Baaghi TV

Tag: صحافی

  • صحافی حسنین شاہ قتل کیس، اہلیہ کے بیان کے بعد ملزمان رہا

    صحافی حسنین شاہ قتل کیس، اہلیہ کے بیان کے بعد ملزمان رہا

    صحافی حسنین شاہ قتل کیس، اہلیہ کے بیان کے بعد ملزمان رہا

    سیشن عدالت میں صحافی حسنین شاہ قتل کیس کی سماعت ہوئی

    مقدمہ کی مدعیہ اور گواہان اپنے بیان سے منحرف ہو گئے ، اہلیہ حسنین شاہ نے عدالت میں کہا کہ مقدمہ میں ملوث ملزمان ہمارے ملزم نہ ہیں ،عدالت نے مقدمہ میں ملوث چار ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ،ایڈیشنل سیشن جج محمد یاسین موہل نے کیس پر فیصلہ سنایا ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج ہے چار ملزمان میں سید حیدر عباس شاہ عامر رضا بٹ امجد پاشا اور سید فرحان احمد شاہ شامل ہیں

    حسنین شاہ قتل کیس میں پولیس نے رواں برس ماہ فروری میں مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا سی سی پی او کا کہنا تھا کہ صحافی حسنین شاہ کا مرکزی ملزم عامر بٹ اور اس کے بھائی شاہد بٹ سےلین دین کا تنازع تھا، عامر بٹ نے بھائی سے مل کر حسنین شاہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور فرحان شاہ کے ذریعے شوٹر منگوائے عامربٹ اورحسنین شاہ کے درمیان کچھ مالی معاملات تھے،

    حسنین شاہ کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرائے جانے کا انکشاف

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب کے باہر فائرنگ، کرائم رپورٹر جاں بحق

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • حکومتیں آزادی اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے،عدالت

    حکومتیں آزادی اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک بھر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری اطلاعات کو 30 ستمبر تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سیکرٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہ ہو،عدالت سمجھنے سے قاصر ہے کہ صحافیوں کیلئے خوف کا ماحول کیوں بنایا جا رہا ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خوف کا یہ ماحول کیسے ختم ہو گا؟ اس حکومت کے آنے سے پہلے صحافیوں کا ایک گروپ ریلیف لینے اس عدالت آیا ،اس حکومت کے آنے کے بعد دیگر صحافیوں کو اس عدالت سے ریلیف لینا پڑا،اس صورتحال سے لگتا ہے کہ کچھ خوفناک حد تک غلط ہو رہا ہے، صحافیوں کا یہ خوف وفاقی حکومت نے دور کرنا ہے، یہ بہت اہم مسئلہ ہے،جتنی معلومات ہونگی لوگ اتنے باشعور ہونگے اور احتساب بہتر ہو سکے گا، مہذب دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ صحافیوں کی پکڑ دھکڑ کی جائے،کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ الگ بات لیکن صحافت پر ایسی کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، ایک صحافی کے خلاف پورے پاکستان میں پچاس مقدمے بنا دیئے جاتے ہیں،یہ ان کے حقوق سے زیادہ پورے ملک کے لوگوں کے حقوق کی بات ہے،عوام تک یہ معلومات جانے دیں کہ انکے حقوق کے ساتھ ریاست کیا کر رہی ہے پکڑ دھکڑ اور تھانیداری سے کچھ نہیں ہو سکتا، آج کے زمانے میں زبان بندی نہیں کی جا سکتی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتیں آزاری اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے، پنجاب میں بھی کسی صحافی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہے؟ یہ عدالت صحافی پر توہین مذہب کے مقدمےکے معاملے پر کوئی کمیشن بھی بنا سکتی تھی،اس عدالت کو وزیراعظم اور وفاقی حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ اس خوف کو ختم کرینگے،جب سے پاکستان بنا ہے یہی حربے ہیں لیکن کبھی کارگر ثابت نہیں ہوئے، حکومتوں کو تو آزادیِ اظہار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • صحافی بن کر تاجروں سے بھتہ وصول کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    صحافی بن کر تاجروں سے بھتہ وصول کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس نے کاروائی کی ہے

    صحافی بن کر تاجروں سے بھتہ وصول کرنے والے دو ملزمان گرفتار کر لئے گئے، گرفتار ملزمان میں وقار اور آصف شامل ہیں۔ملزمان نے تاجر عباس حسین سے کاروبار جاری رکھنے کے عوض 5 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔ملزمان نے تاجر کو ڈرائیور ڈرا دھمکا کر دس ہزار روپے جاز کیش اور 5500 روپے لیے ۔ملزمان گاڑی سے 16عدد مرغیاں نکال کر بھی کر لے گئے تھے۔ ایس ایچ او مانگا منڈی کا کہنا ہے کہ مانگا منڈی پولیس نے درخواست موصول ہونے پر فوری مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ملزمان کو مزید تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ۔

    علاوہ ازیں جرائم پیشہ افراد کے خلاف نواں کوٹ پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے، مختلف جرائم میں ملوث 08 ملزمان اور عادی مجرمان گرفتار کر لئے گئے ہیں، پتنگ و ڈور فروشوں کے خلاف کارروائی کے دوران ملزم احمد گرفتار کیا گیا ہے، پتنگ فروش احمد کے قبضہ سے 60 پتنگیں,20 چرخیاں برآمد کی گئی ہیں، بدنام زمانہ منشیات فروش جبار کے قبضہ سے 1720 گرام چرس برآمد کی گئی ہے،کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملزم زبیر گرفتارکیا گیا ہے، سنگین جرائم میں ملوث 3 عادی مجرمان راشد۔نعمان۔عمرکو گرفتارکیا گیا ہے، عدالتی اشتہاری ملزم کاشف بھی گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں

    قبل ازیں سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے، ایس پی کینٹ عیسی سکھیرا کی ہدایت پر جنوبی چھاونی پولیس نے فوری ایکشن لیا، علاقے میں سر عام اسلحہ لہرا کر خوف و ہراس پھلانے اورسوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا ملزم زین عرف افضال گرفتارکیا گیا ہے، ملزم نے ناجائز اسلحہ کیساتھ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی ملزم کی وڈیو سامنے آنے پر فورا ملزم کو گرفتار کر لیا گیا،ملزم کے قبضے سے پسٹل اور گولیاں برآمدکر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،ایس پی کینٹ عیسی سکھیرا کا کہنا ہے کہ شو آف ویپن، نا جاٸز اسلحہ اور ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں،

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

  • راکھی ساونت بن گئیں فائٹر

    راکھی ساونت بن گئیں فائٹر

    ہر وقت خبروں میں‌ رہنے والی سیکینڈل کوئین راکھی ساونت کی ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ایک لڑکے کو مکے اور لاتیں مارتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں.رپورٹس کے مطابق وہ لڑکا صحافی ہے اور راکھی ساونت اپنے بوائے فرینڈ کے ہمراہ اس کے ساتھ کھڑی ہیں لیکن جیسے ہی صحافی نے راکھی ساونت سے ان کے ایکس بوائے فرینڈ کے بارے میں بات کی تو انہوں نے اس صحافی کو مکے اور لاتیں مارنا شروع کر دیں. وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ وہ صحافی مکے اور لاتیں کھانے کے بعد

    مسکرا رہا ہے جبکہ راکھی ساونت بھی مسکرا رہی ہیں. یاد رہے کہ راکھی ساونت ایسے بیانات دیتی رہتی ہیں جن کے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے. راکھی ساونت بگ باس میں بھی رہ چکی ہیں وہاں ان کا لڑائی جھگڑا داکارہ و ڈانسر کشمیرا شاہ کے ساتھ بہت زیادہ رہا. راکھی کا جھگڑا دلیر مہدی کے بھائی میکا سنگھ کے ساتھ بھی رہا اسی طرح سے اپنے بوائے فرینڈز کو لیکر بھی وہ خبروں میں رہی ہیں. راکھی ساونت اچھی اداکارہ تو ہیں لیکن ایک بہترین رقاصہ بھی ہیں ان کا ری مکس گیت پردیسا میں رقص دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے . راکھی ساونت دوسروں کی آگ میں چھلانگ لگانے کے حوالے سے بھی کافی مشہور ہیں مسئلہ کسی کا بھی ہو وہ کود پڑتی ہیں اور ایسے بیانات دیتی ہیں کہ وہ اس مسئلے کا فریق سمجھی جانے لگتی ہیں.

  • حرمین شریفین کی حرمت ایک سرخ لکیر ہے،اسکی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی،شیخ عبدالرحمٰن السدیس

    حرمین شریفین کی حرمت ایک سرخ لکیر ہے،اسکی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی،شیخ عبدالرحمٰن السدیس

    ریاض: صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین جنرل صدر الشیخ عبدالرحمٰن السدیس نے حرمین شریفین اور مقدس مقامات سے متعلق ضوابط اور ہدایات پر عمل کرنے اور ان کی مکمل تعمیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ عبدالرحمٰن السدیس نے ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حرمین شریفین کی حرمت سعودی عرب کے لیے ایک سرخ لکیر ہے اور جو لوگ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے ان کی قومیت یا نوعیت کچھ بھی ہو۔

    ایران کے صوبے فارس میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

    ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے امور میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں۔صدارت عامہ حرمین شریفین کے امورمیں خود مختار ہے انہوں نے ان حفاظتی جرائم پر تعزیری سزائیں لاگو کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ہر ایک سے اس مذہبی اور قومی ذمہ داری میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔

    اسرائیلی یہودی صحافی کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے میں مدد کرنے والے سعودی شہری کو گرفتارکرلیا گیا سعودی حکام کے مطابق پولیس نے یہودی صحافی کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے مدد فراہم کرنے والے سعودی شہری کو گرفتارکرلیا شہری کا کیس سعودی پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا ہے جو اس مقدمے کی پیروی کریں گے۔ اسرائیلی صحافی کے پاس امریکی پاسپورٹ تھا۔


    پولیس کا کہنا ہےکہ غیرمسلم کو مکہ مکرمہ میں داخلے میں مدد فراہم کرنا جرم ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس قسم کی خلاف ورزی کرنے والے کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی چینل کے لئے کام کرنے والے صحافی گل تماری نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں وہ مکہ کی سڑکوں اور اہم مقامات پر موجود تھا اسرائیلی صحافی جبل رحمت پر بھی چڑھ گیا تھا۔ سعودی قوانین کے مطابق مکہ کی سرزمین پر غیر مسلم نہیں آ سکتے اور اس کو یقینی بنانے کے لئے کئی جگہوں پر چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔

    اسرائیلی صحافی نے واپسی پر اس رپورٹ کو شائع کیا تھا اسرائیلی صحافی کا کہنا تھا کہ مکہ کا دورہ کرنا اس کا دیرینہ خواب تھا اور اس کےگائیڈ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک اسرائیلی صحافی ہے-

    اسرائیلی صحافی نے تقریبا 10 منٹ کی ڈاکیومینٹری بنائی جسے ٹی وی پر بھی نشر کیا گیا جبکہ صحافی کے ساتھ بظاہر ایک مقامی گائیڈ موجود تھا، جس کا چہرہ ویڈیو میں دھندلادیا گیا تاکہ پہنچان نہ ہوسکے گلِ تمرے کیمرے کے سامنے ہیبرو زبان میں آہستہ آواز کے ساتھ بولتے ہیں اور بعض اوقات وہ اپنی اسرائیلی شناخت چھپانے کے لیے فورا انگریزی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں تاکہ اسکی شناخت نہ ہوسکے۔

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیر برائے علاقائی تعاون ایساوی فریج نے مکہ سے متعلق ایک اسرائیلی نیوز چینل 13 کی رپورٹ کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے، انکا کہنا ہے کہ صرف ریٹنگ کی خاطر اس رپورٹ کو نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ تھا۔

    اسرائیلی صحافی نے واقعہ پر معافی مانگتے ہوئے لکھا کہ اگر کسی کو یہ ویڈیو بری لگی ہو تو میں دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔ اس پوری کوشش کا مقصد مکہ کی اہمیت اور دین اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنا تھا اور ایسا کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور شمولیت کو فروغ دینا تھا۔

  • جیکولین فرنینڈس اداکارہ بننے سے پہلے کس شعبے سے وابستہ تھیں؟

    جیکولین فرنینڈس اداکارہ بننے سے پہلے کس شعبے سے وابستہ تھیں؟

    سری لنکن نژاد بالی وڈ کی نوجوان نسل کی نمائندہ فنکارہ جیکولین فرنینڈس کا شمار بہترین اداکارائوں میں ہوتا ہے ان کا دلکش انداز سب کو بھاتا ہے. جیکولین فرینینڈس جنہوں نے ماڈلنگ بھی لیکن اب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اداکاری میں آنے سے پہلے صحافی تھیں اور شعبہ صحافت سے منسلک تھیں انہوں نے باقاعدہ جرنلیزم میں ایم اے بھی کیا.لیکن ایم اے انہوں‌ نے سری لنکا سے کیا تھا اور وہیں کچھ عرصہ مقامی چینل میں کچھ عرصہ رپورٹر کے طور پر کام بھی کیا. بھارتی میڈیا

    کے دعوے کے مطابق اداکارہ پہلے صحافی تھیں. جیکولین فرینینڈس کا شمار ان اداکارائوں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اداکاری سے پہلے کسی اور شعبے اور وہ بھی صحافت میں‌کام کیا .جیکولین فرینینڈس نے سری لنکا کی ملکہ حسن کا تمغہ بھی 2006 میں جیتا تھا. اداکارہ نے بالی وڈ انڈسٹری میں فلم آلہ دین سے قدم رکھا بعد ازاں انہوں نے بڑے بینر کی بڑی فلموں کی بڑی کاسٹ کے ساتھ کام کیا. ان کے ڈانس نمبرز بھی خاصے مشہور ہوئے. جیکولین فرینینڈس نہ صرف بہترین اداکارہ ہیں بلکہ بہترین رقاصہ بھی ہیں.وہ ہندی زبان پر عبور تو نہیں رکھتیں لیکن ایسی اور اتنی ہندی بول لیتی ہیں کہ جس سے ان کی فلم چل جائے اور فلم بین ان کے لہجے پر انگلیاں نہ اٹھائیں.

  • امریکی صدر خطے کے دورے پر آئیں تو ہم سے بھی ملیں،ابو عاقلہ کے خاندان کا مطالبہ

    امریکی صدر خطے کے دورے پر آئیں تو ہم سے بھی ملیں،ابو عاقلہ کے خاندان کا مطالبہ

    الجزیرہ کی فلسطینی نژاد امریکن صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب نے امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ امریکی صدر خطے کے دورے پر آئیں تو ہم سے ملیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز لکھے گئے جوبائیڈن انتظامیہ کو خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اس پر دکھ اور غم ہے کہ امریکی انتظامیہ کا ابو عاقلہ کی موت پر رد عمل دھوکے پر مبنی تھا اور اسرائیل کو اس جرم سے محفوظ بنانے کے لیے تھا۔

    الجزیرہ کی خاتون صحافی پر فائرنگ غیر ارادی طور پر ہوئی، امریکا

    یاد رہے کہ اس ہفتے میں امریکہ کی طرف سےابو عاقلہ کو گولی لگنے کے بارے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ابو عاقلہ اسرائیلی گولی سے ہی قتل ہوئی ہو مگر یہ اسرائیلی فوج کی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا گیا وائٹ ہاوس نے 4 جولائی کواس واقعے کے بارے میں کہا تھاابو عاقلہ کولگنے والی گولی اس قدر ڈیمج ہو چکی تھی کہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ گولی کس کی تھی۔

    ابو عاقلہ کے عزیزو اقارب نے اس امریکی بیان پر کہا ہے کہ امریکہ اس طرح اسرائیل کی ذمہ داری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے –

    جبکہ اقوم متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے اپنی تحقیقات میں اس واقعے کو اسرائیلی فوج کی دانستہ گولی کا شاخسانہ بتایا تھا جس میں ابو عاقلہ کوسیدھی گولی ماری گئی تھی جبکہ سی این این ، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات میں بھی اسرائیلی فوج ہی اس صحافی خاتوں کے قتل کی ذمہ دار قرار دی گئی تھی۔

    تاہم اسرائیل ان حقائق سے انکار کرتا ہے۔ اسی طرح وائٹ ہاوس نے بھی سارے حقائق دیکھنے کے بعد کہہ دیا ہے کہ اسے یہ کہنے جواز نہیں نظر آتا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر گولی ماری ہو گی۔ بس یہ افسوسناک حالات کا نتیجہ ہے۔

    ہندوستان میں حجاب کی بنا پر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کردیا گیا

    تاہم ابو عاقلہ کے خاندان کو لگتا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک صحافی خاتون کے اس بہیمانہ قتل پر جوبائیڈن کے دورہ اسرائیل کا سایہ پڑ جائے گا-

    ابو عاقلہ کے خاندان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اسرائیلی فوج کے ظلم کو چھپانے کا میلان رکھتا ہے یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ دنیا سے اور ہم سے بس یہ کہیں کہ چھوڑو آگے بڑھو اور اس معاملے پر خاموشی ہی بہتر ہے خط میں ابو عاقلہ کے خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ جوبائیڈن علاقے کے اپنے دورے کے دوران انہیں بھی ملیں ۔

    ایلون مسک ٹوئٹر خریدنے کے معاہدے سے دستبردار ہوگئے

    دوسری جانب وائٹ ہاوس نے اس مقتولہ صحافی ابو عاقلہ کے اہل خانہ کے خط پر یا ملاقات کی درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    جب اس خط کے بارے میں امریکی پریس سیکرٹری سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا، ابھی یہ خط دیکھا نہیں ہے اس لیے تبصرہ نہیں کر سکتے ، البتہ جوبائیڈن اس واقعے سے متعلق تحقیقات کو مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ امریکی سینئیر حکام ابو عاقلہ کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    واضح رہے گیارہ مئی کو جنین کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فائرنگ سے ابو عاقلہ اس وقت جاں بحق ہو گئیں تھیں ، جب وہ الجزیرہ چینل کی طرف سے جنین کیمپ پر فوجی کارروائی کی کوریج کر رہی تھیں۔

    عرب مسلمان ٹینس اسٹار ومبلڈن میں تاریخ رقم کرنے والی ہیں،یہ اعزازسیاہ فام خاتون کو…

  • عمران ریاض خان صحافی  یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    کُچھ انسان اپنی شیطانی صفات اور دوسروں پر غلبہ پانے کی شدید خواہش کو اپنی شعلہ بیانی کے پیچھے چُھپانے کا فن جانتے ہیں۔ عمران ریاض خان ایک ایسا ہی شخص ہے۔ غُربت اور آواہ پن کی آغوش سے جنم لینے والی لالچ کا پیکر ہے

    عمران ریاض کا باپ ریاض خان ٹریکٹر مکینک تھا ۲۰۰۹ میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں سفارش سے دوبارہ ملازمت حاصل کی۔ سارا بچپن اور جوانی غربت اور شیطانی خیالات میں گزرا۔ عمران ریاض آج سات زاتی لگژری گاڑیوں کا مالک، ڈیفینس لاہور کے قریب زاتی گھر، کئ پلاٹ، چکوال میں ڈیم کنارے چار سو کنال پر مُحیط فارم ہاؤس، ایک پُر تعیش زندگی گزار رہا ہے۔

    ۲۰۰۸ میں عارضی رپورٹر بھرتی ہوا، سیاسی بیٹ ملی ، تعلقات بنے ٹوٹی موٹر سائیکل سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ہاتھ ڈالا۔ ٹاؤٹی کی گاہک ڈھونڈے تو چار پیسے بنے۔ صحافت سے پہلے عملی زندگی کا آغاز کار چوری کے بادشاہ گینگ میں شمولیت سے کیا۔ ۲۰۰۸-۱۰ تک لاہور میں یہ گینگ بُہت فعال تھا جو بعد میں سی سی پی او شفیق گُجر کی کوششوں سے ختم ہوا آج اسکی زاتی گاڑیوں کے فلیٹ میں مرسڈیز بینز ، ویگو ، ہای لکس، رییوو ، سوک اور سٹی شامل ہیں۔

    مہنگے اور غیر قانونی شکار نے موصوف کو گیلا تیتر کے عوامی لقب سے نوازا۔ ۲۰۲۰ میں چکوال کی حسین وادیوں میں تین سو نایاب تیتر شکار کرنے کے بعد بے رحمی سے گاڑی میں لاد کر جاتے ہوے ایک تصویر نے عمران کے اس روپ سے عوام کو آشنا کیا۔ ایاز امیر صاحب ماحولیات کے بُہت بڑے چیمپین ہیں لیکن اس بے رحمانہ شکار پر کبھی آواز نہ نکلی۔

    ناجائز قبضوں ، جھگڑے والی زمینوں کے سودوں میں بھی عمران ریاض نے خوب مال کمایا۔ ۲۰۱۸ میں مُخالف پارٹی کی فائرنگ کی ایف آئ آر ۳۶۹/۱۸ تھانہ ٹاون شپ آج بھی اسکی گواہی دے رہی ہے۔ ۲۰۲۰ میں youtube channel میں جھوٹی سچی باتوں اور جعلی شعلہ بیانی سے شہرت ملی ورنہ شہر میں عمران کی آبرو کیا ہے سب جانتے ہیں۔ ۲۰۲۱ میں دھرابی ڈیم چکوال میں عمران ریاض کے والد نے چار مشکوک کمپنیوں کی مدد سے چار کروڑ بایس لاکھ کا ماہی بانی کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس ٹھیکے کی انکوئری اینٹی کرپشن اتھارٹی پنجاب کر رہی ہے۔

    عمران ریاض کے مالیاتی گوشوارے ہوش رُبا داستان سُناتے ہیں۔ چند ہی سالوں اثاثوں اور دولت کی ریل پیل ! ۲۰۲۰-۲۱ میں کُل آمدنی دس کروڑ چھبیس لاکھ اٹھاسی ہزار جس میں سے أٹھ کروڑ ستاسی لاکھ غیر مُلکی آمدن۔ صرف ایک سال میں آمدن میں نو کروڑ کا اضافہ۔

    بنک سے ڈھائی کروڑ کا قرضہ لیا پلاٹ لیا جبکہ اسی سال تین کروڑ کا نامعلوم گفٹ دیا !

    دو پلاٹ ملت سوسائٹی میں تین کروڑ پچیس لاکھ خریدے جبکہ اُس سال کُل آمدن ایک کروڑ تیس لاکھ رہی۔

    ایف بی آر گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس نتیجے پہ پہنچی کہ تین کروڑ بیس لاکھ کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

    عمران ریاض کی ذندگی اس معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کی زندہ مثال ہے۔ سفارش تعلق اور بدمعاشی سے کیسے طاقت اور دولت کو گھر کی باندی بنایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لاکھوں چاہنے والوں کا آئیڈیل ایک فراڈ اور رانگ نمبر ہے۔

    زرا سوچئے !

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران ریاض خان، قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، اسلحہ سے لیس، محافظوں کی فوج،پولیس نے اسلحہ سے پاک مہم کے تحت اسلحہ لائسنس معطل کرنے کی درخواست کی، اٹھارہ لائسنس جو لاہور میں تھے، باقی چکوال مین انکے فارم ہاؤس اور پنڈی میں تھے، عمران ریاض سوشل میڈیا پر عوام کو قانون کی پاسدراری کا درس دیتے ہیں تا ہم اسلحہ کا اتنی بڑی تعداد پر اب انہیں خود تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515879″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515878″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515877″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515876″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515875″ /]

  • اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی  پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف سے ترکیہ کے نئے سفیر مہمت پاچاجی کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں ترکی کے نئے سفیر Mehmet Pacaci نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی. وزیراعظم نے سفیر کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان میں کامیاب مدت کے لیے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد، افہام و تفہیم پر مبنی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفیر کے دور میں دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید مضبوط ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی مستقل حمایت پر اظہار تشکر کیا.

    جون 2022 میں ترکی کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ ستمبر 2022 میں پاکستان میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے 7ویں اجلاس کے لیے صدر رجب طیب ایردوان کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان اور ترکی کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور دونوں ممالک میں یادگاری تقریبات کے ذریعے اس سنگ میل کو احسن طریقے سے منانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پر عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے لیے وزیراعظم نے اسپیکرقومی اسمبلی کو خط لکھ دیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ کے آغاز کی صورت میں انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا،پارلیمان کا نہایت کلیدی حصہ مجالس قائمہ کے اجلاسوں کی کارروائی بھی براہ راست نشر کی جائے،اس ضمن میں مطلوبہ حدود اور مناسب طریقہ کار وضع کرلیاجائے، سیاسی کارکن اور آئین کی تخلیق کا کارنامہ انجام دینے والی جماعت پارلیمنٹ کی اہمیت سے آگاہ ہیں، مریم اورنگزیب کی ر ہنمائی میں اس مرحلے کو تیزی سے مکمل کرلیا جائے،امید ہے کہ ہم سب کی یہ کاوش پارلیمان کی توقیر بڑھائے گی،نوجوان آئین، حقوق، جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت اور کارکردگی سے آگاہ ہوں گے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کا نوٹس لے لیا ،صدر مملکت نے وزیراعظم کے نام خط میں صحافیوں اور میڈیا پرسن کی ہراسیت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات عدم برداشت کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ، ایسے واقعات سے جمہوریت کے مستقبل اور آزادی ِاظہار ِرائے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، آئین کا آرٹیکل 19 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے ،پاکستان میں خوف پیدا کرنے کے علاوہ ایسے واقعات بین الاقوامی توجہ میں آتے ہیں اور ملک کا تاثر داغدار کرتے ہیں ،مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی رپورٹوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے ، دھمکیاں دینے اور جسمانی تشدد کو پاکستان کی مایوس کن پوزیشن کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے،صدر مملکت نے خط میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1992 سے 2022 تک 96 صحافیوں کو قتل کیا گیا ،عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو قتل کیا گیا، مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے ایک مصروف علاقے سے دن دیہاڑے اغوا کیا گیااسد علی طور اور ابصار عالم کو نامعلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کر دیا،ایسا لگتا ہے کہ آزاد رائے رکھنے والے میڈیا پرسنز کو دہشت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،پچھلی حکومتوں کے اقدامات یا بے عملی کو ایسی خلاف ورزیوں کو دہرانے کے لیے وجہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،یہ موازنہ ملک کو ترقی اور مثبت سمت میں لے جانے کے بجائے صحافیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے کا جواز بن جائے گا، آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق صدر کو تمام شہریوں کے لیے آزادی اظہار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانا چاہیے،پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں دانشوروں اور صحافیوں پر ظلم و ستم نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے صحافیوں اور میڈیا پرسن کے تحفظ کو یقینی بنائیں ،سیاست دان بھی صحافیوں کو نامعلوم اور دیگر عناصر کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیر اعظم اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات سے صدر کو آگاہ رکھیں ،