Baaghi TV

Tag: شہزادی ڈیانا

  • شہزادی ڈیانا کی موت کا ذمہ دار کون تھا،مصنوعی ذہانت کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

    شہزادی ڈیانا کی موت کا ذمہ دار کون تھا،مصنوعی ذہانت کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

    شہزادی ڈیانا کی موت کے پیچھے کون تھا؟ مصنوعی ذہانت نے 3 تصاویر دکھا دیں-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق اتوار کو ٹک ٹاک پر ایک صارف ”راوول گوتیریز” نے انکشاف کیا کہ جب اس نے مصنوعی ذہانت سے پوچھا کہ 1997 میں ویلز کی شہزادی ڈیانا اور ان کے مصری دوست عماد الفاید کی موت کا سبب کون تھا تو اس کا جواب چونکا دینے والا تھامصنوعی ذہانت نے لفظوں کی بجائے تین تصاویر کے ساتھ جواب دیا جنہیں اطالوی جریدے فورم نے شائع کیا ہے۔

    ان میں سے پہلی تصویر میں موجودہ برطانوی بادشاہ چارلس III یا ان کے آنجہانی والد فلپ سے ملتا جلتا شخص ہے، دوسری تصویر حادثے کے بعد تباہ ہونے والی گاڑی کی ہے اور آخری ایک خاتون کی ہے جو آنجہانی ملکہ الزبتھ II کی ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ تصاویر تجسس کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی واضح نظریہ پیش نہیں کرتیں، لیکن ان شاہی شخصیات کو کم از کم ظاہری طور پر ذمہ دار ٹھہرانا ان لوگوں کے لیے کافی ناگوار اور چونکا دینے والا تھا جنہوں نے اس پوسٹ کو دیکھا۔

    واضح رہے کہ ڈیانا اور ان کے دوست دودی الفاید کی موت 31 اگست 1997 کو ایک کار کے حادثے میں ہوئی تھی جو پاپارازیوں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ تصاویر لینے کی کوشش میں ان کی کار کا پیچھا کر رہے تھے۔

    دوسری جانب برطانیہ کے نئے بادشاہ کے طور پر چارلس III کی تاج پوشی کے بعد باضابطہ طور پر جشن منایا گیا، تو تجسس سے بھرپور لیڈی ڈیانا کے مداحوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے دکھایا کہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیسی نظر آتیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنی یہ تصاویر بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادی ڈیانا کے بارے غیر اخلاقی تبصرہ، چارلس اسپینسر کا شدید ردعمل

    ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادی ڈیانا کے بارے غیر اخلاقی تبصرہ، چارلس اسپینسر کا شدید ردعمل

    عوامی شخصیات کی طرف سے بھیجے گئے نجی خطوط کی ایک نئی کتاب کی تشہیر کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہر وہ شخص جس نے انہیں لکھا اس نے ان کی چاپلوسی کی۔

    باغی ٹی وی : ‘ لیٹرز ٹو ٹرمپ ‘ نامی اس کتاب میں سابق صدر اور ‘تاریخ کے کچھ بڑے ناموں’ کے درمیان خط و کتابت کو دکھایا گیا ہے۔ کتاب میں ملکہ الزبتھ دوم، شہزادی ڈیانا، اوپرا ونفری، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن،سابق امریکی‌صدرو جارج ایچ ڈبلیو بش،بل کلنٹن،جارج ڈبلیو بش ،بارک اوبامہ ور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ساتھ گلوکار مائکل جیکسن کے خطوط بھی شامل ہیں۔

    اگلے ماہ شائع ہونے والی اس کتاب میں ٹرمپ اور دنیا کی مشہور شخصیات کی چار دہائیوں کی خط و کتابت کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں کئی انکشافات بھی کئے گئے ہیں 320 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 99 ڈالرز رکھی گئی ہے اور یہ 25 اپریل کو منظر عام پر آئے گی-

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز آؤٹ لیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پہلے تمام لوگ ان کی چاپلوسی کرتے تھے لیکن اب ان چاپلوسی کرنے والوں میں سے آدھے ان کے ساتھ باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے مطابق ان سلیبریٹیز نے اس وقت منہ موڑا جب ان کے والد نے ریپبلکن امیدوار کے طور پر صدارتی الیکشن میں حصہ لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ‘یہ حیرت انگیز ہے کہ جب وہ ریپبلکن کے طور پر صدر کی دوڑ میں آئے تو ان کی پرستش کتنی جلدی بدل گئی۔ لیٹرز ٹو ٹرمپ آپ پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں اور ان کی نئی نفرت واقعی کتنی جھوٹی ہے۔

    شہزادی ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی آنجہانی بہن کے بارے میں ناگوار تبصرے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ٹویٹ میں، چارلس اسپینسر نے سابق صدر کے بارے میں شہزادی ڈیانا کی رائے شیئر کی۔


    چارلس اسپینسر نے لکھا کہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ میری آنجہانی بہن ڈیانا ‘ان کا بوسہ لینا’ چاہتی تھی، جب سے ایک بار اس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کیا تھا – جب وہ نیویارک میں کچھ رئیل اسٹیٹ بیچنے کے لیے اپنا اچھا نام استعمال کر رہا تھا-

    1997 میں، شہزادی ڈیانا کی ایک کار حادثے میں موت کے مہینوں بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ شہزادی ڈیانا کو "روک” سکتے تھے، یہ تبصرہ 2016 کی صدارتی مہم کے دوران سامنے آیا تھا ڈونلڈ ٹرمپ کی کتاب کے پیچھے شائع کرنے والی کمپنی نے واضح کیا کہ خط بھیجنے والوں سے "حقیقی یا مضمر” اجازت لی گئی تھی۔