خالد بٹ کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوٸے کہا ہے کہ ان کی نئی فلم ” باجی ” عوام میں بہت مقبول ہوگی ، فلم باجی عوام کے دلوں میں جگہ بنالے گی اور بہت اچھا بزنس کرے گی ۔
اداکارہ میرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب پاکستانی عوام پاکستانی فلمیں دیکھیں گے تو فلم ساز بھی اچھی فلمیں بنائیں گے ۔اداکارہ میرا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی نئی فلم باجی کے لیے بہت محنت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے اس فلم میں گانے بھی اچھے ہیں اور یہ فلم سسپینس سے بھرپور ہے ۔ میرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی عوام سے ملنے والی محبت ہی میرا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔
فلم باجی کے ہیرو عثمان بٹ کا کہنا ہے کہ ہماری فلمیں بھی ہمارے ڈراموں کی طرح دنیا بھر میں مقبول ہوں گی اور جلد عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنالیں گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو فم انڈسٹری کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے چاہیے ۔
رابی پیرذادہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر
گلوکارہ رابی پیرزادہ بھی اپنے باپ اور چچا کی طرح دشمن سے مقابلہ کرنے کو تیار ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ابا اورچاچا جان بارڈر پر دشمن سے جنگ لڑ رہے ہیں اسی طرح میں بھی سوشل میڈیا پر جنگ لڑ رہی ہوں ۔ گلوکارہ رابی پیر زادہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے ایک سال تک یہ بات چھپائے رکھی کہ وہ شوبز میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے سندھ اور سندھی ثقافت سے محبت کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ پاکستانی میڈیا آئٹم سونگ کرنے والوں کو راتوں رات سپر سٹار بنا دیتا ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا کو چاہیے کو وہ مثبت کام کو آگے بڑھایا کریں نہ کہ منفی کام کو ۔
رابی پیر زادہ نے کہا ہے کہ انہیں کم عمری میں ہی ٹی وی ڈراموں اور کمرشلز سے اپنی پہنچان مل گٸی تھی ۔
رابی پیر زادہ نے مزید بتایا کہ وہ اگلے ہفتے برطانیہ جائیں گی جہاں پاکستان اور بھارت میں مشترکہ ریلیز ہونے والی ایک پنجابی فلم کی شوٹنگ میں حصہ لیں گی ۔ اس کے علاوہ وہ لندن میں منعقد ایک کنسرٹ میں بھی اپنی آواز کا جادوں جگائے گی ۔
امجد صابری کی آج تیسری برسی
بھارت، نیپال، امریکا اور لندن سمیت 17 سے زائد ممالک میں پرفارمنس دینے والے قوال امجد صابری کی تیسری برسی منائی جا راہی ہے
22 جون 2016 بمطابق 16 رمضان المبارک کو جب امجد صابری اپنی رہائش گاہ سے نکل کر ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تب انہیں موٹر سائکل سوار دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ۔
23 دسمبر 1976 کو کراچی کے معروف قوال گھرانے میں آنکھ کھولنے والے امجد صابری کو قوالی کا ذوق و شوق ورثے میں ملا ۔ انہوں نے قوالی کی ابتدائی تربیت اپنے والد اور بڑے بھائی سے حاصل کی ۔ اور قوالی کو منفرد انداز میں پیش کیا جو لوگوں میں بہت مقبول ہوا ۔ جتنی کم مدت میں امجد صابری نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔
امجد صابری نے اپنے والد کی وفات کے بعد انہی کی پڑھی ہوئی قوالیوں کو منفرد انداز میں پیش کیا ۔ اور اپنے والد کی پڑھی ہوٸی دو قوالیوں ” تاجدار حرم ” اور بھر دو جھولی میری ” کو پڑھ کر بے پناہ شہرت حاصل کی ۔
امیتابھ بچن ایک نئے انداز میں
بھارتی فلم ” گلابو شتابو ” میں بھارتی فلمی اداکار امیتابھ بچن بلکل الگ کردار ادا کریں گے ۔ اس فلم کی شوٹنگ کا آغاز یو چکا ہے جو ایک مہینے میں مکمل ہوجائے گا ۔ اس فلم کے کچھ سین بمبئی میں شوٹ کیے گے ہیں جبکہ باقی شوٹس لکھنئو کے علاقے میں لیے جائیں گے ۔
اس فلم میں امیتابھ بچن موٹی ناک اور ہائی پاور عینک ، ماتھے پر شکن اور سفید داری کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے ۔ اس فلم کی کہانی جوہی چترویدی نے لکھی ہے جبکہ اس فلم میں امیتابھ بچن کے ساتھ ایوشمان کھرانہ بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے ۔
فلم میں لکھنوٰ کی سینئر آرٹسٹ ارچنا شکلا آیوشمان کھرانہ کی ماں کاکردار نبھائیں گی جو کہ امیتابھ بچن کی کرائے دار ہوں گی ۔اس فلم کے کچھ سین تاریخی مقامات پر شوٹ کیے جائیں گے ۔یہ فلم 24 اپریل 2020 میں ریلیز ہوگی ۔









