Baaghi TV

Tag: شہید

  • حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    شہدائے پاکستان کو سلام.وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کی پہچان ہے.جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا.

    دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک لانس حوالدار مدثر محمود شہید کی ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے 13 اپریل 2024 کو بونیر میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا.حوالدار مدثر محمود شہید کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے سوگواران میں والدین، بیوہ اور تین بچے چھوڑے.حوالدار مدثر محمود کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے ایسا بیٹا عطا کیا”بہت فخر ہے کہ بیٹا راہِ حق میں ملک کے لیے شہید ہوا.بیٹے کو بچپن سے فوج میں جانے کا شوق تھا، اللہ نے اس کا شوق پورا کیا.بہت فرمانبردار تھا، ہر کسی کی خواہش کا خیال رکھتا تھا.بہت خوش قسمت ہوں کہ شہید کا والد ہوں.شہادت کا صدمہ بہت ہے مگر خوشی ہے اللہ نے اس کو اتنا بڑا رتبہ عطا کیا.آخری بار کہہ کر گیا کہ عید کے چوتھے دن آؤں گا مگر چوتھے دن اس کی جسدِ خاکی آئی.مدثر کے بیٹوں میں مجھے اس کا عکس نظر آتا ہے.اس کے بیٹے کہتے ہیں وہ اپنے بابا کی طرح فوج میں جا کر ملک کا نام روشن کریں گے.

    والدہ، حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ بیٹا بہت تابعدار اور خدمت گزار تھا، سب گھر والوں سے بہت پیار کرتا تھا.والدہ.بچے اپنے بابا کو بہت یاد کرتے ہیں.بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرے.بیٹے کی شہادت ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں.

    بیوہ حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ مدثر کی جدائی کا بہت غم ہے مگر اس نے ملک اور قوم کے لیے شہادت نوش کی.ان کے ساتھ زندگی بہت اچھی گزری، کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی.مجھ سے اور بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، انکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا.شہادت کا بہت شوق تھا، اللہ نے ان کی یہ خواہش پوری کی.ان کی خواہش تھی کہ وہ مجھے اور اپنے والدین کو عمرہ پر لے کر جائینگے.مجھے فخر ہے کہ اللہ نے میرے شوہر کو شہادت کا رتبہ عطا کیا،

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے،پاک فوج کے اس بہادر سپوت کا اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ہم سب کے لیے باعث فخر ہے

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

  • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب، پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ڈسٹرکٹ کے علاقے راجگال میں ایک غیر ملکی دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے بہادر سپاہی، 22 سالہ عامر سہیل آفریدی نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سپاہی عامر سہیل آفریدی ضلع خیبر کے علاقے راجگال کے رہائشی تھے اور ان کی شہادت نے قوم کو بے حد غمگین کیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔پاکستان کی حکومت نے مسلسل طور پر عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاک فوج نہ صرف اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے آپریشنز سے دہشت گرد گروہوں کو سخت پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور ان کے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع خیبر کے علاقے راجگال میں سیکیورٹی آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 4 کارندوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےفائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی عامر سہیل آفریدی کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور کہا کہ قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الخوارج کے مکمل سد باب کے لیے سرگرم عمل ہیں،

  • 26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر کو پی ٹی آئی کے خونی احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا رینجرز کا ایک اور اہلکار جان کی بازی ہار گیا، 37 سالہ لانس نائیک محمد تنویر کوما میں تھا

    25 اور 26 نومبر کواحتجاج کی آڑ میں پرتشدد کاروائیوں میں شدید زخمی پاکستان رینجرز پنجاب کے لانس نائیک محمد تنویر (عمر 37 سال، ساکن ضلع نارووال) کومہ کی حالت میں تھے ،لانس نائیک محمد تنویر شہید نے 17سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ،لانس نائیک محمد تنویر شہید کے سوگواران میں اہلیہ، 2 بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں

    25/26 نومبر کواحتجاج کی آڑمیں پی ٹی آئی کارکنان نے پرتشدد حملے کیے،پی ٹی آئی کارکنان نے سرکاری املاک پہ حملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،پی ٹی آئی کے شرپسند وں کے حملوں سے رینجرز کے شہید اہلکاروں کی تعداد اب 4 ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہیں،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے دو اہلکار شہید جبکہ تقریباً 119 اہلکار زخمی ہوئے، پرتشدد کاروائیوں کے باعث اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کی متعددویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں، پی ٹی آئی کارکنان نے مختلف مقامات پر آگ بھی لگائی ، پرتشدد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے جناح ایونیوخالی کرا لیا، مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع

    رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا،وزیراعظم،آرمی چیف کی شرکت

    رینجرز اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ،عینی شاہدین کا بیان

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

  • میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر)کا 53 واں یومِ شہادت.آج میجر شبیر شریف شہید کا یومِ شہادت پوری عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے.

    ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا.علما کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کو بھولنے والی قوموں کا تاریخ میں نام لینے والا کوئی نہیں ہوتا، میجر شبیر شریف شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا،

    میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا53واں یومِ شہادت.میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو ضلع گجرات کے گاؤں کُنجاہ میں پیدا ہوئے.میجر شبیر شریف نے اپریل 1964 میں کمیشن حاصل کیا ، میجر شبیر شریف کوپاسنگ آؤٹ پریڈ میں ”اعزازی شمشیر” سے نوازا گیا.میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان ہیں جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر اور ستارہ جرات عطاء کئے گئے.6دسمبر کو میجر شبیر شریف نے دشمن کا ایک اور جوابی حملہ پسپا کیا .اس دوان43بھارتی فوجیوں کو ہلاک ،38کو جنگی قیدی اور4ٹینک تباہ کیے .میجر شبیر شریف بھارتی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو ئے .آپ کی اس بے مثال جرات اور بہادری کے صلے میں حکومت پاکستان نے آپ کو نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا

    میجر شبیر شریف کا یوم شہادت، صدر مملکت، وزیراعظم کا خراج تحسین پیش
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کو 53ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا،صدر آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید کی جرات اور بہادری کو سراہا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نے 1971 میں دشمن کا جوانمردی سے مقابلہ کیا.میجر شبیر شریف شہید جیسے بہادر افسران پر پوری قوم کو فخر ہے.میجر شبیر شریف شہید نے مادر وطن کے دفاع کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا.پوری قوم میجر شبیر شریف کو وطن کیلئے قربانی اور بہادری پر سلام پیش کرتی ہے.قوم تمام شہداء کی قربانیوں کی معترف ہے، اُنہیں فراموش نہیں کرے گی.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےمیجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر جرآت و بہادری کی عمدہ مثال تھے.1971 کی جنگ میں میجر شبیر شریف شہید نے سلمانکی میں دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا.میجر شبیر شریف شہید نے نہ صرف اپنے ہدف کی حفاظت کی، دشمن کے ٹینکوں کو ٹینک شکن رائفل سے ناکارہ بنایا بلکہ کمپنی کمانڈر سمیت دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا.طاقت کے نشے میں چور اپنی عددی برتری کے باوجود دشمن، میجر شبیر شریف شہید کی موثر مدافعت کا مقابلہ نہ کر سکا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر نے مادر وطن کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش کیا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کا وطن سے محبت اور دفاعِ وطن کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا جذبہ نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہے.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی نے دشمن کی عددی برتری کو خاک میں ملا دیا.مجھ سمیت پوری قوم کو میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر اور انکے اہل خانہ پر فخر ہے.پاکستان کی غیور قوم دفاعِ وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے بہادر و جری جوانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی.میجر شبیر شریف شہید کی فرض شناسی اور وطن سے وفاداری کی مثال رہتی دنیا تک آئندہ نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی.

  • معرکہ ہلی ، میجر محمد اکرم شہید کی بہادری اور جوانمردی کی  داستان

    معرکہ ہلی ، میجر محمد اکرم شہید کی بہادری اور جوانمردی کی داستان

    میجر ملک محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو کھاریاں کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوئے.میجر محمد اکرم نے 1961ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی. میجر محمد اکرم 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ کا حصہ بنے اور 1970 میں میجر کے رینک پر فائز ہوئے.1971ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران میجر محمد اکرم مشرقی پاکستان میں ہلی کے محاذ پر تھے.دُشمن کے ایک بریگیڈ نے آپ کی کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑنے کیلئے متعدد حملے کئے.بھارتی فوج کی عددی برتری کے باوجود آپ کی کمپنی نے مسلسل14دن تک دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا.بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں بھارتی فوج مادرِ وطن کے ایک اِنچ پر بھی قبضہ کرنے کی جرأت نہ کر سکی .میجر محمد اکرم دفاعِ وطن کے اِس معرکے میں شہید ہو گئے.آپ کی بے مثال جرأت ، دلیری اور بے باکی کا اعتراف بھارتی کمانڈر انچیف نے بھی کیا.

    میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)کا53واں یومِ شہادت.آج میجر محمد اکرم شہید کا یومِ شہادت پوری عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے.دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا.علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا. علما کرام کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں، میجر محمد اکرم شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا

    میجر محمد اکرم شہید نے وطن کیلئے عظیم قربانی پیش کی.صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کو 53 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا،صدر مملکت نےمیجر محمد اکرم شہید کو دفاع وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم کی جانب سے سلام پیش کیا صدر مملکت نے میجر محمد اکرم شہید کے جذبہ حب الوطنی، قوم کیلئے خدمات کو سراہا اور کہا کہ میجر محمد اکرم شہید نے وطن کیلئے عظیم قربانی پیش کی.پوری قوم اپنے شہداء اور اُنکے خاندانوں کی احسان مند رہے گی.قوم اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، قربانیاں فراموش نہیں کرے گی.صدر مملکت نے میجر محمد اکرم شہید کیلئے بلندی درجات کی دعا کی.

    میجر محمد اکرم شہید نے دشمن کی عددی برتری کی پرواہ کئے بغیر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا.وزیراعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےمیجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میجر محمد اکرم شہید نے مشرقی پاکستان میں لڑتے ہوئے جرآت و بہادری کی لازوال مثال قائم کی. میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر نے دشمن کی عددی برتری کی پرواہ کئے بغیر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. میجر محمد اکرم شہید نے فرض شناسی اور وطن سے عہد وفاء کی ایسی مثال قائم کی جو نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہے. مجھ سمیت پوری قوم کو پاک فوج کے شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے.وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے وطن کے عظیم بیٹوں کیلئے پوری قوم کے عقیدت کے جذبات ہیں.پاکستانی قوم اپنے شہداء اور انکے اہل خانہ کی وطن کے دفاع کیلئے دی گئی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر ے گی.

  • اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    پی ٹی آئی کے شرپسند کارکنان کے حملوں سے رینجرز کے تین اہلکار شہید ہو گئے

    شہید ہونے والے رینجرز کے اہلکاروں میں نائیک محمد رمضان شہید(عمر 47 سال، ساکن ضلع کرک)، سپاہی گلفام خان شہید (عمر 29سال، ساکن ضلع راولپنڈی ) اور سپاہی شاہنواز شہید (عمر 33سال، ساکن ضلع سبی) شامل ہیں،رینجرز کے شدید زخمی اہلکاروں میں نائیک عارف ، لانس نائیک آصف اور سپاہی اشرف علی شامل ہیں،شرپسند عناصر کی شناخت کاعمل تیزی سے جاری ہے، پرتشدد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، شرپسندوں کے سرکاری املاک پر حملے،پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان
    احتجاج کی آڑمیں پرتشددکارروائیوں میں رینجرز کے3اہلکارشہید ہوئے،مظاہرین نے سرکاری املاک پرحملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مظاہرین کے حملوں سےمتعدداہلکار زخمی بھی ہوئے، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،مظاہرین کے حملوں سے پنجاب پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان پہنچا، پرتشدد کارروائیوں میں اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،شہید رینجراہلکار نائیک محمد رمضان عمر 47 سال تعلق کرک سے تھا، سپاہی گلفام خان عمر 29سال اورتعلق راولپنڈی سے تھا،شہیدسپاہی شاہنواز عمر 33سال،تعلق سبی سے تھا،زخمیوں میں نائیک عارف،لانس نائیک آصف اورسپاہی اشرف علی شامل ہیں،مظاہرین نے مختلف مقامات پر آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا،پولیس کی جانب سے متعدد پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ،شرپسند عناصر کی شناخت کاعمل تیزی سے جاری ہے، پرتشدد عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ رینجرز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ رینجرز اہلکار سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کی تیز رفتاری سے شہید ہوئے، حادثے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید ہوئے جبکہ چوتھے کی حالت تشویشناک ہے،شہید ہونے والوں میں نائیک محمد رمضان، سپاہی گلفام خان، سپاہی شاہنواز شامل ہیں،اوکاڑا کے سپاہی آصف کی حالت تشویشناک اللہ سے دعا ہے کہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے،سیکیورٹی فورسز بشمول رینجرز ملک کا امن برقرار رکھنے کوئی کوتاہی نہیں کریں گے،

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مابین تصادم میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے،صدر مملکت نےپولیس اور رینجرز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،صدر مملکت نےجانبحق سیکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے،صدر مملکت نے جانبحق اہلکاروں کیلئے بلندی درجات، اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

    امن و امان کے قیام کے لیے موجود پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے،بلاول
    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شاہراہ سرینگر پر رینجرز اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے موجود پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے،اسلام آباد میں رینجرز اور پولیس پر حملوں میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے،جام شہادت نوش کرنے والے رینجرز اور پولیس اہلکار قوم کےبہادر بیٹے تھے،شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے،شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں، پرامن احتجاج کے حق اور شرپسندی و دہشتگردی کے متعلق پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے

    دوسری جانب سری نگر ہائی وے پر رینجرز کے تین جوان شہید ہونے کا معاملہ، وفاقی پولیس نے رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والے شخص کو گرفتار کر لیا،گرفتار شخص کی شناخت ہاشم ولد عاصم کے نام سے ہوئی،ملزم ہاشم نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ مجھے رات کے وقت فورس کے اہلکار نظر نہیں آئے ،ملزم کو مارگلہ تھانے منتقل کردیا گیا ہے،ملزم اسلام آباد کا رہائشی ہے،ملزم سے مزید تحقیقات جاری ہیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران شدید تشویشناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ نصف شب کے بعد سری نگر ہائی وے پر رینجرز کے اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی گئی، جس کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار شہید ہوگئے۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین جی نائن تک پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی قافلے کی قیادت کر رہی ہیں، مظاہرین ڈی چوک جانا چاہتے ہیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکا جائے گا،اسد قیصر، عالیہ حمزہ و دیگر رہنما بھی بشریٰ بی بی کے احتجاجی قافلے میں شریک ہیں،

    پاک آرمی لورز موومنٹ نے 3رینجرز اہلکاروں کو کچل کر شہید کرنے پر شدید دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے، پاک آرمی لورز موومنٹ کے چیئرمین جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ سیاسی جتھے کے مقاصد و عزائم سب جان چکے ہیں خدارا ملک و ملت کے حال پر رحم کرو اور اپنے سربراہ کی رہائی کے لئے قانونی راستہ اختیار کرو ۔شہید ہونے والے کسی کے باپ ۔ بیٹے اور بھائی تھے،ظلم کیا گیا ۔قانون سازی کرکے پاکستان بھر میں ضلعی سطح پر احتجاج وغیرہ کی جگہ متعین کی جائے تاکہ ان سے چھٹکارا حاصل ہو ۔قانون کی خلاف ورزی پر عوام کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کے بعد عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیئے نہ کہ احتجاج ریلیوں کے ذریعے ملک میں انتشار و فساد برپا کیا جائے ۔ عوام کسی ایسے فساد و انتشار کا حصہ نہ بنیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیا و ملکی استحکام کا خدشہ ہو ۔

    اسلام آباد،رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والا شخص گرفتار

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”

  • ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئےجبکہ 2 فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے جوانوں میں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد شامل ہیں،ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تاہم اس دوران میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں،میجر محمد حسیب کا تعلق ضلع راولپنڈی سے تھا، 38 سالہ حوالدار نور احمد کا تعلق ضلع بارکھان سے تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کے دفاع میں ان کی ثابت قدمی اور بہادری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    28 سالہ میجر محمد حسیب شہید نے 8 سال 6 ماہ تک دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔شہید کے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی شامل ہیں، 38سالہ حوالدار نور احمد شہید کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے، انہوں نے 14 سال تک وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔حوالدارنور احمد شہید کے سوگوران میں اہلیہ،3بیٹے اور بیٹی شامل ہیں۔

    صدر مملکت کا ہرنائی میں جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا،صدر مملکت نےمیجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم کی جانب سے سلام پیش کیا اور کہا کہ دفاع وطن کے دوران بڑی قربانی پیش کرنے پر پوری قوم شہداء کی ممنون ہے، صدر مملکت نے کاروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا،اور کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے کاروائیاں جاری رکھیں گے،قوم شہداء اور اُنکے خاندان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی،

    پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعظم نے شہداء کی بلندی ء درجات کی دعاء اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہرنائی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان
    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہا ہے جبکہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے بہادری سے جام شہادت نوش کرنے والے فورسز کے عظیم سپوتوں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیر اعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ہرنائی میں شہید ہونے والے میجر حسیب نے نہایت جرات و بہادری سے کارروائی میں فورسز کی کمانڈ کی اور تین دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اس دوران انہوں نے اپنے ایک ساتھی حوالدار نور محمد کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا، قوم کو اپنے ایسے بہادر جوانوں پر فخر ہے جنہوں نے وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کردی اور دہشتگردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ان کی عظیم قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر جمیل کے لئے دعا کی

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان ،سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ کارروائی کے دوران 4 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے،جبکہ مقابلے میں وطن کے چار بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا،شہید ہونے والوں میں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ شامل ہیں،علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    لانس نائیک گلاب زمان شہید کی عمر 30 سال تھی ان کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔ شہید نے 9 سال تک وطن عزیز کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا،لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید کا تعلق ضلع اورکزئی سے ہے۔ 28 سالہ لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید نے 7 سال تک پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی،ضلع کرک کے رہائشی لانس نائیک مزمل محمود شہید کی عمر 37 سال تھی، انہوں نے7 سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےا فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ کی شہادت پر رنج و الم کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے نڈر جوانوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ہماری دہشتگردوں سے جنگ جاری رہے گی،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • دہشتگردوں کا حملہ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 جوان وطن پر قربان

    دہشتگردوں کا حملہ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 جوان وطن پر قربان

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں زام ایف سی چیک پوسٹ پر رات کی تاریکی میں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا،

    خوارجی دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایف سی کے 10 جوان شہید۔ 3 زخمی ہوئے، ترجمان کے مطابق شہید جوانوں نے جانیں نچھاور کرکے خوارجی دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ ناکام بنایا۔شہید ہونے والے ایف سی کے 6 جوانوں کا تعلق جنوبی وزیرستان جبکہ 4 جوانوں کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔شہداء میں نائب صوبیدار محمد جان، نائیک عارف، لانس نائیک سعید الرحمان،سپاہی اخونزادہ،سپاہی حضرت اللہ شامل ہیں،سپاہی مشتاق، سپاہی عبدالصمد، سپاہی عمران، سپاہی بصیر اور سپاہی مہتاب نے جام شہادت نوش کیا،زخمی ایف سی اہلکاروں نائیک حمزہ، سپاہی حسن اور سپاہی صابر ایوب کو علاج کے لیے سی ایم ایچ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا ہے

    ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ایف سی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ایف سی دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے اور قیام امن کیلئے پر عزم ہے۔ شہداء کی عظیم قربانیاں ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    ایف سی کے دس جوانوں کی شہادت، صدر مملکت،وزیراعظم، وزیر داخلہ ودیگر کا اظہار افسوس
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے حملے میں ۱۰ ایف سی کے جوانوں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا ہے،صدر مملکت نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نےواقعے میں شہادت پانے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،صدر مملکت نے شہید جوانوں کے جذبہ حب الوطنی اور بہادری کو سراہا ،صدر مملکت نے واقعے میں شہید ہونے والے جوانوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کی،صدر مملکت نے شہداء کیلئے بلندی درجات ، ورثاء کیلئے صبر جمیل کی دعا کی.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع بنوں میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے، وزیر اعظم نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں خوارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعظم نے ضلع بنوں میں دہشت گرد حملے میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے، وزیراعظم نے شہداء کی بلندی ء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہیں ،پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے

    وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایف سی چیک پوسٹ پر اور بنوں کے علاقے تھانہ جانی خیل میں پولیس موبائل پر بزدلانہ حملہ قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔ فتنہ الخواج کا مقابلہ کرتے ہوئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز کی ملک کے امن کے لیے قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گیں۔ اللہ تعالٰی شہداء کے درجات بلند اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دُکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈی آئی خان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خوارجیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے،اسپیکر نےحملے میں ایف سی کے دس بہادد جوانوں کے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا،اسپیکر نے تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہدا قوم کا فخر ہیں،شہدا کی دفاع وطن کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ، دکھ اور غم کی گھڑی میں شہداء کے اہلخانہ کے غم اور صدمے میں برابر کا شریک ہوں،دہشتگرد عناصر کو کبھی انکے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے،

    قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر دہشتگردی کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تازہ ترین واقعہ میں درازندہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کے ایف سی کی پکٹ پر حملہ اور 10 جوانوں کی شہادت نہادت تکلیف دہ سانحہ ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاست کررہی ہیں اور اس سنگین مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں جہاں ہم روزانہ کی بنیاد پر قیمتی جانوں کا ضیاع دیکھ رہے ہیں

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، وزیر داخلہ نے بنوں میں ایس ایچ او تھانہ جانی خیل کی گاڑی اور کوہاٹ میں سب انسپکٹر پر فائرنگ کے واقعات کی بھی مذمت کی۔محسن نقوی نے زام چیک پوسٹ پر حملے میں شہید ایف سی کے 10 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔