Baaghi TV

Tag: شوکاز

  • ن لیگ کا  نو منتخب رکن قومی اسمبلی کو  شوکاز نوٹس

    ن لیگ کا نو منتخب رکن قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نو منتخب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نیلسن عظیم کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: لیگی ذرائع کے مطابق نیلسن عظیم کو شوکاز نوٹس اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے پر جاری کیا گیا, ڈاکٹر نیلسن عظیم کو 7 دن کے اندر شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) شہبازشریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کی جانب سے لیگی رکن اسمںبلی ثوبیہ شاہد کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے لیا اور انہیں اسلام آباد بلا کر ان سے ملاقات کی۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن ثوبیہ شاہد کی شہباز شریف سے ملاقات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین بھی موجود اور نامزد وزیراعظم نے ان کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے انھیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، کہا کہ آپ قوم کی بہادر بیٹی ہیں، ہمیں آپ کی بہادری پر فخر ہے، پوری قوم اور مسلم لیگ (ن) آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    شہباز شریف نے اس موقع پر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر امیرمقام اور دیگر رہنماؤں کو ثوبیہ شاہد پر حملے کے کیس میں قانونی کارروائی کا ٹاسک دیا اور پارٹی کے سنئیر رہنما خواجہ سعد رفیق اور عطااللہ تارڑ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی تاکید کی۔

  • توہین عدالت کیس، ڈی سی اسلام آباد عدالت پیش

    توہین عدالت کیس، ڈی سی اسلام آباد عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ڈی سی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی،ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے،ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن نےاس موقع پر عدالت میں بیان دیا کہ اس کیس میں 18 سماعتیں ہوئیں، کسی سماعت میں غیر حاضر نہیں ہوا، اپنے آپ کو اس عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں،جسٹس بابر ستار نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مذاق ہے، آپ کے خلاف توہینِ عدالت چل رہی ہے، آپ نے 970 دنوں کے لیے 69 ایم پی او آرڈر جاری کیے، کیا ان کے بچے نہیں تھے، انہیں عمرے پر نہیں جانا تھا؟ ہم نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، پیر تک جواب دیں،ر ڈی سی اسلام آباد کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے جسٹس بابر ستار سے کہا کہ آپ غصے میں ہیں، اس کیس کی کچھ دیر بعد سماعت کر لیں۔

    جسٹس بابر ستار نے ڈی سی اسلام آباد سے کہا کہ یہ کیس کل مکمل ہو جانا تھا، آپ کی وجہ سے نہیں ہو سکا، مسٹر میمن کیا آپ کو عدالت کا آرڈر معلوم نہیں تھا؟ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن نے جواب دیا کہ میں عدالتی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔جسٹس بابر ستار نے ان سے استفسار کیا کہ اب آپ کی مرضی سے بینچ بنیں گے؟اس موقع پر ڈی سی اسلام آباد کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے ان پر عائد فردِ جرم کا متن پڑھ کر سنایا اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توہینِ عدالت تین طرح کی ہوتی ہے، سول، کریمنل اور جوڈیشل، انصاف کی راہ میں رکاوٹ پر توہینِ عدالت کی یہ کارروائی شروع کی گئی، میری استدعا ہے کہ یہ کیس توہینِ عدالت کی سیکشن 6 پر پورا نہیں اترتا، عدالتی حکم پر تھری ایم پی او کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا گیا تھا، بعد میں نیا ایم پی او آرڈر جاری کیا گیا، دوسرا ایم پی او آرڈر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راولپنڈی کی جانب سے جاری ہوا، اگر توہینِ عدالت ہوئی تو ڈی سی اسلام آباد نے نہیں، ڈی سی راولپنڈی نے کی، میں کسی کو نہیں مروانا چاہتا، صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر توہینِ عدالت ہوئی تو ڈی سی راولپنڈی نے کی، عدالت کو تمام صورتِ حال دیکھنا ہو گی، 5 اگست کو شہریار آفریدی کے پارٹی لیڈر گرفتار ہوئے، 9 مئی کی صورتِ حال بھی سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں امن و امان کی صورتِ حال اور ایجی ٹیشن پر انٹیلی جنس بیورو نے آگاہ کیا، ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی میں تمام حساس اداروں کے نمائندے شامل تھے، اس کمیٹی نے اسلام آباد میں حکومتی عمارتوں اور ایف نائن پارک کے پاس جی ایچ کیو چوک پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

    ڈی سی اسلام آباد کیخلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ،بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کیس کسی اور بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور ڈی سی اسلام آباد کے وکیل کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کر دی،ڈی سی اسلام آباد اور پولیس افسران کیخلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، فیصلہ یکم مارچ کو سنایا جائے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے ڈی سی اسلام آباد کو شوکاز نوٹس کا پیر تک جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے بیرون ملک جانے سے روک دیا

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس ، پی ٹی آئی کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی اجازت

    غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس ، پی ٹی آئی کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی اجازت

    غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں پی ٹی آئی کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی اجازت مل گئی ہے

    تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں الیکشن کمیشن نے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو انصاف کے تقاضے کے تحت تفصیلی جواب جمع کروانے کی اجازت دی جاتی ہے تحریک انصاف پچاس ہزار روپے الیکشن کمیشن ڈپٹی ڈائریکٹر لا کے دفتر میں جمع کرائے،یہ رقم یتیم خانے کو دی جائے گی

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف 22 اگست کو شو کاز کا حتمی جواب جمع کروائے حتمی جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں الیکشن کمیشن کیس نمٹا دے گا ،الیکشن کمیشن دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حتمی فیصلہ جاری کردے گاحکم نامہ چیف الیکشن کمشنر کے دستخط سے جاری کیا گیا

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ کی رہنما مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جوڈیشل آفس چھوڑنے پر جج عدلیہ اور عدالت کا حصہ نہیں رہتا،ریٹائرمنٹ کے بعد جج کا اسٹیٹس پرائیویٹ شہری کا ہو جاتا ہے،ریٹائرڈ جج آرڈیننس 2003 کے تحت عدلیہ کا حصہ باقی نہیں رہتا،ریٹائرڈ جج ہتک عزت پر پرائیویٹ شہری کے طور پر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے،ججز کا کام انصاف کی فراہمی ہے، ججز کو عوامی تنقید سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے،ایک آزاد جج تنقید سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوتا،توہین عدالت کی کارروائی صرف عوامی مفاد میں عمل میں لائی جاتی ہے،ایک پرائیویٹ پرسن کی ہتک عزت پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی، قانون میں پرائیویٹ پرسن کی عزت کی حفاظت کیلئے دیگر شقیں موجود ہیں، سابق چیف جسٹس کو ان کی ذاتی حیثیت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ،ذاتی حیثیت میں تنقید پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی،درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جاتی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے کا مبینہ الزام ،مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا،درخواست خاتون وکیل کی جانب سے دائر کی گئی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ثاقب نثار کے خلاف جو باتیں پریس کانفرنس میں ہوئیں وہ توہین عدالت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو خود متاثرہ ہے وہ بھی ہتک عزت کا دعویٰ کر سکتا ہے،ریٹائرڈ آدمی سے متعلق بات کرنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی، چاہے چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ انصار عباسی والا شوکاز نوٹس کیس بھی آپ کے پاس ہے زیر سماعت ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ الگ کیس ہے اس کے ساتھ نہ ملائیں، پہلی بات یہ ہے کہ تنقید سے متعلق ججز اوپن مائنڈ ہوتے ہیں، سابق چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو، توہین عدالت نہیں ہوتی، ججز بڑی اونچی پوزیشن پر ہوتے ہیں تنقید کو ویلکم کرنا چاہیے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے دونوں نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شاہد خاقان اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے

    قبل ازیں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورنوازشریف کو کندھا دینے والے جج رانا شمیم کے الزامات پرجاری شوکاز نوٹسز میں سے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہےجبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں‌ ابھی تک گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم کا جواب داخل نہیں ہو سکا، دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کے جواب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی ،نصف سی سی ٹی وی خراب نکلے،گرفتاریاں شروع

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،ابتدائی رپورٹ پیش،وزیراعلیٰ نے کیا اجلاس طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،میڈیکل مکمل،سینے، کمر پر خراشوں کے ملے نشانات

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،عثمان بزدار نے اہم اجلاس کیا طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے

    عدالتی شوکاز میں کہا گیاتھا کہ میر شکیل الرحمان دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر اہم عہدے پر فائز ہیں، 15 نومبر کو دی نیوز پر انصار عباسی کی طرف سے خبر شائع، رپورٹ کی گئی، جس کا عنوان تھا ثاقب نثار نے 2018 الیکشن سے قبل نواز، مریم کو رہا نہ کرنے کی ہدایت کی۔شوکاز میں کہا گیا کہ جسٹس (ر) رانا محمد شمیم کے مبینہ بیان حلفی کا مواد خبر میں شائع کیا گیا، مبینہ حلف نامے، خبر کی رپورٹ میں بے بنیاد، توہین آمیز الزامات لگائے گئے، اس خبر کی رپورٹ کا مواد عدالت کے ساتھ بدسلوکی کے مترادف ہے، عدالت کی طرف سے کی گئی کارروائیوں پر جھوٹا الزام لگانا جرم ہے۔شوکاز میں کہا گیا کہ مواد کا مقصد عدالت کے سامنے زیر سماعت اپیلوں میں مداخلت معلوم ہوتا ہے، مریم نواز کی اپیلوں پر انصاف کے راستے کو موڑنے کی کوشش کی ہے، خبر لکھنے والے اور میرشکیل الرحمان نے حقائق کی تصدیق کی کوشش نہیں کی،اور ان لوگوں کا ورژن طلب کر کے پیش کیا گیا جن کے خلاف سنگین بد دیانتی کے الزامات تھے، اور اس عدالت کے رجسٹرار یا آزاد ذرائع سے تصدیق سے پہلے ہی رپورٹ کی اشاعت کی گئی۔شوکاز کے مطابق تصدیق کیے بغیر خبر کی اشاعت نہ صرف ادارتی بلکہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تصدیق کے بغیر خبر کی اشاعت شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہوتی ہے، منصفانہ مقدمے کی سماعت کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے تعصب کا نشانہ بنایا گیا، ایسی خبریں شائع کرنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔شوکاز میں کہا گیا کہ ایسی خبر عدالت اور ججز پر عوام کے اعتماد کو بغیر کسی خوف ختم کر دیتی ہے، اس قسم کی خبریں شہریوں کے حقوق اور آزادی کو مجروح کرتی ہے۔شوکاز کے مطابق اس خبر کی رپورٹ اور مذکورہ بالا کارروائیوں کو آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھا گیا، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت قابل سزا مجرمانہ توہین کے مرتکب ہوئے، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری 7 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں، سابق چیف جج جی بی بھی 7 دن کے اندر تحریری جواب ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر