Baaghi TV

Tag: شیخ مجیب الرحمان

  • بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    بنگلہ دیش کے تعلیمی اداروں کی نئے سال کی نصابی کتب سے شیخ مجیب الرحمان اور بھارت کا ذکر نکال دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے نیشنل کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (NCTB) نے 2025 تعلیمی سال کے لیے اسکول کی نصابی کتب میں ملکی تاریخ کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کردیں۔رپورٹ کے مطابق نصابی کتب میں پہلے بھارت کو بنگلہ دیش کا نجات دہند ہ بنا کرپیش کیا جارہا تھا جس کو ختم کردیا گیا۔ اسی طرح شیخ مجیب ا لرحمان کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تصاویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم 1971 کی جنگ میں بھارتی فوج اور مکتی باہنی کا کردار کاذکر برقرار رکھا گیا ہے ۔

    سب سے اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ذکر اور تصاویر کو تمام نصابی کتب سے مکمل طور پر غائب کردیا گیا ہے۔ اسی طرح طلبا کے لیے روایتی پیغام، جو پہلے پچھلے سرورق پر چھپا ہوا تھا کی جگہ پر جولائی 2024 کی طلبا انقلاب کی تصاویر شائع کی گئی ہیں .یادرہے کہ رواں تعلیمی سال کے لیے 40 کروڑ سے زائد نئی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔این سی ٹی بی کے چیئرپرسن اے کے ایم ریاض الحسن کے مطابق نظرثانی 2012 کے نصاب کے فریم ورک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جس سے پچھلی 2022-2023 کی نصابی کتب کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

    نئے ایڈیشنز میں کی گئی ایک اہم تصحیح کے مطابق سب سے پہلے بنگلہ دیش کی آزادی کو تسلیم کرنے والا ملک بھارت نہیں بلکہ بھوٹان ہے۔ بھوٹان نے 3 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تھا۔

    پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن جھوٹ پھیلانیکی سزا ہونی چاہیے،شرجیل میمن

    حافظ آباد: ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس، میاں ذیشان عباس بھٹی کو تعریفی سند

    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار

    ریگی ماڈل ٹاؤن تنازعہ، کمشنر پشاور کی کوکی خیل قبیلے سے بات چیت، مشترکہ اجلاس طلب

  • بنگلادیش کے صدارتی آفس سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹادی گئی

    بنگلادیش کے صدارتی آفس سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹادی گئی

    ڈھاکا: بنگلادیش کے صدارتی آفس سے ملک کے بانی اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹادی گئی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے معاون خصوصی محفوظ عالم نے تصدیق کی ہےکہ ڈھاکا میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر بنگابھبن میں موجود دربار ہال سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی گئی ہے۔

    ایک روز قبل عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے معاون خصوصی کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے اہم رہنما محفوظ عالم نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ‘ 71 کے بعد کے فاشسٹ شیخ مجیب کی تصویر دربار ہال سے ہٹادی گئی ہے، یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہےکہ ہم 5 اگست کے بعد ان کی تصاویر بنگا بھبن سے نہیں ہٹاسکے’۔

    صدارتی آفس سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے پر بنگلادیش میں مخالفت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس کی مذمت بھی کی ہےاپوزیشن جماعت بی این پی نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔

    بی این پی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری جنرل روح الکبیر رضوی نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ 15 اگست 1975 کو شیخ مجیب کے قتل کے بعد خوندکر مشتاق احمد نے بھی صدارتی دفتر سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹادی تھی لیکن بعد میں ضیا الرحمان نے تصویر واپس لگوادی تھی۔

    خیال رہے کہ رواں سال 5 اگست کو ملک میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی تھیں، بعد ازاں نگران حکومت نے شیخ مجیب کی پیدائش اور وفات کے موقع پر دی جانے والی عام تعطیلات بھی منسوخ کردی تھیں،اس کے علاوہ بنگلادیشی کرنسی سے بھی شیخ مجیب کی تصویر ہٹا کر نئے ڈیزائن کے نوٹ جاری کرنے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔