Baaghi TV

Tag: صحافتی تنظیمیں

  • ہتک عزت قانون :صحافتی تنظیموں کا  سرکاری تقریبات، اسمبلی اجلاسوں سمیت بجٹ کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    ہتک عزت قانون :صحافتی تنظیموں کا سرکاری تقریبات، اسمبلی اجلاسوں سمیت بجٹ کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں منظور ہونے والے ہتک عزت قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے اور سرکاری تقریبات، اسمبلی اجلاسوں سمیت بجٹ کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہتک عزت بل کی منظوری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سی پی این ای، اے پی این ایس،ایمنڈ، پی بی اے، پی ایف یو جے اور پریس نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تمام صحافی تنظیمو ں نے ہتکِ عزت قانون کو ” انسان دشمن” قانون قرار دیا اور متنازع کالے قانون کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان بھی کیا گیا۔

    اجلاس میں مختلف احتجاجی اقدامات پر مرحلہ وار عملدرآمد کا فیصلہ ہوا جن میں حکومتی تقریبات، قومی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں، وفا قی وصوبائی بجٹ کی کوریج کے ساتھ حکومتی اتحادی جماعتوں کی سرگرمیوں کےبائیکاٹ کا فیصلہ بھی کیا گیا شرکا نے متنازع بل کے خلا ف موثر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔

    پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ

    اتفاق رائے سے طے پایا کہ متنازع بل کے خلاف حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے سوا دیگرسیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیمو ں اور بارکونسلز کے ساتھ مشاورت سے مرحلہ وار آگے بڑھا جائے گا انسانی حقوق کے منافی متنازع ہتک عزت قانون کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

    لاہور پریس کلب کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے ہتک عزت بل پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا، من مانی کرتے ہوئے قائم مقام گورنر سے بل پر دستخط کرائے گئے، لاہور پریس کلب اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی پہلے ہی اس بل کو مسترد کر چکی ہے پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے بعد قائم مقام گورنر سے بھی عجلت میں دستخط کروائے گئے، اس عجلت سے ہمارے تحفظا ت کو مزید تقویت ملی ہے۔

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف اور صحافتی تنظیموں نے ہتکِ عزت بل کو کالا قانون قرار دے کر عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ فارم 47 زدہ ایوان سے اسپیکر منتخب ہونے والے کو ہتکِ عزت قانون پر دستخط کرتے ہوئے شرم آنی چاہئیے، جمہوریت کا منجن بیچنے والی دو بڑی جماعتوں نے آزادی اظہار و ابلاغ کو کرمنا لائز کر کے آمریت کی نظریاتی اولاد ہونے کی حقیقت دنیا کو دکھائی ہے صحافی اورسول سوسائٹی اس کالے قانون کے خلاف ہم آواز ہیں تحریک انصاف اس کالے قانون کے نفاذ کو روکنے کیلئے عدلیہ کا دروازہ کھکھٹائے گی۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو ہتک عزت قانون پر تشویش ہے اور ہم اس معاملے پر صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر قانون پنجاب حکومت کی ضرورت ہے تو سب کے ساتھ مشاورت ضروری تھی پی ٹی آئی دور میں بلاول ظالمانہ اقدامات کے خلاف صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

    لاہور میں لاوارث بچوں سے بدفعلی کروانے والا گینگ گرفتار

  • فواد چوہدری کا میڈٰیا سے متعلق بیان ایک”سازش” ہے،صحافتی تنظیمیں

    فواد چوہدری کا میڈٰیا سے متعلق بیان ایک”سازش” ہے،صحافتی تنظیمیں

    اسلام آباد: صحافتی تنظیموں نے فواد چوہدری کے میڈیا سے متعلق بیان کو فیک نیوزاور سازش قرار دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میڈیا کے ریونیو میں 2018 سے 2021 میں 600 فیصد اضافہ ہوا ہے ، یہ خوش آئند بات ہے لیکن سوال یہ ہے اگر معیشت مستحکم نہ ہو تو اشتہارات میں اتنا اضافہ کیسے ممکن ہے؟-


    وفاقی وزیر نے میڈیا مالکان سے کہا تھا کہ ذرا سوچئے اور خدا کیلئے میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کریں تا کہ انھیں بھی مہنگائی کا اثر کم لگنا شروع ہو۔

    آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہی : فواد چوہدری

    تاہم میڈیا انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، آل پاکستان نیوزپیر سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کو ’فیک نیوز‘ اور اسے میڈیا ورکز اور مالکان کے مابین باہمی تعلقات کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

    میڈیا اسٹیک ہولڈرز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک بیان میں واضح کیا گیا کہ فواد چوہدری کا بیان میڈیا ورکز اور مالکان کے باہمی تعلقات کے درمیان دراڑ ڈالنے کی منظم کوشش ہےقصداً غلط اعداد و شمار کا پھیلاؤ ہی دراصل فیک نیوز (جعلی خبر) ہے جس کا عملی مظاہرہ وفاقی وزیر اطلاعات کی ٹوئٹ ہے اور اگر انہوں نے اپنی لا علمی کے باعث ایسا کیا ہے تو فواد چوہدری کی اطلاعات کے مصدقہ ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    عمران خان نے معاشی بحران کو مذہب کی ڈھال بنا لیا ہے جس پر تشویش ہے،شہباز شریف

    کمیٹی نے وفاقی وزیر کی ٹوئٹ میں میں بیان کیے گئے اعدادوشمار کو پہلے سے معاشی پابندیوں میں جکڑی صحافت پر ایک اور حملہ قرار دیا اورمطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فوری طور پر دانستہ خودساختہ اعداد و شمار پر مبنی ٹوئٹ سے دسبرداری کا اعلان کریں۔

    قبل ازیں میڈیا ست گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کیا کہنا تھا کہ صحت کارڈ سے ہیلتھ کے مسائل حل ہوں گے، جس پر ہر خاندان 10 لاکھ روپے تک علاج کروا سکے گا، نجی اسپتال جائیں تو علاج کا خرچہ حکومت اٹھائے گی، حادثے میں زخمی شخص کا بھی صحت کارڈ کے تحت فوری علاج ہو سکے گا، صحت کارڈ کا سب سے زیادہ فائدہ سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کو ہوگا، امیر لوگ تو بیرون ملک جاکر اپنا علاج کرواتے ہیں، مساوات قائم ہوگی وہی علاج غریب کا ہوگا جو امیر کا ہوتا ہے، جب تک پرائیویٹ سیکٹر آگے نہیں آئے گا کبھی بھی مسئلے حل نہیں ہوسکتے،اچھے اسپتال بنیں گے تو یہ عوام کیلئے فائدہ ہے، یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سندھ حکومت صحت انصاف کارڈ میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام پریس کلبوں کے ممبران کو صحت کارڈ دینے جارہے ہیں۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

    وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مشکل میں تنخواہ دار طبقہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں، آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہے، نوازشریف کا مسئلہ مہنگائی سے جڑا ہوا ہے، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ٹریلین کا قرضہ لیا گیا، جب کہ 2008 سے 2018 تک 23 ٹریلین قرضہ لیا گیا، پی ٹی آئی کی حکومت 32 ارب ڈالر قرضہ واپس کرچکی ہے، نوازشریف لندن کی سب سے مہنگی پراپرٹی میں بیٹھے ہوئے ہیں، لندن میں آصف زرداری ہوٹل کا مہنگا ترین اپارٹمنٹ لے کر رہتے ہیں۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، ان کے مارچ کا شور پہلے دن سے سنتے آرہے ہیں، آئندہ عام انتخابات 1100 سیٹوں پر ہوں گے، اور پی ٹی آئی کے علاوہ ان سیٹوں پر کوئی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کر سکتی، الیکشن آنے دیں میدان بھی ہوگا گھوڑا بھی ہوگا اور ہم بتائیں گے الیکشن کیسے لڑے جاتے ہیں، آئندہ 5 سال بھی تحریک انصاف کے ہی ہوں گے۔

    اگرنون لیگ شریف فیملی سے خودکو علیحدہ ہ کرتی ہے تو یہ مثبت پیشرفت ہوگی ، فواد…

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .