Baaghi TV

Tag: شہابیہ

  • خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    کیلیفورنیا: ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ناسا کا خلائی جہاز ایک شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ یہی شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ شہابی پتھر اس تیزی سےگھوم رہا ہےکہ وہ خلا میں دور دور تک اپنی پتھریلی باقیات بکھیر رہا ہےاس معلومات سے ایک تو شہابی پتھر کے ٹھوس ہونے پر سوال اٹھے ہیں تو دوسری طرف معلوم ہوا کہ آوارہ خلائی چٹانوں کا ملبہ بھی مزید چھوٹے بڑے پتھروں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    واضح رہےکہ ایک سال قبل ڈارٹ (ڈبل ایسٹرائڈ ریڈائریکشن ٹیسٹ) مشن نام کا ایک چھوٹا ساخلائی جہاز "ڈائمورفس” شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اس میں خلائی چٹان کے بارے میں بہت سی معلومات ملی تھیں۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ڈائیمورفس ہمارے زمینی چاند کی طرح ایک بڑے شہابی پتھر "ڈائڈیموس” کے گرد گھوم رہا ہے یہ ڈائڈیموس اپنے گھماؤ کے دوران ہر سمت میں پتھر اور شہابی ملبہ بکھیر رہا ہے۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • انٹارکٹیکا میں  7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    براعظم انٹارکٹیکا میں ماہرین نےغیرمعمولی آسمانی پتھر (میٹیورائٹس) دریافت کیا ہے جس کا وزن 7.6 کلوگرام ہے-

    باغی ٹی وی : انٹارکٹیکا ایک دشوار گزار اور سخت سردی میں گھرا مقام ہے لیکن اسی نیلگوں برف میں آسمانی پتھر کی بڑی تعداد نہ صرف یہاں گرتی ہے بلکہ انہیں سفید برفیلی چادر میں باآسانی ڈھونڈ نکالا جاسکتا ہے پھر وہاں موسمیاتی شدت کم ہے اور سیاہ پتھر زیادہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار نہیں ہوتے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    برف میں گرنے کے بعد آسمانی پتھر عموماً باہر کی جانب نمایاں دکھائی دیتے ہیں اور یوں ان کو تلاش کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اب ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک ساتھ پانچ شہابی پتھر اٹھائے ہیں جن میں سے ایک کا وزن تقریباً 17 پاؤنڈ ہے۔

    اگرچہ انٹارکٹیکا میں شہابیوں کو تلاش کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن براعظم اس کے منجمد ٹھنڈے حالات اور دور دراز مقام کے ساتھ اس پار سفر کرنا بالکل آسان نہیں ہےاس تلاش میں شامل ٹیم نےکئی دن جنگل میں کیمپنگ کرتےہوئے پیدل اور سنو موبائل سے چلتے ہوئے گزارے۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    جامعہ شکاگو کے فیلڈ میوزیئم سے وابستہ ماریہ والدیزنے دیگر ممالک کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر یہ شہابی پتھر دریافت کئے ہیں جن کا تجزیہ اب رائل بیلجیئن انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل سائنسِس میں کیا جائے گا۔ تاہم ان کے چھوٹے ٹکڑے کرکے بین الاقوامی ٹیم میں تقسیم کئے جائیں گے اور ہر ایک ٹیم مختلف پہلو سے اس کا مطالعہ کرے گی۔

    الینوائے کے فیلڈ میوزیم سے تعلق رکھنے والی کاسموکیمسٹ ماریا ویلڈیس کہتی ہیں، "جب شہابیہ کی بات آتی ہے تو اس کے سائز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہاں تک کہ چھوٹے مائیکرو میٹیورائٹس بھی سائنسی اعتبار سے ناقابل یقین حد تک قیمتی ہو سکتے ہیں۔” "لیکن یقیناً، اس جیسا بڑا شہابیہ پانا نایاب ہے، اور واقعی دلچسپ ہے۔

    توقع ہے اس پر تحقیق سے مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت