Baaghi TV

Tag: شہزاد رائے

  • ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر  شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف گلوکار، سماجی کارکن اور ایجوکیشن ایکٹیوسٹ شہزاد رائے نے ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے نیا گانا “لیٹ ہو گئے” ریلیز کر دیا۔

    “لیٹ ہو گئے” گانے کی ویڈیو میں شہزاد نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے والدین سے سوال کیا “کیا آپ نے ابھی تک اپنے بچے کو اسکول میں داخل کروا دیا ہے؟” جس پر والدین حیران ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس کا داخلہ کیسے ممکن ہے، جواب میں شہزاد رائے کہتے ہیں “لیٹ ہوگئے” یہ منظر بچوں پر ابتدائی عمر سے ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ویڈیو میں شہزاد رائے مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور بار بار جملہ “لیٹ ہو گئے” دہراتے ہیں اس انداز نے گانے کے پیغام کو مزید مؤثر اور طنزیہ بنایا ہے،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ طبقے کے اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیے سخت انٹرویوز اور معیارات قائم کیے جاتے ہیں ، اور بچوں پر اسکول جانے سے قبل ہی دباؤ ڈالنا شروع ہو جاتا ہے ایک منظر میں چھوٹی لڑکی والدین اور نظام سے التجا کرتی ہے کہ اسے صرف جینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، قبل اس کے کہ توقعات اور معیار کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    گانے میں تعلیمی نظام کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے زبان کا فرق اور انگریزی تعلیم کا دباؤ، جہاں بچے گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی میں پڑھائی ہوتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور الجھن بڑھتی ہے علاوہ ازیں، ٹیوشن کلچر اور بھرپور پڑھائی کے باعث بچوں کے لیے آرام اور کھیل کود کا وقت نہ ہونا بھی واضح کیا گیا ہے، جو بچوں کی ذہنی تھکان اور روزمرہ کے دباؤ کو اجاگر کرتا ہےشہزاد رائے کا پیغام واضح ہے کہ تعلیم صرف مقابلہ بازی اور بوجھ کا ذریعہ نہیں بن سکتی، بلکہ بچوں کی فکری نشونما، خوشی اور مجموعی ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • قومی ترانے کے ریمکس پر عدنان صدیقی برس پڑے

    قومی ترانے کے ریمکس پر عدنان صدیقی برس پڑے

    قومی ترانے کا آج ک تک کسی نے ریمکس نہیں کیا لیکن حال ہی میں ایسا ہوا ہے. لاہور میں گزشتہ دنوں لکس سٹائل کی تقریب منعقد ہوئی اس میں قومی ترانے کا ریمکس پیش کیا گیا . ریمکس کو شہزاد رائے اور بلوچ فوک فنکار عبدالوہاب بگٹی نے گایا ہے. اس ریمکس پر ہیں عدنان صدیقی نہایت خفا ان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی تخلیقیت کے نام پر قومی ترانے کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں۔عدنان صدیقی نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مجھے قومی ترانے کا ریمکس اچھا نہیں لگا، سن کر مایوسی ہوئی ہے۔ عدنان صدیقی نے کہا کہ قومی ترانے کو شاندار موسیقی کے ساتھ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔انہوں نے سوال کر ڈالا کہ کیا پاکستانی آئین کسی کو

    تخلیقیت کے نام پر قومی ترانے کو ریمکس کی صورت میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ ساتھ ہی عدنان صدیقی نے واضح کیا کہ ممکن ہے کہ ان کی رائے غلط بھی ہو لیکن انہیں قومی ترانے کا ریمکس اچھا نہیں لگا۔یوں عدنان صدیقی کی سوشل مڈیا پوسٹ پر بہت سارے صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ قومی ترانے کا ریمیکس حوصلہ افزا نہیں ہے کم از کم نیشنل اینتھم کا ریمیکس نہیں کیاجانا چاہیے جن کا یہ آئیڈیا تھا ان کو پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں .

  • شہزاد رائے کتنے برس کے ہیں؟ مداح کو اصل عمر بتا دی

    شہزاد رائے کتنے برس کے ہیں؟ مداح کو اصل عمر بتا دی

    گلوکار شہزاد رائے جو بڑے پیمانے پر سوشل ورک بھی کرتے ہیں . شہزاد رائے سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اپنے مداحوں کو ان کے سوالوں کا جواب دیتے رہتے ہیں. سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک رہنے کی وجہ سے ان کی نظر پڑ گئی ایک پوسٹ میں جس میں لکھا ہوا تھا کہ شہزاد رائے 1968 میں پیدا ہوئے اور آج بھی یہ فٹ اور جوان نظر آتے ہیں. اس پوسٹ پر شہزاد رائے آگئے کافی حیرت میں . انہوں نے ایک مداح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں 1968 میں پیدا نہیں ہوا بلکہ میری تاریخ پیدائش 16 فروری 1976 ہے . شہزاد رائے

    نے اپنے مداح سے کہا کہ 16 فروری کو میری سالگرہ کی مبارکباد دینا نہ بھولیے گا. یوں شہزاد رائے نے اپنے حوالے سے کی گئی غلط پوسٹ کی درستگی کی . یاد رہے کہ شہزاد رائے نے گلوکاری کے ساتھ اداکار بھی کی انہوں‌ نے بہت کم اداکاری کے پراجیکٹس کئے تاہم وہ اپنے گانوں کی وڈیوز میں نظر آتے رہے،. شہزاد رائے سوشل ورک بھی کرتے ہیں. شہزاد رائے نے نوے کی دہائی میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا . ان کے مقبول گانوں میں تیرا کنگنا جب کھنکے اور جاکو رکھ سائیاں مار سکے نہ کوئی شامل ہیں . شہزاد رائے نے پی ایس ایل کے لئے ایک اینتھم بھی گایا .

  • عروہ کی نئی فلم کے لئے سلیبرٹیز کی نیک تمنائیں

    عروہ کی نئی فلم کے لئے سلیبرٹیز کی نیک تمنائیں

    فلم ٹچ بٹن جس سے عروہ حسین بطور پرڈیوسر اپنا پروڈکشن کا کیرئیر شروع کرنے جا رہی ہیں. عروہ حسین کا اس فلم میں ایک آئٹم سانگ ہے اس کے علاوہ انہوں نے فلم میں اداکاری نہیں کی. عروہ حسین کو ان کے ساتھیوں نے کافی دعائیں دی ہیں. ڈائریکٹر نبیل نے کہا کہ فلم کا ٹریلر بہت اچھا ہے فرحان سعید سمیت سب فلم میں بہت اچھے لگ رہے ہیں اور عروہ حسین بطور پرڈیوسر آپ کیرئیر کی شروعات کرنے جا رہی ہیں آپ کے لئے نیک تمنائیں. اسی طرح سے گلوکار شہزاد رائے نے بھی کہا کہ عروہ حسین آپ کو بہت مبارکباد آپ کی فلم کے لئے جو کہ نومبر

    میں ریلیز ہونے جا رہی ہے . پہ در پہ فلمیں ریلیز ہونے سے ہی فلم انڈسٹری کو سنبھالا مل سکتا ہے اور میری دعا ہے کہ آپ کی فلم سپر ہٹ ہو. عروہ حسین نے ان دونوں سلیبرٹیز کی جانب سے فلم ٹچ بٹن کے لئے نیک خواہشات پر مبنی پیغامات کو اپنی انسٹاگرام سٹوری پر شئیر کیا. یاد رہے کہ عروہ حسین کی فلم ریلیز سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ اداکارہ سونیا حسین نےعروہ حسین پر کیس کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پرڈیوسر عروہ حسین نے میرے پچاس لاکھ روپے کی ادائیگی نہیں‌کی.

  • سیلاب زدگان کی مدد کرنے والے شہزاد رائے کا آنکھیں کھول دینے والا پیغام ضرور سنیں

    سیلاب زدگان کی مدد کرنے والے شہزاد رائے کا آنکھیں کھول دینے والا پیغام ضرور سنیں

    سماجی کارکن اور گلوکار شہزاد رائے نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے وہ وڈیو پیغام نہایت ہی اہم ہے اور ہم سب کے لئے اس میں ایک اہم میسج ہے اور وہ یہ میسج ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کریں یہ جذبہ ضرور رکھیں لیکن کوشش کریں کہ وہاں پر دوائیاں اور راشن پہنچائیں جہاں اس کی ضرورت ہے. شہزاد رائے نے وڈیو پیغام کی شروعات کچھ یوں کی انہوں نے کہا کہ اس وقت سارا ملک سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہ رہا ہے جو کہ فخر کی بات ہے. شہزاد رائے نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ 2006 میں جب زلزلہ آیا تھا تو میری آرگنائزیشن نے بہت کام کیا. گرڈ سٹیشن بالاکوٹ پر ہمارا کیمپ لگا ہوا تھا ،اگلی صبح میں ایک گورنمنٹ آفیشل کے ساتھ ٹاپ ماوئنٹین بالا کوٹ پر کھڑا دیکھ رہا تھا کہ سامنے ایک سنگل روڈ نظر آرہا تھا. وہاں عورتوں بچوں اور ہر عمر کے لوگوں کا ایک ہجوم تھا سڑک بھری پڑی تھی سب کے ہاتھوں میں سامان تھا تو میں‌نے اس آفیشل

    سے کہا کہ پولیس ان کو کیوں تنگ کررہی ہے کس قدر جذبے سے یہ لوگ آرہے ہیں. تو انہوں نے مجھے کہا کہ کل رات جہاں آپ کیمپ لگا رہے تھے وہاں پیچھے ایک گھر اور سکول تھا جو کہ زلزلے میں تباہ ہو گیا، اس ملبے کے نیچے سے آوازیں آرہی تھیں، کچھ لوگ ملبے میں دبے ہوئے تھے اب اس ملبے کو ارتھ موونگ مشین سے ہی ہٹایا جا سکتا تھا، پولیس کی کوشش تھی کہ اس سنگل روڈ سے لوگوں‌کو ہٹایا جائے تاکہ ارتھ مووننگ مشین کو لایا جا سکے اور ملبے میں دبے لوگوں کی جان بچائی جا سکے. لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ملبے میں دبے لوگ مر گئے. لہذا میں آپ سب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مدد کریں لیکن کسی طریقہ کار سے کریں.

  • دنیا کا مقابلہ کس طرح‌کیا جا سکتا ہے شہزاد رائے نے بتا دیا

    دنیا کا مقابلہ کس طرح‌کیا جا سکتا ہے شہزاد رائے نے بتا دیا

    شہزاد رائے جو کہ گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں انہوں‌ نے وسائل نہ رکھنےوالے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا بھی اٹھایا ہوا ہے. شہزاد رائے نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے روایتی کے ساتھ جدید تعلیم کو اپنانا ہوگا. شہزاد رائے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کاحصول ہر بچے کےلئے ضروری ہے اور اس کو سب بچوں کے لئے ممکن بنانا ہم سب کا فرض ہے. میں تعلیم دینے کی مہم کو اس لئے چلا رہا ہوں کیونکہ میں پوری دنیا میں دیکھ رہا ہوں کہ تعلیم کو بہت اہمیت دی

    جا رہی ہے اور ہمارے ملک میں معاملات اس سے برعکس ہیں خصوصی طور پر ان بچوں کےلئے جو وسائل نہیں رکھتے. شہزاد رائے نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں ایمر جنسی کانفاذ کرے اور نصاب کو حقیقی معنوں میں یکساں ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں‌کہ جن کے وسائل نہیں ہیں یا جو بچے بے آسرا ہیں ان کا حق ہے وہ تعلیم حاصل کریں حکومت کے ساتھ ساتھ صاھب ثروت لوگوں‌کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کے لئے آسانیاں کریں اور ان کی تعلیم کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں. اگر ایسے بچوں‌کا ایک بڑا طبقہ ان پڑھ رہ جائیگا تو سوچیں پاکستان کا کتنا بڑا نقصان ہے.

  • گلوکار شہزاد رائے ہوئے پریشان لیکن کیوں ؟

    گلوکار شہزاد رائے ہوئے پریشان لیکن کیوں ؟

    کراچی شہر کی صاف ستھرائی کے حوالے سے ہر کوئی پریشان ہے اور کئی برسوں سے عام لوگ اور فنکار حکومت سے التجاءکرتے آرہے ہیں کہ شہر کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے ۔حال ہی گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے بھی ہوئے ہیں پریشان اور انہوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کرکے کیپشن لکھا، تصویر میں شہزاد رائے کراچی کے نالے کے پاس کھڑے ہیں اور کیپشن میں لکھا ہے کہ ” میں ہرروز اپنے شہر کراچی کو بچانے کی کوشش کرتاہوں مگر دی اکنامک انٹیلی جنس کے مطابق کراچی کو دنیا کے ناقابل رہائش شہروں میں شمار کرلیا ہے، میں کراچی کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن قدرت اور ماحول ہمیں معاف نہیں کریں گے“۔یاد رہے کہ برطانوی میگزین دی اکانومسٹ کے انٹیلی جنس یونٹ کی

    جانب سے ہر سال تیار کی جانے والی رپورٹ کے مطابق رہائش کے لیے دس بدترین شہروں میں کراچی کو بھی شامل کیا گیا ہے کراچی اس انڈیکس میں 168 ویں نمبر رہا۔کراچی میں کچھ نہیں تو ایک دہائی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے یہ حکومت دعوے تو کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن شہر کی صفائی ستھرائی کہیں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔گلوکار شہراز رائے اکثر ایسے موضوعات پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عوام کی بہتری سے جڑے ہوئے ہیں ان کی زیادہ تر پوسٹیں پڑھنے والوں کے لئے سوال چھوڑ دیتی ہیں۔شہزاد رائے نہ صرف گلوکار ہیں بلکہ سماجی کارکن اور اداکار بھی ہیں نوے کی دہائی میں پی ٹی وی کے ڈرامے میں بھی نظر آئے۔