Baaghi TV

Tag: شہر

  • امریکا میں ایک ہزار سال پرانا مایا تہذیب کا شہر دریافت

    امریکا میں ایک ہزار سال پرانا مایا تہذیب کا شہر دریافت

    امریکی ریاست میکسیکو کے جنگلات سے ایک ہزار سال پرانا مایا تہذیب کا شہر دریافت ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی میکسیکو کے جنگلات سے دریافت ہونے والے شہر کے بارے میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انتھروپولوجی اینڈ ہسٹری (آئی این اے ایچ) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور ایک ہزار سال قبل مایا تہذیب کا اہم مرکز رہا ہو گا شہر میں اہرام مصر جیسی بڑی عمارتیں، پتھر کے ستون، 3 پلازے اورتقریباً مرتکز دائروں میں ترتیب دیئےگئےدیگرڈھانچے موجود ہیں۔

    شہر کو اوکمٹن کا نام دیا گیا ہے جس کا مایا زبان میں مطلب ’پتھر کا ستون‘ ہے۔ یہ شہر 250 اور ایک ہزار اے ڈی کے درمیان جزیرہ نما کے وسطی نشیبی علاقے کا اہم مرکز ہوتا تھا شہر کے آثار ملک کے یوکاٹن نامی جزیرہ نما پربالمکوماحولیاتی ریزرو میں واقع ہیں جو جنگل کے غیر دریافت شدہ حصے کی تلاش کے دوران دریافت کیا گیا۔ شہر کا رقبہ یورپی ملک لکسمبرگ سے بھی بڑا ہے۔ یہ تلاش فضائی لیزر میپنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کی گئی۔

    ہتھنی نورجہاں کی موت کے بعد عہدے سے ہٹائے گئےخالد ہاشمی چڑیا گھر کے دوبارہ …

    دوسری جانب وسطی نیدرلینڈز میں ماہرین آثار قدیمہ نے عجائبات عالم میں شامل برطانیہ کے اسٹون ہینج طرز پر بنا ہوا 4 ہزار سال قدیم معبد دریافت کر لیاماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی نیدرلینڈز کے علاقے روٹرڈیم کے قریب نئے دریافت شدہ آثار قدیمہ کے مقام پر گڑھے، مدفن کے ٹیلے، جانوروں اور انسانوں کے ڈھانچے دریافت کیے گئے ہیں جبکہ وہاں سے کانسی سے بنی اشیاء سمیت دیگر چیزیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔

    ماہرین نے اس جگہ کو جنوبی انگلینڈ کے اسٹون ہینج طرز کا ایک معبد قراردیتے ہوئے بتایا کہ رقبے میں تین فٹبال گراؤنڈز سے بڑے مٹی اور لکڑیوں سے بنے اس معبد کو اس طرز پر بنایا گیا ہے کہ سورج کے خط استوا سے دوری پر بھی اس کی سورج سے سیدھ باقی رہے اور طلوع آفتاب پر سورج کی پہلی کرنوں کےمقامات پر مختلف اشیاء رکھی ہوئی ملی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق وہاں پر موجود سب سے بڑا ٹیلا شمسی کیلینڈر استعمال ہوتا تو جو کہ ہو بہو اسٹون ہینج کی طرح کام کرتا ہے، یہ معبد سال بھر میں مخصوص دنوں اور تہواروں کے تعین کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہوگا، وہاں لگے ہوئے لکڑی کے پول ان رسومات کے دوران گزرنے کیلئے راہداری کے طور پر استعمال ہوتے ہوں گے۔

    گرین ہاؤس گیسوں کےباعث ہمالیائی گلیشیئرز 80 فیصد تک پگھل جائیں گے


    2017 میں اسی مقام پر کھدائی کے دوران ماہرین نے کچھ قبریں بھی دریافت کی تھی، دریافت شدہ قبروں میں سے ایک خاتون کی قبر میں موجودہ عراق کی قدیم تہذیب میسوپوٹیمیا (بابلی تہذیب) کا شیشوں کا ہار بھی دریافت کیا گیا تھا۔ دریافت شدہ شیشے کا ہار نیدرلینڈز کی تاریخ میں دریافت ہونے والا قدیم ترین شیشے کا ہار ہےکھدائی کے دوران ملنے والی اشیاء سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ اس زمانے میں 5 ہزار کلومیٹر دور رہنے والے لوگوں سے رابطے میں تھے۔

    ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین


    ماہرین کو کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی پتھر، کانسی اور لوہے کے ادوار کی 10 لاکھ سے زائد اشیاء پر تحقیق کو 6 سال کا عرصہ لگا، کھدائی کے کاموں کے اختتام کے بعد اب سائٹ پر کنسٹرکشن کے کام کی اجازت دیدی گئی ہے-

    روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری

  • کراچی شہر قائد میں اسمگل شدہ اشیا کو ضبط کیا گیا۔

    کراچی شہر قائد میں اسمگل شدہ اشیا کو ضبط کیا گیا۔

    کراچی شہر قائد میں اسمگل شدہ اشیا کو ضبط کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مشہور شہر قائد میں پاکستان کسٹمز اور اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت بہت سی کامیاب کارروائیوں میں 17 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا ضبط کرلی گئیں۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اے ایس او ٹیم نے بروز جمعرات کو ایک خفیہ اطلاع پر کراچی میں واقعہ ایک علاقہ اورنگی ٹاؤن میں موجود ایک گودام ہے۔جس پر بروز جمعرات کو چھاپہ مارا گیا تھا۔ اس چھاپے سے اسمگل شدہ 14 ہزار کلوگرام کمبل کے 217 کاٹن برآمد کیے گئے تھے۔اور اس کی تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ ان کی مالیت 2 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔

    مزید برآں یہ کہ اس تمام واقعے سے مطلق حکام کی طرف سے مختلف کاروائیوں میں 15 کروڑ روپے مالیت کی اشیا ضبط کی تھی۔جن میں یہ درج ذیل اشیا شامل تھی۔ اسمگل شدہ گاڑیاں، کوکنگ آئل اور مضرصحت چھالیہ وغیرہ ۔اس واقعے کے بعد اب وہاں پر موجود لوگ اب مزید تحقیق کرنے میں مصروف ہیں۔

  • سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    لاہور:سال 2022 میں دنیا کے دس مہنگےترین شہروں کی فہرست وائرل:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کی معاشی صورت حال کے تحت دنیا کے اندرمہنگائی اورمہنگے شہروں کی درجہ بندی کرنے والی گلوبل موبلٹی کمپنی ای سی اے انٹرنیشنل نے قیام و طعام کی غرض سے رہنے کے لیے دنیا کے مہنگے ترین شہروں کی اپنی سالانہ فہرست جاری کی ہے اور ایک بار پھر ہانگ کانگ اس فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔

    گلوبل موبلٹی کمپنی ای سی اے انٹرنیشنل کئی عوامل کی بنیاد پر فہرست کا حساب لگاتی ہے، جس میں دودھ اور کوکنگ آئل جیسے گھریلو سامان کی اوسط قیمت، کرایہ، یوٹیلیٹیز، پبلک ٹرانزٹ اور مقامی کرنسی کی طاقت شامل ہیں۔اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ لگاتار تیسرا سال ہے جب ہانگ کانگ نے ای سی اے انڈیکس میں دنیا کا سب سے مہنگا شہر ہونے کے اعزاز کا دعویٰ کیا ہے۔ انڈیکس خاص طور پر ان کی درجہ بندی میں غیر ملکی کارکنوں اور غیر ملکیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

    دنیا کے مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست جاری،پاکستان کونسی فہرست میں شامل؟

    ایشیا کو سب سے مہنگا براعظم کہنا ایک درست جواز ہے، جہاں پانچ شہر ہانگ کانگ، ٹوکیو، شنگھائی، گوانگزو اور سیول ٹاپ 10 میں شامل ہیں۔کچھ ریگولیٹرز میں مشرق وسطی ایشیا میں شامل ہے۔ اس صورت میں، تل ابیب — جو چھٹے نمبر پر ہے — بھی ایشیا میں شمار ہوتا ہے اور اسے 10 میں سے چھٹا نمبر ملا ہے

    ایشیا کو مجموعی فہرست میں سب سے تیزی سے ابھرتے ہوئے شہر کا گھر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ سری لنکا کا مرکزی شہر کولمبو ہوگا، جس نے 162 سے 149 تک 23 درجے چھلانگ لگا دی۔

    ای سی اے کے ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹرلی کوان نے انڈیکس پر مین لینڈ چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ بیان کی۔ ان کا ایک اور بیان میں کہنا ہے کہ ، "ہماری درجہ بندی میں سرزمین کے چینی شہروں کی اکثریت میں افراط زر کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں ، لیکن وہ اب بھی عام طور پر ایشیا کے دیگر مقامات سے کم ہیں۔” "لہذا، ان کی درجہ بندی میں اضافے کی بنیادی وجہ دوسری بڑی کرنسیوں کے مقابلے چینی یوآن کی مسلسل مضبوطی ہے۔”

     

    دنیا کے 139 مہنگے ممالک میں پاکستان آخری نمبر پر ہے،شوکت ترین

    پیرس، جو ماضی میں ای سی اے کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے، ٹاپ 30 سے ​​باہر ہو گیا۔ میڈرڈ، روم اور برسلز بھی گر گئے۔


    "یورو زون کے تقریباً ہر بڑے شہر نے اس سال درجہ بندی میں تنزلی دیکھی کیونکہ یورو نے گزشتہ 12 مہینوں میں امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،”

    سیاست اور بین الاقوامی تنازعات جیسے بیرونی عوامل بھی شہروں کی درجہ بندی کرتے وقت شامل کیے جاتے ہیں ۔ یوکرین پر روس کے حملے اور کئی ممالک کی طرف سے اس کے ساتھ لگائی گئی پابندیوں کا مطلب یہ تھا کہ ماسکو 62 ویں نمبر پر اور سینٹ پیٹرزبرگ 147 ویں نمبر پر آ گیا۔

    یورپ کا سب سے مہنگا شہر سوئٹزرلینڈ کا جنیوا ہے جو ہانگ کانگ اور نیویارک شہر کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ سوئٹزرلینڈ یورو کے بجائے سوئس فرانک استعمال کرتا ہے۔کورونا وائرس وبائی مرض نے یقیناً عالمی سپلائی چینز اور دیگر معاشی عوامل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ECA انٹرنیشنل واحد کمپنی نہیں ہے جو معاشیات کی بنیاد پر دنیا کے شہروں کی درجہ بندی کرتی ہے۔لندن میں مقیم اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) ہر دسمبر میں اپنا عالمی لاگت کا انڈیکس جاری کرتا ہے۔ 2021 میں، تل ابیب نے رہنے کے لیے مہنگی ترین جگہ کا انعام حاصل کیا، جبکہ پیرس اور سنگاپور دوسرے نمبر پر رہے۔

    بہت مہنگے اور قیمتی اقوال

    زیورخ کے بعد ہانگ کانگ پانچویں نمبر پر تھا۔ 2020 میں، ہانگ کانگ، زیورخ اور پیرس سب تقریبا ایک دوسرے کے برابر تھے

    دونوں فہرستیں اپنی درجہ بندی کا تعین کرنے کے لیے روزمرہ کی اشیاء جیسے گروسری اور ایندھن کی قیمتوں کا استعمال کرتی ہیں۔ تاہم، EIU اپنے اعداد و شمار کو امریکی ڈالر سے جوڑتا ہے، اس لیے ایسی معیشتیں جو ایک ہی کام کرتی ہیں — جیسے ہانگ کانگ، ایک کے لیے — ان کی درجہ بندی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔کسی بھی طرح قطع نظر اس کے کہ شہروں کو مختلف اشاریہ جات پرپرکھا گیا ہے، یہ واضح ہے کہ ایشیائی، یورپی اور شمالی امریکہ کے شہر افریقہ اور جنوبی امریکہ میں اپنے جیسے شہروں سے کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔

    ایک وقت تھا جب نیویارک ٹاپ ٹین میں جگہ دینے والا واحد شمالی امریکہ کا شہر تھا۔لیکن اب نیویارک دوسرے درجے پرآگیا ہے
    دنیا کے مہنگے ترین شہر
    1. ہانگ کانگ
    2. نیویارک
    3. جنیوا
    4. لندن
    5. ٹوکیو
    6. تل ابیب
    7. زیورخ
    8. شنگھائی
    9. گوانگزو
    10. سیئول

  • ایل ڈبلیو ایم سی شہر میں بہترین صفائی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں

    ایل ڈبلیو ایم سی شہر میں بہترین صفائی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں

    شہر میں صفائی کے غیر تسلی بخش انتظامات پر جی ایم آپریشن معطل کر دیا گیا۔ یہ کمپنی کسی صورت بکیے جواری شرط باز نہیں چلائیں گے -چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی ملک امجد علی نون
    وزیر اعلی پنجاب کے ویژن کے مطابق ایل ڈبلیو ایم سی شہر میں بہترین صفائی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ادارے کی جانب سے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر میں تین شفٹس میں صفائی آپریشن جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کیا۔ مزید براں وزیر اعلی پنجاب کو شہر میں صفائی کے موجودہ حالات اور ادارے کے انتظامی معاملات سے آگاہ کر نے کے لیے گزشتہ دو تین روز سے ملنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر ان کے دفتر کا عملہ ان سے ملاقات نہیں ہونے دے رہا۔ اس ملاقات کامقصدوزیر اعلی پنجاب کو سی ایم سیکٹریٹ کے پرنسپل سیکٹری کی جانب سے 15فروری کو موصول ہونے والے خط پر تخفظات کا اظہار اور سی ایم سیکٹریٹ کا ایل ڈبلیو ایم سی صفائی مہم کی نگرانی کے لیے صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کو مختص کرنے کے حوالے سے بریفنگ دینا تھا کہ یہ کمپنی کسی صورت بکیے/جواری/شرط باز نہیں چلائیں گے۔اس خط میں سی ایم سیکٹریٹ کے پرنسپل سیکٹری نے صفائی کے حوالے سے نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے جبکہ سچائی اسکے بر عکس ہے۔ چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق اصولی طور پر یہ خط صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کو دیا جانا چاہیے تھاجو کمپنی کے انتظامی امور میں مداخلت کر رہے ہیں اور ناجائز طور پر قابض ہیں۔
    چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق نہ صرف ایل ڈبلیو ایم سی میں موجود ہ کرپشن مافیا کو للکارااور نکالا بلکہ آئندہ کے لیے تیار ہونے والے مافیا کی کرپشن کو بھی جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ناکام بنایا اور خاتمہ کیامزید براں بین الااقوامی کنٹریکٹرز کی اجارا داری کو بھی ختم کیا۔ایل ڈبلیو ایم کی جانب سے شہر کا صفائی آپریشن سنبھالنے کے بعد ریکارڈ ویسٹ کولیکشن کی گئی ہے۔ ترک کنٹریکٹر کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ایک شفٹ میں شہر سے کوڑا اٹھایا جاتا تھا جبکہ ایل ڈبلیو ایم سی نے ذمہ داری سنبھالتے ہی ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تین شفٹس میں کام کرنا شروع کیااور ترک کنٹریکٹر کے مقابلے میں ایل ڈبلیو ایم سی کے عملے نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور روزانہ کے آپریشن کے ساتھ 50ہزار ٹن سے زائد کوڑے کے بیک لاگ کو بھی کلئیر کیا۔
    چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل وزیر اعلی پنجاب کے دورے اور دیگر وی آئی پی روٹس پر صفائی کے غیر تسلی بحش انتظامات پر 9سے زائد افسران معطل کیے جا چکے ہیں۔وزیر اعلی سیکٹریٹ کی جا نب سے موصول ہونے والے خط میں کسی بھی مخصوص علاقے کی نشاندہی نہیں کی گئی جسکی وجہ سے اس خط کا نوٹس لیتے ہوئے جی ایم آپریشن کو معطل کر دیا گیا ہے جو اس سے قبل میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کو غیر قانونی طور پر 13جنوری 2021کو ایل ڈبلیو ایم سی میں بطور جی ایم آپریشن تعینات کیا گیا جو کہ میٹرک پاس تھا۔اس غیر قانونی تعیناتی پر بورڈآف ڈائریکٹرز کے 109ویں اجلاس میں تفتیش کی گئی اور ان احکامات کو واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔ چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی نے ا س عزم کا اظہار کیا کہ تمام امور قانون کے مطابق حل کیے جائینگے اور مجھ سمیت کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

  • اوکاڑہ: جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی کیوجہ سے ڈوب گئی۔

    اوکاڑہ: جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی کیوجہ سے ڈوب گئی۔

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواح جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی سے ڈوب گئی۔ تھانہ راوی کی جندراکہ میں موجود پولیس چوکی گاوں کی آبادی سے پانچ فٹ نشیب میں ہے جسکی وجہ سے ہمیشہ بارش کے پانی سے چوکی تقریباً ڈوب جاتی ہے۔ گزشتہ رات شدید بارش کے باعث پانی نشیبی چوکی میں داخل ہوگیا۔ چوکی میں موجود فرنیچر اور متفرق سامان پانی میں ڈوب گیا۔ پولیس چوکی کے عملہ کی بے بسی دیکھتے ہوئے اہل علاقہ نے متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ چوکی کو کسی محفوظ مقام پر تعمیر کیا جائے۔