Baaghi TV

Tag: شہاب ثاقب

  • ڈائنوسار کے معدوم  کی وجہ شہاب ثاقب تھے ؟

    ڈائنوسار کے معدوم کی وجہ شہاب ثاقب تھے ؟

    لندن: ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 66 ملین سال پہلے ڈائنوسار کے معدوم ہونے میں زمینی فضا میں طویل عرصے تک دھول کے بادلوں نے زیادہ بڑا کردار ادا کیا ہوگا۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے انکشاف کیا ہے کہ شہاب ثاقب ٹکرانے سے زمین کی فضا میں باریک زمینی دھول نے ڈائنوسار کے معدوم ہونے میں زیادہ کردار ادا کیا ہوگا۔

    tتحقیق کے مطابق شہابی پتھر کے اثرات نے نہ صرف فضا میں گندھک پر مبنی گیسوں کا اخراج کیا بلکہ محققین کے مطابق، نتیجے میں اُڑنے والی دھول نے سورج کو بھی مخفی کر دیا تھا جس سے پودوں کی ضیائی تالیف کا عمل بھی کئی سالوں تک رُک گیا اور غذائی قلت پیدا ہوئی۔

    اوچ شریف :شہریوں کا اورماڑہ میں پاک فوج کے 14جوانوں کی شہادت پر اظہارافسوس

    مطالعے کے مرکزی مصنف اور سیاروں کے سائنس دان برک سینیل نے سی این این کو بتایا کہ یہ طویل عرصے سے فرض کیا جا رہا تھا کہ Chicxulub نامی شہاب ثاقب ڈائنوسار کے معدوم ہونے کی وجہ بنا جبکہ اصل میں طویل عرصے تک آسمان کو چھپا دینے والی دھول وجہ رہی ہوگی۔

    ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت پاکستان 21 رن سے جیت گیا

  • شہاب ثاقب بیچ کر راتوں رات امیرہونے والا شخص

    شہاب ثاقب بیچ کر راتوں رات امیرہونے والا شخص

    انڈونیشیا کے شہر کولانگ میں ایک گھر پر شہاب ثاقب کا ایک ٹکرا گر کر تباہ ہو گیا،جسے جوسوا ہوتاگلونگ نامی شخص شہاب ثاقب کا ٹکڑا بیچ کر کروڑ پتی بن گیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جوسوا ہوتاگلونگ نامی یہ خوش قسمت شخص باہر کام میں مشغول تھے، اسی اثناء میں شہاب ثاقب کا ایک قدیم ٹکڑا ان کے کمرے کے قریب واقع برآمدے سے ٹکرا گیاساڑھے چار سال ارب پرانے اس ٹکڑے کا وزن 2.1 کلو گرام ہے اور اس کی قیمت 1.4 ملین پاؤنڈ ہے۔

    اس ٹکڑے کی انتہائی نایاب سی ایم 1/2 کاربنسیس کونڈرائٹ(CM1/2 carbonaceous Chondrite) کے طور پر درجہ بندی کی گئی تھی،اس ٹکڑے کو بیچ کر راتوں رات امیر ہونے والے جوسوا ہوتاگلونگ کا کہنا ہے کہ وہ اس دولت کو اپنی کمیونٹی میں ایک چرچ کی تعمیر کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے ایک بیٹی چاہتے تھے اس شہاب ثاقب کو بھی انہوں نے ایک خوش قسمتی کی علامت سمجھا ہے شہاب ثاقب کے تین دیگر ٹکڑے بھی قریب ہی پائے گئے تھے، انڈیاناپولس میں ایک کلکٹر سے اس شہاب ثاقب کو خریدنے کے بعد اسے امریکہ بھیج دیا گیا۔

    چٹان کا کچھ حصہ خریدنے والے امریکہ سے تعلق رکھنے والے شہاب ثاقب کے ماہر جیرڈ کولنز کا کہنا ہے کہ ’میرا فون پاگل پیشکشوں سے جگمگا رہا تھا کہ میں جہاز پر چھلانگ لگا کر شہاب ثاقب خریدوں‘۔

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

  • ترکیہ کا آسمان خوبصورت ہری روشنی سے جگمگا اٹھا,ویڈیو

    ترکیہ کا آسمان خوبصورت ہری روشنی سے جگمگا اٹھا,ویڈیو

    ترکیہ کا آسمان شہاب ثقاب کی خوبصورت ہری روشنی سے جگمگا اٹھا۔

    باغی ٹی وی : شہاب ثاقب کا نظارہ ویسے تو کم ہی کیا جاتا ہے لیکن یہ کسی جادوئی منظر سے کم نہیں جسے ہر کوئی اپنے کیمرے میں محفوظ کرنا چاہتا ہے ایسا ہی نظارہ ترکیہ کے آسمان پر بھی کیا گیا جہاں شہاب ثاقب نے آسمان پر ہری روشنی بکھیر دی یہ نظارہ دو روز قبل ترکیہ کے مشرقی شہر ارض روم اور صوبے گوموش خانہ میں کیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل ہورہی ہے-


    امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق، ناسا، meteoroids، یا "خلائی چٹانیں،شہاب ثاقب خلا میں موجود پتھر ہے، جب یہ زمین کے ماحول میں تیزی سے داخل ہوتا ہے تو یہ جگمگا اٹھتا ہے اور اپنے پیچھے روشنی چھوڑتا ہوا آگے بڑھتا ہے تاہم حکام نے ابھی تک اس چیز کی اصلیت کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت فراہم نہیں کی ہے یہ ہوائی واقعہ پرسیڈ میٹیور شاور کے چند ہفتے بعد آیا ہے، جو 17 جولائی اور 19 اگست کے درمیان سرگرم تھا۔

    امریکی خاتون اول کا کرونا ٹیسٹ مثبت،کیا جوبائیڈن کے ہمراہ بھارت آئیں گی؟


    https://twitter.com/WxNB_/status/1698034261352145378?s=20
    ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ ہفتے کولوراڈو میں بھی دیکھنے میں آیا جب ایک دیوہیکل آگ کے گولے نے آسمان کو منور کر دیا۔ یہ 3:30 بجے کے قریب ہوا، اور صرف چند لوگ جو اس وقت جاگ رہے تھے اس کا مشاہدہ کر سکے بہت سے رہائشیوں نے اپنے دروازے کی گھنٹی اور حفاظتی کیمروں کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز کو شیئر کیا، جس میں آسمان میں آسمانی واقعہ کو ظاہر ہوتا دکھایا گیا-

    ڈائنا سور کے قدموں کے11 کروڑ سال پرانے پیروں کے نشانات دریافت

  • فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    قاہرہ : جاپان اور مصر کے ماہرین نے فرعون توتنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے ایک شاہی خنجر کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے شہابِ ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی:’میٹیورائٹس اینڈ پلینٹری سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع مقالے کے مطابق اس خنجر کا دستہ سونے سے بنا ہے جس میں موتی جڑے ہیں جبکہ اس کا پھل لوہے کا ہے جس پر سیاہی مائل داغ دھبے پڑ چکے ہیں-

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    آئرن ایج وہ وقت تھا جب لوگوں نے آئرن پروسیسنگ ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1200 قبل مسیح کے بعد شروع ہوا تھا لوہے کے شہابیوں سے بنے کچھ پراگیتہاسک لوہے کے نمونے کانسی کے زمانے کے ہیں۔

    قدیم مصر کے بادشاہ توتنخمین (1361-1352 قبل مسیح) کے مقبرے میں ایک اچھی طرح سے محفوظ شدہ میٹیوریٹک لوہے کا خنجر ملا تھا۔ پھر بھی، اس کی تیاری کا طریقہ اور اصلیت غیر واضح ہے یہاں، ہم قاہرہ کے مصری میوزیم میں کیے گئے توتنخمین لوہے کے خنجر کے غیر تباہ کن دو جہتی کیمیائی تجزیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

    توتنخ آمون، جسے اکثر ’توتن خامن‘ بھی کہا جاتا ہے، اٹھارواں اور آخری فرعون تھا جو آج سے 3,300 سال پہلے مصر پر حکمران تھا اس کا عظیم الشان مقبرہ 1925 میں دریافت ہوا تھا جس میں سے ہزاروں قدیم اشیاء برآمد ہوئیں، جن پر آج تک تحقیق جاری ہے توتنخ آمون کا شاہی خنجر بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ خنجر اصل میں شادی کا تحفہ تھا جو توتنخ آمون کے دادا ایمن ہوتپ سوم کو سلطنت ’میتانی‘ کے بادشاہ نے دیا تھا جو نسل در نسل ہوتے ہوئے بالآخر توتنخ آمون تک پہنچا تھا۔

    فروری 2020 میں قاہرہ عجائب گھر اور جاپان کے ’چیبا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے اس خنجر کے بارے میں مزید باتیں جا ننے کےلیے جدید ایکسرے آلات استعمال کئے اس سے پہلے 2016 میں اس خنجر کے پھل پر لگے دھبوں میں نکل اور کوبالٹ دھاتوں کی معمولی مقداریں دریافت ہوچکی تھیں جدید ایکسرے آلات سے 2020 میں نئے مشاہدات سے ان ہی دھبوں میں سلفر، کلورین، کیلشیم اور زِنک بھی معمولی مقدار میں دریافت ہوئے۔

    فرعون کا زمانہ وہ تھا کہ جب فولاد سازی کو بہت خاص ہنرسمجھا جاتا تھاجبکہ لوہے/ فولاد سے بنے خنجروں اور تلواروں کو شاہی تحائف کا درجہ حاصل تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    نئی تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اس خنجر کو تقریباً 950 ڈگری سینٹی گریڈ پر کسی بھٹی میں ڈھالا گیا تھا، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس میں معمولی مقداروالےمادّے (ٹریس مٹیریلز) ٹھیک اسی ترتیب میں ہیں کہ جیسی’فولادی شہاب ثاقب‘ میں ہوتی ہے اس قسم کےشہابیوں میں دوسرے مادوں کی نسبت لوہے کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں لوہے والے یعنی ’فولادی شہابِ ثاقب‘ بھی کہا جاتا ہے جاپان میں ایسا ہی ایک شہابِ ثاقب کچھ سال پہلے دریافت ہوچکا ہے۔

    توتنخ آمون کے شاہی خنجر اور اس شہابیے میں ٹریس مٹیریلز کی ترکیب بالکل یکساں ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خنجر کی تیاری کےلیے جس جگہ سے بھی کھدائی کرکے کچدھات نکالی گئی تھی، وہاں شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کوئی فولادی شہابِ ثاقب ٹکرا چکا تھا۔

    عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ لوہے کا زمانہ تقریباً 1200 قبلِ مسیح میں شروع ہوا تھا لیکن اس خنجر میں لوہے کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید لوہے کے زمانے کا آغاز 1400 قبلِ مسیح کے آس پاس ہوچکا تھا۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت