Baaghi TV

Tag: شوگر

  • 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری

    5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری

    شوگر ایڈوائزری بورڈ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔

    وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں چینی درآمد کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ چند روز میں درآمدی چینی سے متعلق رسمی کارروائیاں مکمل کرلی جائیں گی،اجلاس میں شوگر ملز مالکان کی من مانی کو قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا، چینی کی فراہمی اور قیمتوں پر قابو پانےکے لیے سخت مانیٹرنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اس موقع پر بات کرتے ہوئے رانا تنویر کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے درآمد کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا، ملک بھر میں چینی کی سپلائی میں کمی کا سامنا ہے چینی کی قلت پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات جاری ہیں درآمدی چینی کو جلد مارکیٹ میں لایا جائے گا تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔

    واضح رہے کہ 20 جون کو حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، وزارت غذائی تحفظ کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں توازن برقرار رکھنےکےلیےچینی درآمدکا فیصلہ کیا گیا۔

  • کریک ڈاؤن:کوئٹہ اورلاہورمیں چینی مزید سستی

    کریک ڈاؤن:کوئٹہ اورلاہورمیں چینی مزید سستی

    کوئٹہ اورلاہور میں کریک ڈاؤن کے بعد چینی مزید سستی ہو گئی ۔

    باغی ٹی وی: شوگرڈیلرزکے مطابق لاہور کی تھوک مارکیٹ میں چینی 6 روپے کمی کے بعد 162 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے جب کہ آئندہ دنوں قیمت مزیدکم ہونے کاامکان ہے پرچون کی دکانوں پرچینی 175 سے 180 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے اور دکانداروں کا کہنا ہے چینی مہنگی خریدی ہے، فوری طور پر سستی کیسے کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب کوئٹہ میں چینی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 45 روپے کلو کی کمی ہوئی ہے جس سے چینی کی فی کلو قیمت 180 روپے ہوگئی ہے چینی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن کے بعد شہر میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل آرہی ہے،آج بھی چینی کی فی کلو قیمت میں 10 روپے کی مزید کمی ریکارڈ ہوئی ہے، شہر میں چینی کی فی کلو قیمت 190 روپے سے کم ہو کر 180 پر آگئی ہے۔

    اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر صابر ظفر

    کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ میں چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 9 گوداموں کو سیل کرکے 1214 ٹن چینی برآمد کی ہے جس کے بعد کوئٹہ میں چینی کا ریٹ 220 روپے سے کم ہوکر 160 روپے پر آگیا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس: فیصل واوڈا اورعلی زیدی نیب میں طلب

  • شوگر کے ادویات میں کئی گنا زیادہ اضافہ،عوام پریشان

    شوگر کے ادویات میں کئی گنا زیادہ اضافہ،عوام پریشان

    خیبر پختونخوا میں شوگر کے مریضوں کے علاج کیلئے انسولین اور بعض ادویات کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی گنا تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے میں لاکھوں افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ واضح رہے کہ ملکی اور غیر ملکی ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین اور دوسری ضروری ادویات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ میڈیسن ڈیلرز کے مطابق صوبہ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شوگر میں مبتلا اور ان میں سے بیشتر ہر روز دو سے تین مرتبہ انسولین لے رہے ہیں۔
    نمک منڈی سے صوبہ بھر کی ادویہ مارکیٹ کو ادویات بھیجی جاتی ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے انسولین اور شوگر کے ادویات کی رسد میں کمی اور اس کے استعمال کرنیوالے مریضوں کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ سروے کے مطابق انسولین اور شوگر کے علاج سے جڑی دوسری ادویات کی قیمتوں میں سابق نرخ کے مقابلے کئی گنا کا اضافہ حالیہ دنوں کے دوران ہوا ہے۔
    صوبائی ڈرگ اینڈ فارمیسی ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ ڈریپ یعنی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے احکامات پرمختلف اقسام کی ادویات میں اضافہ ہوا ہے جس میں شوگر کی ادویات اور انسولین بھی شامل ہیں۔ اس لئے مارکیٹ میں شوگر کی ادویات کے نرخ بڑھے ہیں تاہم صوبے میں کہیں پر بھی ذخیرہ اندوزی وغیرہ کی شکایات نہیں اور تمام اضلاع کی میڈیسن مارکیٹ میں کمپنی نرخ پر ادویات بیچی اور فروخت ہورہی ہیں۔

  • شوگر کے مریضوں کیلئے ادویات کی مفت فراہمی کیلئے فنڈز جاری

    شوگر کے مریضوں کیلئے ادویات کی مفت فراہمی کیلئے فنڈز جاری

    پشاور:شوگر کے مریضوں کیلئے ادویات کی مفت فراہم کی جائیں گی،انسولین فار لائف پروگرام نے ادویات فراہمی کے لیے کمپنیوں سے معاہدہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: صوبائی حکومت نے ایک ماہ میں ادویادت کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔خیبرپختونخوا کے 24 اضلاع میں گزشتہ ایک ماہ سے مفت شوگر ادویات کا سلسلہ معطل تھا۔

    شوگر کے مریضوں کے لیے ادویات کی مفت فراہمی کیلئے 36 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کردیے گئے خیبر پختونخوا میں فنڈز کی عدم دستیابی کیوجہ سے 24اضلاع میں شوگر کے مریضوں کو مفت ادویات نہیں مل رہی تھی۔

    انسولین فار لائف پروگرام میں 58 ہزار سے زائد شوگر سے متاثرہ مریض رجسٹرڈ ہیں۔

  • پاکستان کی 26 فیصدآبادی ذیابطیس کاشکار:ذیابطیس کےمریضوں کی تلاش کیلئےاسکریننگ کا فیصلہ

    پاکستان کی 26 فیصدآبادی ذیابطیس کاشکار:ذیابطیس کےمریضوں کی تلاش کیلئےاسکریننگ کا فیصلہ

    کراچی :ملک میں ذیابطیس کے تشویشناک حد تک پھیلاؤ، اس کی تشخیص اور موذی مرض سے بچاؤ کیلئے ماہرین صحت اور معروف ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نے ملک کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، مہم میں ایسے افراد کا پتہ چلایا جائے گا جو اس مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود بے خبر ہیں۔

    اسکریننگ آؤٹ ریچ ڈسکورنگ ڈائیباٹیز اور پرائمری کیئر ڈائیباٹیز ایسوسی ایشن کا ذیابطیس کے مریضوں کی تلاش کیلئے معاہدے طے پاگیا، معاہدے کے تحت پاکستان بھر میں گاؤں، دیہات اور قصبوں میں رہنے والے افراد کی مفت اسکریننگ کی جائے گی تاکہ ایسے افراد تلاش کئے جائیں جو ذیابطیس سے متاثر ہیں اور انہیں اس بات کا علم نہیں ہے، معاہدے میں کم از کم ایسے 10 لاکھ لوگوں تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

     

    شہباز گل کےہسپتال میں معمول کے ٹیسٹ،بلڈ پریشر، شوگر نارمل

    دونوں اداروں کے درمیان ہونیوالے معاہدے کے تحت ملک بھر کے 100 اسپتالوں میں شجرکاری کی جائے گی اور ان پودوں کی رکھوالی کیلئے اسپتالوں کو مالی بھی فراہم کئے جائیں گے۔

    کراچی میں ہونیوالے معاہدے کی تقریب میں معروف ماہر امراض ذیابطیس اور پرائمری کیئر ڈائیباٹیز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فرید الدین، سیکریٹری ڈاکٹر ریاست علی خان، ادویہ ساز کمپنی فارمیوو کے ڈپٹی سی او جمشید احمد، اینکر پرسن وسیم بادامی اور ڈسکورنگ ڈائیباٹیز کے سربراہ عبدالصمد نے خطاب کیا۔

     

    رسول اللہ کی بتائی ہوئی وہ چیزجو شوگر کینسر اور موٹاپے جیسی بیماریوں کا اعلاج ہے…

    تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شجرکاری مہم شروع کرتے ہوئے پودے بھی لگائے۔

    ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر فرید الدین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ڈائیباٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان کی 26 فیصد آبادی ذیابطیس کا شکار ہے اور اگر ہم نے غیر صحتمند طرز زندگی کو نہ چھوڑا تو آئندہ چند سالوں میں یہ تعداد دگنی ہوجائے گی، پاکستان نمبرز کے حساب سے ذیابطیس سے متاثرہ افراد کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن آبادی کے شرح تناسب کے اعتبار سے ذیابطیس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ہمارا پہلا نمبر ہے۔

  • ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے

    ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے

    اسلام آباد : ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے،اطلاعات کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے بہت زیادہ کوششیں جاری ہیں اور ماہرین اس وقت کسی ایسی کوشش میں لگے ہیں کہ شوگر کو کنٹرول کیا جاسکے ، اس حوالے سےماہرین صحت نے اب ذیابیطس میں مبتلا افراد کیلئے بھی ایک خودکار  اور آسان طریقہ متعارف کروایا گیا ہے۔

     

     

    اس نئے طریقے کے استعمال سے انہیں کسی ڈائری میں اپنی بلڈ شوگر ریڈنگ نہیں لکھنی پڑے گی بلکہ وہ اپنے موبائل فون میں ایپلی کیشن کے ذریعے نہایت آسانی کے ساتھ شوگر لیول کا دھیان رکھ سکیں گے۔

    اس ایپلی کیشن کا نام ’مائی شوگر ایپ‘ (MySugr)  ہے، یہ بلڈ گلوکوز  مانیٹرنگ کی حیرت انگیز جدید ڈیوائس ہے جسے پاکستان میں Accu-Chek Instant نے متعارف کروایا ہے۔

    یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ذیابیطس کی ڈیٹا منیجمنٹ ایپ ہے جو موبائل فون میں بلیو ٹوتھ کے ذریعے وائرلیس کنیکٹیویٹی سے خود بخود میٹر کے ذریعے ایپ میں ڈیٹا کی وائرلیس منتقلی کو یقینی بناتی ہے۔ اس طرح نوٹ بک میں ریکارڈ رکھے بغیر مریض کبھی بھی کہیں بھی اپنے موبائل فون میں شوگر ریڈنگ دیکھ سکتے ہیں۔

    Accu-Chek Instant ڈیوائس کو کسی سیٹ اپ کی ضرورت نہیں۔ اس میں ٹارگٹ رینج انڈیکیٹر موجود ہے جو خون میں گلوکوز کی مانیٹرنگ کو آسان بناتا ہے۔ اپنی شوگر چیک کرنے کیلئے خون کی تھوڑی سی مقدار اسٹرپ پر لیں اور اسے ڈیوائس میں لگائیں اور صرف 4 سیکنڈز میں اپنی شوگر کے نتائج حاصل کریں۔

    اس ڈیوائس کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا اسٹرپ ایجیکٹر ہے جو ٹیسٹ شدہ اسٹرپس کو صاف ستھرے طریقے سے ہٹانے میں مدد کرتاہے۔

    Accu-Chek Instant ڈیوائس وائرلیس کنکشن کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک ہوتی ہے اور پھر ایپ کے ذریعے مریض کے بلڈ شوگر کے ڈیٹا کو محفوظ بناتی ہے، اس ڈیٹاکو مریض ناصرف جانچ سکتا ہے بلکہ اس کا تجزیہ بھی کرسکتا ہے۔ یہ ایپ ایک لاگ بک کے طور پر کام کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دن بھر صارفین کو صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کرنے کیلئے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے جس سے صارفین کو اپنے بلڈ شوگر کی سطح کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    مائی شوگر ایپ آسانی کے ساتھ پرنٹنگ یا ڈیجیٹل شیئرنگ کے لیے صارفین کا ڈیٹا مرتب کرتی ہے جس سے کسی بھی وقت اور کہیں بھی صارفین اپنے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے براہ راست اپنے ڈاکٹر کو رپورٹس بھی بھیج سکتے ہیں۔

    مائی شوگر ایپ اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں میں باآسانی استعمال ہوسکتی ہے اور اسے ڈاؤن لوڈ اور سیٹ اپ کرنا  بھی آسان ہے۔ یہ ایپ منظم طریقے سے صارفین کا ریکارڈ رکھنے کیلئے بہترین ہے۔

    مزید برآں، اس ایپ کے ڈیٹا کو گوگل فِٹ اور ایپل ہیلتھ کے ساتھ بھی منسلک کیا جاسکتا ہے جس کی مدد سے صارفین اپنی ڈیجیٹل ہیلتھ ڈائری بناکر اپنی صحت کو متوازن رکھ سکتے ہیں۔

    بلاشبہ ذیابیطس کے حامل افراد کیلئے اچھے طریقے سے شوگر کنٹرول کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسکہ آپ بینک میں سیونگ کررہے ہوں یعنی اگر آپ ہر روز کچھ رقم ڈپازٹ کرسکتے ہیں تو بہترین ہے لیکن اگر آپ دیر میں سیونگ کرنا شروع کرتے ہیں یا اگر آپ ہر روز رقم جمع نہیں کرپاتے تب بھی آپ جو کچھ کررہے ہیں وہ قابل قدر ہے۔ یاد رکھیں ، ہر ایک دن جب آپ منظم طریقے سے اپنی شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں تو یہ طریقہ کار آپ کی طویل مدتی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرنے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

  • خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    کراچی :خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3 لاکھ سے زائد مریضوں کو ٹانگوں سے محرومی کا خدشہ ہے:ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پیروں کے زخموں کے بعد ٹانگیں کٹنے اور معذوری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی صورت حال رہی تو پھر معاملات بہت ہی خراب ہوجائیں گے

    پاکستان میں شوگر یعنی ذیابطس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والے اس بہت ہی اہم سمٹ میں ماہرین نے بہت ہی سنہری باتیں کیں‌، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 2022 میں پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے پیروں کے زخموں کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ان خدشات کا اظہار ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے صدر اور نامور ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر زاہد میاں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    کراچی میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس میں کہا گیاہے کہ اس موقع پر ذیابطیس کی وجہ سے ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے مقامی دوا ساز کمپنی ہائی کیو فارما اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے درمیان کراچی میں 30 ڈائبیٹک فٹ کلینکس کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

    معاہدے کے تحت بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ماہرین مقامی دوا ساز ادارے کے ساتھ مل کر کراچی میں 30 کلینکس قائم کریں گے تاکہ ذیابطیس کی وجہ سے پیروں میں ہونے والے زخموں کا علاج کرکے ایسے مریضوں کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا اور ان کو معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد میں ٹانگیں کٹنے کی شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں سے 10 فیصد افراد کی ٹانگیں بھی ناقابل علاج زخموں کی وجہ سے کاٹنی پڑیں تو پاکستان میں اگلے سال تین لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریبا 85 فیصد افراد کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں 3 ہزار سے زائد ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر عالمی معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مختلف دواساز کمپنیوں کی مالی اور فنی معاونت سے پاکستان بھر میں فٹ کلینکس قائم کر رہا ہے، کراچی میں کئی سالوں سے قائم فٹ کلینکس کی بدولت لوگوں کی ٹانگیں کٹنے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

    بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس میں مبتلا اکثر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا جب ان افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس وقت تک جسم کے کئی اعضا خراب ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ پیروں میں خون کی سپلائی یا تو بہت کم یا ختم ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پیروں میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کو اگر کوئی زخم لگتا ہے تو انہیں پتہ نہیں چلتا اور جلد ہی وہ زخم شوگر کی وجہ سے اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پاؤں اور ٹانگ کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔

    پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم ہونے کے نتیجے میں ایسے مریضوں کا بہتر اور کامیاب علاج ہو سکے گا اور لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے گا۔ہائی کیو فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں اس طرح کے 500 ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لاکھوں لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

  • زیابطس (شوگر)  کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین طب کا دعویٰ

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین طب کا دعویٰ

    واشنگٹن : دنیا میں جس طرح اور جس قدر تیزی سے شوگر یعنی زیابطس کا مرض بڑھ رہا ہے اس سے ساری دنیا میں ایک خوف کی فضا قائم ہے، زیابطس کے لیے موثر جانے والے علاج انسولین سے جان چھڑانے کے لیے تحقیق کرنے والے امریکی ماہرین طب نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک انقلابی دوا کی تیاری میں پیشرفت کی ہے جو انسولین کے انجیکشن کی ضرورت ختم کردے گی۔

    رانی مکھر جی نے مودی کی اصلیت اورحقیقت کے بارے میں جوکچھ کہا،سچ کیا،فخرعالم

    امریکی ماہرین طب کے مطابق انسولین اس کی ایک مثال ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ یا اکثر انجیکشن کی شکل میں لگانا پڑتی ہے مگر امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے ایسا کیپسول تیار کیا ہے جو اتنا مضبوط ہے کہ معدے میں موجود ایسڈ میں بھی بچ سکتا ہے۔

    اگر ماہرین کی کوششیں کامیاب ہوئیں تو اس نئی دوا کے ذریعے انسولین یا دیگر پروٹین ادویات انجیکشن کی جگہ کیپسول کے ذریعے میں کھانا ممکن ہوگا۔متعدد ادویات خصوصاً پروٹینز سے بننے والی دوا منہ کے ذریعے نہیں کھائی جاسکتی کیونکہ وہ غذائی نالی میں جاکر ٹکڑے ہوجاتی ہے اور کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔جب یہ کیپسول چھوٹی آنت میں پہنچتا ہے تو وہ ٹکڑے ہوکر دوا کو دوران خون میں خارج کرسکے گا۔

    چین جانے سے پہلے وزیراعظم نے کراچی اور اسلام آباد کے متعقلق دو اہم فیصلے کرڈالے

    جریدے جرنل نیچر میڈیسین کے محقق اور ایم آئی ٹی کے ڈیوڈ ایچ کوچ انسٹیٹوٹ کے پروفیسر رابرٹ لینگر نے بتایا کہ ہم اس نئی ڈیوائس کی تیاری کے حوالے سے مطمئن ہیں اور توقع ہے کہ یہ مستقبل میں ذیابیطس اور دیگر امراض کے شکار افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گی۔ذیابیطس ٹائپ 1 کے کروڑوں مریضوں کو اس وقت دن بھر میں ایک یا 2 بار انجیکشن لگوانا پڑتا ہے تاکہ ان کے جسم میں انسولین کی مقدار بڑھائی جاسکے، جو جسم خود بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ بیشتر ادویات چھوٹی آنت میں جذب ہوتی ہیں اور یہ حصہ کافی بڑا ہوتا ہے جبکہ یہاں درد کا احساس دلانے والے ریسیپٹر بھی نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے یہ انسولین جیسی دوا کی چھوٹی آنت میں مائیکرو انجیکشن کے ذریعے دی جاسکتی ہے۔لیبارٹری میں جانوروں پر ہونے والے تجربات میں اس کیپسول کو انسولین کی اتنی مقدار سے بھرا گیا جو کسی انجیکشن میں ہوتی ہے اور اس میں مائیکرو سوئیاں خارج ہونے پر دوا کی دوران خون میں شمولیت کا عمل تیزی سے مکمل ہوا۔

    مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نئے امریکی پیغام سے بھارت پریشان

    اس مقصد کے لیے محققین نے ان مائیکرو انجیکشنز پر پولیمر کی کوٹنگ کی تاکہ وہ معدے کے تیزابی ماحول میں بچ سکے ، مگر چھوٹی آنت میں زیادہ تیزابیت کے نتیجے میں یہ کیپسول پھٹ جاتا اور اس کے اندر موجود ہاتھ جیسی ساخت والی ڈیوائس باہر آجاتی۔ہر ہاتھ مٰں ایک ملی میٹر لمبی مائیکرو سوئی موجود ہوتی جو انسولین یا دیگر ادویات جسم میں منتقل کرتی۔

  • شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    برلن: طبی ماہرین بھی روز کوئی نہ کوئی ایسی پشین گوئی یا تحقیق پیش کردیتے ہیں‌کہ جو مریض نہیں بھی ہوتا اسے مریض کردیتے ہیں‌، ایسے ہی جرمنی میں کی گئی ایک دلچسپ طبّی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چھوٹے قد والے لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ، طویل قامت افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

    جرمی میں کی گئی تحقیق کے اعدادوشمار کے مطابق27,500 افراد پر کیا گیا تھا جبکہ اس میں شریک افراد کی عمریں 35 سال سے 65 سال کے درمیان تھیں۔صحت سے متعلق مختلف عوامل مدنظر رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ مردوں کے قد میں ہر 10 سینٹی میٹر (تقریباً 4 انچ) اضافے کے ساتھ ان کے ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات 33 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں جبکہ خواتین میں یہی شرح 41 فیصد تک دیکھی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف ذیابیطس اور قد کے مابین تعلق واضح کرنے کےلیے کی گئی تھی، جس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چھوٹے قد والوں کےلیے ذیابیطس میں مبتلا ہونا لازم ہے۔ اس لیے چھوٹے قد والوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی تسلی دی گئی کہ ایسی تحقیقات سے پریشان نہیں‌ہونا کیونکہ طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والے حالات کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں

  • ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    سڈنی:آسٹریلوی ماہرین طب دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلنے والے مرض ذیابطس جسے شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے کے بارے میں بڑے ہوش ربا انکشافات کرکے اس کے شکار افراد کی جہاں رہنمائی کی ہے وہاں خطرات سے آگاہ بھی کیا ہے. مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے یا ذیابیطس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ چینی سے بنے مشروبات سے زیادہ صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

    آسٹریلیا کے ایک ممتاز میڈیکل سینٹر ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

    ماہرین طب نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس سے قبل ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈائٹ یا مصنوعی مٹھاس سے بننے والے مشروبات میں ایسا جز پایا جاتا ہے جو کہ میٹابولک سینڈروم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے کا امکان ہوتا ہے۔جن افراد میں میٹابولک سینڈروم ہو انہیں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

    SHAREFacebook Twitter