Baaghi TV

Tag: ش لیگ

  • کپتان کےمیدان میں آنےسےپہلے ہی ن لیگ کےسارے خواب چکنا چورہوگئے:خوابوں کی نئی تاریخ دے دی

    کپتان کےمیدان میں آنےسےپہلے ہی ن لیگ کےسارے خواب چکنا چورہوگئے:خوابوں کی نئی تاریخ دے دی

    لاہور:پاکستان میں جاری سیاسی رسہ کشی اور ملک کو عدم استحکام کا شکارکرنے کی سازشیں آہستہ آہستہ دم توڑنے لگیں ، ادھر اس سلسلے میں پاکستان کے کپتان کے میدان میں آنے سے پہلے ہی ن لیگ کے سارے خواب چکنا چورہوگئے:نئی تاریخ دے دی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مہنگائی مکاؤ مارچ کی تاریخ تبدیل کر دی۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کا آن لائن اجلاس ہوا ، اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور لیگی صدر شہباز شریف نے کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مارچ کی تاریخ تبدیل کی گئی اور مہنگائی مکاؤ مارچ اب 26 مارچ کو ہوگا۔

    ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے مارچ کی تاریخ تبدیلی کی اجازت دی جبکہ اس سے قبل مہنگائی مکاؤ مارچ کیلئے 24 مارچ کی تاریخ دی گئی تھی۔

    ن لیگی ذرائع نے اپنی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے کہا ہےکہ مارچ اب 26 مارچ کو ماڈل ٹاؤن لاہور مسلم لیگ ن کے سیکرٹریٹ سے روانہ ہو گا۔

    خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے مارچ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق 25 مارچ کو قافلوں نے اسلام آباد میں داخل ہونا ہے۔

    ادھر ذرائع کےمطابق ن لیگ کی طرف سے پاک فوج کے خلاف جاری مہم کے تمام کرداروں تک سیکورٹی ادارے پہنچ چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا ہے اس گھنونے کھیل میں اس بار میاں شہبازشریف بھی مشاورت کرتے ہوئے نظر آئے ہیں

    اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ن لیگ ، پی پی ،جے یو آئی ف کی طرف سے پاک فوج کےخلاف سازشوں میں جن جن میڈیا گروپس اور شخصیات نے حصہ لیا ہے ان کی فہرست بھی مرتب ہوچکی ہے اور جونہی حالات بہتر ہوں گے ان کا حساب چکایا جائے گا

  • ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں       کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    اسلام آباد:نسلوں سےہمارےخاندان نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگوا،طلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد عمران خان بھی مقابلے کرنے کے لیے سیاسی محاذ پر متحرک ہو گئے ہیں۔

    دوسری طرف وفاقی وزیرآبی وسائل اور پاکستان میں‌ شریفانہ سیاست کو پروان چڑھانے والے چوہدری برادران کے فرزند ارجمند چوہدری مونس الٰہی نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پاکستان میں دہائیوں سے سیاسی سازشیوں کے خلاف ایک بند باندھ دیا ہے

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہی نے ملاقات کی۔ جس میں ملکی سیاسی امور اور اتحاد کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر مونس الٰہی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہیں، آگے بھی ملکر ساتھ چلنا ہے۔ سیاسی منظر نامے پر ساتھ ساتھ چلنا ہے۔

    مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ نسلوں سے ہمارے خاندان نے ہمیشہ وعدوں کا احترام کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر سے ملاقات کی ۔ پاکستان کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اتحاد کے معاملات پر کوارڈینیشن کی ذمہ داری وفاقی وزیر اسد عمر کو سونپ دی گئی، اسد عمر سیاسی معاملات پر مسلم لیگ ق کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

    مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے چودھری برادران کے گھر جا کر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی تھی جس میں مسلم لیگ ق کے قائدین وزیراعظم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کا اعلان کیا تھا۔

  • کپتان کی ایک گھنٹے کی ملاقات نےاپوزیشن کی ساڑھے تین سال کی سازشوں پرپانی پھیردیا: عثمان بزدار

    کپتان کی ایک گھنٹے کی ملاقات نےاپوزیشن کی ساڑھے تین سال کی سازشوں پرپانی پھیردیا: عثمان بزدار

    لاہور:کپتان کی ایک گھنٹے کی ملاقات نےاپوزیشن کی ساڑھے تین سال کی سازشوں پرپانی پھیردیا:اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ چودھری برادران سے ملاقات انتہائی زبردست رہی، عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کپتان کی ایک گھنٹے کی ملاقات نے پاکستان حزب مخالف اتحاد کی ساڑھے تین سال کی سازشوں پر پانی پھیردیا ہے، اب اپوزیشن کو گھبرا نا ہے۔

    وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھل کر کھیلیں گے، ڈرنے والے نہیں ، اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں اور عوام بھی۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے آخر تک پنجاب کے ہر شہری کے پاس صحت کارڈ ہوگا، صحت کے بجٹ میں ماضی کی نسبت ڈبل اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے نرسنگ کے شعبہ پر توجہ نہیں دی، آئندہ ہر سال 2 مارچ کو نرسنگ ڈے منایا جائے گا، 10 ہزار سے زائد نرسیں بھرتی کی گئیں، کورونا کے دوران طبی عملے نے بے مثال خدمات سرانجام دیں، نرسنگ طلبا کا ماہانہ وظیفہ 20 ہزار سے 31 ہزار کر دیا گیا۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 8 مدر اینڈ چائلڈ اسپتال بنا رہے ہیں، 23 بڑے اسپتال بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، ہر ضلع میں صحت کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، پنجاب کو مثالی صوبہ بنائیں گے، پنجاب کے ہر خاندان کو 10 لاکھ تک علاج کی سہولت دے دی، 73 فیصد آبادی کو صحت کارڈ فراہم کیا جاچکا۔

  • حکومت کو گرانے کے لیے شہبازشریف چوہدریوں کے گھر پہنچ گئے

    حکومت کو گرانے کے لیے شہبازشریف چوہدریوں کے گھر پہنچ گئے

    لاہور: حکومت کو گرانے کے لیے شہبازشریف چوہدریوں کے گھر پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات ہوئی جس میں عدم اعتماد میں تعاون کی درخواست کی گئی۔

    پچھلے کئی دنوں سے سیاسی ملاقاتیں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں، اسی تناظر میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی چودھری برادران سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں ایم این اے سالک حسین، شافع حسین ، خواجہ سعد رفیق، رانا تنویر، عطا اللہ تارڑ، سردار ایاز صادق، شبیر عثمانی شریک ہوئے۔

    ملاقات میں شہبازشریف اور لیگی وفد نے چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی جبکہ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نے ق لیگ سے عدم اعتماد میں تعاون کی درخواست کی۔
    ملک کی سیاسی صورتحال پر دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت بھی ہوئی۔

    شہباز شریف نے نواز شریف کی جانب سے چودھری شجاعت حسین کو پھول پیش کئے اور کہا کہ نواز شریف نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور سابق وزیراعظم کی جانب سے یہ گلدستہ قبول کریں۔

    پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے صدر کا چودھری شجاعت حسین سے مکالمہ ہوا کہ اللہ تعالی اپ کو صحت کاملہ عطا کرے، نواز شریف نے مجھے ہدایت کی کہ ان کی جانب سے بھی آپ کی خیریت دریافت کروں جس پر شجاعت حسین نے نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

    ذمہ داران ذرائع کے مطابق چوہدری برادران کی کردار کشی اور ان کو نقصان پہنچانے والے میاں شہباز شریف کو چوہدری پرویزالیہی نے تمام ترزیادتیوں کے باوجود درگزر کرتے ہوئے میں 14 سال بعد شہباز شریف کو گلے لگایا،

    یاد رہے کہ جب سے ن لیگ پاکستان مسلم لیگ سے الگ ہوئی اور مشرف دورسے لیکر ن لیگ کے پچھلے دور حکومت تک شریف برادران نے چوہدری برادران کو سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر بہت زیادہ زنگ پہنچانے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں تمام حدیں بھی پار کیں لیکن آج چوہدری پرویز الٰہی نے بڑا دل کرتے ہوئے شہبازشریف کو سینے سے لگایا تو ندامت کی وجہ سے شہبازشریف کی نظریں جھکی کی جھکی رہ گئیں‌

    پرویز الہیٰ، سردار ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق سمیت عطا تارڑ سے بھی گلے ملے ۔دونوں جانب کی سیاسی قیادت نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    دوسری طرف باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق چوہدری برادران نے شہبازشریف کی پریشانی اور حالت زار دیکھتے ہوئے اس حد تک تسلّی دی ہےکہ وہ پارٹی کا اجلاس بلائیں گے اور اس میں یہ صورت حال رکھیں گے جو پارٹی فیصلہ کرے گی اس کے بارے میں آپ کو آگاہ کردیں گے

    باغی ٹی وی کے مطابق چوہدری برادران کے روے اور عہد وپیمان کو دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ واضح ہوجائے گا کہ چوہدری برادران عمران خان سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کریں‌ گے اور ن لیگ کو آج کی چائے شائے ہی پکی رہ جائے گی

  • ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی:فضل الرحمان ہماری انشورنس:      جتنی مرضی سازشیں کرلیں:اللہ خیرکریں‌ گے:فوادچوہدری

    ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی:فضل الرحمان ہماری انشورنس: جتنی مرضی سازشیں کرلیں:اللہ خیرکریں‌ گے:فوادچوہدری

    اسلام آباد : ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی:فضل الرحمان ہماری انشورنس:حکومت یہ پانچ سال پورے کرے گی اورپھراگلے5سال بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی ، ان شاللہ تعالیٰ‌،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظمم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اپوزیشن کے اپنے لوگ انکے ساتھ نہیں ہیں،ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی۔ فضل الرحمان ہماری انشورنس ہیں، بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

    ایک نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ن لیگ کے قائد نوازشریف کے باہرجانے پرمخالفت کی تھی، ان جیسا بندہ جب باہربیٹھ جاتا ہے تو پھر انٹرنیشنل ا سٹیبلشمنٹ کا پلیئر بن جاتا ہے،ان حقائق سے ن لیگی بھی واقف ہیں کہ اس وقت نوازشریف کے ساتھ کن عالمی قوتوں نے اپنے رابطے مضبوط کررکھے ہیں‌، سابق وزیراعظم پچھلی دفعہ بھی جب ملک آئے تو ڈیل کرکے آئے تھے، نوازشریف اگر واپس آجائیں گے تو پھرپتا چل جائے گا کیا ہو رہا ہے۔ ان کے بارے سب کوپتا ہے کسی ڈیل کے بغیرواپس نہیں آئیں گے، موجودہ اپوزیشن سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب تک اپوزیشن چار مارچ کر چکی ہے، 1300سے زائد مرتبہ یہ حکومت گرانے کی کوشش کرچکے ہیں، ساری اپوزیشن چوں، چوں کا مربہ ہے، میڈیا میں ان کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ مولانا پہلے لانگ مارچ میں بھی یہی کہتے تھے ادارے ایک پیج پرنہیں رہے، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز، پی پی چیئر مین بلاول بھٹوبھی کہتے رہے حکومت چلی جائے گی، یہ وہی باتیں کر رہے ہیں جو پہلے لانگ مارچ میں کر رہے تھے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ اداروں اور وزیراعظم کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، ایسے مثالی تعلقات پہلے نہیں تھے، پیپلزپارٹی، (ن) لیگ نے تسلیم کرلیا ہے یہ علاقائی جماعتیں ہیں، اپوزیشن کو میچورہونے میں بڑا وقت لگے گا، بلاول بھٹو،مریم صفدرکوپہلے میئرکا الیکشن لڑنا چاہیے، کیا دنیا کا کوئی ملک مولانا فضل الرحمان جیسے شخص کو لیڈرمانے گا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین کا کامیاب دورہ کیا، یہاں پر وزیراعظم کے کامیاب دورہ چین پربات نہیں ہوئی، جب تک حکومت تگڑی ہے کوئی نہیں چھوڑکرجائے گا، عقل مند لوگوں کوپتا ہے اگروزیراعظم کو چھوڑیں گے توتنہا رہ جائیں گے، خواجہ آصف جیسے لوگ کدھر ہیں، اپوزیشن کے اپنے لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں، مسلم لیگ(ن)فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی ہے۔ فضل الرحمان ہماری انشورنس ہیں، بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں۔

  • ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے:اب شہبازشریف کی جہانگیرترین سےملاقات کی آخری خواہش

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے:اب شہبازشریف کی جہانگیرترین سےملاقات کی آخری خواہش

    لاہور:شہبازشریف نےآخری امید سے امید لگالی:جہانگیرخان ترین سے ملاقات کی خواہش کردی ،اطلاعات کے مطابق ملک میں سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے اور اب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین گروپ کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے خصوصی نمائندوں کا رابطہ ہوا ہے اور یہ رابطہ کئی روز سے جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں شہباز شریف کا جہانگیر ترین سے رابطے کا امکان ہے اور ساتھ ہی آئندہ چند روز میں شہباز شریف کی جہانگیر ترین سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی مسلم لیگ (ن) نے حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کیا تھا اور جلد ہی شہباز شریف اور چوہدری برادران میں ملاقات کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ن لیگ کے نائب صدر شہبازشریف سے ملاقات کی تھی اوراس ملاقات میں شہبازشریف کی طرف سے تمام آپشنز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے اس اعلان کے بعد ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    اس کے بعد شہبازشریف کی طرف سے چوہدری برادران سے ملاقات کی خواہش کا اظہارکیا گیا ابھی یہ ملاقات ہوئی نہیں ہے لیکن چوہدری پرویز الٰہی نے ن لیگ پر واضح کردیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بہتر انداز سے چل رہے ہیں اور آگے بھی حکومت کے ہی اتحادی رہیں گے اس کےبعد ن لیگ میں مایوسی دوڑ گئی ہے اوراب جہانگیرخان ترین سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے

  • کوئی آکھے پیڑلکےدی‘کوئی آکھے چُک:وچلی گل اےمحمدبخشا وچوں گئی اےمُک:زرداری،نواز ہمت ہارگئے

    کوئی آکھے پیڑلکےدی‘کوئی آکھے چُک:وچلی گل اےمحمدبخشا وچوں گئی اےمُک:زرداری،نواز ہمت ہارگئے

    لاہور:کوئی آکھے پیڑ لکے دی‘ کوئی آکھے چُک وچلی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک:زرداری اورشہبازشریف ہمت ہارگئے،اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی شہباز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کی کہانی سامنے آگئی۔اس کہانی کا خلاصہ اور مرکزی خیال یہ ہے جو بزرگ پنجابی شاعر نے بڑا عرصہ پہلے ہی بیان کردیا تھا

    گئی جوانی آیا بڑھاپا جاگ پیاں سب پِیڑاں
    ہُن کِس کم محمد بخشاء، سونف‘ اجوائن‘ ہریڑاں​
    کوئی آکھے پِیڑ لکے دی، کوئی آکھے چُک
    وِچلی گَل اے ،محمد بخشاء وِچوں گئی اے مُک

    ذرائع کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں 2023 کے انتخابات کے لیے مل کر حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے، یہ تجویز آصف زرداری کی جانب سے دی گئی جسے لیگی رہنماؤں نے تسلیم کرلیا۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں میں آئندہ انتخابات کے بعد ضرورت پڑنے پر مل کر حکومت بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    معتبر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس دوران دونوں موروثی خاندانوں کے سربراہان نے اپنے بچوں کی موجودگی میں ان کے سامنے یہ بھی باتیں کی ہیں کہ عمران خان کو صرف اور صرف مہنگائی ہی کا خطرہ ہے ، عمران خان اس وقت عالمی سیاست کا کھلاڑی بن گیا ہے اور اس کی شخصیت کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں معروف ہے

    یہ بھی نصیحت کی گئی کہ بچو عمران خان کو ایزی نہ لینا یہ بہت چالاک ہے ، تمام سیاسی مخالف جماعتوں کے اتحاد کی قوت بھی اس کو خوف زدہ نہیں کرسکتی اب بس عوام کو الیکشن تک حکومت کے خلاف موبلائز کریں تاکہ اس کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچایا جاسکے، اس موقع پر یہ بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ اگر پی پی اور ن لیگ نے عمران خان کے خلاف اتحاد نہ کیا تو دونوں جماعتوں کو عبرتناک شکست ہوسکتی ہے اس لیے مل کر ہی عمران خان کو پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے

    مریم نواز کے ذریعے آصف زرداری کا نواز شریف سے بھی بالواسطہ رابطہ ہوا، پیپلزپارٹی نے تجویز دی کہ مطلوبہ حمایت ملی تو عدم اعتماد پر غور کریں گے۔

    زرداری شہباز ملاقات کی کہانی۔23 ءکےانتخابات کی مشترکہ اسٹرٹیجی اپنانے پر اتفاق ضرورت پڑنے پر نیشنل حکومت بنائیں۔دونوں جماعتوں کے دوبارہ رابطے کی وجہ امپائر سے حمایت نہ ملناہےمریم کے ذریعے زردار ی کا نواز شریف سے بھی بالواسطہ رابطہ ہوا۔ حمایت ملی تو عدم اعتماد پر غور کریں گے۔

     

    آصف زرداری نے کہا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عمران خان کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی تجویز پر عمل کیا جاتا تو عمران خان آج اقتدار میں نہ ہوتے، آئینی کوشش ناکام ہوئی تو لانگ مارچ اور استعفوں پر ایک ساتھ موقف بنائیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے، تسلیم کرتا ہوں تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ آپس میں متحد نہیں تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے نواز شریف کو اعتماد میں لینے کا وقت دیں، مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی جدوجہد کرکے عوام کو اس حکومت سے نجات دلانے میں ساتھ ہیں۔

  • پوری قوم 23 مارچ کو”یوم پاکستان”جبکہ حکومت پاکستان مخالف اتحاد”یوم احتجاج”منائےگا

    پوری قوم 23 مارچ کو”یوم پاکستان”جبکہ حکومت پاکستان مخالف اتحاد”یوم احتجاج”منائےگا

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے اپوزیشن سے 23 مارچ کے احتجاج کو چند روز آگے لے جانے کے مشورے کے بعد حکومت مخالف اتحاد نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم سربراہی اجلاس ہوا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چودھری، بلال کیانی، نیشنل پارٹی کے عبدالمالک، آفتاب شیرپاؤ، اویس نورانی، حافظ عبدالکریم، صدیق الفاروق، حافظ حمداللہ و دیگر شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں 23 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات پر غور کیا گیا، پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس سے متعلق بھی جائزہ لیا گیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وفاقی حکومت کی جانب سے 23 مارچ کے احتجاج کو چند روز آگے لے جانے کے بعد حکومت مخالف اتحاد نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج 23 مارچ کو ہی ہو گا اور 23 مارچ کے لانگ مارچ کے اسلام آباد میں قیام کو خفیہ رکھا جائے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں سے استدعا ہے کہ 23 مارچ کے مارچ کو آگے لے جائیں کیونکہ اس روز دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ اور پورے اسلام آباد کا کنٹرول کسی اور کے پاس ہو گا جبکہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی اسی روز ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اخلاقی طور پر اپنا وجود کھو چکی ہے۔ حکومتی اتحادی بھی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث تذبذب کا شکار ہیں۔ اپوزیشن کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ اتحادی جماعتوں کو اپنے موقف پر قائل کرنا چاہیے۔ اگر اتحادی ایوان میں اپوزیشن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

  • حکومت کیخلاف عوام کواکسانے،سڑکوں پرلانےاور   سانحہ مری پرمری ہوئی سیاست کو زندہ کرنےکامنصوبہ

    حکومت کیخلاف عوام کواکسانے،سڑکوں پرلانےاور سانحہ مری پرمری ہوئی سیاست کو زندہ کرنےکامنصوبہ

    اسلام آباد :عوام کو”پٹّی پڑھانے”اوراحتجاج کی راہ پرلانےکےلیے:شہبازشریف کو موقع مل گیا ،اطلاعات کے مطابق سانحہ مری پرمری سیاست کرنے کے لیے آج اپوزیشن نے ملکر حکومت کے خلاف ایک منصوبہ بنایا ہے ، جس کے لیے پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس پیر کو ہو گا،

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے خلاف عوام کو کیسے اکسانے اورسانحہ مری پرمری سیاست کو زندہ کرنے کا منصوبہ ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جائے گا اور عوام کوگھروں سے نکلنے کے لیے اکسایا جائے گا

    ادھران خبروں کی تصدیق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس پیر کو ہو گا۔

    مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے اجلاس سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں سہہ پہر تین بجے ہو گا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فنانس بل، فارن فنڈنگ کیس سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت اور قومی اسمبلی میں منی بجٹ کو منظوری سے روکنے کے لیے حکمت عملی پر غور ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے پارلیمانی قائدین، متحدہ اپوزیشن کے اراکین پارلیمان، سینئر قائدین اور رہنماء بھی شرکت کریں گے۔

    دوسری طرف عوام الناس کی طرف سے سوشل میڈیا پراس وقت بحث چل رہی ہےکہ اپوزیشن کی سوچ پرافسوس جو کہ ایک قومی سانحے پرسیاست کررہی ہے اورآج شہبازشریف اسے غنیمت جانتے ہوئے اپنی مری ہوئی سیاست کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کریں‌گے جسے مسترد کیا جاتا ہے

  • بات سے کیسے بنتے ہیں بتنگڑ:خواجہ سعد رفیق کے گھرجہانگیرترین کی آمد،خواہشات دم توڑگئیں

    بات سے کیسے بنتے ہیں بتنگڑ:خواجہ سعد رفیق کے گھرجہانگیرترین کی آمد،خواہشات دم توڑگئیں

    لاہور:بات سے کیسے بنتے ہیں بتنگڑ:خواجہ سعد رفیق کے گھرجہانگیرترین کی آمد،خواہشات دم توڑگئیں ،اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف کے اہم رہنما اور عمران خان کے انتہائی معتمد ساتھی جنہیں دنیا جہانگیر خان ترین کے نام سے جانتی ہے ایک بار پھرسرخیوں اور شہ سرخیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں‌

    اس حوالے سے معوم ہوا ہے کہ میڈیا پر کچھ ایسی خبریں چلائی گئیں کہ جن سے یہ تاثردیا گیا کہ شاید کہ جہانگیرترین عمران خان کو چھوڑ کرن لیگ کے قریب ہورہے ہیں ، ان خواہشات پر نکلنے والا دم اور امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ سعدرفیق میرے بھائی ہیں اور اکھٹے فیملی میں رہ چکے ہیں ، ن لیگ سے دوستیاں پرانی ہیں اور ایسے ہی چلتی رہیں گی۔ لیکن اس کو پی ٹی آئی سے ناراضگی یا دوری نہ سمجھیں

    ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین نے ن لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی ، جس نے صحافیوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی اور شادی میں شریک دیگر مہمان بھی اس پر حیران دکھائی دیئے ۔

    شادی کی تقریب کے دوران ایک صحافی نے جہانگیر ترین سے سوال کیا کہ کیا جہانگیر ترین کا جہاز ن لیگ کی طرف جا سکتا ہے ؟ جس پر تحریک انصاف کے ناراض رہنما نے جواب دیا کہ جہاز تو کسی بھی جانب جاسکتا ہے ، ؛لیکن میرا ایئرپورٹ وہی ہے جو پی ٹی آئی کا ایئرپورٹ ہے ،

    جہانگیرترین نے اس ملاقات کو غیرسیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق میرے بھائی ہیں اور اکھٹے فیملی میں رہ چکے ہیں ،ن لیگ سے دوستیاں پرانی ہیں اور ایسے ہی چلتی رہیں گی ۔

    شادی کی تقریب میں ن لیگ کے رہنما اور سابق سپیکر اسمبلی ایاز صادق بھی شریک تھے ، انہوں نے مسکرا کر صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جہانگیر ترین سے وجہ پوچھیں وہ ن لیگ میں شمولیت کے سوال پر مسکراتے رہے ہیں ۔ ‘‘ ایاز صادق نے بات کو آگے بڑھایا اور خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین ہو ں یا کوئی اور ، پی ٹی آئی کا رہنما عمران خان کے علاوہ سب مسکرا ہی رہے ہیں ۔

    یاد رہے کہ جہانگیرترین خان کے حوالے سے پہلے بھی ایسی خودساختہ خبریں چلائی گئیں مگراس وقت بھی جہانگیرخان ترین نے مخالفین کی خواہشات سےیہ کہہ کر جان نکال دی تھی کہ عمران خان میرا قائد ہےآج بھی ہے اور کل بھی وہی رہے گا ، آج کی خام خیالیوں کو بھی انہوں نے یہ کہہ کر تہہ تیغ کردیا کہ خواجہ سعد سے خاندانی تعلقات ہیں ، جو پارٹی وابستگیوں سے ہٹ کر ہے ،