Baaghi TV

Tag: شوگر

  • شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    برلن: طبی ماہرین بھی روز کوئی نہ کوئی ایسی پشین گوئی یا تحقیق پیش کردیتے ہیں‌کہ جو مریض نہیں بھی ہوتا اسے مریض کردیتے ہیں‌، ایسے ہی جرمنی میں کی گئی ایک دلچسپ طبّی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چھوٹے قد والے لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ، طویل قامت افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

    جرمی میں کی گئی تحقیق کے اعدادوشمار کے مطابق27,500 افراد پر کیا گیا تھا جبکہ اس میں شریک افراد کی عمریں 35 سال سے 65 سال کے درمیان تھیں۔صحت سے متعلق مختلف عوامل مدنظر رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ مردوں کے قد میں ہر 10 سینٹی میٹر (تقریباً 4 انچ) اضافے کے ساتھ ان کے ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات 33 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں جبکہ خواتین میں یہی شرح 41 فیصد تک دیکھی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف ذیابیطس اور قد کے مابین تعلق واضح کرنے کےلیے کی گئی تھی، جس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چھوٹے قد والوں کےلیے ذیابیطس میں مبتلا ہونا لازم ہے۔ اس لیے چھوٹے قد والوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی تسلی دی گئی کہ ایسی تحقیقات سے پریشان نہیں‌ہونا کیونکہ طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والے حالات کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں

  • ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    سڈنی:آسٹریلوی ماہرین طب دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلنے والے مرض ذیابطس جسے شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے کے بارے میں بڑے ہوش ربا انکشافات کرکے اس کے شکار افراد کی جہاں رہنمائی کی ہے وہاں خطرات سے آگاہ بھی کیا ہے. مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے یا ذیابیطس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ چینی سے بنے مشروبات سے زیادہ صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

    آسٹریلیا کے ایک ممتاز میڈیکل سینٹر ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

    ماہرین طب نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس سے قبل ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈائٹ یا مصنوعی مٹھاس سے بننے والے مشروبات میں ایسا جز پایا جاتا ہے جو کہ میٹابولک سینڈروم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے کا امکان ہوتا ہے۔جن افراد میں میٹابولک سینڈروم ہو انہیں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

    SHAREFacebook Twitter