Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟

    سیاست کے کھیل نے ریاست اور عوام کو تنہا چھوڑ دیا قومی مفاد کی بلند آواز اب نہیں تو کب؟

    نعروں اور دعووں کی سیاست بمقابلہ حقیقی عوامی خدمت پاکستان کی قیادت کے لیے خود احتسابی کا ایمرجنسی الارم

    مہنگائی، بے روزگاری، توانائی و تعلیمی بحران، کب آئے گی سنجیدہ سیاست اور ٹھوس حکمت عملی؟

    ذاتی مفادات یا قومی ترقی؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ مستقبل کے فیصلے کا وقت آج ہے

    پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ چند مخلص اور سنجیدہ سیاستدانوں کو چھوڑ دیا جائے تو اکثریت ایسی راہوں کا انتخاب کرتی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل تو محفوظ رہے، مگر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور ریاستی استحکام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کے کھیل اور وقتی فائدوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

    اگر پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ملک اس وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی بحران، مہنگائی کی بلند ترین سطح، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، تعلیمی پسماندگی اور امن و امان کے مسائل ایسے بنیادی معاملات ہیں جن پر قومی سطح کی سنجیدہ اور طویل المدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد ان مسائل پر ٹھوس حکمت عملی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، الزام تراشی اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہتی ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب سیاستدان اپنی ترجیحات میں ریاست اور عوام کے مسائل کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا اور طویل المدتی پالیسیاں بنا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاستدان سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل پر متفقہ حکمت عملی اپنائیں، اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا اصل مقصد بنا لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    بصورت دیگر اگر سیاست کا محور صرف اقتدار اور ذاتی مفاد ہی رہا تو ریاست اور عوام دونوں کو مشکلات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پاکستان کا مستقبل زیادہ مستحکم اور روشن ہو سکتا ہے۔

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

    جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے۔ اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین۔امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔ امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

    پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی۔جرنل عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکیات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے۔ جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے۔

    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس،توازن کا آئینہ دار فورم!

    بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ،دنیا کو پرامن بنا دیں گی؟
    کانفرنس میں فیلڈ مارشل کی موجودگی،پاکستان عالمی اتحادکیلئے ناگزیر
    دنیا تیزی سے بدل رہی،اسلام آباد محض مبصر نہیں،فعال فریق ہے

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرہی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے،یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے،اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی،جب روس،یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین،امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں،کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیاء کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے،امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا،اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے،جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے،پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے،عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا،پاکستان کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے،سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں گے

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب

    پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ایک بنیادی سوال برسوں سے جواب مانگ رہا ہے:کیا اس ملک میں کبھی آئین پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا ہے؟آئین کسی بھی ریاست میں عوامی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ضامن ہوتا ہے۔ مگر اگر پاکستان کے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو آئین اور عملی سیاست کے درمیان ایک گہری خلیج صاف نظر آتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، پانی کی شدید قلت اور توانائی کے بحرا ن جیسے مسائل دہائیوں سے ہمارے سامنے ہیں، مگر فوجی ادوار کے بعد کسی منتخب حکومت نے بڑے آبی ذخائر یا طویل المدتی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح کیوں نہ بنایا؟

    آج پاکستان کی اکثریت بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، حالانکہ یہ تمام حقوق آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ جن جماعتوں نے بار بار اقتدار حاصل کیا، انہوں نے ان آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟

    پاکستانی سیاست میں آئین اور جمہوریت زیادہ تر نعروں تک محدود رہے ہیں ہر انتخابی مہم میں عوام کو بہتر مستقبل کے خواب دکھائے گئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے بجائے طاقت، اختیار اور سیاسی بقا مرکزِ توجہ بنی رہی اگر یہ واقعی آئین کی جنگ ہوتی تو آج عام پاکستانی بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر نہ ہوتا۔

    میری نسل کے لوگ اس تلخ حقیقت کے عینی شاہد ہیں کہ کس طرح قوم کو دہائیوں تک بلند بانگ، مگر کھوکھلے نعروں کے سہارے رکھا گیا اسی لیے آج نوجوانوں کے نام ایک سنجیدہ پیغام ضروری ہے: سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے دعوؤں کو صرف الفاظ کی بنیاد پر قبول نہ کریں، بلکہ ان کے ماضی، ان کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں کو کسوٹی بنائیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی بقا میں سب سے زیادہ مسلسل قربانیاں ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج نے دی ہیں، جو اپنے آئینی عہد کے تحت ملک اور عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اس کے برعکس سیاسی نظام اب تک ایسا فریم ورک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دے سکے۔

    دنیا کی مستحکم جمہوریتیں، چاہے وہ یورپ میں ہوں یا امریکہ میں، مضبوط اداروں، شفاف احتساب اور عوامی فلاح کو بنیاد بناتی ہیں وہاں جمہوریت ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک نظام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اکثر ایک سیاسی کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی دولت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    آج کا نوجوان اگر واقعی پاکستان کا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے تو اسے تاریخ کا غیرجانبدار مطالعہ کرنا ہوگا، دعوؤں کے بجائے نتائج کو دیکھنا ہوگا، اور آئین کو صرف ایک مقدس دستاویز نہیں بلکہ قابلِ عمل سماجی معاہدہ بنانے کا مطالبہ کرنا ہوگا یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہےکیونکہ جب تک آئین کو عوامی مفاد کے ساتھ جوڑا نہیں جاتا، جمہوریت محض ایک خواب اور سیاست محض اقتدار کی جنگ ہی رہے گی۔

  • اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت

    اسلام آباد میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ ہے امریکہ، یورپ، روس، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی شعور انسان کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس پر کسی دو رائے کی گنجائش نہیں۔

    افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، وہیں ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد دانشوروں نے بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ طرزِ عمل نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

    پاکستان کی قربانیاں: ایک نظر ماضی پر

    اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہزارو ں سویلین، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئےآپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈھانچے کو بڑی حد تک توڑا۔ یہ کامیابیاں آسان نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے بے مثال قربانیاں شامل ہیں۔

    ایسے میں ریاستی اداروں پر اندھا دھند تنقید کرنا، بغیر شواہد کے الزامات لگانا، درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر بات پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید ذمہ دارانہ، باخبر اور تعمیری ہو۔

    علاقائی عدم استحکام اور بیرونی عوامل

    ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جن کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

    یہاں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں—جیسے متحدہ عرب امارات، قطر، دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں—ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ریاستوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

    قومی اتحاد: وقت کی اہم ترین ضرورت

    سوال یہ نہیں کہ ایک واقعہ کیوں پیش آیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم انتشار، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کا راستہ اپنائیں گے؟ یا قومی یکجہتی، صبر اور اجتماعی شعور کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے؟پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ بننے دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد ہے۔

    اسلام آباد کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے، مگر اسے قومی کمزوری میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذباتیت، افواہوں اور پروپیگنڈا کے بجائے ہوش، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں—کیونکہ مضبوط قومیں حادثات سے نہیں، انتشار سے ٹوٹتی ہیں۔

  • پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔

    ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔

    ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔

  • بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ   شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاست کے وہ نام ہیں جنہوں نے صرف اقتدار نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی سوچ، ایک نظریہ اور ایک سمت دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بجا طور پر عالمی سطح کا رہنما اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قومی خودمختاری، عوامی وقار اور خارجہ پالیسی میں خودداری کو ترجیح دی، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے مقابل جمہوریت کو ایک عالمی آواز دی آج بلاول بھٹو زرداری انہی دو فکری روایتوں کے وارث ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس وراثت کو مستقبل کے پاکستان کے لیے کس وژن میں ڈھالتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی کمزوری، ادارہ جاتی عدم توازن، سماجی ناانصافی، اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھ جانا ایسے مسائل ہیں جن کا حل وقتی نعروں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ خود کو صرف ایک جماعتی لیڈر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سیاستدان کے طور پر پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ ہمیشہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط سماجی معاہدے پر مبنی رہا ہے۔ آج اس معاہدے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جہاں ریاست شہری کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرے اور شہری ریاست پر اعتماد بحال کرے۔ بلاول بھٹو اگر اس سماجی معاہدے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ بھٹو ازم کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بنا سکتے ہیں۔ سیاسی وژن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معیشت کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی ترقی سے جوڑا جائے۔ روزگار پر مبنی معیشت، زرعی اصلاحات، مقامی صنعت کی سرپرستی اور کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ—یہ وہ نکات ہیں جو بلاول بھٹو کو دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ ایک واضح معاشی بیانیہ ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

    خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بلاول بھٹو کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی خوددار اور فعال سفارت کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔ عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت اور کشمیر و فلسطین جیسے اصولی مؤقف یہ سب ایک قومی لیڈر کے وژن کا حصہ ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں یا ریاست کی تعمیر کا عمل؟ اگر وہ وژن، اصول اور عوامی وابستگی کو اپنا راستہ بناتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے نام کے وارث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا ایک سنجیدہ حوالہ بن سکتے ہیں۔ قوم آج بھی ایک ایسے سیاسی وژن کی منتظر ہے جو ماضی کی عظمت سے سبق لے کر مستقبل کی سمت متعین کرے—اور یہ موقع بلاول بھٹو کے سامنے ہے۔

  • پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر

    پنجاب کی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث نام وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت کو اگر کسی ایک بنیاد پر پرکھا جائے تو وہ ہے عام آدمی کے مسائل کا براہِ راست نوٹس اور فوری اقدامات۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت آخر کہاں تک جا پہنچی ہے؟ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب حکومت نے جن شعبوں پر توجہ مرکوز کی، ان میں صحت، تعلیم، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، مہنگائی کنٹرول، اور بیوروکریسی کی جوابدہی نمایاں ہیں۔ خاص طور پر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک کرنے، کھلی کچہریوں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔

    مریم نواز کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ کاغذی فائلوں کے بجائے زمینی حقائق پر یقین رکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور سہولیات کی فراہمی، ان اقدامات نے عام شہری کو یہ احساس دلایا کہ حکومت واقعی اس کی دہلیز تک پہنچی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کی مقبولیت اس وقت پنجاب کے شہری متوسط طبقے، سرکاری ملازمین اور کمزور طبقات میں خاصی مضبوط ہو چکی ہے۔ وہ طبقہ جو ماضی میں حکومتی دعووں سے مایوس تھا، اب عملی اقدامات کی وجہ سے محتاط امید کا اظہار کر رہا ہے۔ البتہ دیہی علاقوں میں یہ مقبولیت بتدریج بڑھ رہی ہے، جہاں مسائل کی نوعیت زیادہ گہری اور دیرینہ ہے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبولیت کا اصل امتحان تسلسل میں ہوتا ہے۔ اگر موجودہ اصلاحاتی عمل برقرار رہا، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے بغیر عوامی خدمت پر مجبور رکھا گیا اور مہنگائی و روزگار جیسے بنیادی مسائل پر ٹھوس پیش رفت ہوئی تو مریم نواز کی مقبولیت محض وقتی نہیں بلکہ دیرپا سیاسی سرمایہ بن سکتی ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت اس مرحلے پر ہے جہاں اعتماد بنتا ہوا نظر آ رہا ہے، مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ عوام نے انہیں موقع دیا ہے، اب یہ ان کی حکمرانی کے تسلسل اور نتائج پر منحصر ہے کہ یہ مقبولیت عروج تک پہنچتی ہے یا محض ایک مضبوط آغاز تک محدود رہتی ہے۔