راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید ہو گئے،
شہید سب انسپکٹر عاصم رشید سابقہ ایس ایچ او مورگاہ تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 14 جنوری سے NIH ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم دشید کی نماز جنازہ ایس او پیز کے مطابق انکے رہائشی علاقہ چک بہادر جاتلی میں دن 11 بجے ادا کی جاۓ گی۔
شہید سب انسپکٹر عاصم رشید انتہائی قابل ، ایماندار اور ملنسار افسر تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید نے سوگواران میں والدہ، بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہےراولپنڈی پولیس نے آئی جی پنجاب انعام غنی کی پالیسی کے مطابق شہید کے اہل خانہ کو تجہیز و تکفین کے واجبات ادا کئے۔ شہید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کی محکمہ پولیس کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں.راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاہم افسران و اہلکار فیس ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور دیگر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، سی پی او راولپنڈی.
Tag: شہید

راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید

قصور کا فوجی جوان وطن پر قربان
قصور چونیاں کے نواحی گاؤں کندووال کا رہائشی عبد الرسول آج بارڈر پر بھارتی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے نواحی گاؤں کندووال کا رہائشی فوجی جوان عبد الرسول آج رات دشمن سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا
ضلع قصور کے فوجی جوانوں و افسران کی دشمن سے لڑتے ہوئے کل تعداد 89 ہو گئی اس سے قبل ضلع قصور سے تعلق رکھنے والے 88 جوان و افسران اپنی جانوں کا نذرانہ ارض پاک پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے پیش کر چکے ہیں
کندووال میں شہید کے گھر لوگوں کی آمد
شہید کا جسد خاکی پورے فوجی اعزاز کیساتھ ان کے آبائی گاؤں کندووال چونیاں لایا جائے گا اور نمازہ جنازہ کے بعد فوجی اعزاز کیساتھ تدفین کی جائے گی
وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند
پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے خطے کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق آزدانہ زندگی گزار سکیں اور اپنے اسلامی اصول و قوانین پر عمل کر سکیں ۔ مسلمانوں نے اس لیے بے انتہا قربانیاں دیں تا کہ ان کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ لیکن پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ انہیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو کامیاب ہونے میں ہمیشہ مدد دی ۔ پاکستانی کی سرزمین میں عاشق رسول ﷺ تو پھانسی کے پھندے تک پہنچتے رہے لیکن پاکستان کہ غدار اور اسلام کے دشمن ہمیشہ ہمارے حکمرانوں کے تحفظ میں رہے ۔ اس پاک دھرتی میں اسلامی قوانین تو راٸج نہ کیے جاسکے البتہ میڈیا کے ذریعے پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ ضرور دیا جاتا رہا ہے ۔ اسلام کے نام لیواٶں پر تو یہ زمین تنگ کر دی گٸی لیکن محب وطن پاکستانیوں پر غداری کے مقدمات درج کٸیے گے اور پاک فوج اور پاک وطن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے باعزت بری ضرور ہوتے رہے ۔ پاکستان کے عوام جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ کرنا تھا وہ روٹی کپڑا مکان ، قرض اتارو ملک سنواروں ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور دو نہیں ایک پاکستان جیسے نعروں میں ہی الجھ کر رہ گے ۔ نعرے تو ہر الیکشن میں بدلتے رہے ۔ بلہ الیکشن سے پہلے اور نعرے ہوتے جبکہ الیکشن کے بعد مزید نٸے نعرے آجاتے ۔ لیکن ان کھوکھلے نعروں نے ہمیں دیا کیا ؟ کیا پاکستان سے قرضہ ختم ہو گیا ؟ کیا عوام کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا ؟ کیا دو نہیں ایک پاکستان بن گیا ؟ کیا عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملنا ممکن ہوگیا ؟ کیا پولیس کا نظام ، عدلیہ کا نظام ، نظام حکومت سب بدل گیا ؟ کیا یہ سب بدل کر پاکستانی عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگیا ؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ایسا تب تک ہو سکتا ہے جب تک ہم اہنا نظام نہ بدل لیں ۔ اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے ، عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہیں تو پھر نعرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ۔ نظام بھی نچلی سطح سے لے کر اعلی سطح تک بدلنا ہوگا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں بدلا کیا جاٸے ۔ تو سنیں نظام بدلنا کیسے ہے اور کس طرح نظام بدلے گا ۔ ہمارا پولیس کا نظام وہی جو انگریز نے بنایا یعنی عوام کو حکمرانوں اور سیاستدانوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں سے ڈرا کر رکھنا اور بدقسمتی سے ہمارا نظام آج بھی وہی ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کا نظام اس محکمے کے مقاصد وہی رکھیں جاٸیں جو امیر المٶمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس محکمے کو قاٸم کرتے وقت بناٸے تھے ۔ قصور میں آٸے دن بچوں کا ریپ اور پھر درد ناک قتل اس سب کا ذمہ دار موجودہ نظام اور اس نظام کو قاٸم کرنے والے ہیں ۔ اگر اسلامی شریعت کے مطابق ان بچوں کے قاتلوں کو سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تو آٸیندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کسی معصوم بچے کی طرف غلط نظر سے دیکھ سکے ۔ ہمارے ملک میں رشوت خوری جہاں عروج پر ہے جہاں چور ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جاٸدادیں بنا لیں یہاں اگر اسلامی شریعت نافذ ہوتی تو پہلی دفعہ ہی چر کا ہاتھ کاٹنے پر اسے عبرت مل جاتی کہ آٸیندہ ہم نے حرام پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ انہیں پتہ ہوتا کہ ہم نے اپنے کتوں کو شہزادے بنا کر نہیں رکھنا بلکہ کتے کے کاٹے کی ویکسین رکھنی ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ان وزیروں مشیروں اور وزیر اعظم کا رہن سہن رکھا جاٸے ۔ دربان یعنی سیکیورٹی گارڈ ، پروٹوکول ختم کیاجاٸے ۔ وزیر اعظم کی تنخواہ عام مزدور کے برابر لاٸی جاٸے تاکہ سب کا معیار زندگی ایک ہو ۔ وزیروں مشیروں کی شاہانہ گاڑیوں پر پابندی لگاٸی جاٸے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صوبوں کے والیوں کو ترکی گھوڑا استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ اسلامی قانون کے مطابق زکوة و عشر امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا حکم تھا مگر یہاں غریب کے بچے کی دو روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس لگا کر امیروں کو دیا جارہا ہے ۔ ٹیکس ختم کر کے زکوة و عشر کا نظام لایا جاٸے تاکہ فاٸدہ غریب کا ہو اور امیر کا بھی مال پاک ہوجاٸے ۔ یہ قانون بنایا جاٸے کہ جو حکمران قرض لے گا وہی اس قرض کو واپس بھی کرے گا نہ کہ اس ملک کی غریب عوام کو پیسا جاٸے گا ۔ ملک کی لوٹی ہوٸی رقم واپس لانے کا آسان حل ان چوروں ڈاکوٶں میں سے کسی دو کی سر عام گردنیں اتار دی جاٸیں ۔ باقی روپیہ خود واپس کریں گے ۔ اور اس قانون پر عمل میں خیال یہی رکھا جاٸے کہ اگر اپنی بہن یا بیٹی کی چوری اور زکوة کی جاٸدادیں باہر ہیں تو اسے بھی سزا دی جاٸے ۔
پاکستان میں حکمران صرف اسی کو منتخب کیا جاٸے ، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف تک کے عہدے ان لوگوں کو دٸیے جاٸیں جن کے بزرگ پاکستان میں دفن ہیں جن کی اپنی ساری عمریں اسی پاکستان میں گزر گٸیں اور جن کے بچے بھی ہمیشہ پاکستان میں رہے ہیں ۔ ایم این اے ، ایم پی اے سے پروٹوکول ، سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی واپس لی جاٸے اور انہیں پابند کیا جاٸے کہ یہ لوگ عام عوم کے ساتھ سفر کریں ۔ پھر دیکھیں ملک میں کوٸی ایک ادنی سی چوری بھی ہوگٸی یا دھماکہ ہوگیا تو کہنا ۔ شراب پر پابندی عاٸد کی جاٸے اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال پر سر عام کوڑے مارے جاٸیں تاکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں نشہ کے کاروبار ختم ہوں ۔ مزدوروں کے لیے ہسپتال الگ بناٸیں جاٸیں اور پھر ان عوامی نماٸیندوں کو پابند کیا جاٸے کہ وہ اپنا علاج انہیں ہسپتالوں سے کرواٸیں ۔ مزدور کا جیسا علاج معالجہ ہو ویسا ہی ان عوامی نماٸیندوں کا بھی ۔ بے حیاٸی کے خاتمے کے لیے بچوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروانے پر حکومتی سطح پر سختی کی جاٸے ۔ جو وزیر بے حیاٸی پھیلانے والوں کے ساتھ نظر آٸے اس کے لیے سزا مختص کی جاٸے تاکہ وہ بے حیاٸی پھیلانے والیوں کو ایوارڈ دینے کی بجاٸے شریعی سزا دے سکیں ۔ پہلی وحی ” پڑھ اپنے رب کے نام سے ” پر عمل کیاجاٸے اور اپنے رب کی دی ہوٸی تعلیم یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم دی جاٸے ۔
لیکن یہ سبھی قوانین تب بنے گے جب لیڈر اور نماٸیندے ایمان دار ہوں گے ۔ حرمت نبی ﷺ کو بیچ دینے والے ، شراب جس نے پینی ہے پی جس نے نہیں پینی نہ پیے کہنے والے ایسا نظام نہیں لاسکتے ۔ جو اپنے حرام پن کا دفاع کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جسے خالص دودھ ویسے مل جاٸے اسے گاٸے پالنے کی کیا ضرورت ہے وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ۔ جو یہ کہے قادیانی ہمارے بہن بھاٸی ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جو یہ کہیں کہ پتنگ بازی چھوڑنی ہے تو قربانی کرنا بھی چھوڑ دیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جن کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں والدین کی عزتیں خاک میں ملا رہے ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟
اللہ ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرماٸے اور کوٸی معجزہ دکھا دے کہ ہم بھی اپنے وطن کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنتے ہوٸے دیکھ سکیں ۔ آمین

"نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند
” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

راجہ محمد سرور شہید :
ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

میجر طفیل محمد شہید :
آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

میجر عزیز بھٹی شہید :
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

راشد منہاس شہید :
آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔
میجر شبیر شریف شہید :
میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔
سوار محمد حسین شہید :سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
میجر محمد اکرم شہید :
آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

کرنل شیر خاں شہید :
آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

حوالدار لالک جان شہید :
گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

سیف علی جنجوعہ :
انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔













