Baaghi TV

Tag: شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس

  • امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس حرمین شریفین مذہبی امور انتظامیہ کے سربراہ مقرر

    امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس حرمین شریفین مذہبی امور انتظامیہ کے سربراہ مقرر

    جدہ: امام کعبہ اور حرمین شریفین اتھارٹی کے سربراہ شیخ عبدالرحمان السدیس کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ (حرمین شریفین) مذہبی امور انتظامیہ کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ نے اسلام کی دو مقدس ترین مساجد میں مذہبی امور کی نگرانی کے لیے ایک نئی آزاد ایجنسی کے قیام پراتفاق کیا ہے یہ ایجنسی مکہ مکرمہ میں المسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے مذہبی امور کی صدارت کہلائے گی-

    عرب میڈیا کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کی نگرانی کے لیے سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے براہ راست کنٹرول میں نئی کونسل قائم کر دی گئی ہے امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے مذہبی امور انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، ان کا عہدہ سعودی وزیر کے برابر ہوگا کابینہ نے صدارتِ عامہ برائے الحرمین الشریفین (جنرل پریزیڈنسی) کا نام تبدیل کرکے جنرل اتھارٹی برائے المسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    پوپ فرانسس نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کردیا

    سعودی میڈیا کے مطابق نئی کونسل مکہ، مدینہ کی دونوں مقدس مساجد کے مذہبی امور کی صدارت کرے گی، نئی کونسل مذہبی اسباق، خطبات اور اذان سمیت دونوں مساجد میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی، سعودی بادشاہ کی زیرنگرانی نئی کونسل کو ممکنہ طور پر زیادہ مالی اور انتظامی آزادی حاصل ہوگی یعنی یہ دونوں مقدس مساجد میں خدمات ، آپریشنز ، تعمیر ومرمت اور ترقیاتی کاموں کا انتظام سنبھالے گی ا س کا ایک انتظامی بورڈ ہوگا جس کے سربراہ اور ارکان کا تقرر شاہی فرمان کے ذریعے کیا جائے گا۔مقدس مساجد کی نگرانی کرنے والی سابقہ کونسل سعودی حکومت کے کنٹرول میں تھی۔

    سعودی شاہی فرمان کے ذریعے وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے امور کے لیے جنرل اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی شرائط بڑی کڑی اور سخت ہیں،وزیراعظم

  • مسجد حرام ؛ ایک سال کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ مہمانوں کی خدمت

    مسجد حرام ؛ ایک سال کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ مہمانوں کی خدمت

    مسجد حرام ؛ ایک سال کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ مہمانوں کی خدمت

    صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے انکشاف کیا کہ 1444ھ کے آغاز سے لے کر اب تک بیت اللہ شریف کی مسجد حرام میں 100 ملین سے زیادہ افراد کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ حجر اسماعیل کے قریب نماز ادا کرنے والوں کی تعداد اس سال کے دوران 11 لاکھ 93 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 22 ویں سائنٹیفک فورم برائے حج، عمرہ اور وزٹ ریسرچ کے دوسرے سیشن میں اپنی شرکت کے دوران کیا ۔ اس فورم کا انعقاد ام القریٰ یونیورسٹی نے کیا جس کی نمائندگی معھد خادم حرمین شریفین نے کی۔ اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا کہ گاڑیوں کی نقل و حمل کی خدمات کے لیے ایک سال کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ مہمانوں کی خدمت کی گئی ہے۔

    ڈاکٹر السدیس نے مزید بتایا کہ مسجد نبوی ﷺ میں بزرگوں اور معذوروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے 50 سے زائد گاڑیاں صرف معمر افراد اور خاص ضرورت والے افراد کے لیے مختص کردی گئی ہیں۔ السدیس نے کہا صدارت عامہ کا مقصد 2023 کے دوران دونوں مقدس مساجد میں رضاکاروں کی تعداد بڑھا ئی جا رہی۔ گاڑی کی خدمات کو ضرورت مند افراد تک پہنچانے کے لیے الیکٹرانک آرڈر کی سہولت فراہم کی جارہی۔ مسجد حرام میں الیکٹرانک طواف کی سروس کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سسٹنٹ کمشنر مستونگ کی گاڑی پرفائرنگ، لیویز اہلکار شہید
    اسلام آباد ، لاہور کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی غائب
    محسن نقوی کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد،سپریم کورٹ جائیں گے: پرویز الہیٰ
    کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی
    نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا:جھنگ میں جشن
    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں تقرریاں و تبادلوں پر پابندی لگادی
    انہوں نے کہا اس وقت فراہم کردہ الیکٹرانک خدمات کی تعداد 62 ہے۔ دونوں مقدس مساجد میں منارۃ الحرمین الشریفین پلیٹ فارم کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے تحت خطبات، اسباق اور تلاوت کی ترسیل کی جا رہی ہے۔ ایک سال کے دوران لوگوں کی جانب سے اس پلیٹ فارم سے 30 کروڑ سے زیادہ مرتبہ استفادہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدارت عامہ سمارٹ کیمپس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی بھی خواہاں ہے۔ اس پروجیکٹ میں 48 سسٹمز اور سروسز شامل ہوں گی۔ ان میں 29 سسٹم اور 19 سروسز ہوں گی۔