Baaghi TV

Tag: شہباز

  • ‏یہ کشمیر اور پاکستان کاترجمان بننےکی بجائےفرح گوگی کا ترجمان بن گیا،حمزہ شہباز

    ‏یہ کشمیر اور پاکستان کاترجمان بننےکی بجائےفرح گوگی کا ترجمان بن گیا،حمزہ شہباز

    گجرات:‏یہ کشمیر اور پاکستان کاترجمان بننےکی بجائےفرح گوگی کا ترجمان بن گیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بندوبست نہ کیا گیا تو یہ پاکستان کو کھاجائے گا۔

    گجرات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ قائد نواز شريف اور شہباز شريف نے مخلوق کی خدمت کرنا سکھايا، ميری کابينہ ہونہ ہو،چينی کی قيمت 70روپے کلو پر لاؤں گا۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کبھی سازش کا رونا روتے ہو کبھی کہتے ہو جان کو خطرہ ہے، تم نے ايک کروڑ نوکرياں دينے کے بجائے لاکھوں کو بيروزگار کرديا، کيا رياست مدينہ ميں بنی گالہ کی ناجائز تجاوزات کو ريگولرائز کرايا جاتا تھا۔ عمران خان تم قوم کو دھوکا دے رہے ہو۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان تم نے پاکستانی معيشت کو ڈبوديا، جھوٹے شعبدہ باز نے چار سال غريبوں کا خون چوسا، آج بھی جھوٹی سازش کا رونا روکر پاکستان کو بدنام کررہا ہے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اسے تکلیف ہوتی ہے سپریم کورٹ کے دروازے رات12بجے کیوں کھلے، آئين کی سربلندی کيلئے رات ميں عدالتيں کھل سکتی ہيں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم انتقام نہيں ليں گے لیکن اگر تم باز نہ آئے تو تمہارے ليے جيلوں کے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان توشہ خانہ کا حساب دينے سے چھپ رہا ہے، يہ کشمير کا ترجمان تونہ بن سکا مگر فرح گوگی کاترجمان بن گيا، آج بھی جھوٹی سازش کارونا روکر پاکستان کو بدنام کررہا ہے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ شريف فيملی کی کرپشن ڈھونڈنے کيلئے تم الٹے ہوگئے، ايک پائی ثابت نہ کرسکے، عمران خان کی چھتری کے نيچے بيٹھ کر مافيا عوام کا خون چوستی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 20 کلو آٹے کيلئے ماؤں، بزرگوں کو لائنوں ميں لگايا، ميں پورے پنجاب ميں آٹا اور گھی سستا کردوں گا۔

  • ایف آئی اے کی شہباز شریف اور حمزہ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس واپس لینےکی تردید

    ایف آئی اے کی شہباز شریف اور حمزہ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس واپس لینےکی تردید

    لاہور:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس واپس لیے جانے کی تردید کی ہے ۔

    ترجمان ایف آئی اےکا کہنا ہےکہ لاہور میں ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف کیس واپس نہیں لیا گیا، اس حوالے سے جعلی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق عدالت میں کارروائی جاری ہے،سماعت کی اگلی تاریخ 14مئی ہے، جعلی خبرپھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہےکہ 11 اپریل کوکیس پراسیکیوٹر نے پراسیکیوٹر کی تبدیلی کی درخواست جمع کرائی تھی، درخواست جمع ہوتے وقت نئے وزیراعظم نے حلف نہیں اٹھایا تھا، رائےطاہر کو 22 اپریل کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا، یہ معاملہ رائے طاہر کے ایف آئی اے میں آنے سے پہلے کے وقت سے متعلق ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق پراسیکیوٹر کی تبدیلی معمول کی بات ہے، پچھلی حکومت کے دور میں بھی اسی کیس میں کئی بارپراسیکیوٹر تبدیل کیے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ 11 اپریل کی سماعت کے حکم نامے میں اسپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے پی ٹی آئی حکومت کے مقرر کردہ ایف آئی اے کے وکیل سکندر ذوالقرنین کی درخواست ریکارڈ کا حصہ بنائی تھی ، سکندر ذوالفقار نے کہا تھا کہ ملزمان شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم اور حمزہ شہباز پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے جارہے ہیں، متعلقہ حکام اب ملزمان کے خلاف کیس چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کے معاشی وفد کی اہم ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ

    وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کے معاشی وفد کی اہم ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ

    لاہور:وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ‘یو-اے-ای’ کے تسلسل میں متحدہ عرب امارات کے معاشی وفد نے 3 مئی 2022 کو پاکستان کا اہم دورہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں عیدالفطر کی مبارک دی اور عید کی تعطیلات میں پاکستان آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور خاص طور پر معاشی محاذ پر ان تعلقات کو بلندیوں کی ایک نئی سطح پر لیجانے کی خواہشمند ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عید الفطر کی تعطیلات میں معاشی وفد کی آمد متحدہ عرب امارات (یو-اے-ای) کی حکومت کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے اس برادرانہ طرز عمل کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہے اور امارات کے بھائیوں کی پاکستان میں خاطر خواہ اور نمایاں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کو خوش آمدید کہتا ہے۔

    ملاقات میں دونوں اطراف نے تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، پٹرولیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ معاشی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

    اطراف نے سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق دونوں ممالک کی قیادت کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • وزیراعظم نے ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کے لیے تجاویز مانگ لیں

    وزیراعظم نے ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کے لیے تجاویز مانگ لیں

    اسلام آباد:وزیر اعظم نے پنجاب کے اسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کیلئے تجاویز مانگ لیں وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب کے تمام اسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی مریضوں تک یقینی بنانے کے حوالے سے تجاویز مانگ لیں۔

    اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا جو دوگھنٹے جاری رہا ۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل ،سابق وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق ،خواجہ عمران نذیر اور پنجاب کے محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور اسپتال میں غریبوں کا مفت علاج کیا جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ عید کے بعد آٹے کی فراہمی کو عوام تک سستا بنایا جائے۔

    ادھر آج وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کیا، ا نتظامات کا جائزہ لیا اور قیدیوں کی سزاؤں میں 60 روز کی معافی، سپاہیوں کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت کے دورہ کے موقع پر سکیورٹی وارڈ ٹو میں قائم مرکز تدریس القرآن و حدیث کا افتتاح کردیا، اس وارڈ میں حمزہ شہباز 22 ماہ قید میں رہے۔

    اپنے دورہ کے موقع پر وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کا قیدیوں کی سزاؤں میں 60 روز کی معافی اور جیل کے سپاہیوں کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جیل کے سپاہیوں کو پولیس کے سپاہیوں کے برابر تنخواہ ملے گی۔

    وزیراعلیٰ نے قیدیوں میں عید کے تحائف تقسیم کیے، جیل کے لان میں پودا بھی لگایا جبکہ حمزہ شہباز کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، وزیراعلیٰ نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

    اراکین پنجاب اسمبلی عبد العلیم خان، خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق، حافظ محمد نعمان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • عمران خان کیخلاف آئین شکنی پر کاروائی :بلاول نے بڑا اعلان کر دیا

    عمران خان کیخلاف آئین شکنی پر کاروائی :بلاول نے بڑا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آئین کا آج تحفظ ہوا ہے تمام ادارے جو متنازعہ ہو چکے تھے آج جمہوریت آئین کا فتح ہوا اور 2018 کا داغ کافی حد تک دھل چکا اب عدم اعتماد کی جانب بڑھیں گے جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے اپوزیشن کا جو مقصد تھا کامیاب ہو چکا ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے میں اور آصف زرداری شہباز شریف کو ابھی مبارکباد دینے جائیں گے کارکنان کو کہتا ہوں کہ جمہوریت کی جیت اور سیلکٹڈ راج کے خاتمے کا جشن منائیں اپنے اپنے علاقے میں افطاری رکھیں اور عوام کو جشن میں شریک کریں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ اپوزیشن یا حکومت کے حق میں نہیں آئین کے حق میں ہوا ہے پاکستان کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یہ فیصلہ لکھا جایے گا پاکستان کی عدالت میں آج جمہوریت کی فتح ہوئی آئین کی فتح ہوئی

    ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن ملکر مشترکہ فیصلے کر ے گی شہباز شریف کو ملیں گے ۔عمران خان کے خلاف آئین توڑنے کے حوالہ سے کاروائی کا فیصلہ متحدہ اپوزیشن ملکر کرے گی اب ہم حکومت بنانے جا رہے ہیں اور سب پارٹیاں متحد ہیں ۔جہان تک بیرونی سازش کا سوال ہے ایسے الزامات لگتے رہے ہیں انکو رد کرتے ہیں اب شفاف الیکشن کی جانب بڑھیں گے پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے نہیں ہوا کہ جمہوری طریقے سے وزیراعظم کو گھر بھیجا جائے پھر بھی جمہوری راستہ بھی اپنایا جائے گا

  • ان لله وان اليه راجعون:شہازشریف کیطرف سے    قوم کی اس قدرتذلیل:کامران خان بھی بول اٹھے

    ان لله وان اليه راجعون:شہازشریف کیطرف سے قوم کی اس قدرتذلیل:کامران خان بھی بول اٹھے

    لاہور:ان لله وان اليه راجعون:شہاز شریف کی طرف سےقوم کی اس قدر تذلیل:بھکاری قراردیا،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر شہبازشریف کی طرف سے پاکستانی قوم کو بھکاری قرار دینے اورپھراپنی اس حرکت پرڈھٹائی کے ساتھ اکڑ جانے کو جہاں قوم کوگہرے صدمے میں ڈبو دیا ہے وہاں اس ملک کے پڑھے لکھے لوگ ، بذرگ رہنما اور پاکستانی کے سینیئرصحافی بھی چُپ نہ رہ سکے اور شہبازشریف کی طرف سے قوم کی انتہائی تذلیل پر گہرے دُکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے

    اس حوالے سے ویسے تو ہر پاکستانی کی زبان سے شہبازشریف اور ن لیگ کے اس نظریے کی مذمت کی جارہی ہے لیکن کچھ سینئر صحافیوں نے بھی شہبازشریف کی اس حرکت کو قوم کی بہت زیادہ تذلیل قرار دیا ہے

     

     

    پاکستان کے سینئر صحافی کامران خان کہتے ہیں کہ دنیا عمران خان کو یاد کرے گی اس شخص نے اپنی جان پردُکھ برداشت کرلیے لیکن اپنی قوم کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کو بھی پھوڑ دیا

    کامران خان کہتے ہیں کہ آسانیاں ، تنگیاں ، خوشیاں اور غمیاں یہ آتی رہتی ہیں لیکن جس چیز کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے وہ خودداری ہے ، عمران خان نے قوم کو ایک سمت دی دنیا میں عزت دلوائی لیکن اس کے مقابلے میں ن لیگ اور ن لیگ کے قائدین اپنی قوم کی تذلیل پر لگے ہوئے ہیں ، خواجہ آصف تو اپنی جگہ لیکن ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے جو اس قوم کی تذلیل کی ہے اب اس کی تلافی معذرت سے بھی نہیں ہوتی کیوں کہ یہ کسی انسان کی اندر کی کیفیت ہوتی ہے اور یہی کسی انسان کی حقیقت ہوتی ہے

    کامران خان ایک اور جگہ کچھ ایسے ہی دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ "شہباز شریف صاحب رحم کریں آپ شاید چند روز میں وزیر اعظم پاکستان ہوجائیں پاکستان اور پاکستانیوں کو بھکاری قرار دے کر اپنے دور کی ابتدا نہ کریں

    کامران خان کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے قومی غیرت و حمیت کے جاری بیانیہ کے وقت شہباز شریف کا امریکہ کے حوالے سے پاکستان کو بھکاری قرار دے کر فاش غلطی کی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوم کو جاگ کررہنا ہے کہ کون امریکی وفادار ہیں اور کون قوم کے وفادار ہیں ، اقتدار تو آنے جانے والی چیز ہے لیکن جو اقدار اورکردار عمران خان نے دیا ہے اس سے پہلے کسی حکمران نے نہیں دیا

  • اناں ونڈےریوڑیاں،مُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہباز       وزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی:اطاعت فرض نافرمانی گناہ

    اناں ونڈےریوڑیاں،مُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہباز وزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی:اطاعت فرض نافرمانی گناہ

    لاہور:اناں ونڈے ریوڑیاں،تےمُڑمُڑدیوےاپنڑیاں نوں:شہبازوزیراعظم؛حمزہ وزیراعلٰی :اطاعت فرض نافرمانی کبیرہ گناہ ، اس شاہ فرمان کی پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے ن لیگ کے ترجمان حمزہ شہباز ہوں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ پنجاب کے امیدوار ہوں گے، پارلیمانی پارٹی نے حمزہ شہباز کے نام کی تجویز دی تھی اور ن لیگ کے قائد نوازشریف نے حمزہ شہباز کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

    پنجاب میں سیاسی ماحول گرم ہوتے ہی نوازشریف نے حمزہ شہبازشریف کو وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے نامزد کردیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے حمزہ شہباز کے نام کی سفارش کی تھی۔ پارلیمانی پارٹی کو حمزہ شہباز کے علاوہ دوسرے نام کا بھی کہا گیا۔ لیکن وہ نام نوازشریف نے سختی سے مسترد کردیا ، پنجاب کی پارلیمانی پارٹی نے دوبارہ بھی متفقہ طور پر حمزہ شہباز کا نام تجویز کیا۔

    اس سے پہلے کل زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ کومیدان میں اتارا ہے اور کہا ہے کہ اب لوگ میری بیٹی کی اطاعت کریں اور سیاست میں ان کو اپنا لیڈرقبول کرلیں

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود اور خواجہ عمران نذیر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

    خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ فلور کراسنگ والی کوئی بات نہیں ہے، لوگوں نے اپنے حلقوں میں بھی واپس جانا ہے۔ ہم انشاء اللہ کامیابی حاصل کریں گے۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد پنجاب کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران تحریک مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں اپنا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سے دھڑا دھڑ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مختلف اراکین صوبائی اسمبلی سے بھی ان کی ملاقاتیں جاری ہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک ہم خیال گروپ جو غضنفر چھینہ کی قیادت میں قائم ہے جسے چھینہ گروپ بھی کہا جاتا ہے نے پرویز الٰہی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ پرویز الٰہی آئندہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔

    پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ حکومتی اتحاد میں تحریک انصاف کے پاس 183 اراکین ہیں، ق لیگ کے پاس 10 اور راہ حق پارٹی کے پاس ایک رکن ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ ن کے پاس 165 اراکین، پیپلز پارٹی کے پاس 7 کا ہندسہ ہے اور ان کی کل تعداد 172 بنتی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلٰی بننے کے لیے تحریک انصاف کے تمام اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

  • شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    اسلام آباد:شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لئے سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی اقتدار بچانے کے لئے پاکستان کو نشانے پر لے آئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطاب ختم ہوگیا ہو تو 172 ارکان پورے کریں، آپ کی کرپشن، نالائقی اور نااہلی نے ملک کو معاشی، سماجی، خارجہ تباہی سے دوچار کیا، عمران نیازی کی تقاریر پر پابندی لگائی جائے، وہ ملک کے سفارتی تعلقات تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کے خطاب تک عوام اور پارلیمنٹ کو خط نہیں دکھایا گیا، صرف مندرجات بتائے جا رہے ہیں، خط نہ دکھانے کا مطلب ہے کہ کوئی خط نہیں، عمران نیازی ہمیشہ کی طرح اب ایک نیا جھوٹ بول رہے ہیں، کرپشن، ریاست مدینہ کے بیانیوں کے بعد اب سازشی خط کا بیانیہ لائے ہیں، عوام انہیں اور ان کے ہر جھوٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ دوگھنٹے جلسے میں اور ایک گھنٹہ قوم سے خطاب میں جس خط کا ذکر کیا، وہ خط ہے ہی نہیں، ایک سفارتی کیبل کو سازش کا رنگ دے کر پیش کیا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ن لیگ ، پی پی اور فضل الرحمن کے دور میں امریکی پاکستانیوں کوڈرون حملوں مارتے تھے اور یہ پاکستانیوں کے قتل عام پرخاموش رہتے تھے بلکہ ان کو کوئی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی ، یہ بیان سُن کرشہبازشریف جزباتی ہوگئے اور پھراس قسم کے الزامات کا سلسلہ شروع کردیا

    اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیا اور لکھا کہ یہ ہر روز ثابت کرتا ہے کہ یہ اس کرسی کے قابل نہیں تھا۔

  • واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ

    واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ

    اسلام آباد:واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں تاریخی اجلاس اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے اور آج رات برادرملکوں کے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ،ادھرپاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کے سربراہ شہازشریف نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے کہ جس کو جان کرہرذی شعورپاکتسانی دنگ رہ گیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔ پوری اپوزیشن بالعموم اور ن لیگ بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔

    شہبازشریف کے ان الفاظ کے بارے میں جان کرپاکستانی جہاں دنگ رہ گئے ہیں وہاں ان کا ردعمل بھی قابل دید نظرآرہا ہے ، شہبازشریف نے بیان داغا ہے اس کے حوالے سے سوشل میڈیا پرایک انتہائی نپا تلا ردعمل سامنے آرہا ہے ،

     

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب حُسن اتفاق ہے کہ ایک دوسرے کو چورکرپٹ اوردونمبر کہنے والے سب اکٹھے ہوگئے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ دھمکی دے دی کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس خراب کرنے کی کوشش کریں گے

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد میں آصف علی زرداری کے ساتھ ملک کردھمکیاں دی جاتی ہیں کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس نہیں‌ ہونے دیں گے ،اورعدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌ کہ اگراجلاس نہ بلایا تو اسلام آباد میں آو آئی سی کا اجلاس نہیں ہونے دیں‌ گے دوسری طرف میاں شہبازشریف بلاول کے ساتھ ملکر پاکستان کے اس تاریخی ایونٹ کو ناکام کرنے کی دھمکیاں دے رہیں اور ساتھ ہی ساتھ قوم کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹے الزامات تراشے جارہے ہیں‌

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیر کے روز عدم اعتماد پر کارروائی نہ ہوئی تو دھرنا دیں گے، پھر دیکھتے ہیں او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

    سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والے اپوزیشن کے ظہرانے میں شرکت کی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل، بشری گوہر، جہانزیب بلوچ، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان، نیئر بخاری، رضا ربانی، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا بھی طہرانے میں موجود تھے۔

    اجلاس کے دوران رہنماؤں کے درمیان تحریک عدم اعتماد، حکومتی بوکھلاہٹ سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر اہم ترین مشاورت کی گئی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

  • شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست
    کوئٹہ: ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر امان اللہ کنرانی نے بلوچستان ھائی کورٹ کوئٹہ میں ایک آئینی درخواست میں کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کراچی گورنر ھاوس میں منگل کے 9 مارچ کو ایک اجتماع میں قابل اعتراض تقریر کی ہے جس میں اس نے پاکستان کے تین معزز شہریوں جناب آصف علی زرداری صاحب کو اپنی بندوق کی تیر کے پہلے نشانے پر رکھنے کی دھمکی دی جبکہ جناب شہباز شریف صاحب کو بوٹ پالشی و چڑاسی قرار دیا اسی طرح مولانا فضل الرحمن صاحب کے نام کو بگاڑ کر فضلو کے نام سے پکار کر ان سب کا تمسخر اُڑایا و پھبتیاں کسی ہیں

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جو آئین کے تحت اس کے اندر حاکمیت اللہ کی ہے اور پاکستان آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے اور حکومت آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت اسلامی اقدار کی پابندی و ترویج و نفاذ کا پابند ہے وزیر اعظم ملک کا آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت چیف ایگزیکٹو ھونے کے ناطے اور آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار و قابل مواخذہ ہے مگر اس نے منگل کے روز اپنی تقریر میں شہریوں کی تضحیک کرتے ھوئے تمسخر اُڑا کر پھبتیاں کسی ہیں اور نازیبا القابات و الفاظ ادا کئے ہیں جس کی قرآن شریف کے سورہ الحجرات کے آیت 10 کے اندر ممانعت کے واضح احکامات موجود ہیں اس کے باوجود بحیثیت مسلمان و وزیر اعظم وہ قرآن کے احکامات کی سورہ بقرہ کے آیت 284 کے تحت پابند ہے لہذا وزیراعظم نے نس قرآن و آئین کے تحفظات آریٹکل 4,9,10 A,14,سمیت آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری و احترام ظاہر نہیں کی جس کی بنا پر وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)d,e ,f آرٹیکل 62-b اور آرٹیکل 63 (g)کی خلاف ورزی کرتے ھوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 91(5)جدول 3 میں درج اپنے حلف کی پاسداری کی بجائے پامالی کے مرتکب ھوئے ہیں

    لہذا وہ اب اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اھل نہیں رہے اس لئے عدالت عالیہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کاروائ عمل میں لاتے ھوئے ان کی تقریر کو نس قرآن و آئین کے دفعات کی روشنی میں خلاف ورزی قرار دے کر آئین کے آرٹیکل کے 63-g کے تحت اختیارات کو بروئے کار لائے ان کو اس عہدے سے نااھل قرار دیکر پاکستان میں ایک نئے وزیراعظم کے انتخاب کرنے کا حکم صادر کرے