Baaghi TV

Tag: شہباز

  • فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    لاہور:فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری نے پتہ پھینک دیا ،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے کا فیصلہ کر لیا اور کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف نے بھی لیگی صدر کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن وفد کے ہمراہ پہنچے، وفد میں اکرم درانی، مولانا اسعد الرحمان اور مولانا امجد سمیت دیگر شامل تھے۔

    تھوڑی دیر بعد سابق صدر آصف علی زرداری بھی وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، ان کے وفد میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ سمیت دیگر شامل تھے۔

    آصف علی زرداری کی آمد سے قبل مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی، جس میں شہبازشریف نے سربراہ پی ڈی ایم کو گزشتہ روز پیپلزپارٹی سے ہونے والی ملاقات میں اعتماد میں لیا۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک عدم اعتماد سمیت حکومت کے خلاف مختلف امور پر غور کیا۔دوسری طرف تین بڑی جماعتوں کی بیٹھک کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،

    ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کی حکمت عملی پر مشاورت کی۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم نے پہلے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کر لیا، سپیکر اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد بعد میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا ٹاسک سابق صدر آصف علی زرداری کے سپرد کر دیا گیا۔

    اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو حکومتی اتحادی جماعتوں سے معاملات طے کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور ویڈیو لنک پر موجود نواز شریف نے بھی لیگی صدر شہباز شریف کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں قائدین نے اپنے اپنے سیاسی کارڈز ایک دوسرے سے شیئر کئے، شہباز شریف نے نمبر گیم کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کا تفصیلی بریفنگ دی۔

  • نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی    :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    لاہور:نہ جی بھرکےدیکھا نہ کچھ بات کی :بڑی آرزو تھی ملاقات کی:شہبازشریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ختم ،اطلاعات کے مطابق بلاول ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ختم ہو گئی، آصف زرداری سےملاقات کےبعد اپوزیشن رہنما واپس روانہ ہو گئے۔

    ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے بلاول ہاؤس میں آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں احسن اقبال، راناثنااللہ، سعد رفیق شامل تھے جب کہ جے یوآئی کے اکرم درانی اور مولانااسعدنے بھی شرکت کی۔

    آصف زرداری نےشہبازشریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیے میں شرکت کے بعد جےیوآئی(ف)کا وفدبھی واپس روانہ ہو گیا۔اہم ملاقات کی کوریج کے لیے شام سے ہی بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا کی ٹیمیں موجود تھیں تاہم تمام اپوزیشن رہنما میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمان کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات بےنتیجہ رہی اسی لیے تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی فائنل نہ ہوسکی۔ملاقات میں شہبازشریف کی رہائش گاہ پرکل دوبارہ بیٹھک پراتفاق کیاگیا ہے۔ کل ہونےوالی ملاقات میں مولانافضل الرحمان بھی شرکت کریں گے۔

    ادھر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کافی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور خاص طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی سے لانک مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ لانک مارچ سے اپوزیشن تقسیم ہوگی۔

  • راجہ پرویز اشرف اور شہبازشریف کسی بھی وقت گرفتار ہوسکتے ہیں:اہم شخصیت کا دعویٰ

    راجہ پرویز اشرف اور شہبازشریف کسی بھی وقت گرفتار ہوسکتے ہیں:اہم شخصیت کا دعویٰ

    لاہور:راجہ پرویز اشرف اور شہبازشریف کسی بھی وقت گرفتار ہوسکتے ہیں:اہم شخصیت کا دعویٰ ا،طلاعات کے مطابق پی این این پر گفتگو کرتے ہوئے کھرا سچ کے میزبان سنیئر صحافی مبشرلقمان نے وہاں پینل میں موجود پی پی اور نون لیگی رہنما سے پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ چند دن تک شہبازشریف اور راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کیا جاسکتا ہے

    اس پر ن لیگ کی مریم اورنگزیب نے عمران خان کے فیصل آباد کے خطاب کے حوالے سے گفتگو کے ساتھ اس طرف بات کرنا چاہی تو اس دوران سینئر صحافی مبشرلقمان نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق شہبازشریف اور راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کے لیےکچھ لوگوں کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے

     

    مبشرلقمان نے اس کی وجہ بھی بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار کرنے والوں کا خیال ہے کہ وہ ان دو احباب کو اس وقت تک گرفتار کریں جب تک الیکشن نہیں ہوجاتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ان کو بتانےوالوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان دونوں احباب کی گرفتاری کا فیصلہ ہوچکا ہے

    مبش لقمان نے اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ الیکشن وقت سے پہلے ہوں اور اس صورت میں حکومت کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ طریقہ کار استعمال رکے

  • عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    لاہور:عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کی چودھری برادران سے ملاقات کا امکان،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور لیگی صدر شہباز شریف کا چند روز میں ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ چودھری برادران سے آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے رہنما اس سے قبل ملاقات کر چکے ہیں، شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے سیاسی رابطوں کا اختیار دیا ہے۔

    دوسری طرف سیاسی منظر نامہ پر بڑی سیاسی ملاقات کا امکان ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی آئندہ چند روز میں چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ملاقات کا امکان ہے۔ لیگی صدر چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی چوہدری برادران کیساتھ ملاقات میں سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    لاہور:پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا ،اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    لاہور :طاقتورحمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع،،اطلاعات کے مطابق بینکنگ جرائم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مقدمات میں عبوری ضمانتوں کا تحریری فیصلہ جاری کرديا ہے۔

    تحریری فیصلے کے مطابق شہباز شریف اورحمزہ شہبازکی ضمانت میں21جنوری تک توسیع کی گئی ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز متعلقہ عدالت سے عبوری درخواست ضمانت کے لیے رجوع کریں۔

    درخواست گزار کے وکلا کی استدعا پر متعلقہ عدالت سے رجوع کی مہلت دی گئی ہے، ضمانت کے لیے مہلت دینے پر ایف آئی اے وکلاء کو اعتراض نہیں ہے۔

    فیصلہ کے مطابق ایف آئی اے نے اس عدالت کا دائرہ اختیار نہ ہونے پر چالان واپس لینے کی استدعا کی گزشتہ روزعدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے دائرچالان واپس کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی بنکنگ جراٸم کورٹ کے جج راٸے طاہر صابر نے شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے کو چالان واپس کردیا۔ عدالت نے سات روز کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    قبل ازیں بینکنگ جرائم کورٹ میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر مل کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت نے شہبازشریف کی حاضری معافی درخواست منظور کرلی۔

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے

  • سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    مری :سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام نے حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالنبہ کردیا ،اطلاعات ہیں کہ سانحہ مری کی ذمہ دارموجودہ مری انتظامیہ نوازشریف دورحکومت سے بڑی طاقتور اور خودمختارانتظامیہ ہے جس کے بڑے بڑے عہدوں پرتبادلے اور تقرریاں نوازشریف،مریم نواز اورشہبازشریف کی خواہش پر کئے گئے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس انتظامیہ کی مری اور مضافات کے علاقوں میں گرفت کو کنٹرول کرنے کی بڑی کوششیں کی مگراس دوران بڑے بڑے لوگوں نے اس کوشش کو بریک لگائے رکھی یا پھرگھوم گھما کے وہی لوگ مختلف علاقوں میں تعینات کرواتے رہے اور اس میں پنجاب حکومت کی اپنی بھی غلطی اورسُستی ہے کہ وہ اس لابنگ کو سمجھ نہ سکی ،

    ادھر جب سے سانحہ مری رونما ہوا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے ،جس میں عوام پوچھ رہےہیں کہ بار بار مری انتظامیہ کی بات ہورہی ہے ہے پہلے یہ تو بتایا جائے کہ یہ مری انتظامیہ کیا چیز ہے ، اس انتظآمیہ کے شعبے کون کون سے ہیں اور ان اداروں کے سربراہان کون ہیں اور ان کو کن کی خواہش پر وہاں تعینات کیا گیا

     

    اس حوالے سے عوام الناس خصوصا مری ، ہزارہ اورایبٹ آباد ، گلیات اور دیگرعلاقوں کے لوگ اپنے سوشل میڈیا پیجز پریہ رونا رو رہے ہیں کہ یہ وہی پرانی انتظآمیہ ہے سوائے چندنئے لوگوں کے جن کونوازشریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کی خواہش پرتعینات کیا گیا تھا اور آج بھی وہی ان علاقوں میں بااختیار اور بااثرہیں

    بعض نے بڑے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ مری انتظآمیہ میں 80 فیصد سے زائد موجودہ اور سابق ن لیگی وزرا ، ارکان اسمبلی اور دیگربااثرشخصیات کی خواہش پر تعینات ہیں اور وہ اپنے محسنوں کے وفادار بھی ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نااہلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کو آج تک یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مری انتظامیہ ایک خاص فکراورایک خاص گروہ سے تعلق رکھتی ہے

    ادھر اسی حوالے سے ایک اہم شخصیت نے فیس بک پرایک اشارہ دیا ہے جوکہ بہت اہم ہے ،یہ ہیں ظفر حجازی جوکہ کہتےہیں کہ مری انتظامیہ میں وہی ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں اور ان کا ہی یہاں ہولڈ ہے اوراثر ہے ، مری انتظآمیہ میں شامل انہیں میں سے کسی کے بھتیجے ، بھانجے،بیٹے اوربہت قریبی وفادار ہیں جواس وقت مری پرقابض ہیں اور اپنی بے رحمانہ طرز زندگی سے لوگوں کو مار ررہے ہیں

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت ساری مری انتظامیہ کی جاب ہسٹری اور سٹیٹس قوم کے سامنے لائے

  • حکومت استعفیٰ دے…شہباز شریف کا ایک بار پھر مطالبہ

    حکومت استعفیٰ دے…شہباز شریف کا ایک بار پھر مطالبہ

    حکومت استعفیٰ دے…شہباز شریف کا ایک بار پھر مطالبہ

    اپوزیشں لیڈر و رہنما مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ ‏رواں ماہ تجارتی خسارہ ریکارڈ5 ارب ڈالرسے زیادہ ہونا معاشی تباہی کی علامت ہے ،

    شہباز شریف‏ کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے میں ریکارڈ اضافہ درآمدات برآمدات میں عدم توازن کا ثبوت ہے موجودہ مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں تجارتی خسارہ ریکارڈ 20 ارب 648 ملین ڈالر کا ہو چکا ہے،ڈالر 180 کو عبور کرچکا ہے، مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے،حکومتی اقدام سے مہنگائی میں اضافہ کے ہولناک نتائج نکلیں گے ، مہنگائی کا خود حکومت اعتراف کررہی ہے،مشیر خزانہ کبھی مہنگائی میں کمی اور کبھی اضافے کے متضاد بیانات دے رہے ہیں،کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان سستا ترین ملک ہے اور کبھی ملبہ عالمی حالات پر ڈالا جاتا ہےمنی بجٹ مسلط کرنے اور قوم کے مستقبل سے کھیلنے کے بجائے حکومت استعفیٰ دے

    بڑھتی ہوئی درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ‏معیشت وینٹی لیٹر پر ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت سوئی ہوئی ہے، درآمدات آسمان کو چھو رہی ہیں، جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 29.9 بلین ڈالر رہیں، نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.91 بلین ڈالر بڑھا ہے، رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7 ارب 8 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے،‏کسی بھی معاشی اشارے میں بہتری نہیں،3 سال میں ملک اور معیشت کا جتنا برا حال ہوا، 74 سال میں نہیں ہوا،حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے پاکستان کو گندم، چینی اور دیگر چیزیں بھی درآمد کرنی پڑ رہی، تبدیلی اور نیا پاکستان کے نام ملک و معیشت کا دیوالیہ قبول نہیں ہے،

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی پر مقدمات ہیں، خورشید شاہ کا دعویٰ

    شبر زیدی کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی گئی.

    پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہے.حقیقت یہی ہے. شبر زیدی کا انکشاف

  • "مائی جھوٹاں والی”مریم اورنگزیب شریف فیملی کی خاطراپنی آخرت بھی تباہ کررہی ہیں:شہبازگل

    "مائی جھوٹاں والی”مریم اورنگزیب شریف فیملی کی خاطراپنی آخرت بھی تباہ کررہی ہیں:شہبازگل

    لاہور:”مائی جھوٹاں والی”مریم اورنگزیب شریف فیملی کی خاطراپنی آخرت بھی تباہ کررہی ہیں:اطلاعات کے مطابق ترجمان وزیر اعظم، معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ہے کہ بِلا ناغہ پروپیگنڈہ اور جھوٹ پھیلانا مریم اورنگزیب کی ڈیوٹی ہے۔

    ڈاکٹر شہباز گِل نے مریم اورنگزیب کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ نا اہل درباریوں کو رٹے رٹائے بیانات کے بجائے آقاؤں کے چوری کی رسیدیں پیش کرنی چاہیے، بِلا ناغہ پروپیگنڈہ اور جھوٹ پھیلانا مریم اورنگزیب کی ڈیوٹی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی بہترین خارجہ پالیسی کے باعث پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی جانب ہے، پاکستان کو 41 سال بعد او آئی سی کی کانفرس کی سربراہی کا موقع ملا ہے۔

    ڈاکٹر شہباز گِل کا کہنا تھا کہ او آئی سی کانفرس کی سربراہی پاکستان کو ملنا ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے فخر جبکہ کرپٹ الائنس کیلئے باعثِ تشویش ہے، او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا پاکستان میں آخری اجلاس 1981 میں ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پھر شریفوں اور زرداریوں کی باریوں کی سیاست نے پاکستان کو تنہا کر دیا، 5 سال تک وزیر خارجہ نہ ہونے کے باعث پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے والوں پر آج سَکتَہ طاری ہے۔

    ترجمان وزیر اعظم، معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل کا مزید کہنا تھا کہ عالمی نوعیت کے تقریب کے دنوں میں نااہلوں کی تنقید انکی گھٹیا سیاست کی غماز ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو کرپٹ، چور اور مافیا کا غلام بنا دیا ہے، عمران صاحب الزام دوہرانے سے وہ سچ ثابت نہیں ہوتے، ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل آپ کو کرپشن کا انٹر نیشنل سرٹیفیکیٹ دی چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن میں 111 سے 124 نمبر پر عمران صاحب آپ کی حکومت میں پہنچا ہے، عوام کو کرپٹ، چور، مافیا، کارٹلز کا غلام بنا دیا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران صاحب 22 سال سے آپ الزام لگا رہے ہیں، 4 سال سے حکومت میں ہیں لیکن ایک الزام ثابت نہیں ہوا، عدالتوں کے فیصلے عمران صاحب کو جھوٹا ثابت کر چکے ہیں۔