Baaghi TV

Tag: شوکت

  • لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    اسلام آباد: لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزنہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ چپ کرکے تماشا نہیں دیکھیں گے، تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد آنکھیں کھول دینے والے حقائق قوم کے سامنے ہوں گے اور پھرسب کو پتہ چل جائے گا کہ کون کہاں کھیل رہا ہے

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران فارن ایکسچینج پر بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پتہ نہیں کیا قدغنیں تھیں کہ ہم نے اپنا کیپٹل اکاؤنٹ ہی کھول دیا جبکہ ہم خود کفیل نہیں تھے۔ 1992 کے فنانس ایکٹ کے تحت آپ کچھ بھی کر سکتےہیں، پھر ہماری فارن ایکسچینج کی کمپنیاں اور بروکرز بھی کافی آزاد ہیں، تو فارن ایکسچینج کے ساتھ اس کو باہر لے جانا اور لے آنا، اس کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ ہورہی ہے، پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات میں ہماری ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اربوں روپے ادھر کے ادھر ہوجاتےہیں، کئی چیزیں پکڑی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی اے اچھا کام اور بڑا ذمہ داری والا کام کر رہی ہے۔

    ایف آئی اے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا بین باجا نہیں کرتے لیکن اندر ہی اندر چیزوں پر اچھی پیشرفت ہو رہی ہے لیکن ہمیں یہ چیزیں ٹھیک کرنی ہیں اور اس کو آٹومیشن کے تھرو ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسٹمز میں سنگل ونڈو لے کر آرہے ہیں اور اب وہاں لینس کا سسٹم بھی آئے گا، جو دوسری جگہوں سے قیمتوں کا موازنہ کرے گا اور دیکھے گا کہ جو انوائس آئی ہے وہ متعلقہ ہے یا نہیں اور اگر متعلقہ نہ ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے پیٹرولیم مصنوعات میں ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اس پر بھی ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔ ہمارے لیے اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ بہت بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس میں عجیب چیز ہے کہ ہم نے آج تک نوٹس ہی نہیں کیا، نوٹس تو کیا ہوگا لیکن ہم دوسری طرف دیکھتےہیں، سامان چین سے آرہا ہے اور انوائسنگ دبئی سے ہو رہی ہے، چین کا دبئی سے کیا تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی دال میں کالا ہے، یہ تو ایک ضعیف اور اندھے آدمی کو بھی نظر آنی چاہیے، لیکن ہم دہائیوں سے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم چپ کرکے یہ تماشا نہیں دیکھیں گے، ہم اس میں تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہارڈ ارن فارن کرنسی کمپرومائز ہو رہا ہے، یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن ہم نے ہر سطح پر ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہے، چاہے یہ ٹیکسیشن ہو یا فارن ایکسچینج ہو۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم فرق پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پاکستان میں لوگوں کو جو ٹیکس دینا ہے وہ ادا کریں لیکن اس میں رکاؤٹیں نہیں ہونی چاہیئں۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ جب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو انسانی مداخلت ختم کرتے ہیں تو لوگ کم از کم اس کا بہانہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اور دیگر چیئزمینز کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ کم ازکم اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوسکتا، یہ حکومت ہے جو یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

  • آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    کراچی: آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا:تاجربرادری،اطلاعات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری اس وقت سخت پریشان ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ کیا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کا جبر ہے یا پھربیوروکریسی کی ناہلی ہے کہ وہ ایک طئے شدہ بات پر عمل دراًمد نہیں کرواسکتے یا پھر شوکت ترین وزیراعظم پر بھاری ہیں کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسی کی رائے کا احترم نہیں کیا گیا

    اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھی کی تاجر برادری سخت پریشان ہے ان کا کہنا ہے کہ عجیب معاملہ ہےکہ حکومت خود ہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور خود سرکار نے خود اپنا ہی بنایا قانون توڑ دیا

    اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس فری ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر ٹیکس لگادیا، تاجری برادری کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی درآمدات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی گئی ، تاجر برادری کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہونہیں سکتا کیونکہ وزیراعظم ہمیں یقین دہانئی کروا چکے ہیں ، لیکن سوچتے ہیں کہ پھروزیراعظم مجور ہیں کیا یا پھران کو بے خبر رکھا جارہا ہے

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی, اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کی مسئلہ کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وزیراعظم نے ہماری بات کو بڑے غور سے سُنا لیکن وزیرخزانہ شوکت ترین درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے

    برآمدکنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا۔برآمدکنندہ عرفان اخلاص کے مطابق ای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز نے مزید کہاکہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا,

    ایکسپورٹرز نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ بات چیت کے دوران وزیرخزانہ اپنی بات پرڈٹے رہے اور کہا کہ ای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں,

    اس بارے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی,وزیر خزانہ کا موقف ہے کہ ایکسپورٹرزای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں, جبکہ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگاای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں,

    ایکسپورٹر ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہےایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا, ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کے خاتمے سے اب ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی درآمدات پر بھی 17فیصدٹیکس لاگو ہوجائے گا۔

    ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ہمارا یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پھرآنے والے دنوں میں کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے اورپھر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے اور دیکھیں کہ کون ہےجو جبر کے ذریعے پاکستان کی ایکسپورٹرزکواپنے جبر کا نشانہ بنائے گا

  • ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

    نہیں جانتے؟

    چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ

    "امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

    اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

    لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ

    "بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”

    حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔

    جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔

    میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔

    لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

    ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔

    کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

    ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔

    جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔

    اور ایران؟

    ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

    ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

    کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔

    جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

    اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

    ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔

    اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

    سی پیک۔ ۔ ۔

    جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔

    اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

    اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔

    مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

    اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔

    اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

    درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔

    یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

    اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔

    لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

    آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔

    اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
    امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

    اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

    سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔

    یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

    میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

    وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

    مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ

    "بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

    مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔

    باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

    بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔