Baaghi TV

Tag: شوکازنوٹس

  • پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی،لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری

    پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی،لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری

    پیپلزپارٹی نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سینئر رہنما اور معروف قانون دان لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: پیپلزپارٹی نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سائفر کے حوالے سے ریاست کی پالیسی پر تنقید کی ہےپیپلزپارٹی نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سینئر رہنما اور معروف قانون دان لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے، جس میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
    latif khosa
    شوکاز نوٹس نیئربخاری کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ لطیف کھوسہ پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی کے ممبر ہیں، لیکن وہ پارٹی کی سینیئر قیادت سے اجازت کے بغیر دوسری جماعت کا دفاع کررہے ہیں لطیف کھوسہ بغیر اطلاع دوسری جماعت کے سربراہ کے کیسز میں دفاع کر رہے ہیں، اور کرپشن کیسز میں سزا پانے والے ملزم کے کیسزمیں معاونت کر رہےہیں جب کہ انہوں نے وکلا کنونشن سے خطاب میں سائفر کے حوالے سے ریاست پر تنقید کی۔

    15 ستمبر سے ملک میں بارشوں کی پیشگوئی

    شوکازنوٹس میں لطیف کھوسہ سے 7 روزمیں جواب طلب کرتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ جواب نہ دینے پر ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم کردی جائے گی۔

    نامور بھارتی صحافی،راہول کنول

  • پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اوراپنے ہی ساتھیوں پرالزام تراشیاں:احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم

    پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اوراپنے ہی ساتھیوں پرالزام تراشیاں:احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم

    اسلام آباد: پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کی پارٹی قیادت پر بے بنیاد الزام تراشی پر پی ٹی آئی قائمہ کمیٹی نظم و احتساب نے پارٹی رکنیت ختم کردی۔

    احمد جواد کو 12 اور 19 جنوری کو اظہار وجوہ کے نوٹسز دیے گئے تھے، انہوں نے صفائی پیش کرنے کے بجائے الزامات کی نئی فہرست بھجوائی۔

     

     

    قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کی 2 رکنی ذیلی کمیٹی نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، شواہد اور احمد جواد کے تحریری جواب پر بنیادی رکنیت کے خاتمے کا متفقہ فیصلہ سنایا گیا۔

    احمد جواد نے گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد درباریوں کے گھیرے میں آگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس بہت سے جوکر موجود ہیں، جوکر پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھا کر مسلط کیے گئے، ان جوکروں کا پی ٹی آئی کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں شروع سے تحریک انصاف کے ساتھ تھا اور اپنی تنخواہ سے پارٹی اخراجات کرتا تھا، میں نے ایک نظریے کے تحت پی ٹی آئی کو جوائن کیا تھا، وہ نظریہ اب نہیں رہا۔