Baaghi TV

Tag: شہباز گل

  • شہباز گل کی ہسپتال سے ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی

    شہباز گل کی ہسپتال سے ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی ہسپتال سے ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے

    شہباز گل کی ویڈیوز تحریک انصاف کے پروپیگنڈے اور جھوٹ کو بے نقاب کر رہی ہیں، دھوکہ دہی، جھوٹ کی سیاست کرنے والے اب غداری کے ملزم کو بچانے کے لئے بھی مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں حتیٰ کہ جنسی زیادتی کا الزام تک لگا دیتے ہیں ، اب شہباز گل کی دو روز میں یہ تیسری ویڈیو ہسپتال سے سامنے آئی ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہباز گل ہشاش بشاس ہیں اور جوس پی رہے ہین، جوس خود انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور وہ کسی قسم کے پریشان نہیں لگ رہے، دو روز قبل شہباز گل کی عدالت پیشی کے موقع پر جو وہیل چیئر پر حالت تھی وہ سب بے نقاب ہو چکی ہے، ڈرامے ختم ہو چکے، ویڈیو نے سب بھانڈا پھوڑ دیا ہے

    شہباز گل کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہباز گل صوفے پر بیٹھے ہیں اور انکے سامنے کھانا پڑا ہوا ہے،شہباز گل کپ میں کچھ پی بھی رہے ہیں وہ بالکل ہشاش بشاش ہیں، انہیں اب ہسپتال میں آکسیجن کی ضرورت نہیں رہی جو عدالت پیشی کے موقع پر تھی، عدالت پیشی کے موقع پر شہباز گل کو سانس نہیں آ رہا تھا اور ہسپتال میں کھانوں کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے ،

    ہسپتال ذرائع کے مطابق شہباز گل صحت مند ہیں اور تمام رپورٹس کلیئر ہیں،شہباز گل کھا پی رہے ہیں، انہوں نے بھوک ہڑتال نہیں کی، بھوک ہڑتال کی خبر بھی پی ٹی آئی کی جانب سے پروپیگنڈہ اور جھوٹ پر مبنی تھی

    شہبازگل ڈرامہ،یہ لوثبوت،!ویڈیومنظرعام پر:مبشرلقمان نےشہبازگل کا پول کھول دیا

    اس سے پہلے بھی شہبازگل کی ویڈیوز منظر عام پر آئی تھیں ایک ویڈیو میں انہیں اسپتال میں اپنے کمرے میں ہشاش بشاش دیکھا جا سکتا ہے

    ویڈیو میں شہباز گِل پمز اسپتال میں اپنے کمرے میں ہشاش بشاش نظر آ رہے ہیں

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل کا عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیا تو وہ بیمار ہو گئے عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت پیشی کے موقع پر شہباز گل کو وہیل چیئر پر پیش کیا گیا تھا اور وہ چیخ و پکار کر رہے تھے اس سے قبل جب انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تو شہباز گل کو سٹریچر پر لایا گیا تا ہم اب ہسپتال کے اندر سے ملنے والی فوٹیج و تصاویر نے صورتحال واضح کر دی ہے

    عدالت پیشی کے موقع پر وہیل چیئر پر ہسپتال جانے والے شہباز گل ہسپتال کے اندر بالکل صحت مند ہیں۔ انہوں نے نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا ہے اور وہ چل پھر رہے ہیں اسلام آباد پولیس کے اہلکار بھی ہسپتال کے اندر موجود ہیں جو شہباز گل کے پاس کھڑے ہیں شہباز گل کو جب ہسپتال لایا گیا تھا تب انکی حالت دیکھنے والوں کو خراب لگ رہی تھی لیکن اب ہسپتال کے اندر کی ویڈیو نے سب بھانڈا پھوڑ دیا یوں لگتا ہے کہ دو روز قبل کی میڈیکل رپورٹ جس میں شہباز گل کو تندرست کہا گیا تھا وہ بالکل ٹھیک تھی۔ شہباز گل فائل بھئ چیک کر رہے ہیں اور چل پھر بھی رہے ہیں شہباز گل کی ویڈیو نے سب حقیقت آشکار کر دی ہے

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل پر تشدد کی من گھڑت مہم چلائی جا رہی ہے۔اسلام آباد پولیس نے کہا ملزم شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جارہی ہے۔ عدالتی حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہوچکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہبازگل سے متعلق بغاوت کیس کی سماعت ہوئی

    شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری اور بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، فیصل چودھری نے کہا کہ آج شہباز گل کو پیش کرنا ہے، ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے،اوکیل نے کہا کہ اگر ایک بجے تک کیس کی سماعت کریں ہم ہائیکورٹ سے ہو کر آجائینگے، فیصل چودھری نے کہا کہ ہم ساڑھے 9 بجے تک انتظار کر لیتے ہیں ابھی پتہ کرلیں شہباز گل کوکس وقت لیکر آئینگے،جس پر جج نے کہا کہ ہم تو پتہ نہیں کراتے آپ کہتے ہیں تو پتہ کرا لیتے ہیں، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ پتہ کریں کب شہباز گل کو پیش کیا جائے گا شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے ایک بجے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے وکیل سے سوال کیا کہ ابھی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کس کارروائی کی بات کر رہے ہیں ملزم کو پیش کرنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں

    عدالت نے شہباز گل کو ساڑھے 12 بجے تک پیش کرنیکا حکم دے دیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر اگر آجاتے ان کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی .وکیل نے کہا کہ شہباز گِل پر پولیس حراست میں بدترین تشدد کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے ملک کا واحد کیس نہیں ہے اس سے پہلے بھی کیسز تھے بعد میں بھی چلتے رہیں گے، ریمانڈ کے کیسز میں ایسی مثال نہ بنائیں،ہائیکورٹ تو صرف اسی کیس کیلئے ہی رہ جائے گی،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گِل کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں نہیں جا سکتا، کیا میں اب ٹی وی لگوا کر وہ ویڈیو دیکھوں؟ وکیل نے کہا کہ تشدد کے اثرات صرف 5 سے چھ دن رہتے ہیں،عدالت ڈاکٹرز کو بلا کر پوچھ لے وہ شہباز گل تشدد کے عینی شاہد ہیں،درجنوں مثالیں ہیں پولیس ایسے تشدد کرتی ہے جس کو ٹریس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،پولیس تشدد سے مار کر بھی کہتی ہے بندے نے خودکشی کرلی،بارہ دن بعد تو بڑے سے بڑا تشدد ٹھیک ہوجاتا ہے،شہباز گِل دمہ کا مریض ہے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، مجسٹریٹ نے شہباز گل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا،ایسے ہی ملزم کی موت ہو جاتی ہے اور پراسیکیوشن کے خلاف 302 کا کیس بن جاتا ہے،اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، عدالتی حکم کے بعد وکلا اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،شہباز گِل کی ویڈیوز لیک کی گئیں،مجسٹریٹ نے خود آبزرویشن دی کہ ملزم کی کنڈیشن سیریس ہے،مجھے وکالت نامہ دستخط کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، اب شہباز گل کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے توویڈیوز لیک کی گئیں،

    وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں دیدیا،جج نے بغیر کوئی وجہ معلوم کیلئے شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ دیا،ہمارے خلاف سازش کی جارہی ہے ،میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ، کیا ہم نیشنل جیوگرافک لگا کر بیٹھ جائیں؟ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس پر رہیں، معاملے کو پیمرا پابندی کی طرف نہ لے جائیں ،ایسا کرنے سے اپ ایک ڈیڈ اینڈ پر پہنچ جائیں گے وکیل نے کہا کہ موبائل فون کی ریکوری کے لیے شہباز گل کے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ گرفتاری میں ہمیشہ موبائل فون اور عینک ساتھ ہی ہوتی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز گل سے سازش کا پتہ کرنا ہے، شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل کردیا تو واپس کیوں لانا پڑا ؟ کریمنل کیسز میں شواہد کو عدالت اور فریقین سے چھپایا نہیں جاسکتا، میں نے کہا کہ وہ کونسے شواہد ہیں جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے،شواہد مانگنے پر کہا گیا کہ ہم آپ سے کچھ بھی شئیر نہیں کرسکتے،

    عدالت نے شہباز گل کے وکیل کو تقاریر کے حوالے سے منع کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریڈم آف ایکسپریشن کی تعریف ہم سب غلط پڑھتے ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ شہباز گل کاریمانڈ کیوں چاہتے ہیں ؟کوئی برآمدگی کرنی ہے، کیا کرنا چاہتے ہیں، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ فون بر آمد کرنا ہے، تحقیقات کے کچھ پہلویہاں نہیں بتا سکتا ،کیس کو نقصان ہوسکتا ہے، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ فون لینڈ لائن سے ہوا پھر کیوں چاہیے؟ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں جواب دیا کہ پتہ لگا لیا ہے لینڈ لائن نمبر فون بنی گالہ عمران خان کی رہائش کا ہے،فون سےپڑھ کر نجی ٹی وی پر بیان دیا گیا ٹرانسکرپٹ بر آمد کرنا ہے،تفتیشی افسر کا اختیار ہے کہ وہ بتائے اس کی تفتیش مکمل ہوئی یا نہیں، شہباز گِل موبائل استعمال کر رہا ہے، مواد سے ملزم کو کنفرنٹ کرنا ہے، دیگر ملزمان کی گرفتار ی کے لیے شہباز گل کے بیان سے کنفرنٹ کرانا ہے،

    جسٹْس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اور تو آپ نے کسی کو گرفتار نہیں کیا کس سے کنفرنٹ کرانا ہے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گرفتاریوں کیلئے تو مزید تفتیش کی ضرورت ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ پولیس کی ابھی 90 فیصد تفتیش باقی ہے،ملزم لیت و لعل سے کام لیتا ہے، جھوٹ بول رہا ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کی ضرورت ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں پولی گرافک ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اور پنجاب فرانزک لیب میں یہ سہولت موجود ہے،جسمانی ریمانڈ 15 دن کا ہوتا تو مختلف مراحل میں دیا جاسکتا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر 15دن میں تفتیش مکمل نہ ہو تو کیا اس کے بعد بھی ریمانڈ مل سکتا ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ 15دن سے زیادہ جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی تفتیش کی ضرورت ہو تو پھر جیل میں تفتیش کی جائے گی؟ دوران تفتیش کوئی ملزم بیمار ہو جائے تو کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیمار اور زخمیوں کے لیے بھی رولز موجود ہیں، زندگی ہے تو سب کچھ ہے، عدالت نے سوال کیا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو آپ اسلام آباد میں کہاں منتقل کرتے ہیں ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے توپمز اور پولی کلینک میں منتقل کیا جاتا ہے،ایڈیشنل سیشن جج کا مزید 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ کا آرڈر بالکل درست ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    عدالت نے وکلا پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ دو اہم وکلانے اپنے دلائل دئیے، باقی کسی کو دینے کی ضرورت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بابر اعوان کو دلائل دینے کی اجازت دے دی، وکیل جیل حکام نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں، اڈیالہ جیل رکھنا پڑتا ہے،اگر کسی ملزم کی طبیعت خراب ہو تو قریبی اسپتال لے جایا جاتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اسلام آباد کا ملزم ہو تو اسے اسلام آباد کے اسپتال میں ہی رکھا جاتا ہے،

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے

    شہباز گل پر تشدد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کی میڈیکل بورڈ بنانے سے متعلق درخواست پر بابر اعوان نے دلائل دیئے،اور کہا کہ ملزم کی حراست گرفتاری کے روز سے شروع ہو جاتی ہے،زیادہ سے زیادہ ریمانڈ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو یہ کیس ہی نہیں، یہ ساری چیزیں تو سلمان صفدر کہہ چکے ہیں،استدعا پڑھیں، اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھیں ،ایڈووکیٹ جنرل جہانگیرجدون نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ درخواست میں بابر اعوان وکیل نہیں، دلائل نہیں دیئے جا سکتے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے اسد عمر کی درخواست قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، کہا کہ اسد عمر کا نئے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنانے کا اختیار ہی نہیں،درخواست قابل سماعت ہی نہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ابھی پینڈنگ رکھ رہے ہیں، جب سنی جائے گی تب دیکھیں گے،بابر اعوان نے کہا کہ جب وقت آئے گا بتائیں گے کہ کیسے قابل سماعت ہے،

    آئی جی اسلام آباد نے شہباز گل تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی پولیس کی جانب سے شہباز گل پر تشدد کے الزمات بے بنیاد قرار دے دی گئی شہباز گل پر جسمانی یا ذہنی تشدد کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے، ملزم شہباز گل نے تفتیش میں خلل ڈالنے کے لیے ڈرامہ کیا،

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات،وزیرداخلہ پنجاب نے نیا انکشاف کر دیا

    شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات،وزیرداخلہ پنجاب نے نیا انکشاف کر دیا

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے راولپنڈی اڈیالہ جیل کا اچانک دورہ کیا.
    جیل ریکارڈ میں پی ٹی آئی رہنما اور غداری کے مقدمہ میں زیر حراست ملزم شہباز گل کے جسم پر زخموں کے غیر معمولی نشانات بارے مزید انکشافات سامنے آئے۔

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ شہباز گل کو جب جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل لایا گیا تو جیل عملے نے قواعد و ضوابط کے مطابق شہباز گل کا طبی معائنہ کیا۔ معائنے میں شہباز گل کے جسم پر تشدد کے غیر معمولی نشانات ظاہر ہوئے۔

    وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ میڈیکل آفیسر نے ابتدائی معائنہ رپورٹ میں ان نشانات بارے رجسٹر پر اندراج کیا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق جیل سپریڈنٹ زخموں کے نشانات بارے سیشن جج اور پولیس کو بتانے کا پابند ہوتا ہے۔اس وقت کے جیل سپریڈنٹ نے تشدد کے نشانات بارے کسی کو مطلع نہ کیا۔ سنگین غفلت پر جیل سپرنٹینڈنٹ اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کے مطابق تحقیقات کی جائیں گی کہ یہ غفلت تھی یاپھرجیل سپرنٹینڈنٹ نے کس کی ایماء پر ایسا کیا۔ جیل انٹری رجسٹر میں درج معلومات نے ہمارے موقف کو ثابت کیا ہے کہ جیل آمد سے قبل شہباز گل پر تشدد کیا گیا.

  • شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے کمپین کی، شہدا کے لواحقین کے تقدس کو پامال کیا گیا،شہباز گل نے جو کہا وہ دراصل عمران خان او رپی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے،بہت سارے سیاستدانوں نے سیاست میں مداخلت پر کہا،کسی سیاستدان نے فوج کو اپنی قیادت کےخلاف نہیں اکسایا،9اگست کو شہبازگل کیخلاف مقدمہ درج کر کے24گھنٹے میں انہیں گرفتار کیاگیا،گرفتاری کے بعد شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈکیلئے پیش کیا گیا ،جب انہیں پیش کیا گیا وہ مسکراتے ہوئے عدالت پیش ہوئے،شہباز گل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تشدد کی کوئی بات نہیں کی.

    انہوں نے کہا کہ 11اگست کو طبی معائنہ کیا جس میں کسی تشدد کا ذکر ہے نہ شہباز گل نے کہا،میں نے سب سے تسلی کی ہے کہ اپنے طور پر بھی معلومات لیں،بطور وزیر کہتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کسٹڈی کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا،17تاریخ کو جب ان کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیاتو حالت خراب ہوئی،اس میں تشدد کی بنیاد پر صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی،6 دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،6دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،ن لیگ بطور جماعت کسی قسم کے تشدد کے خلاف ہے.عمران خان کے خلاف مقدمہ کیلئے وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں.

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے 10 روز سے شہباز گل پر تشدد اور ظلم کے حوالے سے باتیں چل رہی ہیں، ان پرتشدد کی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کو اپنا کیا یاد نہیں ہے، عمران نیازی کا بیانیہ غیرملکی ایجنڈا ہے، شہباز گل کی نجی ٹی وی سے گفتگو طے شدہ تھی، شہباز گل کا نجی ٹی وی کےساتھ سب کچھ طے تھا کب فون آئے گا، کتنی دیر گفتگو کرنی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل کی حالت خراب ہونے میں تشدد کی وجہ سامنے نہیں آئی، ڈرامے کو مزید تقویت دینے کے لیے عمران خان جنسی تشدد کا الزام لگا رہے ہیں، پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا دفاع نہیں کرسکی، فوج کے خلاف مہم سے دھیان ہٹانے کے لیے شہباز گل پر تشدد کا بیانیہ گھڑا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آئی جی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو قانون کے مطابق ذمہ داری نبھانے پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، عمران خان، آپ نے اپنے تمام مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنوائے، تب شرم نہیں آئی، جب آپ بشیرمیمن کو بلاکر نواز، شہباز، حمزہ اور مریم نواز کے خلاف مقدمہ بنانے کا کہہ رہے تھے اس دن شرم نہیں آئی۔

    رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خاتون جج کو نام لے کر دھمکی دی، طیبہ گل کو ڈیرھ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں حبس بےجا میں رکھ کر کیسز ختم کراتے ہوئے شرم نہیں آئی، آپ بتائیں کہ کہاں ٹارچر ہوا ہے؟ سر میں چوٹ لگی یا پاؤں میں چوٹ لگی ہے، دمہ کی بیماری کا ٹارچر سے کیا تعلق ہے۔عمران کان نے کل جو مارچ کیا ان کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ان کی طاقت کیا ہے

  • شہباز گل کےہسپتال میں معمول کے ٹیسٹ،بلڈ پریشر، شوگر نارمل

    شہباز گل کےہسپتال میں معمول کے ٹیسٹ،بلڈ پریشر، شوگر نارمل

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کے پمز ہسپتال میں معمول کے کلینیکل ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا بلڈ پریشر، شوگر، نبض کی رفتار معمول کے مطابق ہے، شہباز گل کو سینے کا معمولی انفیکشن ہے، جس کی دوا دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ‏‏شہباز گل کو کمرے میں اے سی، ٹی وی، صوفے کی سہولت میسر ہے، ‏شہباز گل کو ہسپتال سے پرہیزی کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب شہباز گل پر تشدد الزامات سے متعلق پولیس نےانکوائری شروع کردی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں تفتیشی ٹیم سمیت اعلیٰ پولیس حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل کی خوراک سے متعلق بھی مکمل نگرانی کی جائے گی، پولیس نے تشدد الزامات پر بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے شہباز گل کے معاملے پر ڈاکٹرز کے بیان بھی لئے ہیں ،تفتیشی ٹیم کی جانب سے حکام کو عدالتی کارروائی پر بھی بریفنگ دی گئی ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے کہا ملزم شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جارہی ہے۔ عدالتی حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہوچکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔نہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی شخص کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ فراہم کرسکتا ہے اور عوام بلا تصدیق کسی بھی جھوٹی مہم کا حصہ نہ بنیں۔

    پولیس حکام نے کہا کہ پولیس امن و امان کی بحالی کے لیے کام کرتی ہے تاہم بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو تشدد سے متعلق انکوائری رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے رکھا ہے۔

  • شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے
    ،اطلاعات کے مطابق اس وقت  پاکستان میں شہبازگل پرتشدد کے حوالے سے ہرطرف بحث ہورہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں سیلاب اور بارشیں ہیں ، اس دوران یہ تشدد کی بحث کس نے اور کیوں شروع کروائی باغی ٹی وی کچھ حقائق سامنے لایا ہے

     

    باغی ٹی وی حقائق کے مطابق یہ معاملہ شہبازگل کی رہائی کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے ،اس معاملے کے پیچھے پاکستان کی ایک اہم صحافتی شخصیت اور خود عمران خان ہیں جن کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہے

    حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ شہبازگل گرفتاری کے بعد تین بار عدالت پیش ہوئے مگرتشدد کا ذکر نہیں ہوا  ، اس کےبعد شہبازگل اڈیالہ جیل منتقل ہوئے جو کہ پنجاب حکومت کے زیرکنٹرول ہے وہاں طبی معائنہ ہوا مگر تشدد کا ذکر نہیں ہوا ، حالانکہ اگرایسی بات تھی تو ضرور اس کا ذکرکیا جانا چاہیے تھا اس کے بعد شہبازگل سے اڈیالہ جیل میں صوبائی وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم کی ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے کہا کہا کہ تشدد نہیں ہوا

    باغی ٹی وی حقائق پیش کررہا ہے کہ اصل میں اس سارے کھیل کے پیچھے ایک بہت بڑی صحافتی شخصیت ہے ،یہ حقیقت ہے کہ شہبازگل پر تشدد کی بات سب سے پہلے حامد میر نے کی جس کا مقصد پاک فوج اور ملک کے سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنا تھا پھرمنصوبہ بندی کے ساتھ حامد میر کے بعد عمران خان نے تشدد کا ذکر کیااور اس کھیل مین دونوں کی ملی بھگت ہے ، پہلے صحافی حامد میر نے اس کہانی کا آغازکیا پھرعمران خان کو کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں

    حقیقت یہ ہے کہ حامد میر اور عمران خان دونوں کا ہدف پاک فوج اور ملک کی سلامتی کے ادارے تھے ، حامد میر عمران خان کے ساتھ مل کر پاک فوج کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، حامد میر اس سارے کھیل کا مرکزی کردار ہے ان حالات میں جب شہبازگل پر تشدد کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ بھی آگئی ہے تو یہ بحث اب ختم ہونی چاہیے تھی لیکن یہ دونوں احباب معاملے کو قوم کے سامنے بار بار رکھ رہے ہیں تاکہ قوم ان حقائق پر پاک فوج کے خلاف کھڑی ہوجائے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک طرف بارشیں اور سیلاب ہے قوم اس میں پھنسی ہوئی ہے عمران خان شہبازگل پر مبینہ تشدد کے معاملے کو ہوا دے رہا ہے تاکہ یہ معاملہ قوم کے سامنے پیش ہو اور قوم اس تشدد کے معاملے پر اپنے جزبات کا اظہارکرے، عمران خان نے اقتدار جانے کے بعد نفرت کی سیاست کی ہے اور اداروں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، عمران خان کی جماعت کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، عمران خان اور انکی پارٹی کے رہنماؤں کو ملکی سلامتی سے زیادہ وزیراعظم کی کرسی عزیز ہے

  • شہبازگل پرتشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے:عمران خان کا دعوی

    شہبازگل پرتشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے:عمران خان کا دعوی

    اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ شہبازگل کو توڑنے کے لئے ذلیل کیا گیا جس کی تفصیلات میرے پاس ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ تصاویر اور ویڈیوز سے واضح ہے کہ شہبازگل پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ شہباز گل پر تشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ تصاویر اور ویڈیوز میں واضح ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ شہبازگل کو توڑنے کیلئے ذلیل کیا گیا ہے، اس حوالے سے میرے پاس مکمل تفصیلی معلومات ہیں۔

     

    عمران خان نے کہا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہبازگل پر کوئی تشدد نہیں کیا، میرا سوال ہے کہ پھر شہبازگل پر تشدد کس نے کیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام اور ہمارے ذہنوں میں سوال ہے کہ اتنا بھانک تشدد کون کرسکتا ہے، یادرکھیں عوام ردعمل دیں گے، اور ہم ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

  • عمران خان کی پمز ہسپتال میں شہباز گل سے ملاقات نہ ہو سکی،کل ریلی کا اعلان

    عمران خان کی پمز ہسپتال میں شہباز گل سے ملاقات نہ ہو سکی،کل ریلی کا اعلان

    اسلام آباد:سابق وزیراعظم عمران خان اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل سے ملاقات کیلئے پمز ہسپتال پہنچے جہاں پر ان کی ملاقات پی ٹی آئی رہنما سے نہ ہو پائی۔

    پمز ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود پولیس نے ہمارا راستہ روکا، پولیس نے مجھے شہباز گل سے ملاقات نہیں کرنے دی، پولیس بتائے وہ کس سے آرڈرلے رہی ہے، بتایا جائے ملک میں قانون یا ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کل شہبازگل کے لیے ریلی نکالیں گے، اسلام آباد کے لوگوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، شہبازگل پر اگر ٹارچر ہو سکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے، کل مغرب کے وقت ریلی نکالی جائے گی۔ میڈیا کا منہ بند کرکے چوروں کومسلط کیا جارہا ہے، ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے۔

    اسلام آباد پولیس

    اپنے ایک بیان میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں اور ہسپتال پراضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ عوام یا کوئی بھی شخص ملاقات کی کوشش کرکے امن وامان کی صورتحال پیدا نہ کرے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہسپتال میں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا ہے، ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہے اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔ کسی بھی لا اینڈ آرڈرکی صورتحال بننے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ شہباز گِل کی عیادت کیلئے عمران خان خود اسپتال جائیں گے۔پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان ، شہباز گل کی رہائی کیلئے ایک ریلی کی قیادت بھی کریں گے۔

    رہنما پی ٹی آئی بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ حراست میں تشدد کا مقصد عمران خان کے خلاف شہباز گِل کو توڑنا ہے، شہباز گِل کی میڈیکل رپورٹ راتوں رات بدل دی گئی، تشدد سے متعلق اسلام آباد پولیس کی تحقیقات کو نہیں مانیں گے۔

    دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے پولیس کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے انہیں پیر تک ہسپتال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو پولیس نے سخت سکیورٹی میں ہسپتال سے اسلام آباد کچہری منتقل کیا۔ شہباز گل نے عدالت میں بیان دیا کہ انہیں رات 2 بجے تک ٹیکے لگائے جاتے رہے، سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے،انہوں نے خدا کا واسطہ دیتے ہوئے ماسک طلب کیا جس پر عدالت نے انہیں فوری طور پر آکسیجن ماسک فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    پولیس نے پی ٹی آئی رہنما کے مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔ پولیس پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ بیمار شخص کا جسمانی ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا۔ شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی، ان کا کہنا تھا کہ شہباز پر تشدد کیا گیا، عدالت نے وکلائے طرفین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی جبکہ شہباز گل کو پیر تک ہسپتال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

  • عدالت پیشی، شہباز گل رو پڑے، ویڈیو وائرل

    عدالت پیشی، شہباز گل رو پڑے، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا

    شہباز گل کو دو روز قبل عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیا تو شہباز گل کی اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، شہباز گل دو روز ہسپتال میں رہے، گزشتہ شب میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دیا، آج انہیں صبح وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان بھی موجود تھے

    شہباز گل کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شہباز گل کی ایک ویڈیو عدالت پیشی کے موقع پر کی سامنے آئی ہے جس میں وہ رو پڑے ہیں اور بار بار ماسک مانگ رہے ہیں

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو  بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ لوگ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تشدد ہوا ہے،آئی جی نے تفتیش کرنے کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے،اشتہار میں کہا گیا کہ جس کسی کو تشدد کا پتہ ہے وہ آ کر بتائے،پاکستان کے انڈی پینڈنٹ ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنایا جائے، بورڈ کا خرچہ ہم برداشت کریں گے،جیل کے میڈیکل افسر نے کہا کہ شہباز گل کو بچپن سے دمہ ہے،سرکاری اسپتال اور سرکاری ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، شہباز شریف کے بارے میں بھی کمر درد کی رپورٹ دی گئی تھی، نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ بتایا گیا اب وہ مزے کر رہے ہیں،اصل حکومت لندن سے ہو رہی ہے ، عمران خان کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بابر اعوان نے شہباز گل پر تشدد کی انکوائری سے متعلق اشتہار کو مسترد کر
    دیا اور کہا کہ پولیس نے ٹارچر کیا، وہ خود کیسے کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں؟

    بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد پولیس
    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شہباز شبیر کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ ،میڈیکل بورڈ نے ملزم شہباز شبیر کو طبی طور پر صحت مند قرار دے دیا۔ ملزم شہباز شبیر حیلے بہانوں سے خود کو بیمار ظاہر کر رہے ہیں۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس تمام تر امور قانون کے مطابق مکمل کر رہی ہے بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔حیلے بہانوں سے قانون کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسد عمر کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں درخواست گزار کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ ایک میڈیکل رپورٹ آئی تو کیا میڈیکل بورڈ نہیں بناہے؟ ایک درخواست پر قائم مقام چیف جسٹس نے آئی جی کو نوٹس کیا تھا اور وہ پیش بھی ہوئے اب آپ یہاں ایک اور درخواست میں میڈیکل بورڈ بنانے کی بات کررہے ہیں بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ ہم غیر جانبدار ڈاکٹرز پرمشتمل اسپیشل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں میڈیکل بورڈ میں شامل کچھ ڈاکٹرز کی بعض بیماریوں میں ایکسپرٹیز ہی نہیں ہیں ڈاکٹرزکوئی بھی ہوں مگر ایک پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں چاروں صوبوں سےڈاکٹرز شامل کیے جائیں عدالت نے کہا کہ اگر ہم اس معاملے کو سیکرٹری داخلہ پر چھوڑ دیں تو بہتر نہیں ہوگا بابر اعوان نے کہا کہ غیر جانبدار پرائیوٹ ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں سرکاری ڈاکٹرز کا نہیں عدالت شہباز گل کی زندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے،عدالت نے شہباز گل کے طبی معائنے کے لیے اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    ذرائع کے مطابق فٹ قرار دیئے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی تھی میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا رکھا تھا ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ