Baaghi TV

Tag: شہباز گل

  • معید پیرزادہ اور شہباز گل  کے خلاف مسلسل جھوٹ پھیلانے پر مقدمہ درج

    معید پیرزادہ اور شہباز گل کے خلاف مسلسل جھوٹ پھیلانے پر مقدمہ درج

    اسلام آباد: ایف آئی اے سائبر کرائم میں معید پیرزادہ اور پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے خلاف سوشل میڈیا پر مسلسل جھوٹ پھیلانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : درج مقدمے میں کہا گیا کہ معید پیرزادہ کی جانب سے ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک اپنے اکاؤنٹ سے جھوٹ پر مبنی غلط مواد شئیر کیا جا رہا ہے جس سے غلط فہمیاں اور انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے،مقدے میں کہا گیا ہے کہ معید پیرزادہ کی جانب سے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر حکومتی اداروں کے خلاف مواد شئیر کیا جا رہا ہے جس سے حکومتی اداروں کی ساکھ متاثر ،اور عوام میں غم وغصے کا باعث‌بن سکتا ہے-

    ایف آئی آر کے مطابق ٹک ٹاک پر تمام حکومتی اداروں پولیس اور سیکیورٹی اداروں،سیکیورٹی فورسز بشمول پاک فوج،ائیر فورس ،نیوی کے خلاف بغاوت پر اکسانے والا مواد شئیر کیا جا رہا ہے جن کا مقصد انتشار عوام میں خوف یا کسی قسم کے خطرے کی گھنٹی پیدا کرنے کی کوشش اور ریاست یا ریاستی ادارے یا عوامی سکون کے خلاف جرم کرنے پر اکسانا ہے-

    یہ چوری کرکے القادر یونیورسٹی کے پیچھے چھپ رہے ہیں ، احسن اقبال

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ معید نے ایک مخصوص سیاسی قیادت کے حق میں پہلے سے طے شدہ جعلی تاثر پیدا کرنے کے لیے پاکستانی فوج پر رشوت دینے کے بدعنوان طریقوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ریاست مخالف بیانیہ شیئر کیا۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے افواج پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے الزام تراشی اور دھمکی آمیز مواد ذاتیات میں دراڑ پیدا کرنے کے لیے تخریب کاری کا گھناؤنا عمل ہے،معید پیرزادہ کیخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کے سیکشن یو ایس 9 ،10 اور 11 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا-

    شیل پاکستان کا نام تبدیل کردیا گیا

    fia

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے

  • مجھے آپکی انشا اللہ نہیں چاہیے،  کچھ  عزت رہنے دیں عدالتوں کی،جسٹس امجد رفیق

    مجھے آپکی انشا اللہ نہیں چاہیے، کچھ عزت رہنے دیں عدالتوں کی،جسٹس امجد رفیق

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد رفیق نے نے پنجاب میں اغوا شدہ افراد کی بازیابی سے متعلق حکومت کی پالسی رپورٹ طلب کر لی ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ اگر آپ نے پالیسی نہیں بنائی تو ہم آپ کے کسی وزیر کو بلا لیتے ہیں،ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ میں ایک ایک چیز کو دیکھ رہا ہوں، جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ 40 دن ہو چکے ہیں، ایک بندہ لاپتہ ہے، آپ کو تو نیند نہیں آنی چاہیے،ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ انشااللہ ہم کوششیں کر رہے ہیں، جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ مجھے آپ کی انشا اللہ نہیں چاہیے، لاہور سے ایک بندہ غائب ہو جاتا ہے ساری ایجنسیاں مل کر بندہ ڈھونڈ رہی ہیں، کچھ شرم، حیا اور عزت رہنے دیں عدالتوں کی،جو بندے اغوا کر لیے جاتے ہیں ان کے حوالے سے حکومت کی کیا پالیسی ہے ؟ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا تھا کہ حکومت اس حوالے سے پالیسی بنا رہی ہے، آپ عدالتوں سے کیا چاہتے ہیں ؟ آپ بتائیں کتنے عرصے میں مغوی کو بازیاب کرا سکتے ہیں، آپ حکومت سے پوچھ کر پالیسی بتادیں،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس،عدالت کا وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ

    شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس،عدالت کا وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا،عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ مسترد کر دی،

    دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کو اسلام آباد جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لیا، پولیس غلام شبیر سے متعلق کچھ نہیں بتا رہی، شہباز گل کے بھائی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت بازیاب کروانے کا حکم دے،لاہور ہائیکورٹ نے مغوی کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کل مغوی کو اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں، اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعلی کو بھی طلب کیا جائیگا، جبری گمشدگیاں آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں پنجاب حکومت اس حوالے سے اپنا پالیسی بیان دے، یہ کیا طریقہ ہے کہ کیسز سے ضمانت ملے تو اسے اٹھا لو

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • شہبا زگل کے دوبارہ وارنٹ جاری

    شہبا زگل کے دوبارہ وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بغاوت پر اکسانے کے کیس میں تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    عدالت نے شریک ملزم عماد یوسف کے خلاف ٹرائل ختم کردی، عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے شریک ملزم کیخلاف ٹرائل ختم کرنے کی ڈائریکشن دی شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری کئے جاتے ہیں

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • فیصل آباد میں شہباز گل کی کوئی جائیداد نہیں ،عدالت میں جواب جمع

    فیصل آباد میں شہباز گل کی کوئی جائیداد نہیں ،عدالت میں جواب جمع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،تحریک انصاف کے شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی ،رونیو ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کی جانب سے شہباز گل کی جائیداد کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ،ریونیو حکام فیصل آباد نے عدالت میں بتایا کہ فیصل آباد میں شہباز گل کی کوئی جائیداد نہیں ہے ۔ جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ کیا شہباز گل کی پورے پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ۔ عدالت نے جواب جمع کروانے پر رونیو ڈیپارٹمنٹ کو جاری شو کاز نوٹس داخل دفتر کر دیا ۔ گزشتہ سماعت پر جواب جمع نہ کروانے پر رونیو ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے حکام کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا ،کیس کی مزید سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ عدالت نے مسلسل عدم حاضری پرتحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کیخلاف اشتہاری کی کارروائی تب منسوخ ہو جب وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں شہباز گل 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے انہوں نے چالاکیوں سے کام لینا شروع کر دیا انہیں ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروانے پرڈی سی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس

    شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروانے پرڈی سی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس

    شہباز گل کیخلاف اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا، عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر نوٹس جاری کیا گیا،عدالتی حکم کے باوجود شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروائی جا سکیں، عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور فیصل آباد کو جائیداد کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے جائیداد ضبطگی کی کارروائی شروع کررکھی ہے، دونوں افسران نے شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں ، عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر دونوں افسران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتی ،عدالت نے کیس کی سماعت گیارہ ستمبر تک ملتوی کردی عدالت نے شہباز گل کو اشتہاری قرار دیکر جائیداد ضبطگی کی کارروائی شروع کررکھی ہے

    واضح رہے کہ عدالت نے مسلسل عدم حاضری پرتحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کیخلاف اشتہاری کی کارروائی تب منسوخ ہو جب وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں شہباز گل 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے انہوں نے چالاکیوں سے کام لینا شروع کر دیا انہیں ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے فوج کے خلاف بغاوت پر لوگوں کو اکسانے کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپر نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مسلسل عدم حاضری پرتحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کیخلاف اشتہاری کی کارروائی تب منسوخ ہو جب وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں شہباز گل 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے انہوں نے چالاکیوں سے کام لینا شروع کر دیا انہیں ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔

    رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    ورانِ سماعت ایف آئی اے اور نادرا نے شہباز گل کی جائیدادوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی،عدالت نے شہباز گل کی 2 درخواستیں مسترد کر دیں شہباز گل کی کیس کی کارروائی روکنے اور بذریعہ ویڈیو لنک حاضری کی درخواست مسترد کی گئی ،شہبازگِل نے بیماری کی وجہ بتا کر عدالت سے وڈیولنک کے زریعے حاضری لگانے کی درخواست کی تھی سیشن عدالت نے شہباز گل کو 31 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تاہم آج پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا-

    ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرانے 2صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ شہباز گل پہلے کی طرح پھر سے عدالت سے غیر حاضر رہے، انہوں نے وارنٹ منسوخی اور ویڈیو لنک پر حاضری کی درخواست دی۔

    ہوائی فائرنگ کرنے والوں کیخلاف آپریشن وسیع، 600 ملزمان گرفتار

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ وکیل صفائی کے مطابق شہباز گل سخت علیل ہیں، عدالت نہیں آسکتے، اشتہاری قرار دینے کی کارروائی عدالت میں پیشی کے بغیر ختم نہیں کی جاسکتی، شہباز گل نے مخصوص وقت کے لیے بیرون ملک جانےکے ہائیکورٹ کےحکم کی خلاف ورزی کی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس نےشہباز گل کےخلاف اشتہاری قرار دینےکی کارروائی سے متعلق رپورٹ جمع کرادی، پولیس کے مطابق شہباز گل کی رہائش گاہ پر گرفتاری کرنے کی کوشش کی گئی، شہبازگل کی رہائش گاہ پر اشتہاری قرار دینے کا اشتہار چسپاں کر دیا گیا ہے شہبازگل جان بوجھ کر اپنی گرفتاری سے بھاگ رہے ہیں، عدالت انہیں اشتہاری قرار دیتی ہے اور ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جاتے ہیں، نادرا رپورٹ کے مطابق شہبازگل کا شناختی کارڈ بھی بلاک کردیا گیا ہے۔

    فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب سے زائد ہوگئی

    عدالت نے فیصلے میں حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور اسلام آباد شہبازگل کی جائیداد سے متعلق رپورٹ 31جولائی تک دیں۔

  • شہباز گل اشتہاری قرار، 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے،عدالت

    شہباز گل اشتہاری قرار، 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے،عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپر نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مسلسل عدم حاضری پرتحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کیخلاف اشتہاری کی کارروائی تب منسوخ ہو جب وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں شہباز گل 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے انہوں نے چالاکیوں سے کام لینا شروع کر دیا انہیں ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔

    شہباز گل کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ میرامؤکل بیماری کی وجہ سے بیرون ملک گیا بھاگا نہیں ، دورانِ سماعت ایف آئی اے اور نادرا نے شہباز گل کی جائیدادوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی،عدالت نے شہباز گل کی 2 درخواستیں مسترد کر دیں شہباز گل کی کیس کی کارروائی روکنے اور بذریعہ ویڈیو لنک حاضری کی درخواست مسترد کی گئی ،شہبازگِل نے بیماری کی وجہ بتا کر عدالت سے وڈیولنک کے زریعے حاضری لگانے کی درخواست کی تھی سیشن عدالت نے شہباز گل کو 31 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • شہباز گل کو گرفتار کرنے کا حکم

    شہباز گل کو گرفتار کرنے کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد شہباز گل پر اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے ایف آئی اے کو شہباز گِل کو فورا گرفتار کرنے کا حکم دےدیا۔ اپنے حکم میں عدالت نے کہا ہے کہ شہبازگِل پاکستان میں جس بھی ائیرپورٹ پر نظر آئیں، انہیں گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جائے ،اسلام آباد کی سیشن عدالت نے شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،عدالت نے ایف آئی اے کو شہباز گل کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے فیصل آباد اور اسلام آباد میں شہباز گل کی رہائشگاہ کے باہر اشتہاری کا قرار دینے کا نوٹس چسپاں کرنے کا حکم بھی دے دیا، عدالت نے شہباز گل کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ،عدالت نے اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کرنے اور دیگر رپورٹس 26 جولائی کو طلب کرلیں

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.