Baaghi TV

Tag: شیخ حسینہ واجد

  • شیخ حسینہ  سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    لندن: برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے منسلک دو افراد کی تقریباً 90 ملین پاؤنڈ کی جائیدادیں ضبط کرلیں۔

    دی گارڈین کے مابق ایک پیش رفت میں جو کہ سابق حکومت سے منسلک اثاثوں کا سراغ لگانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے کے لیے برطانیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے نو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے، احمد شایان رحمان اور اس کے کزن احمد شہریار رحمان کو لندن کے گروسوینر اسکوائر میں اپارٹمنٹس سمیت جائیداد فروخت نہیں کر سکتے، بنگلہ دیش کی سابق مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت میں برطانیہ کے اثاثوں کے بارے میں گارڈین کی تحقیقات میں اس جوڑے کا نام لیا گیا تھا۔

    کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق، تمام جائیدادیں برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مین یا جرسی میں کمپنیوں کے ذریعے ملکیت ہیں، اور £1.2m سے £35.5m تک کی قیمتوں میں حاصل کی گئی تھیں،رحمٰن بالترتیب سلمان ایف رحمان کے بیٹے اور بھتیجے ہیں، جو ایک امیر تاجر ہیں، جنہیں گزشتہ سال شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والے طلباء کی زیرقیادت انقلاب کے دوران مبینہ طور پر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    سلمان ایف رحمان، جنہیں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، نجی صنعت اور سرمایہ کاری کے بارے میں حسینہ کے مشیر تھے اور ملک میں بہت سے لوگ انہیں حکومت کی سب سے بااثر شخصیت کے طور پر دیکھتے تھےان کے بیٹے اور بھتیجے کی جائیدادیں گزشتہ سال گارڈین اور مہم گروپ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کے درمیان مشترکہ تحقیقات میں سامنے آئیں، جس میں شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت £400 ملین کی جائیداد کا انکشاف ہوا۔

    این سی اے کی جانب سے منجمد کی گئی جائیدادوں میں گریشم گارڈنز، نارتھ لندن میں ایک جائیداد بھی شامل ہے شیخ ریحانہ، جو شیخ حسینہ کی بہن ہیں اور برطانیہ کے سابق سٹی منسٹر ٹیولپ صدیق کی والدہ بھی ہیں، اس پراپرٹی میں رہائش پذیر ہیں، فنانشل ٹائمز کے مطابق، جس نے پہلے دو جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات کی اطلاع دی تھی، 7.7 ملین پاؤنڈ میں خریدی تھی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے کے ڈائریکٹر آف پالیسی ڈنکن ہیمز نے کہا: "ہم برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپنی انکوائری جاری رکھنے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام مشتبہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”

    NCA کے ایک ترجمان نے کہا: "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ NCA نے جاری سول تحقیقات کے حصے کے طور پر متعدد جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق دور حکومت میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں وہاں کے حکام نے ٹیولپ صدیق کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، جو الزامات کی روشنی میں شہر کے وزیر کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس نے کسی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    دی گارڈین نے تبصرے کے لیے رحمانز اور بیکسمکو کے وکیلوں سے رابطہ کیا ہے، جو خاندانی کارپوریٹ سلطنت سلمان رحمان نے قائم کی تھی۔

    احمد شایان رحمان کے ایک ترجمان نے پہلے ایف ٹی کو بتایا: "ہمارے مؤکل کسی بھی مبینہ غلط کام میں ملوث ہونے کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ وہ یقیناً برطانیہ میں ہونے والی کسی بھی تحقیقات میں حصہ لیں گےیہ بات سب کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل ہے، جہاں سینکڑوں افراد پر بے شمار الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہم توقع کریں گے کہ برطانیہ کے حکام اس پر غور کریں گے۔”

    علاوہ ازیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے وزیر سیف الزامان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرلیں بنگلہ دیش کے سابق وزیر سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں جائیدادیں بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی درخواست پر ضبط کی گئی ہیں، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اتحادی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیف الزمان چوہدری کے خلاف اس وقت بنگلہ دیش میں منی لانڈرنگ کے الزام پر تفتیش جاری ہے این سی اے کے ترجمان نے سیف الزمان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ این سی اے کو زیرتفتیش معاملے کے تحت متعدد جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات مل گئے ہیں برطانیہ میں جائیدادیں ضبط ہونے کا مطلب ہوگا کہ سیف الزمان چوہدری اب مذکورہ جائیدادیں فروخت نہیں کرسکیں گے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں 350 سے زائد جائیدادیں ہیں تاہم این سی اے نے ان کی ضبط ہونے والی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی ہیں زسابق بنگلہ دیشی وزیر کا لندن کے مہنگے علاقے ایس ٹی جونز ووڈ میں پرتعیش گھر بھی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کو بھی ضبط کیا گیا یا نہیں، گزشتہ برس انٹرویو کے دوران چٹاگانگ کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے سیف الزمان چوہدری نے کہا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کی طرح ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ برطانیہ میں میرا کاروبار ہے۔

  • شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد

    شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کردی گئی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے، ترمیم سے سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    دوسری جانب عوامی لیگ نے عبوری حکومت کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    شیخ حسینہ کی 16 سالہ حکومت کا خاتمہ 5 اگست کو ایک طلبہ تحریک کے نتیجے میں پرتشدد عوامی بغاوت کے ذریعے ہوا اس کے بعد 77 سالہ حسینہ واجد خفیہ طور پر بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئیں،ان پر قتلِ عام اور بدعنوانی سمیت 100 سے زائد مقدمات درج ہیں، جبکہ ان کی حکومت کے بیشتر وزراء اور رہنما یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا ملک سے فرار ہو چکے ہیں ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا، اور عوامی لیگ بنگلہ دیش کی سیاسی فضا سے تقریباً غائب ہو چکی ہے۔

  • حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    بنگلادیش کی عبوری حکومت کا سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابقہ حکومت میں جن افراد پر قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے، ان کے خلاف بنگلا دیش کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ڈھاکہ میں ایک ٹربیونل پہلے ہی شیخ حسینہ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکا ہے۔ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے ہمسایہ ملک انڈیا میں پناہ لی تھی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شیخ حسینہ کی حکومت گزشتہ برس اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش میں منظم حملوں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد طلبہ نے مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت کے لیے انتخابات سے قبل پارٹی پر پابندی عائد کی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس کے احتجاجی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں عبوری حکومت نے عوامی لیگ کے طلبہ ونگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔طلبہ کی حمایت یافتہ نئی سیاسی جماعت کے رہنما حسنات عبداللہ نے ایک فیس بک پوسٹ میں حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی لیگ پر پابندی عائد کی جائے۔حسنات عبداللہ کی پارٹی اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    مقامی اخبار پرتھوم ایلو کے مطابق طالب علم رہنما ناصر الدین پٹواری نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ پارٹی پر پابندی لگانے میں ناکامی بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گی۔ اپنے ساتھیوں کی موت پر ابھی تک غمزدہ طلبہ رہنمائوں نے شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن نوبل انعام یافتہ اور نگراں حکومت کے رہنما محمد یونس نے کہا ہے کہ ان کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    بنگلہ دیش کے تعلیمی اداروں کی نئے سال کی نصابی کتب سے شیخ مجیب الرحمان اور بھارت کا ذکر نکال دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے نیشنل کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (NCTB) نے 2025 تعلیمی سال کے لیے اسکول کی نصابی کتب میں ملکی تاریخ کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کردیں۔رپورٹ کے مطابق نصابی کتب میں پہلے بھارت کو بنگلہ دیش کا نجات دہند ہ بنا کرپیش کیا جارہا تھا جس کو ختم کردیا گیا۔ اسی طرح شیخ مجیب ا لرحمان کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تصاویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم 1971 کی جنگ میں بھارتی فوج اور مکتی باہنی کا کردار کاذکر برقرار رکھا گیا ہے ۔

    سب سے اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ذکر اور تصاویر کو تمام نصابی کتب سے مکمل طور پر غائب کردیا گیا ہے۔ اسی طرح طلبا کے لیے روایتی پیغام، جو پہلے پچھلے سرورق پر چھپا ہوا تھا کی جگہ پر جولائی 2024 کی طلبا انقلاب کی تصاویر شائع کی گئی ہیں .یادرہے کہ رواں تعلیمی سال کے لیے 40 کروڑ سے زائد نئی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔این سی ٹی بی کے چیئرپرسن اے کے ایم ریاض الحسن کے مطابق نظرثانی 2012 کے نصاب کے فریم ورک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جس سے پچھلی 2022-2023 کی نصابی کتب کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

    نئے ایڈیشنز میں کی گئی ایک اہم تصحیح کے مطابق سب سے پہلے بنگلہ دیش کی آزادی کو تسلیم کرنے والا ملک بھارت نہیں بلکہ بھوٹان ہے۔ بھوٹان نے 3 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تھا۔

    پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن جھوٹ پھیلانیکی سزا ہونی چاہیے،شرجیل میمن

    حافظ آباد: ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس، میاں ذیشان عباس بھٹی کو تعریفی سند

    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار

    ریگی ماڈل ٹاؤن تنازعہ، کمشنر پشاور کی کوکی خیل قبیلے سے بات چیت، مشترکہ اجلاس طلب

  • کرپشن الزامات،حسینہ واجد کی بھانجی برطانوی وزیر کے عہدے سے مستعفی

    کرپشن الزامات،حسینہ واجد کی بھانجی برطانوی وزیر کے عہدے سے مستعفی

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھانجی اور برطانیہ کی انسداد بدعنوانی کی وزیر ٹیولپ صدیق نے کرپشن الزامات پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 42 سالہ ٹیولپ صدیق بدعنوانی میں ملوث ہونے سے مسلسل انکار کرتی رہیں اور وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں اپنی وزیر پر مکمل اعتماد ہے،گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت کے دوسرے وزیر کا استعفیٰ کیئر اسٹارمر کے لیے ایک دھچکا ہے، جولائی میں عام انتخابات میں لیبرپارٹی کی کامیابی کے بعد ان کی مقبولیت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ ٹیولپ صدیق کو برطانوی وزیراعظم نے فنانشل سروسز کی پالیسی کا قلمدان سونپا گیا تھا جس میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کی ذمہ داری بھی شامل تھی۔

    واضح رہے کہ شیخ حسینہ کی بھانجی پر الزام ہے کہ وہ اور ان کا خاندان بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے تحفے میں دی گئی لندن کی جائیدادوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیولپ صدیق لندن میں ان جائیدادوں میں رہ رہی ہیں، جو مبینہ طور پر کرپشن سے حاصل کی گئی ہیں ,محمد یونس نے ان جائیدادوں کی دھوکہ دہی اور غبن کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    سابق اسپنر عبدالرحمان قومی ٹیم کے اسپن بولنگ کوچ مقرر

    سندھ حکومت کا تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول منعقد کرانے کا فیصلہ

    عالمی بینک کا پاکستان کو 20 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ

    بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

  • 80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اوران کے خاندان کے خلاف 80 ہزار کروڑ ٹکے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان الزامات میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ سے 5 بلین ڈالر (59,000 کروڑ ٹکے) کی بدعنوانی کا الزام شامل ہے جبکہ اس منصوبے سمیت دیگر منصوبوں میں کی گئی بدعنوانی کا تخمینہ 80،000 کروڑ ٹکے لگایا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ملزمان میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ، ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے اور ان کی بھانجی ٹیولپ صدیق سمیت خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں، سابق وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف الزامات میں روپ پور کے علاوہ آشریان جیسے منصوبوں میں بھی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ میں شیخ حسینہ کے خاندان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹس 19 اگست کو متعدد اخبارات میں شائع ہوئیں، جن کا بعد میں رٹ پٹیشن میں حوالہ دیا گیا۔ان رپورٹوں میں گلوبل ڈیفنس کارپوریشن کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ، سجیب واجد جوائے اور ٹیولپ صدیق نے ایک غیر ملکی بینک کے ذریعے 5 ارب ڈالر کی خورد برد کی جبکہ شیخ حسینہ پر روپ پور پراجیکٹ سے 5 بلین ڈالر سے زائد کا گھپلا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    کراچی :570 مخدوش عمارتیں،ہزاروں افراد کے تاحال رہائش پذیر