Baaghi TV

Tag: شہداء

  • عمر کی طرح میری بھی جان اس مُلک کے لئے حاضر ہے۔کیپٹن عمر شہید کی بیوہ کے تاثرات

    عمر کی طرح میری بھی جان اس مُلک کے لئے حاضر ہے۔کیپٹن عمر شہید کی بیوہ کے تاثرات

    عمر کی طرح میری بھی جان اس مُلک کے لئے حاضر ہے۔کیپٹن عمر شہید کی بیوہ کے تاثرات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے جوان کیپٹن عمر فاروق چیمہ شہید کی بیوہ کا کہنا ہے کہ عمر کی شہادت پر ہم نے الحمد للہ کہا

    بیوہ کیپٹن عمرفاروق چیمہ شہید کا کہنا تھا کہ میں کیپٹن عمر فاروق چیمہ شہید کی بیوہ ہوں۔ کیپٹن عمر فاروق چیمہ شہید نے 14 اکتوبر 2020 کو شُمالی وزیرستان میں شہادت پائی عمر ایک بہت ہی بہادر آفیسر تھے۔عمر کی شہادت کا جب ہم لوگوں کو پتہ چلا تو اُس وقت تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی لیکن یہ ہے کہ ہم لوگوں نے الحمداللہ کہا۔14مارچ سے14 اکتوبر تک سات ماہ کا وقت تھا۔اس میں، میں عمر کے ساتھ رہی۔عمر کی شہادت کے ایک ماہ بعد میری بیٹی پیدا ہوئی۔ اُس کا نام عمر بتا کے گئے، میں نے اُن کی مر ضی سے رکھا۔عمر کی شہادت سے چند روز پہلے عمر کے دوست نے عمر کو کال کی کہ آپ کا وزیرستان سے واپس آنے کا کیا پروگرام ہے؟ تو عمر کو کہیں نہ کہیں یہ چیز محسوس ہو رہی تھی۔ عمر نے اپنے دوست کو میسج کیا کہ یار مجھے لگتا ہے کہ میں نے شہید ہو جانا ہے۔

    بیوہ کیپٹن عمرفاروق چیمہ شہید کا کہنا تھا کہ یہ مُلک ایک بہت ہی قیمتی مُلک ہے اور ہماری فوج بہت ہی ایک عظیم فوج ہے۔ہم جیسے اپنی پیاروں کی قُربانیاں دیتے ہیں، تو یہ ملک آزاد ہو تا ہے۔بہت سے بچے یتیم ہوتے ہیں تو یہ مُلک آزاد ہو تا ہے۔یہ بچے جو اپنے باپ کے بغیر پروان چڑھیں گے۔ان بچوں نے جو قُربانیاں دی ہیں، ان کے اہل و عیال نے جو قُربانیاں دی ہیں۔ہماری پاک فوج کبھی بھی شہیدوں کی قُربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دیتی اور نہ جانے دی گی۔اگر کبھی مجھے زندگی میں مجھے بھی موقع ملا کہ میں پاک فوج کے لئے کچھ کر سکوں، اپنے ملک کے لئے کچھ کر سکوں تو انشاء اللہ تعالیٰ عمر کی طرح میری بھی جان اس مُلک کے لئے حاضر ہے۔

    بیوہ کیپٹن عمرفاروق چیمہ شہید کا کہنا تھا کہ میں چیف آف آرمی سٹاف کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے شہداء کو اور اُن کی فیملیز کو اکیلا نہیں چھوڑا۔پوری فوج ہمارے ساتھ ہے۔آرمی کی بہت سپورٹ ہے۔کسی بھی موقع پر جب کبھی ضرورت پیش آئی ہے تو آرمی نے ہمیں سپورٹ کیا ہے۔

    میری اپنی جان بھی اپنے ملک کے لئے حاضر ہے، لیفٹیننٹ ناصر حُسین خالد شہید کی والدہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    آرمی چیف پر ہمیں فخر، خاوند شہید ، بیٹے کی شہادت کی بھی خواہش ہے،شہید کی بیوہ کے تاثرات

  • شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے جوان کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید کی والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹے نے کہا فوج میں جانا چاہتا ہوں، میں نے کہا بیٹا یہ تو میری خواہش بھی ہے

    والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید کا کہنا تھا کہ میں کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید کی والدہ ہوں۔صبیح نے 20 جون 2020کو شہادت پائی ہے۔شُمالی وزیرستان میں اُن کی شہادت ہوئی۔ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران۔ صبیح بہت بہادر اور بہتobidientبیٹے۔ صبیح کو بہت شوق تھا شروع سے ہی کہ میں آرمی جوائن کرنی ہے۔وہ سکول کے زمانے میں بھی سکاؤٹنگ میں جاتے رہے۔ چوتھی کلاس سے انھوں نے سکاؤٹنگ جوائن کی ۔تھرڈ سمیسٹر میں تھے انجینئرنگ کے جب، ایک دم سے اِک دن آئے ہیں گھر تو کہتے ہیں مما میرے کلاس فیلو سارے اپلائے کر رہے ہیں، میں بھی کر دوں؟میں ایک دم اُس کی شکل دیکھ کر حیران ہو گئی۔ میں نے کہا یہ تو میری خواہش تھی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے بیٹا، جیسے آپ کا دل چاہتا ہے کرو۔پھر انھوں نے اپلائے کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ سیلکٹ بھی ہو گئے۔ تو جب ان کی وزیرستان میں پوسٹنگ ہوئی۔ میں کافی پریشان ہوئی تو کہتے تھے کہ مما کچھ نہیں ہوتا، ہم نے اُدھر کیا کرنا ہوتا ہے، ہم تو اپنے آفس میں ہوتے ہیں، کچھ بھی نہیں ہوتا مما، آپ نہ ڈریں۔

    والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید کا کہنا تھا کہ شہادت سے سات ماہ پہلے اُس کی شاد ی کی تھی۔کوئی کوئی خاندا ن میں بچہ ہو تا ہے جس کو ننہیال، ددہیال دونوں میں سے بہت بہت پیا رملتا ہے۔ صبیح اُن میں سے ایک تھے۔اُس کی شادی بھی اتنی دھوم دھام سے ہوئی تھی کہ کسی کے بھی دل میں کوئی آرمان نہیں رہا۔ لیکن کیا پتہ تھا یہ خوشیاں ہمارے لئے عارضی ہیں اور سات ماہ کے بعد وہ ہم سب کو اکیلا چھوڑ کے چلے گئے۔وہ جب بھی آتے تھے، واپس میں انھیں چھوڑنے جاتی تھی اڈے تک۔ آخری ٹائم میں نہیں گئی اُس کو چھوڑنے۔مجھے کیا پتہ تھا کہ اس نے واپس ہی نہیں آنا۔

    والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید کا کہنا تھا کہ صبیح کی شہادت کو دو سال ہونے والے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے ابھی ابھی کی بات ہے۔وہ کیپٹن کاشف شہید ہیں اُ ن کی والدہ سے بات ہوئی تو کہہ رہی ہیں کہ خواب میں آئے ہیں میری بیٹی کے اور کہہ رہے ہیں کہ مما آپ یہ سمجھو نہ میں ابھی چھٹی نہیں آیا۔تو وہ مجھے اسی لئے تسلیاں دے رہی ہیں کہ آپ بھی یہی سمجھا کرو نہ کہ صبیح ابھی وہ ڈیوٹی پر ہیں ابھی چھٹی پر نہیں آئے، اُنھیں ابھی چھٹی نہیں مل رہی۔ بڑی کوشش کرتی ہوں مگر صبر نہیں آتا۔ ڈیوٹی پر ہوتے تھے تو بات تو کر لیتے تھے۔اب تو فون بھی نہیں آتا۔صبیح کے بعد آرمی نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑ ا۔ ہر لمحے، ہر وقت وہ ہمارے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔

    میری اپنی جان بھی اپنے ملک کے لئے حاضر ہے، لیفٹیننٹ ناصر حُسین خالد شہید کی والدہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

  • ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے جوان شہیدوں کے والدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بچوں نے پاک سرزمین کے لئے قربانیاں دیں ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہے پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ ملکر کھڑے ہوں،

    سپاہی عبدالباسط شہید کے والد محمد سفیر کا کہنا تھا کہ میرا تعلق آزاد کشمیر عباس پور سے ہے ۔میرا بیٹا 657 مجاہد بٹالین میں سپاہی عبدالباسط سنک سیکٹر میں سکندر پوسٹ پے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے دُشمن کی گولی سے شہید ہوگیا۔ مجھے اُس کی شہادت پے فخر ہے۔ وہ اکثر جب بات کیا کرتا تھا۔تو کہتا تھا کہ ابو میرے لئے دعا کرو میں شہید ہو جاؤں۔اللہ نے اُس کی دعا کو قبول کر لیا ہے اور اللہ نے مجھے یہ اعزاز بخشا ہے کہ میں شہید کا والد ہوں۔

    شہید کے والد محمد سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں ایک نہیں اگر میرے 100بچے بھی ہوتے تو میں اس ملک کیلئے قربان کر نے کیلئے ہر وقت تیار ہوں۔ ہمیں پاک آرمی، جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور دیگر جو افسران ہیں، ہمیں اُن پر پورا فخر ہے جو انھوں نے شہداء اور شہداء کی فیملی کیلئے جو کچھ کیا ہے، اُس کا نعم البدل تو صرف اللہ دے سکتا ہے لیکن اپنی طرف سے انھوں نے پور ی آج دن تک دیکھ بھال کی ہے۔ اللہ تعالیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو لمبی زندگی عطا فرمائے اور ہمیں اُن پر فخر ہے۔

    سپاہی عثمان اختر شہید کے والد جہانگیر اختر کا کہنا تھا کہ میں عثمان اختر شہید کا والد ہوں۔ میرا بیٹا شمالی وزیرستان میں شہید ہوا ہے۔اُس کی شادی کے بعد ایک دفعہ ہی ملاقات ہوئی ہے ہماری اُس سے۔دوبارہ وہ واپس گیا۔بس اُدھر ہی وہ شہید ہو گیا۔ہمارا ایک اور بھی بیٹا ہے۔ہم کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی پاک آرمی میں ہو جائے بھرتی۔پاک آرمی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

    سپاہی ضیاء الاسلام شہید کے والد علی مرجان کا کہنا تھا کہ ضلع بنوں سے تعلق رکھتا ہوں۔میرا بیٹا ضیا ء الاسلام ایف سی میں بھرتی ہوا تھا 2016میں۔بس میں یقینا اس پر فخر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچہ دیا اور قوم و ملک کے لئے اُس نے قربانی دی۔عصر کے وقت اُس نے مجھے فون کیا کہ ابو میں پہنچاہوں اپنی ڈیوٹی پے۔پھر جب صُبح سویرے جب مجھے کسی نے فون کیا، اُس آدمی کو میں نے پھر فون کیا تو اُس نے بولا کہ اُس وقت میں آپ کو نہیں بتا سکا۔ ابھی بتا رہا ہوں کہ آپ کا بیٹا شہید ہوا ہے۔میں نے اُسی جگہ پر اناللہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ نے دیا تھا اور آپ نے اپنے دربار میں اپنے لیے بلالیا۔میں اس پر راضی ہوں۔بس الحمد و اللہ جنازہ میں نے خود پڑھایا اُس کا اور جو آرمی والے آئے تھے اُس کے ساتھ، اُس کا میں بہت اچھے طریقے سے استقبال کیا۔ میں فخر کرتا ہوں کہ میرا بیٹا قوم اور ملک کے لئے شہیدہوا۔اپنی جان قربان کر دیا۔پاک آرمی یقینا قوم و ملک کے لئے بڑی قربانیاں دے رہا ہے۔

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

  • خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے جوان کیپٹن عبداللہ ظفر شہید کے والد ظفر حسین شاہ نے بیٹے کی یاد میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الحمداللہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک شہید کا باپ ہوں اور میں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو وطن پر قُربان کر دیا ہے۔میرے پانچ بیٹے ہیں، باقی چار بھی وطن پر نچھاور کرنے کو تیار ہوں۔اور یہ کم از کم اُس کو احساس ہونا چاہیے جس کا بچہ شہید ہوا ہو اور انھوں نے جتنے پیار لاڈ سے پالا ہوا ہو۔

    ظفر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے بیٹے سے کہا کہ آپ کیوں آرمی میں جا رہے ہیں۔آپ تو انجینئرنگ تو کر رہے ہیں۔لیکن اُس نے بولا کہ نہیں ابو۔میرے پاس شوق ہے آرمی کا او ر میں آرمی میں جانا چاہتا ہوں۔ ات کے گیارہ بجے مجھے اُس کا فون آیا 2012میں کہ ابو کو امی نہیں بتانا کہ میں Do or Dieآپریشن میں جا رہا ہوں۔ پتہ نہیں ہے کہ ملاقات ہو گی یا نہیں، بس میرے لئے دُعا کریں۔تو الحمداللہ وہ وہاں سے تین دن کے بعد صحیح سلامت آیا۔ اُس کے بعد جو ہے عبداللہ کا آرمی کے ساتھ بڑا شوق تھا۔جب بھی وہ آتا تھا، گھر میں جب آجاتا تھا ڈیوٹی سے تو اُس کا بھائی اُس کا یونیفارم ڈال کر برآمدے میں مارچ پاسٹ کرتا تھا اور کبھی سلیوٹ کرتا تھا کہ بس میں نے بھی آرمی میں جانا ہے۔تو الحمداللہ وہ بھی آرمی میں چلے گئے۔ میں نے اُس کو بولا بیٹا کیا بات ہے، آپ تو کوئی چیز نہیں لے کر گئے؟ بولتے ہیں نہیں ابو میرے سے جو ہے وہ رہ جائے گا، یہ رہ جائے گا اسی طرح، بس یہ کافی ہے۔تو شگئی میں جو ہے کھانا کھا رہے تھے کہ ساڑھے آٹھ بجے اُن کو انٹیلی جنس رات کو رپورٹ تھا کہ بھائی کوئی دہشتگرد آئے ہیں اور وہاں جا کے جو ہے شہید ہوئے۔

    ظفر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ تو بس میں اپنے قوم والوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ یہ کتنے حوصلے سے ہم نے یہ بچے پالے ہیں اور پاکستان کی خاطر ان لوگوں نے کتنی قُربانی دی ہے اور تم لوگ کیا کر رہے ہو۔ آپ اس میں لگے ہوئے ہیں، ایک اِدھر کھینچ رہا ہے ایک اُدھر کھینچ رہا ہے۔میں اپنے ساتھ کے لوگوں کو درخواست کرتا ہوں کہ خُدا راہ، تھوڑا اُن لوگوں کو دیکھو، جن پر یہ گُزری ہے، جنہوں نے یہ قُربانیاں دی ہیں۔کتنی تکلیفوں سے ہم نے یہ بچے سنبھالے اور پالے تھے اور انہوں نے قربانی دی۔ یہ تو اُن لوگوں کو پتہ ہے جنہوں نے یہ پالے ہیں اور قُربانی دی ہے۔ آپ لوگ لگے ہیں کچھ مُلک کیلئے بھی سوچیں۔کسی اپنے ایک ایک بچے کو تو آرمی کیلئے وقف کر دیں، پھر جو ہے آپ لگیں رہیں کہ بھئی ٹھیک ہے کہ یہ ایک بچہ آرمی کیلئے وقف کر دیا۔خُدا کیلئے یہ چیز چھوڑیں اور یہ پاکستان جو ہے ہمیں ملا ہے، اس کی حفاظت کرلیں۔

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

  • سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور: شہداء کی ساتویں برسی آج 16 دسمبر جمعرات کو منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : سات برس بیت گئے مگر زخم آج بھی تازہ ہیں، سانحہ اے پی ایس ایک ایسا اندوہناک واقعہ جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا سانحہ کی یاد میں جہانیاں سمیت ملک بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی اوراین جی اوز کے زیر اہتمام شہداء کیلئے قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا-

    پشاور میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا،جس کے باعث سکیورٹی کے بھی انتظامات کرلئے گئے ہیں شہدا کی درجہ بلندی کے لئے فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی بھی کی جائے گی شہدا کے قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گیں۔

    16 دسمبر 2014 ء کی صبح 6 بزدل دہشت گرد آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے، عقبی دیوار پھلانگ کر داخل ہونے والے دہشت گردوں نے اسکول کے آڈیٹوریم ہال میں جاری فرسٹ ایڈ ورکشاپ میں شامل بچوں پر گولیوں کی اندھا دھند بوچھاڑ کردی گولہ بارود اور خودکش جیکٹوں سے لیس درندہ صفت حملہ آوروں اس بزدلانہ کارروائی میں 132 طالبِ علموں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا تھا-

    اس دن ہر آنکھ اشکبار تھی، ملک سوگ میں ڈوب چکا تھا ہر طرف قیامت جیسا سناٹا تھا، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان سارے خوابوں کو بھی دفن کرتے رہے، روتے بلکتے بس ایک ہی سوال پوچھتے رہے کہ آخر ان کے بچوں کا قصور کیا تھا ، خودان کا قصور کیا تھا۔

    16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے واقعہ نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ،دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کا زخم بہت گہرا تھا لیکن پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم اس سے کہیں بلند۔

    پوری قوم نے پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک ایسے آپریشن کا آغاز کیا کہ جس کا ہدف ایک ایسا پاکستان تھا جہاں ریاست ہی کو طاقت کے استعمال کا حق حاصل ہو معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا جبکہ سہولت کار بعد میں پھانسی پر چڑھ گئے لیکن 16 دسمبر کا وہ دن ملک کی تاریخ کا بھیانک خواب بن کررہ گیا۔

    اس واقعے کو گزرے 7سال بیت چکے ہیں،سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین تاحال انصاف کے منتظر ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس کی سماعت بھی جاری ہے،جس میں وزیراعظم عمران خان نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ججز حکم دیں تومتعلقہ حکام کے خلاف ایکشن لیں گے۔

    ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یوم شہادت پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جب تک منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لاکر سزا نہیں دی جاتی ریاست شہیدوں کی مقروض رہے گی۔نیشنل ایکشن پلان میں ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا عہد کیا گیا تھا،افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا۔


    چوہدری مونس الہی نے یوم سقوط ڈھاکہ اور یوم سانحہ اے پی ایس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج 16 دسمبر ہےسقوط مشرقی پاکستان اور سانحہ اے پی ایس کی تاریخ ۔آئیے آج کے روز ان سانحات کےشھیدوں کو اس عہد کےساتھ سلام پیش کریں کہ ہم ان کی عظیم قربانیوں کو کبھی نہ بھولیں گےاور دشمن کو اس کے ناپاک ارادوں میں شکست دیں گے۔ پاکستان زندہ باد۔


    سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا 16دسمبر وطن عزیز کی تاریخ میں غم واندوہ لیکر آتاہے،سانحہ مشرقی پاکستان ہو یا اے پی ایس سکول کے بچوں کا صدمہ جانکاہ بحیثیت قوم جسد قومی کو ہلا کررکھ دیتا ہےاور تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنےدُشمن کو پہچانے،اُس کا تدارک کریں۔ وہ ہندتوا ہے یااُنکے معنوی پیروکار


    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 16 دسمبر وہ دن جب پاکستانی قوم کو ایک مشترکہ اور ناقابلِ فراموش غم کی کٹھن گھڑی سےگزرنا پڑا۔ اُس دن سے دہشت گردی کیخلاف ہمارا عزم مضبوط تر ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کےکیمپوں اور ٹھکانوں کیخلاف کارروائی شروع کی اور پاک سر زمین کو دہشت گردی سے پاک کیا۔


    عامر لیاقت نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے بچوں کو عامر لیاقت حسین کا سلام تحسین , میرے وطن کی شہید ننھی کلیاں اب شہادت کے رنگین پھول بن چکے مگر اب بھی انصاف سے محروم ہیں، اللہ والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین


    وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم پر حملہ ہمارے کامیابی کے راز پر حملہ ہے۔ بچوں پر حملہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے سانحہ اے پی ایس ہمیں دشمن کے خلاف مضبوط اور اتفاق کے ساتھ مقابلے کرنے کا درس دیتا ہے-


    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے لکھا کہ شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور ہم تمہیں بھولے نہیں ہیں ۔ پروردگار اے پی ایس کے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے وطن پاکستان کی حفاظت فرمائے ،آمین


    انہوں نے لکھا کہ اے پی ایس شہداء کی قربانیوں کو رہتی دُنیا تک یاد رکھا جائیگا، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مُلکی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا-

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

  • اے۔ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک کی زیر نگرانی شہداء کی فیملیزکیلئے تقریب کا انعقاد

    اے۔ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک کی زیر نگرانی شہداء کی فیملیزکیلئے تقریب کا انعقاد

    لاہور پولیس اپنے شہداء کے ورثاء کی ویلفیئر کیلئے کوشاں ہے۔ شہداء کے ورثاء میں رقوم، راشن بیگ اور تحائف تقسیم کئے۔ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک کی زیر نگرانی شہداء کی فیملیزکیلئے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔پولیس لائنزقلعہ گجر سنگھ میں منعقدہ تقریب کے دوران "LETS DO IT” فاؤنڈیشن کے تعاون سے شہداء کے ورثاء میں تحائف تقسیم کئے گئے۔ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز فرحت عباس، آر آئی لائن محمد نعمان اور انچارج شہداء برانچ انسپکٹر امیر علی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب میں ” لیٹس ڈُو اِٹ ” فاؤنڈیشن کے عاطف ملک اور فرخ انور نے شرکت کی۔عمران احمد ملک نے شہداء کے ورثاء میں نقدرقم، راشن بیگ اور تحائف تقسیم کئے۔اس موقع پر ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک کا کہنا تھا کہ شہداء کے ورثاء کی ویلفیئر اور فلاح و بہبود اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ لاہور پولیس کی تاریخ فرائض کی خاطر جان قربان کرنے والے سپوتوں سے بھری پڑی ہے۔عمران احمد ملک نے شہداء کے ورثاء سے درپیش مسائل بارے دریافت کیا اور انکے حل کیلئے فوری احکامات جاری کئے۔

  • پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی مذمت،  شہداء کو سلام و خراج عقیدت پیش،  سینیٹ اجلاس

    پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی مذمت، شہداء کو سلام و خراج عقیدت پیش، سینیٹ اجلاس

    سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں اعتزاز احسن خصوصی طور پر شریک ہوئے- سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا ‏جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے چار جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا گیا- کمیٹی نے وزیرستان میں پاک فوج کےشہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی-

    سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کیمٹی دہشتگردوں کی طرف سے پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے- اللہ تعالی شہداء کی قربانی کو قبول اور اعلٰی مقام عطا فرمائے- شہید جوانوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں- شہداء اور شہداء کے لواحقین کو سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہیں- ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، شکست دشمن عناصر کا مقدر ہے- سخت اپریشن کے ذریعے جنوبی وزیرستان کو ان سفاک دھشتگردوں سے مکمل پاک کیا جائے- دشمن عناصر اسطرح کے بزدلانہ حملوں سے ملک میں امن و امان برباد کرنا چاہتے ہیں-

    سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ دشمن اپنی مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے- بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف دھشتگردانہ واقعات کے لئے استعمال کر رہا ہے- حکومت پاکستان دھشتگردانہ حملوں کا معاملہ حکومت افغانستان کیساتھ اٹھایا جائے- حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ مودی کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے- یہ کمیٹی ہر اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہے-

  • شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام
    از قلم! عظمی ربانی

    کشمیر کے شہیدو! ہوتم پر سلام
    اپنی ملت کا روشن کیا تم نے نام

    تمہاری جر أت،دلیری پہ کیا کیا لکھوں
    تمہاری جانثاری کو میں کیا نام دوں

    تاریخ خود گنوائے گی وہ عظیم کام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    اپنی ماؤں کی عزت کے نگہباں تھے
    اپنی بہنوں کی حرمت کے پاسباں تھے

    ان رداؤں کی خاطر کی جان اپنی تمام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    نام سن کر دشمن تھرا ہی تو گئے
    مقابل جو آئے وہ گھبرا ہی تو گئے

    کانپ جاتے تھے دل سن کر تمہارا نام
    کشمیر کے شہیدو!ہو تم پر سلام

    یہ حسین وادی تمھارے خون سے سیراب ہے
    جو راہ دکھلائی تم نے وہ مثلِ ماہتاب ہے

    آزادی کے راہبروں میں ہے تمہارا مقام
    کشمیر کے شہیدو ! ہو تم پر سلام

    قربانی جسم و جاں کی ضائع نہ جاۓ گی
    آنے والی ہر نسل کہانی تمہاری سنائے گی

    فلک تک تمہاری عظمت کا ہو گا چرچا عام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    مولا تو سن لے مظلوموں کی آہ و بكا
    جگ میں کوئی نہیں ان کا تیرے سوا
    ہر روز جنازے اٹھیں، زندگی ہو گئی جام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام