Baaghi TV

Tag: شہابی پتھر

  • سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سائنسدانوں نے سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے بارے میں پیشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے بڑے حجم کے سیارچے کے گزرنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2029 میں زمین کے قریب پہنچ جائے گا،اس شہابی پتھر کو ’Apophis‘ نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ”تباہی کا خدا“ ہے ماہرین نے کہا ہے کہ اپریل 2029 میں یہ شہابی پتھر زمین کے قریب پہنچ جائے گا۔

    اس کے زمین سے براہ راست ٹکرانے کا خطرہ انتہائی کم ہے تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیں Apophis سے ٹکراتی ہیں تو وہ اپنی سمت بدل کر زمین کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیںApophis سے ٹکرائیں تو وہ ممکنہ طور پر اس کی رفتار کو تبدیل کر سکتی ہیں اور اس کے مضمرات نمایاں ہیں۔

    ماہرین کے مطابق Apophis نامی شہابی پتھر کا قطر 340 اور 450 میٹر کے درمیان بتایا گیا ہے، جس کے زمین سے 37,000 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرنے کا امکان ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ براہ راست آنکھ سے بھی نظر آسکتا ہے پتھرتقریباً اتنا ہی چوڑا ہے جتنا کہ نیویارک میں واقع ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ اونچی ہے لیکن اس طرح کے تصادم اس کے راستے کو ری ڈائریکٹ کر سکتے ہیں۔

  • شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    صومالیہ میں گرنے والے غیر معمولی بڑے شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : مشرقی افریقہ کے ملک صومالیہ کے ایک کم آبادی والے گاؤں میں گرنے والے دو میٹر طویل اور 15 ٹن وزنی شہابی پتھر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر جامعہ البرٹا کے پروفیسر کرِس ہرڈ اور ان کےساتھیوں نے اس کا مشاہدہ کیا اوربتایا کہ اس میں دو بالکل نئی معدن موجود ہے اور تیسری نئی معدن کا شبہ بھی ہے جو سائنس کے لیے بالکل نئی ہوسکتی ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ شہابی پتھر صومایہ کے صوبے ہیران کے گاؤں ال علی میں گرا تھا اور اسی مناسبت سے اسے ’ال علی‘ کا کا نام دیا گیا ہے صومالیہ کے اس خطےمیں برسوں سے شہابی پتھر ملتے رہے ہیں اس سے 70 گرام ٹکڑا توڑ کر کینیڈا بھجوایا گیا تھا جس کےحیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس پتھر پر لوہا غالب ہے تاہم اس میں نئی معدنیات ملی ہیں۔

    ڈاکٹرکرس کےمطابق یہ ایک غیرمعمولی دریافت ہےکیونکہ ان میں ایلالائٹ اورایلکنسٹینٹونائٹ نامی معدنیات ہیں جنہیں اس سےقبل مصنوعی طور پرتجربہ گاہ میں بنایا گیا تھا لیکن اب آسمانی پتھر میں یہ قدرتی حالت میں ملی ہیں تاہم اب سائنسداں اسی شہابی پتھرکےمزید کچھ گوشے دیکھ رہے ہیں اور ان کا مفصل جائزہ لیں گے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    اس دریافت سے سائنسدانوں کو شہاب ثاقب اور الکا کی تشکیل کے بارے میں کچھ اہم اشارے مل سکتے ہیں ان معدنیات کی دریافت کا اعلان کینیڈا میں یونیورسٹی آف البرٹا کے سیاروں کے ماہر ارضیات کرس ہرڈ نے 21 نومبر کو اسپیس ایکسپلوریشن سمپوزیم میں کیا۔

    ہرڈ کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی نیا معدنیات ملتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل ارضیاتی حالات، چٹان کی کیمسٹری اس سے مختلف تھی جو پہلے ملی تھی یہی چیز اس کو دلچسپ بناتی ہے-

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

  • ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    پرتھ: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ NWA 7034 المعروف ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود ہیں-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق نیچر کمیونی کیشنز میں شائع کی گئی رپورٹ کےمطابق محققین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مریخ کے مطالعے کے لیے بھیجے گئے متعدد مشنز کی جانب سے عکس بند کی گئی مریخی سرزمین کی ہزاروں اعلیٰ ریزولوشن کی حامل تصاویر کا جائزہ لیا۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران محققین کو معلوم ہوا کہ ’بلیک بیوٹی‘ خلاء میں تب نکلا جب 50 لاکھ سے 1 کروڑ سال قبل ایک سیارچہ مریخ سے ٹکرایا اور اس کے نتیجے میں چھ میل چوڑا گڑھا پڑا تھا۔

    320 گرام وزنی ’بلیک بیوٹی‘ 2011 میں مغربی ریگستان صحارا سے دریافت ہوا اور اس کی دریافت کے بعد ایک نئے قسم کے شہابی پتھر کی درجہ بندی شروع ہوئی۔ اس پتھر میں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود ہیں جو 4 ارب 48 کروڑ سال قبل وجود میں آئے-

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

    بلیک بیوٹی مریخ کا واحد ٹوٹی چٹان کا نمونہ ہے جو اس وقت دنیا میں موجود ہے اس میں متعدد اقسام کی چٹانوں کے ٹکرے یکجا ہیں یہ خصوصیت اسے دیگر مریخی پتھروں سے ممتاز بناتی ہے جوایک قسم کی چٹان کے ہوتے ہیں۔

    آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کرٹِن سے تعلق رکھنے والے ماہر اور تحقیق کے مصنف ڈاکٹر اینتھونی لیگین کا کہنا تھا کہ مریخ پر بھیجے گئے ناسا کے مشن کے نمونے واپس دنیا میں لانے سے 10 سال قبل ہم پہلی بار مریخ کے ارضیاتی سیاق و سباق کو اس پتھر کے ٹکڑے کی وجہ سے جانتے ہیں۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت