Baaghi TV

Tag: صارم قتل کیس

  • صارم قتل کیس،  پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے بورڈ تشکیل

    صارم قتل کیس، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے بورڈ تشکیل

    نارتھ کراچی میں رہائشی عمارت کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے ملنے والی 7 سالہ صارم کی لاش کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹروں اور پروفیسروں پر مشتمل 4 رکنی بورڈ تشکیل دے دیا گیا اور محکمہ صحت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    محکمہ صحت سندھ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 4 رکنی بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، پروفیسر ڈاکٹر پرویز مخدوم، ڈاکٹر لبنی ریاض اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید شامل ہیں۔ماہرین پر مشتمل 4 رکنی بورڈ ننھے صارم کے پوسٹ مارٹم کے نتائج اور فرانزک کا جائزہ لے گا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا ایک مرتبہ پھر ازسر نو جائزہ لے گا اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ صارم کا پوسٹ مارٹم مکمل اور درست کیا گیا تھا یا اس میں کچھ خامیاں تھیں۔واضح رہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اعلی حکام سے میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کی تھی۔

    رواں برس جنوری میں 7 سالہ صارم نارتھ کراچی میں اپنے رہائشی اپارٹمنٹ میں قائم مدرسے سے گھر واپس جاتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے تھے اور ان کی لاش چند روز بعد اپارٹمنٹ کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے ملی تھی۔

    250 گاڑیوں کا قافلہ سامان لیکر پارا چنارپہنچ گیا

    پنجاب میں سپیشل افراد، بزرگ اور طلبہ کیلئے مفت سفر کی سہولت

    لاکھوں بینک کارڈز کا ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو گیا

    پشاور کو شکست ،نیشنل ٹی 20کپ لاہور بلیوز نے جیت لیا

    کراچی ایئرپورٹ ، طیاروں کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر پابندی

    جعفر ایکسپریس حملہ، ایئر یونیورسٹی میں یکجہتی امن واک کا انعقاد

  • صارم زیادتی و قتل کیس، والدین کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد

    صارم زیادتی و قتل کیس، والدین کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد

    کراچی میں رہائشی اپارٹمنٹ سے اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 7 سالہ صارم کے والد نے پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نارتھ کراچی میں اپنے اپارٹمنٹ کے باہر اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صارم کے والد نے کہا کہ میرا بیٹا سات جنوری کو لاپتہ ہوا اور اٹھارہ جنوری کو اُس کی ٹینک سے پانچ دن پرانی لاش ملی، ہمیں پولیس نے ابھی تک نہیں بتایا کہ اتنے روز صارم کہاں تھا۔میں نے ایف آئی آر کٹوائی لیکن اب تک قاتل گرفتار نہیں ہوئے، دو سو لوگوں کا فلیٹ ہے مگر پولیس قاتل کو نہیں پکڑا پا رہی، مجھے انصاف نہیں ملا تو میں کل پریس کلب جاؤں گا اور پھر گورنر ہاؤس بھی جاؤں گا۔

    مقتول بچے کے والد نے کہا کہ میرے بچے کے قاتل اب تک نہیں پکڑے گئے، یہ کوئی گلی محلہ نہیں ہے، یہاں 200 فلیٹ ہیں ، پولیس سے تفتیش کیوں نہیں کی جارہی۔انہوں نے کہا کہ اگر کل تک کچھ معلومات نا ملی تو پریس کلب جاؤں گا، ہم سب کے پاس جارہے ہیں ، لیکن قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں، ہم کس کے پاس جائیں ، کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں، میری اعلیٰ حکام سے درخواست ہے اب ہماری بس ہوگئی ہے ہمارا ساتھ دیں۔

    انہوں نے کہا کہ بچے کا پوسٹ مارٹم ہوا، ڈی این اے اور کیمیکل ایگزامن بھی ہوا مگر ہمارے پاس کوئی چیز موجود نہیں بس ایک ایف آئی آر کی کاپی ہے۔والد نے کہا کہ پولیس صرف کمیٹی پر کمیٹی بنا رہی ہے مگر اب تک کسی کمیٹی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، جن کے بچے کو نا حق قتل کیا گیا ہو وہ کیا مطالبہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں قاتل کو منظر عام پر لایا جائے، جو کچھ صارم کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو، ہمیں کسی کے اوپر شک نہیں ہے ، اگر شک ہوتا تو پولیس کا انتظار نہیں کرتے۔

    متوفی کے والد نے کہا کہ قاتل کھلے عام گھوم رہا ہے، اور کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں ، لیکن قاتل نہیں پکڑا جارہا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس نے ساری تفتیش تو کرلی ہے تو اب وہ کیوں کچھ نہیں کرپارہی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اب اپنے بیانات سے پھر رہی ہے، پہلے پولیس اپنے بیان پر مطمئن ہوں ، پھر ہمیں مطمئن کریں۔

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی تمام تنظیمیں تحلیل، نوٹیفکیشن جاری

    آسٹریلیا کے خلاف میچ میں دباؤ دونوں ٹیموں پر ہو گا، روہت شرما

    غزہ میں سامان کی ترسیل پر بندش، پاکستان کی شدید مذمت

    خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور

    مری، گلیات،وادی کاغان و ناران میں شدید برفباری، سیاحوں کا داخلہ بند

  • صارم قتل کیس، پولیس نے مزید شواہد اکٹھے کرلیے

    صارم قتل کیس، پولیس نے مزید شواہد اکٹھے کرلیے

    کراچی میں 7سالہ بچے صارم کے اغوا اور قتل کیس میں پیشرفت ہوئی ہے پولیس نے اہم شواہد اکٹھے کرلیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایاکہ سرچ آپریشن مدرسے کے مہتمم اور چوکیدار کے کمروں میں کیا گیا جہاں سے کرائم سین یونٹ کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ فلیٹوں کی بھی سرچنگ کی گئی جس میں خواتین سرچرز کی مدد سے گھر والوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صارم کیس کے حوالے سے تفتیش کے دوران کرائم سین یونٹ کی مدد سے شواہد اکٹھے کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ ڈی این اے خراب ہونے کی وجہ سے میچنگ میں مشکلات کا سامناہے، اب تک قاتل کے پکڑے نہ جانے کی اہم وجہ بھی ڈی این اے کا میچ نہ ہونا ہے۔یاد رہے 7سالہ صارم قتل کیس میں واقعاتی شواہد اور ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بہت کم مماثلت سامنے آئی تھی اور ٹیم کو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نکات غیر تسلی بخش ہونے کا شبہ ہے۔

    دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، انہیں شکست ہو گی، آرمی چیف

    لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ سے 3 ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلہ

  • صارم زیادتی قتل کیس، پولیس کی فلیٹس میں دوبارہ تلاشی

    صارم زیادتی قتل کیس، پولیس کی فلیٹس میں دوبارہ تلاشی

    کراچی کےعلاقےنارتھ کراچی میں7 سالہ صارم کےاغوا، زیادتی اور قتل کیس کی تحقیقات جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے ایک مرتبہ پھربلڈنگ میں فلیٹس کی تلاشی لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم کے مبینہ اغوا اور قتل کیس میں مزید تفتیش کےلئے پولیس کی بھاری نفری نارتھ کراچی میں اس کے فلیٹ میں پہنچی۔پولیس نےکچھ فلیٹوں کی تلاشی لی، سرچنگ کا عمل مکمل کرنےکے بعد پولیس واپس چلےگئی۔پولیس کا کہناتھا کہ معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، جلد اصل ملزمان تک پہنچ کرانہیں گرفتارکرلیں گے۔اس سے قبل صارم کے کیس میں تفتیش کےدوران پولیس نے 9 افراد پرشک کا اظہارکیا تھا۔ت

    تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 200 سے زائد گھروں کو چیک کیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ہو چکے ہیں، کسی کا بھی نتیجہ نہیں آیا، ڈی این اے کے رزلٹ آنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ 9 افراد ایسے ہیں جن پر زیادہ شک ہے، صارم قتل کیس پر4 ٹیمیں کام کررہی ہیں، اے وی سی سی، سی پی ایل سی، ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ نارتھ کراچی سے لاپتہ ہونے والے 7 سال کے بچے صارم کی لاش 11 روز بعد 18 جنوری کو اس کے فلیٹ میں پانی کے ٹینک سے ملی تھی۔دوسری جانب گارڈن سے کمسن عالیان اورعلی رضا کو لاپتہ ہوئے اٹھارہ روز گزرگئے، غمزدہ اہل خانہ نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اورسڑک بلاک رکھی۔

    کالج سپریٹنڈنٹ فیس کے لاکھوں روپے لیکر فرار، طالبات پریشان

    مریم نواز سےمتعلق ہتک آمیز مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتار

    سندھ کے بعد پنجاب دوسرا صوبہ جس نے ای وی بس شروع کی، شرجیل میمن

    گوگل میں پھوٹ پر گئی، ملازمین کمپنی عہدے داران کے خلاف

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

  • صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس میں پولیس نے تفتیش کے دوران بچوں کے معلم کے کمرے سے ملنے والی چیزوں کے حوالے سے بڑا انکشاف کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کے معلم کے کمرے سے کچھ ادویات ملی ہیں اور فارنزک کے دوران موبائل سے نازیبا ویڈیوز بھی ملی ہیں، جو اس نے خود اپنے موبائل فون سے بنائی تھی۔دوسری جانب زیرحراست تمام افراد سے مستقل تفتیش کا عمل جاری ہے اور کوشش ہے جلد ڈی این اے رپورٹ ملے تو کیس فائنل کیا جائے گا۔

    کیس میں اب تک کی پیش رفت

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کے دوران 200 سے زائد گھروں کو چیک کیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ہو چکے ہیں، کسی کا بھی نتیجہ نہیں آیا، ڈی این اے کے رزلٹ آنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ 9 افراد ایسے ہیں جن پر زیادہ شک ہے، صارم قتل کیس پر چار ٹیمیں کام کر رہی ہیں، اے وی سی سی، سی پی ایل سی، ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ کی خصوصی ٹیم، ایس ایچ او کی ٹیم تفتیش میں مصروف ہے، رات گئے خصوصی ٹیم نے فلیٹس میں سرچنگ کی، مزید شواہد اکھٹا کرنے کی کوشش کی، ابھی تک کی تفتیش میں کسی باہر کے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    واضح رہے کہ نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم کیس ڈی این اے اور فارنزک رزلٹ تاخیر کا شکارہوگیا ہے، پولیس حکام نے بتایا کہ فارنزک لیب کی جانب سے مزید وقت مانگ لیا گیا ہے۔ 7سالہ صارم کے قتل کی تحقیقات میں تفتیشی حکام پریشانی کا شکار ہیں۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ پانی میں ڈوبے رہنے کے وجہ سے لاش خراب ہوگئی تھی اور لاش سے لیا جانے والا ڈی این اے بھی خراب ہوگیا تھا۔ ڈی این اے خراب ہونے کی وجہ سے میچنگ میں مشکلات کا سامناہے، اب تک قاتل کے پکڑے نہ جانے کی اہم وجہ بھی ڈی این اے کا میچ نہ ہونا ہے۔تفتیشی حکام نے کہا کہ ڈی این اے بہتر کرنے کیلئے خصوصی ماہرین کی خدمات لینے پر غور کررہے ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا تھا کہ ڈی این اے کے علاوہ دیگر ٹیکنکل شواہدپرکام تیزکردیاگیاہے اور ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر طریقوں سےکوشش جاری ہے۔اس سے قبل ایس ایس پی سینٹرل نارتھ کراچی میں صارم کے گھر پہنچ گئے، ایس ایس پی سینٹرل نے جائے وقوعہ کا ایک بار پھر دورہ کیا تھا۔پولیس حکام نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا، حکام نے بتایا تھا کہ صارم کیس میں تفتیش کےدوران اہم شواہد ملے ہیں، جلد ملزم کوگرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائیں گی۔

    خیال رہے صارم کے قاتل کی تلاش کے لئے تفتیش میں بڑے بریک تھرو کیلئے پولیس کو کیمیائی تجزیہ کی رپورٹ کا انتظار ہیں۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے مرحلہ وار تمام شواہد اکٹھا کرلئے، تفتیش میں پیشرفت فارنزک، کیمیائی تجزِیہ، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہوگی۔کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے بعد پولیس کوحتمی پوسٹمارٹم رپورٹ بھی موصول ہوگی ، شواہد کی فارنزک رپورٹس، حتمی پوسٹمارٹم رپورٹ کو ملا کر جائزہ لیاجائے گا۔پولیس حکام نے کہا کہ فرانزک رپورٹس کی بنیاد پر زیرحراست افراد سے ایک بار پھر پوچھ گچھ ہوگی۔

    یاد رہے 7سالہ صارم قتل کیس میں واقعاتی شواہد اور ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بہت کم مماثلت سامنے آئی تھی اور ٹیم کو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نکات غیر تسلی بخش ہونے کا شبہ ہے۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا تھا کہ میڈیکل لیگل آفیسر کو سوالا نامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ، سوالنامہ ڈی این اے،کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے کے بعد بھیج دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو ٹینک سے صارم کی مدرسہ کی ٹوپی اورگیند بھی مل گئی، ٹیم کو ملنے والے اہم شواہد کوصارم کے والدین نےبھی شناخت کرلیا۔ذرائع نے مزید کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں کا خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا۔تحقیقاتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹرز سے ملاقات کی تھی۔

    واقعے کیسے پیش آیا؟

    کراچی میں نارتھ کراچی کے علاقے میں 11 روز سے لاپتا 7 سالہ بچے صارم کی لاش گھر کے قریب زیرزمین پانی کے ٹینک سے برآمد ہوئی تھی، پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے کہ بچے خود ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا۔ 7 سالہ صارم 11 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا، پولیس اور اہلخانہ اس کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہے تھے۔اہل علاقہ کے مطابق پانی کے وال مین نے بدبو آنے پر بچے کی لاش کی اطلاع یونین کو دی، ننھے صارم کی لاش زیرزمین ٹینک سے نکال لی گئی، یونین نے ٹینک کو گتے سے ڈھکا ہوا تھا اور کوئی احتیاطی تدبیر اختیار نہیں کی تھی، اس سے قبل پولیس نے ٹینک کو چیک کیا تھا تاہم اس وقت لاش کے شواہد نہیں ملے تھے۔اہل علاقہ نے بتایا بچے کی لاش 11 دن بعد ملی ہے لیکن لاش پرانی نہیں لگتی، بچہ جس وقت اغوا ہوا اس وقت بجلی نہیں تھی اور اب بھی بجلی نہیں ہے۔

    ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل کنور آصف کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگا اس کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، اس معاملے میں تحقیقات کررہے کہ واقعہ حادثہ ہے یا بچے کو قتل کیا گیا ہے۔ایس پی نے مزید بتایا کہ بچہ جن کپڑوں میں لاپتہ ہوا تھا انہی کپڑوں اور جوتوں میں ملا ہے، لاش کی حالت اچھی نہیں ہے، جِلد اتر رہی ہے، پوسٹ مارٹم میں ڈاکٹر سے پوچھا ہے کہ لاش کتنی پرانی ہے، جسم پر تشدد کے نشانات ہیں یا نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد حقائق سامنے آسکیں گے۔

    بچے کی لاش ملنے کے بعد والدین غم سے نڈھال ہیں اور فلیٹس کے مکین بھی افسردہ نظر آئے۔کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلیے ہیںپولیس کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بچہ حادثاتی طور پر ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا،مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔واضح رہے کہ صارم کی گمشدگی کا معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بچے کے گھر جاکر والدین سے اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔