Baaghi TV

Tag: شیر

  • پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    پنجاب : شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دیدی گئی

    لاہور: پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی،جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھے شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی،بہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی، متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو  پر سکون موت دیدی گئی

    پنجاب بھر شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پر سکون موت دیدی گئی

    لاہور پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرسکون موت دے دی گئی جبکہ یہ اقدام کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 شیروں کو یوتھنائز کیا گیا یہ شیر طویل عرصے سے مختلف بیماریوں اور معذوری کا شکار تھے اور مسلسل تکلیف میں مبتلا تھےبہاولپور چڑیا گھر، لاہور سفاری زو اور لاہور زو میں موجود بیمار اور لاعلاج شیروں کی کلنگ کی گئی جانور معذوری اور بیماری کی وجہ سے تکلیف میں تھے، شیروں کی کلنگ چند ہفتے قبل کی گئی تھی ،متعلقہ ویٹرنری ماہرین کی رائے اور طے شدہ قواعد کے مطابق یہ عمل مکمل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ 23 جنوری 2026 کو کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور ناقابل علاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اجلاس میں ایسے شیروں کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔

  • شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کو سزا

    شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کو سزا

    لاہور: جوڈیشل مجسٹریٹ نے شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کو سزا سنا دی

    رجب بٹ کے خلاف وائلڈ لائف آفیسر نے رپورٹ جمع کروائی تھی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ رجب بٹ نے شیر کا بچہ غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کا اعتراف جرم کیا،رجب بٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اعتراف جرم کرتا ہوں کہ میرے پاس سے غیر قانونی طور پر شیر کا بچہ بر آمد ہوا،میرے علم میں نہیں تھا کہ جنگلی جانور تحفے کے طور پر وصول نہیں کیئے جا سکتے،اب میں سمجھ گیا ہوں کہ ان حالات میں جنگلی جانوروں کو رکھنا غیر مناسب ہے،مجھے اپنے اس عمل پر انتہائی افسوس ہے،بطور سوشل میڈیا انفلوئنسر مجھے مثبت مواد بنانا چاہیئے، اب مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں شیر کا بچہ رکھنے کا مجاز نہیں تھا، میں نے اس عمل سے ایک غلط مثال قائم کی،اپنی غلطی کا ادراک کرتے ہوئے میں رضاکارانہ طور پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کمیونیٹی سروس فراہم کروں گا،میں جنگلی جانوروں کے حقوق سے متعلق مثبت پیغام رسانی کروں گا،میں خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں،میں ہمدردانہ اپیل کرتا ہوں کہ مجھے خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع فراہم کیا جائے،

    جیوڈیشل مجسٹریٹ نے رجب بٹ کو ایک سال کی کمیونیٹی سروس فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ رجب بٹ ایک سال تک پروبیشن آفیسر کے ماتحت کمیونیٹی سروس فراہم کرے گا، رجب بٹ اپنے پانچ منٹ کے وی لاگ میں جانوروں کے حقوق بارے گفتگو کرے گا،وی لاگ ہر ماہ کے پہلے ہفتہ میں پروبیشن آفیسر کی اجازت کے بعد اپلوڈ ہو گا،وی لاگ میں جانوروں کے تحفظ اور حقوق سے متعلق گفتگو ہو گی، رجب بٹ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ وی لاگ اپلوڈ کرنے کا پابند ہو گا،عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف کو جانوروں کے تحفظ بارے تمام مواد رجب بٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اگر پروبیشن آفیسر رجب بٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے تو وہ حاضری کا پابند ہو گا،فیصلے پر عملدرامد نہ ہونے کی صورت میں رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی،

    وزیراعظم سے یونیورسٹی آف لندن کی وائس چانسلر وینڈی تھامسن کی ملاقات

    پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، دہشتگرد کمانڈر کا انکشاف

  • شیر کی ہلاکت،گارڈ پر مقدمہ درج،مالک کیخلاف کاروائی نہ ہو سکی

    شیر کی ہلاکت،گارڈ پر مقدمہ درج،مالک کیخلاف کاروائی نہ ہو سکی

    لاہور: تھانہ ہربنس پورہ کے علاقے میں ایک پالتو شیر کی ہلاکت کے بعد گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ شیر کے مالک کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مبینہ غفلت یا اعلیٰ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش،محکمہ وائڈ لائف نے مقدمہ میں شہباز نامی گارڈ کو ملزم قرار دے دیا

    دو روز قبل شیر کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب یہ شیر اپنے پنجرے سے فرار ہو کر گلیوں میں آ گیا تھا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔پولیس کے مطابق، مقدمہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 کی سیکشن 5 اور 12 اور 289 ت پ دفع کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ شیر کو غیر قانونی طور پر ایک شہری کے گھر پر پالا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے شیر کے مالک اور اس کے گارڈ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ گارڈ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم شیر کے مالک کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے کہا کہ شیر کے مالک کو اسی مقدمہ میں شامل تفتیش کیا جائے گا اور اس کے خلاف محکمانہ چالان بھی تیار کیا جائے گا۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ محکمہ وائلڈ لائف کے استغاثہ کے مطابق درج کیا گیا تھا اور اس میں شیر کے مالک کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ہربنس پورہ کے رہائشی علی عدنان نے اپنے ڈیرے پر ایک پالتو شیر رکھا ہوا تھا۔ شیر موقع پا کر اپنے پنجرے سے باہر نکل آیا اور گندے نالے کے قریب آ گیا۔ شیر کی دھاڑیں سن کر لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا،شہریوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، لیکن اس سے پہلے ہی سکیورٹی گارڈ نے شیر پر گولیاں چلا کر اسے ہلاک کر دیا۔ پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے، لیکن شیر کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی، اور لوگ اس بات پر حیرانی کا شکار تھے کہ کس طرح ایک طاقتور جنگلی جانور کو ایک شہری کے گھر پر پالا جا رہا تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف جانوروں کی زندگی خطرے میں آتی ہے بلکہ انسانوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    اب تک پولیس نے شیر کے مالک کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی ہے، تاہم محکمہ وائلڈ لائف نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ شیر کے مالک کو تفتیش میں شامل کیا جائے گا اور اس کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔اس واقعہ نے لاہور اور دیگر شہروں میں پالتو جنگلی جانوروں کی پرورش اور ان کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کو غیر قانونی طور پر پالتو جانور کے طور پر رکھنا نہ صرف جانوروں کی فلاح کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ انسانی زندگیوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اس واقعہ کے بعد ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کی پالتو حیثیت کے حوالے سے سخت قوانین وضع کیے جائیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • بارش کے بعد چڑیا گھر میں تالاب کا منظر،جانوروں کے پنجرے جوہڑ بن گئے

    بارش کے بعد چڑیا گھر میں تالاب کا منظر،جانوروں کے پنجرے جوہڑ بن گئے

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ روز ہونے والی بارش سے جہاں سڑکیں ، گلی محلے تالاب کا منظر پیش کر رہے تھے وہیں چڑیا گھر میں پانی جمع ہو چکا تھا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لکشمی سمیت کئی علاقوں کا دورہ کیا اور پانی نکالنے والے واسا کے عملے کو شاباش دی، تا ہم لاہور کی تفریح گاہ ، تاریخی چڑیا گھر جو بارش کے بعد پانی سے بھر چکا تھا وہاں سے پانی نکالنے کا کسی کو خیال نہیں آیا،چڑیا گھر کے حکام بھی سوئے رہے،بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوا شہری چڑیا گھر بچوں کے ہمراہ سیر کے لئے پہنچے تو چڑیا گھر پانی سے بھرا ہوا تھا

    لاہور کا تاریخی چڑیا گھر سال بھر سے زائد کی بندش کے بعد کھلنے پر بارش کے بعد تالاب کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ جانوروں کے پنجرے باقاعدہ جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔ شدید ترین گرمی میں شیروں کو درجہ حرارت نارمل رکھنے کے لیے برف کے بلاکوں کا روایتی اہتمام ندارد ہے بلکہ توڑ پھوڑ سے شیروں کے پنجروں کے اندر تک جولائی کی دھوپ انہیں ادھ موا کیے ہوئے ہے۔

    چڑیا گھر کو گزشتہ برس ماہ نومبر میں ری ویپنگ منصوبے کی وجہ سے بندکیا گیا تھا، اس وقت نگران حکومت تھی اور پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی تھےجو اسوقت وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی ہیں،انہوں نے ری ویپنگ منصوبے کا افتتاح کیا تھا، منصوبے کے تحت لاہور چڑیا گھر کی ری ویپنگ 31 جنوری تک مکمل ہونی تھی جو مکمل نہیں ہوئی، عید الاضحیٰ تک چڑیا گھر بند رہا ، عید سے چند دن قبل کھولا گیا،اور بارش کے بعد اب کام کی قلعی کھل گئی ہے، ہر طرف چڑیا گھر کے اندر پانی ہی پانی نظر آ رہا، انتظامیہ کی جانب سے پانی کو نکالنے کی کوشش ہی نہیں‌کی گئی.چڑیا گھر سیر کے لئے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے چڑیا گھر سے بھی پانی نکالے اور جانوروں کے پنجروں کی صفائی کا بھی انتظام کرے.

  • نواز شریف  کا لاہور کی ریلی میں شیر لانےکا نوٹس ،کیا ہدایت کی؟

    نواز شریف کا لاہور کی ریلی میں شیر لانےکا نوٹس ،کیا ہدایت کی؟

    لاہور: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے لاہور کی ریلی میں شیر لانےکا نوٹس لیا اور اسے فوری واپس بھجوانے کی ہدایت کی۔

    باغی ٹی وی: مسلم لیگ ن کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بعض افراد نواز شریف کی لاہور میں موہنی روڈ پر ریلی میں زندہ شیر لے آئے تھے، جس کا انہوں نے سخت نوٹس لیتے ہوئے شیرکو فوری واپس بھجوانےکی ہدایت کی، جس پر شیر واپس بھجوا دیا گیا۔
    https://x.com/Marriyum_A/status/1749724430941528375?s=20
    مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف نے سختی سے ہدایت کی کہ پورے ملک میں کسی بھی ریلی میں زندہ شیر یا کوئی اور جانور نہ لایا جائے، دین اسلام اور جانوروں سے متعلق قوانین نے ہمیں جانوروں کے حقوق کے احترام کی تلقین کی ہے۔
    https://x.com/Marriyum_A/status/1749826007136358642?s=20
    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدنواز شریف کل ننکانہ صاحب جائیں گے جہاں وہ ہاکی سٹیڈیم میں منعقدہ عوام کے ایک بڑے اور عظیم الشان اجتماع سے خطاب کریں گےپارٹی کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف صاحبہ بھی قائد محمد نواز شریف کے ہمراہ ہوں گی پارٹی قائد پاکستان کی معاشی خود انحصاری اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے ایجنڈے پر بات کریں گےپاکستان کی ترقی کا سفر پھر سے شروع کرنے کی اپنی حکمت عملی واضح کریں گے۔

  • لاہور کے سیاستدانوں سے ڈرنے والے نہیں،مقابلہ کرینگے،بلاول

    لاہور کے سیاستدانوں سے ڈرنے والے نہیں،مقابلہ کرینگے،بلاول

    لیاقت پور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہایسا نہ ہو کہ آپکی تعداد دیکھ کر شیر واپس گھر میں چھپ کر بیٹھ جائے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے کل شیر نظر آیا،ان کو بس فکر ہے کہ کسی نہ کسی طرح چوتھی بار کرسی پر بیٹھ جائیں،آپ کتنی مشکل سے گزر رہے ہو ملک کا نقصان ہو رہا ہے، لاہور کے سیاست دانوں کو پیغام ہے کہ ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ڈٹ کے مقابلہ کرنے والوں میں سے ہیں ،پاکستان کےعوام اس وقت مشکل صورتحال سےدوچارہیں،ہماری خواہش اورکوشش ہوگی عوام کی آمدن دگنی کریں،غریبوں کو سولر کے ذریعے300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کریں گے،غریبوں کو30 لاکھ گھربناکردیں گے،یہ اس شخص والا وعدہ نہیں جوکہتاتھا 50لاکھ گھربناکردوں گا،صرف پیپلزپارٹی اپنےمنشورپرالیکشن لڑر ہی ہے

    بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، یوسی کی سطح پر بھوک مٹاؤ مہم شروع کریں گے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو بلاسود قرض دیں گے، اقتدار میں آکر بے نظیر کسان کارڈ لائیں گے،عوام اعتماد کریں تیر پر ٹھپہ لگائیں، نوجوانوں کو ایک سال کے لیے مالی مدد فراہم کریں گے، بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، یوسی کی سطح پر بھوک مٹاؤ مہم شروع کریں گے، پیپلزپارٹی کا مقابلہ غربت ،بھوک، بیروزگاری اور مہنگائی سے ہے، اقتدار میں آکر تمام مسائل کا حل نکالیں گے،شیرعوام کا خون چوستا ہے اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا، چوتھی بار وزیراعظم بن کر پھرعوام کا خون چوسے گا.

    واضح رہے کہ بلاول زرداری ملک بھر میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، روز دوسے تین جلسوں سے خطاب کرتے ہیں، آصفہ زرداری نے بھی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے

     8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگائیں۔

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    لگ رہا ہے لوگ ن لیگ سے نفرت کر رہے ہیں

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • چڑیا گھر میں شہری کو شیر نےچیر پھاڑ ڈالا،شہری کی موت

    چڑیا گھر میں شہری کو شیر نےچیر پھاڑ ڈالا،شہری کی موت

    بہاول پور، چڑیا گھر میں ٹائیگر نے شہری پر حملہ کر دیا، جس سے شہری کی موت ہو گئی

    بہاولپور چڑیا گھر میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ایک شہری زندگی سے محروم ہوگیا۔ چڑیا گھر میں سیر کے لیے آیا ہوا شخص شیر باغ میں واقع چڑیا گھر میں شیر کے جنگلے میں جاگرا۔ جسے موقع پر ہی شیر نے حملہ کر کے مار دیا،بہاول پور کے چڑیا گھر میں شہری کو ٹائیگروں نے چیر پھاڑ دیا ۔ نعش کو ٹائیگر کھینچ کر اندر لے گئے اور نعش کے کچھ حصے کھالئے، پولیس اور ریسکیو کے ادارے موقع پر موجود ہیں، واقعہ ناقص سکیورٹی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات جاری ہیں کہ شہری ٹائیگرز کے کورٹ یارڈ میں کیسے داخل ہوا ۔ لاش کی شناخت نہیں ہو سکی جبکہ نامعلوم شخص کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرنیوالے شخص کی عمر پچیس سے چھبیس برس ہے، اس کے جسم پر شیر کے حملے کے نشانات موجود ہیں،

    ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈ لائف عثمان بخاری کی پھرتیاں، ابتدائی رپورٹ میں مقتول کو منشیات کا عادی اور پاگل ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی،چڑیا گھر انتظامیہ کی جانب سے ڈی جی وائلڈ لائف کو ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں کہا گیا کہ مقتول کے کپڑوں اور جوتوں کے علاوہ کوئی سامان موبائل فون، شناختی کارڈ، پرس برآمد نہیں ہوا،مقتول پاگل یا منشیات کا عادی معلوم ہوتا ہے، ابھی تک مقتول کا کوئی ٹھکانہ سامنے نہیں آیا ہے، حکام کی تحقیقات اور فارنزک/پوسٹ مارٹم رپورٹس کے بعد مکمل معلومات حاصل کی جائیں گی،پولیس اور ریسکیو عملہ نے موقع پر پہنچ کر لاش نکال لی جسے شیروں نے کھایا تھا، سویپر صبح 11.30 بجے ٹائیگر ہاؤس میں صفائی کے لیے داخل ہوا،کیج میں ایک نامعلوم شخص کی لاش پڑی ہوئی ملی،سپروائزر جو موقع پر پہنچے انہوں نے پولیس ایمرجنسی اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی،

    چڑیا گھر میں ٹائیگر کا شہری پر حملہ، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بہاولپور کے چڑیا گھر میں ٹائیگرز کے حملے سے شہری کے جاں بحق کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے سیکرٹری وائلڈ لائف اور کمشنر بہاولپور سے رپورٹ طلب کر لی،واقعہ کی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،اور کہا کہ غفلت برتنے والے عملے کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے، وزیراعلیٰ پنجاب نے چڑیا گھروں کا سیکورٹی آڈٹ کرنے کا حکم دیا،چڑیا گھر کی سیر کے لئے آنے والے بچوں اور شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت بھی کی.

    بھارت میں حاملہ ہتھنی کے منہ میں کریکر ڈال کر اسے مار دیا گیا

    اسلاموفوبیا ، حاملہ ہتھنی کی کریکر دھماکوں سے ہلاکت کا الزام بی جے پی رہنما نے مسلمانوں کے سر دھر دیا

    مودی کے بھارت میں مسلم خاتون سے ہتھنی کی اہمیت زیادہ

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

  • کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی کی شارع فیصل پر ایک شیر آگیا جسے دیکھ کر شہری حیران رہ گئے ہیں جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے قریب شیر ٹہلتا ہوا ایک عمارت کی پارکنگ میں پہنچ گیا، پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور شیر کو دیکھنے کے لیے شہریوں کا بھی رش لگ گیا ہے.


    جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے سامنے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس کے مطابق گاڑی کے ذریعے شیرکو منتقل کیا جا رہا تھاکہ شیرگاڑی سے باہر نکل آیا، پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہےکہ وائلڈ لائف حکام سے بھی رابطہ کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ کراچی میں شارع فیصل صدر تھانے کے قریب سڑک پر شیر نے ایک شہری پر حملہ کردیا جس پر پولیس حکام کے مطابق شیر کو ایک سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا جس کے دوران وہ بھاگ نکلا اور شارع فیصل پر ایک عمارت میں گھس گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ شیر کے حملے میں شہری محفوظ رہا، شیر کے مالک سے رابطہ ہو گیا ہے، شیر کو پکڑ کر محکمہ وائلڈ لائف کےحوالے کیا جائے گا جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پولیس کی نفری موقع پرموجود ہے اور شہریوں کو دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہر جنگلی حیات کے مطابق شیر افریقن نسل کا ہے، جس کی عمر 3 سے 4 سال کے درمیان ہے، شیر کو پالنے کیلئے لائسنس درکار ہوتا ہے اور رہائشی آبادی میں رکھنےکی اجازت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے جس میں شہر کو سڑک پر ٹہلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  • دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    نکاراگوا کے تھامس بیلٹ چڑیا گھر میں نایاب اور پوما نے ایک منفرد البینو بچے کو جنم دیا ہے۔جو دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک ہے جبکہ اپنی آنکھوں اور تیز کانوں میں احتیاط کے ساتھ ماں پوما اپنے ایک ماہ کے بچوں کی نگرانی کرتی ہے۔ بچے کی پیدائش نکاراگوا کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جس نے اس کے افتتاحی قید میں پیدا ہونے والے البینو پوما کو متعارف کرایا۔

    چڑیا گھر کے جانوروں کے ڈاکٹر کارلوس مولینا نے اس واقع کی نایابیت کی نشاندہی کی ہے جن کا خیال ہے کہ پوری دنیا میں ایسے صرف چار البینو پوما موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بچے کی موجودہ جوش و خروش اور مضبوط بھوک کے باوجودمولینا اس اہم مرحلے کے بارے میں خبردار کرتی ہے اور اس بہترین دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ البینو پوما سورج کی روشنی کے لیے اپنی زیادہ حساسیت کی وجہ سے مانگتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بچے اور اس کے دو ساتھی بہن بھائیوں کی حفاظت اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تینوں ایک بند رہائش گاہ میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ جان بوجھ کر کیا گیا اقدام ماں کو اپنے نوزائیدہ بچوں کے لیے تکلیف سے گزرنے یا انسانی خوشبوؤں کو غلط سمجھنے سے روکتا ہےایسا منظر جو نادانستہ طور پر جارحانہ رویے کو متحرک کر سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ مرد والدین کو الگ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نر پوما اپنے بچوں کے لیے خطرہ ہیں۔ کوڑے کی جنس نامعلوم رہتی ہے اور جانوروں کا ڈاکٹر براہ راست جسمانی تعامل سے پرہیز کرتا ہے۔ تاہم چڑیا گھر تین ماہ کی دہلیز کے قریب حیرت انگیز طور پر ان کو عوام سے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تھامس بیلٹ چڑیا گھ، مخلصانہ انتظام کے تحت عام طور پر 50,000 سے 60,000 زائرین کی سالانہ حاضری کو راغب کرتا ہے۔

    خیال رہے کہ جنوبی پیرو کے بلند و بالا اینڈین سے لے کر وسطی امریکہ کے متحرک جنگلوں تک پھیلے ہوئے امریکہ میں پائے جانے والے پوماس کو بین الاقوامی یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے مغربی نصف کرہ میں زمینی ممالیہ جانوروں کے درمیان ان کی وسیع علاقائی رسائی کے لیے سراہا ہے۔ اس کے باوجود یورپی نوآبادیات کے دور کے بعد شمالی امریکہ کے مشرقی نصف حصے میں ان کی موجودگی ختم ہو گئی۔