Baaghi TV

Tag: صحافی

  • امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی  ، رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    ینگ جرنلسٹ کی تربیتی ورکشاپ سے وزیراعظم کی کوارڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ورکشاپ آرگنائزر کرنے والوں کا کام قابل تحسین ہے ،میڈیا پر صحیح خبر دینا ایک بہت بڑا کام ہے،

    رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ بریکنگ نیوز کروڑوں لوگوں تک جاتی ہے اسکا درست ہونا چاہیے ،انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا فرق واضح ہونا چاہئے، 2005 سے ڈبیلو ایم سی یہ کام کر رہی ہے،کوئی فیلڈ ایسی نہیں جہاں مشکلات نہ ہوں،اپنی دلیل کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا اہم کام ہے ایس ڈی جیز کی میڈیا میں بات نہیں ہوتی ،میڈیا بحث کا نہیں ذمہ داری کا پلیٹ فارم ہے، موسمیاتی تبدیلی کی کوئی سرحد نہیں، پوری دنیا کا مسئلہ ہے ،دنیا میں اس وقت کلائمنٹ چینج سے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہمارے افراد اور ماحول پر آ رہا ہے، کام کرنا پڑتا ہے، سیکھنا پڑتا ہے، کسی بھی گائیڈ لینے میں شرم نہیں آنا چاہئے ،تھیوری کیساتھ پریکٹیکل ورک ہونا بہت ضروری ہے،ہر فیلڈ میں خواتین اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، ہمارا کام اس ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہے، جب بات کی جائے تو فائدہ مند ہونا چاہئے، غلط بات کو روکیں گے تو مثبت اثرات مرتب ہوں گے، امن کی فاختہ میڈیا سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ،ایک چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ہے، سب حقوق کی بات کرتے فرائض کی بات نہیں کی جاتی، خوشی ہوئی ینگ جرنلسٹ کو دیکھ کر کہ وہ آنے والے وقت میں میڈیا کے محاذ پر ہونگی ،آجکل میڈیا کا دور ہے،

    سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ،جس کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی،رومینہ خورشید عالم
    رومینہ خورشید عالم کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان بچیوں سے ملکر اچھا لگا۔ذمہ دارانہ طریقے سے خبر پہنچانا میڈیا میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویمن میڈیا سنٹر ۲۰۰۵ سے اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ کلائمیٹ چینج ایک بہت بڑا سبجیکٹ ہے مگر ٹاک شوز میں اس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔نوجوان صحافی خواتین سے کہوں گی کلائمیٹ چینج پر کام کریں۔شعبہ صحافت میں خواتین نے بہت بڑا کام کیا ہے۔اپنے ملک کا پازیٹو امیج دکھانے کے لیے کام کریں۔ اس طرح کی ورکشاپس ، بالخصوص کلائمیٹ چینج پر زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیں۔ کلائمیٹ چینج کے رپورٹرز ہمارے چیمپینز ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی۔
    اس کمپین کا آغاز بھی کلائمیٹ چیمپئنز اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے کر رہے۔مارگلہ ہلز پر آگ کے واقعات میں تمام کلائمیٹ فورس نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔آنے والے ایک دو ماہ میں ورکشاپس کریں گے۔کاپ ۲۹ کی رپورٹنگ پر بھی تربیتی ورکشاپس کریں گے۔ میں آج فائر فائٹرز کو یاد کرونگی جو جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔پہلی بار آگ بجھانے کے لیے فورا سے پہلے ہیلی بھیجے گئے۔اگلا ایوارڈ شبیر کے نام سے ہوگا اور بیٹ رپورٹرز کی طرف سے نام ملنے کی منتظر ہوں۔وزیراعظم نے گلوبل وارمنگ اور ہیٹ ویو پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ہیٹ ویو پر ہائی لیول انٹر ڈیپارٹمنٹل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے آفیسرز شامل ہیں۔

    رپورٹ. محمد اویس،اسلام آباد

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

  • لاہور کے لوگ بہت مہمان نواز اور شاندار روایات کے حامل ہیں، بھارتی صحافی

    لاہور کے لوگ بہت مہمان نواز اور شاندار روایات کے حامل ہیں، بھارتی صحافی

    بھارتی صحافیوں کے وفد نے لاہورپریس کلب کا دورہ کیا ہے۔

    سابق صدر چندی گڑھ پریس کلب اورسیکرٹری جنرل انڈین جرنلسٹ یونین بلوندرسنگھ جموں کی قیادت میں بھارتی وفد میں دمدما صاحب کے سابق جتھے دار گیانی کیول سنگھ ، کنوری سنگ صباکے پردھان پروفیسر شام سنگھ ، ، پروفیسر راج وندر راہی ، میجر سنگھ ، پروفیسر سکھ جندر کور ، ڈاکٹر گرچرن سنگھ ،پنجاب یونیورسٹی انڈیا کے سابق رجسٹرار پرم جیت سنگھ، جگیر سنگھ ، بسنت کور ، ہرجیت کور، رنجیت سنگھ تالیوال اوردیگر شامل تھے ۔

    لاہورپریس کلب کے نائب صدر امجدعثمانی ، ممبرگورننگ باڈی عمران شیخ اور محسن بلال نے معززمہمانوں کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ معززمہمانوں کو کلب میں موجود سہولیات بارے آگاہی دی گئی اور انھیں کلب کے مختلف شعبوںکا دورہ کرایاگیا ۔ معزز مہمانوں نے کلب میں موجود سہولیات کو سراہتے ہوئے کہاکہ انھیں لاہور پریس کلب آکر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، لاہور کے لوگ بہت مہمان نواز اور شاندار روایات کے حامل ہیں ، ہم نے لاہور کے بارے میں جوسناتھا اس سے بڑھ کر اسے پایا ہے۔

    یہ لوگ ملک دشمن ، کہتے ہیں کہ ہم نہیں تو پاکستان بھی نہیں،عطا تارڑ

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی ،پیمرا کا نوٹفکیشن معطل

    عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی ،پیمرا کا نوٹفکیشن معطل

    سندھ ہائیکورٹ ،عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کورٹ رپورٹرز کو روزہ مرہ کی عدالتی رپورٹنگ کی اجازت دے دی ،سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کے 21 مئی کے نوٹیفکیشن کی پابندی سے متعلق شقوں پر عملدرآمد روک دیا ،عدالت نے پیمرا ،وزارت اطلاعات و دیگر کو نوٹس جاری کرتے 6 جون تک جواب طلب کر لیا

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیمراچینلزکواس قسم کی ہدایات جاری کرنے کا مجاز نہیں،پابندی کی آڑ میں پیمرا نے عدلیہ پر قدغن لگانے کی کوشش کی،کورٹ رپورٹرز کوبھی عدالتی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت ہے کہ بعض آبزرویشن نشرہونےسےعدلیہ کا غلط تاثر چلا جاتا ہے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کردی

    سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پیمرا ،وزارت انفارمیشن براڈ کاسٹ و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کے مطابق پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر 21 مئی 2024 کو پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ، پیمرا قواعد عدالتی لائیو رپورٹنگ کی اجازت دیتا ہے ، عدالتی رپورٹنگ پر پابندی عائد کرنے سے قبل اتھارٹی کی میٹنگ تک نہیں طلب کی گئی، پیمرا قوانین کے تحت پابندی سے قبل کورٹ رپورٹرز کا موقف نہیں سنا گیا ہے ، کورٹ رپورٹنگ پر پابندی آئین کے آرٹیکل 8,9,10،18,19 اور 25 کی خلاف ورزی ہے

    دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے،پی ایف یو جے کی جانب سے وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا 21 مئی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، پیمرا کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف کوئی بھی نوٹیفکیشن یا حکم دینے سے روکا جائے، 21 مئی 2024ء کو پیمرا کی جانب سے 2 نوٹیفکیشنز کا اجراء ہوا، ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی رپورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، صرف عدالتی تحریری حکم ناموں کو ہی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • صحافی نصراللہ گڈانی قتل میں ملوث تین مشتبہ ملزم گرفتار

    صحافی نصراللہ گڈانی قتل میں ملوث تین مشتبہ ملزم گرفتار

    سندھ کے علاقے گھوٹکی میں فائرنگ سے شہید ہونے والے صحافی نصر اللہ گڈانی کے قتل میں ملوث 3 مشتبہ ملزمان کو پولیس نےگرفتار کیا ہے

    پولیس نے ٹارگٹڈ کاروائی کی ہے، کاروائی کمال لونڈ میں کی گئی، اس دوران پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا جن سے صحافی نصر اللہ گڈانی کے قتل بارے تحقیقات کیا جائے گی،دوسری جانب صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کے خلاف کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں،ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف کراچی ٹھٹہ، لاڑکانہ، تھرپارکر، ٹنڈوالہ یار، پڈعیدن، نوشہرو فیروز اور میہڑ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا،مظاہروں میں صحافی برادری، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور صحافی نصراللّٰہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔شہید صحافی نصراللہ گڈانی کی ماں کا کہناہےکہ میرے بیٹے کو صحافی برداری نے انصاف دلوانے میں ساتھ دیا تو ٹھیک ورنہ میں اکیلی بھی ظالموں سے لڑوں گی

    جے ڈی سی کے ظفر عباس کی جانب سے نصرا للہ گڈانی کے اہلخانہ کیلے امداد کا اعلان
    دوسری جانب میرپور ماتھیلو کے شہید صحافی نصر اللہ گڈانی کے اہلخانہ کی مالی امداد کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ جے ڈی سی کے ظفر عباس نے پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین علی شیخانی کے تعاون سے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ سینئر صحافیوں کی درخواست پر کیا گیا ہے،ظفر عباس جلد ہی اس مالی مدد کو شہید کے خاندان تک پہنچائیں گے

    صحافی نصرا للہ گڈانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ“ میرا سافٹ ویئر کوئی اپڈیٹ نہیں کر سکتا ہاں البتہ میرا ہارڈویئر ختم کردیں پھر الگ بات ہے جب تک زندہ ہوں مظلوم قوم کے لئے بولتا رہوں گا.” یہ ویڈیو نصراللہ گڈانی کے قتل سے دو روز قبل کی ہے

    صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا ،شرجیل میمن کا اظہار تعزیت

    نصراللہ گڈانی گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو کے رہائشی ہیں، وہ سندھی روزنامہ عوامی آواز سے منسلک ہیں،نصراللہ گڈانی کو 21 مئی کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے نشانہ بنایا تھا، نصر اللہ گڈانی کو سندھ حکومت کی ایئر ایمبولینس پر علاج کے لئے کراچی منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے.

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے،احمد خان بھچر کا دورہ لاہور پریس کلب

    ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے،احمد خان بھچر کا دورہ لاہور پریس کلب

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے لاہور پریس کلب کا درہ کیا۔دورہ میں ارکان پنجاب اسمبلی امتیاز وڑائچ ، شیخ امتیاز اور قانونی ماہر ابوذر سلمان نیازی بھی موجود تھے ۔

    لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر شیراز حسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، ممبر گورننگ باڈی راناشہزاد، عابد حسین اور سید بدر سعید نے معزز مہمانوں کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ اپو زیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت بل مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہے جو ذہنوں کو صلب کرنے کے لیے بل پیش کیا گیا،ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے جو یہ مسلط کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں ہمارے ارکان بھی شامل کیے گئے لیکن جب بل کمیٹی میں گیا تو ہمارے ارکان کو نہیں بلایا گیا،کمیٹی نے بل میں کوئی ترمیم نہیں کی۔ انھوں نے کہاکہ یہ بل بنیادی قوانین کے آرٹیکل 12سے متصادم ہے۔  مسلط کیے گئے لوگوں کی طرف سے بل آیا ہے، ہر فورم پر اس بل کی مخالف کریں گے اس پر احتجاج کریں گے،یہ بل صرف پنجاب کا نہیں پورے پاکستان کے لیے ہے،اس بل کو پڑھیں گے تو سمجھ آئے گی اس بل میں خامیاں ہی خامیاں ہیں،اس بل میں خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں قانون شہادت نہیں ہے ،آمریت چل رہی ہے 90 سے لے کر یہ اب تک پولیس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہیں، اس کو ہم ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔  پی پی پی کو کہوں گا آپ وکٹ کے دونوں طرف مت کھیلیں،وفاق میں بھی آپ انکے ساتھ ہیں پنجاب میں آپکا گورنر ہے،بجٹ آرہا ہے آپ اس بل کے خلاف انکا ساتھ مت دیں تب ہم سمجھیں گے پی پی پی اس بل کے خلاف ہے ورنہ یہ ہے کہ پی پی پی دونوں طرف کھیل رہی ہے، اتنا ان کو مت ڈھانپیں کہ خود ننگے ہوجائیں  کابینہ ایک ایسے نام سے ڈر رہی ہے ،یہ ہتک عزت بل کی دوسری قسط ہے ،عمران خان پر پہلے دو سو مقدمات ہیں ،ہم آئی جی کے دفتر کے باہر بھی احتجاج کریں گے،پنجاب کابینہ کی اتنی اخلاقی حیثیت نہیں ،ہماری قانونی ٹیم اس کو دیکھ رہی ہے، ہمارے سنٹرل سیکرٹریٹ پر حملہ کیا گیا ،رو ف حسن پر حملہ آور ہوئے جب ہم خسروں تک پہنچ گئے ہیں تو سوچ لیں ،دنیا میں ہمارا تماشہ بن رہا ہے ،یو این او کے مشن کی موجودگی میں پولیس ہم پرحملہ آور ہوئی ،ٹک ٹاکر فارم سنتالیس کی حکومت کے چہرے سامنے آئے ہیں۔

    جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو صحافیوں کے گلے پکڑلیتے ہیں،ارشد انصاری
    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے ہتک عزت بل 2024 کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز سے ہماری ملاقات ہوئی ،اپوزیشن کے اعتراضات اورمخالفت کے باوجود یہ بل پاس کیاگیا، حکومت سے ہمارے طویل مذاکرات ہوئے تھے ، ہم نے تجویز دی تھی کہ دوبارہ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجاجائے لیکن حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ، رات کی تاریکی میں کالاقانون پاس کیاگیا، ہم اپوزیشن کے مرکزی قائدین سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور حکومتی کوریج کے بائیکاٹ کی بھی تجویز بھی زیرغور ہے، ہم پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بائیکاٹ کریں گے ، صحافت کے کچھ قواعد ہیں جس کی پاسداری ہم سب پر لازم ہے ، ہمارا مطالبہ تھاکہ سب سے ان پٹ لیاجائے ، جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو صحافیوں کے گلے پکڑلیتے ہیں اور جب اپوزیشن میں آتے ہیں تو آزادی صحافت کے چیمپیئن بن جاتے ہیں، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں اس بل کی مخالف ہیں۔پروگرام کے اختتام پر معزز مہمان کو کلب کی جانب سے پھول پیش کئے گئے۔

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی اسپتال میں  دم توڑ گیا ،شرجیل میمن کا اظہار تعزیت

    صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا ،شرجیل میمن کا اظہار تعزیت

    تنگوانی باغی ٹی وی (نامہ نگار منصور بلوچ )گھوٹکی کا بہادر صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا

    گھوٹکی کے بہادر اور نڈر صحافی نصر اللہ گڈانی کو رپورٹنگ کے دوران نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا ،زخمی صحافی کو فوری طور علاج کے لیے رحیم یار خان اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا ،مزید علاج کے لیے رحیم یار خان سے کراچی اسپتال کے اغا خان ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا،شہید نصراللہ گڈانی آج کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صحافی نصر اللہ گڈانی کے انتقال پر اظہار تعزیت کی ہے اور کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت سندھ صحافی نصر اللہ گڈانی کے لواحقین اور صحافی برادری کے ساتھ ہے، حکومت سندھ مرحوم صحافی نصر اللہ گڈانی کے لواحقین کی ہر ممکن امداد کرے گی،اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین،

    واضح رہے کہ صحافی نصراللہ گڈانی کو علاج کے لئے سندھ حکومت کی ایئر ایمبولینس پر آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، اس ضمن میں حکومت سندھ نے زخمی صحافی نصر اللہ گڈانی کے علاج کے لئے آغا خان ہسپتال کو مراسلہ لکھا تھا ،مراسلے میں کہا گیا کہ حکومت سندھ زخمی صحافی کے تمام اخراجات برداشت کرے گی،زخمی صحافی کا علاج کے تمام بلز حکومت سندھ کو ارسال کئے جائیں،

    نصراللہ گڈانی گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو کے رہائشی ہیں، وہ سندھی روزنامہ عوامی آواز سے منسلک ہیں،نصراللہ گڈانی کو 21 مئی کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے نشانہ بنایا،

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    پنجاب حکومت کی جانب سے ہتک عزت قانون، پیکاایکٹ اور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج جاری ہے

    احتجاج کی کال پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے دی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا،اس موقع پر صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے خلاف ڈکٹیٹروں کے قوانین کے خلاف بھی جدوجہد کی، موجودہ حکمرانوں کو بھی کالےقانون کو واپس لینا پڑے گا۔

    کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر صحافیوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے کراچی پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا،کراچی کے صحافیوں نے پیکا قوانین اور پنجاب حکومت کے ہتک عزت قانون میں ترامیم فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کوئٹہ پریس کلب کی بندش کو آزادی صحافت پر قدغن قرار دیا،بہاولپور پریس کلب پر صحافیوں نے بھی احتجاج کرتے ہوئے ہتک عزت بل واپس لینے اور کوئٹہ پریس کلب کھولنے کا مطالبہ کیا۔

    آزادی اظہار رائے ہماراحق ،ملک گیر تحریک چلائیں گے، ارشد انصاری
    لاہورپریس کلب میں ہتک عزت بل 2024 اور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس ، ایپنک ،پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی ، فوٹوجرنلسٹس ایسوسی ایشن سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر لاہورپریس کلب میں احتجاجاسیاہ پرچم لہرائے گئے اور صحافیوں نے بازﺅوں پرکالی پٹیاں باندھی۔لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کے لئے ہرطرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ، حکومت کی جانب سے ہتک عزت بل 2024 کو تمام صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود پاس کرالیاگیااور کوئٹہ پریس کلب کو تالہ لگاکر تمام صحافتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کردی گئیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ،حکومت کا اس طرح کارویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، آزادی اظہار رائے ہماراحق ہے اور اس کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور بہت جلد ملک بھر کے صحافی صحافتی تنظیموں کے ساتھ ملکر ملک گیر تحریک چلائیں گے ۔ احتجاجی مظاہرے سے لاہورپریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار، فنانس سیکرٹری سالک نواز،ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد ، عابد حسین ،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر زاہد رفیق بھٹی ، ایپنک کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نواز طاہر، پی یوجے کے جنرل سیکرٹری حسنین ترمذی، پریس گیلری کمیٹی کے سیکرٹری خواجہ حسان ، سینئرصحافی شفیق اعوان ، نعمان یاور، قمرالزمان بھٹی ، رفیق خان ،خواجہ نصیر ،صلا ح الدین بٹ ، حامد نواز، فرازفاروقی ،مجتبی باوجوہ، عمرشریف ، امریز خان ، پرویز الطاف ،منصوربخاری،ذوالفقارچوہدری، یوسف رضا عباسی، عبدالقیوم زاہد، غلام مرتضی باجوہ ، اویس قرنی ، قاسم رضا، جمال احمد، نعیم عباس، عمران علی، مقصود خالد، طارق شاہد ستی،طارق سعید، عدنان شیخ ، عمر فاروق، نصراللہ ملک،راحیل سید،ندیم احمد، تنویر احمد، محمد اکمل، طارق سعید، گل نواز، لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہتک عزت بل 2024 کو کالاقانون قراردیااور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کامطالبہ کیا۔

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    ہتک عزت بل 2024 :ہتک عزت بل 2024کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا، ذاتی زندگی،عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی، ہتک عزت کےکیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

    ہتک عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے، خواتین اور خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت کے لیے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی-

    ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے،عظمیٰ بخاری
    واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہتک عزت کے قانون میں جج تاریخ نہیں دیگا بلکہ جس پر الزام لگاہوگا اسے 21 روز میں خود ہی 3 تاریخیں دینے کیلئے کہا جائیگا جس میں جواب جمع کروانا ہوگا۔ الزام ثابت ہونے پر نہ پولیس کے پاس جانا ہوگا نہ ہی گرفتاری ہوگی بلکہ 30 لاکھ کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ہتک عزت کالا قانون ہے، بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،اسمبلی میں ہتک عزت کا نیا قانون لایاجارہا ہے،یہ ایک صوبے کا قانون ہے، میں چاہتی ہوں کوئی بھی وزیراعلیٰ آئے اس کی توہین جھوٹی خبر بناکرنہیں ہونی چاہیے، لوگ صحافی نہیں اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ ایک ایجنڈے کے تحت صبح اٹھتے ہیں،اب ایسا نہیں ہوگا، میری بہن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا،عزت اس وقت ہی ہوگی جب کرائیں گے ،ون سائیڈ عزت نہیں ہوگی، یہ اچھا ہوا کہ پہلا کیس میں خود لے کر جاؤں گی، نیا قانون سیاسی مقاصد کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہتے,180 دن میں ہتک عزت کے کیس کو مکمل کرنا ہوگا، ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ہتک عزت کا الزام ثابت ہونے پر 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، ملزم کی گرفتاری نہیں ہوگی لیکن اس کو ہرجانہ دینا ہوگا،اگر کسی کو لگے کہ اس کی ہتک 30 لاکھ سے زیادہ ہوئی یا اس کی ہتک کی نوعیت زیادہ تھی تو پھر اسے اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس پر تنقید کی جارہی ہے کہ صحافیوں کو عدالت میں زیر سماعت کیسز پر بولنے کی اجازت نہیں تو عدالتی معاملات کے حوالے سے بولنے کی اجازت پوری دنیا میں ہی نہیں ہوتی

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے ، لطیف کھوسہ

    میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے ، لطیف کھوسہ

    کراچی: پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے صحافیوں کے کیسز مفت میں لڑنے کا اعلان کیا ہے-

    انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سردار لطیف کھوسہ کہا کہ میڈیا پاکستان کی ریاست کا چوتھا ستون ہے، 2023ء ہیومن رائٹس رپورٹ میں میڈیا پر تشدد کا ذکر کیا ہےہم میڈیا کے لوگوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں، میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے پہلے تحریکیں حکومت بنانے یا گرانے کےلیے چلتی تھی لیکن ہم آئین کے نفاذ کے لیے نکلیں گے، ہم نے جماعت اسلامی، پاکستان عوامی تحریک، پیر پگارا اور دیگر سیاسی جماعتوں سے استدعا کی ہے، فضل الرحمان کو بھی مینڈیٹ چوروں کے خلاف تحریک میں ساتھ لے کر نکلیں گے، کراچی جلسے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، آئین کی بالادستی پر ہی پاکستان کی ترقی ہے، پاس داری صرف آئین کی ہوگی۔

    بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس افسران کی تعیناتی کا …

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور خاص طور پر
    بجلی کا بل تباہ کن ہے، بجٹ آرہا ہے اس میں تنخواہیں پوری کرنا بھی ان لوگوں کے بس کی بات نہیں، اس حکومت کی کوئی سن رہا ہے نہ ان کی طرف دیکھ رہا ہے آئندہ آنے والا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، غریب کا خیال کریں،جو کچھ غریب عوام کے ساتھ ہورہا ہے وہ بہت زیادتی ہے، گریڈ17 تک کے ملازمین کی تنخواہ دگنی کی جائے ورنہ یہ لاوا پھٹے گا، حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ زندگی گزارنا لوگوں کے بس میں نہیں۔

    صدر مملکت نجی دورے پر بیرون ملک روانہ،چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر

  • لاہور پریس کلب نے  پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024  مسترد کر دیا

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    لاہور پریس کلب کے صدرارشد انصاری،سینئر نائب صدر شیراز حسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، سیکرٹری زاہد عابد ، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار ، فنانس سیکرٹری سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے پنجاب حکومت کے مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 کو مسترد کر دیا ہے۔

    لاہور پریس کلب کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہم سچ کہنے، سچ دکھانے اور سچ چھاپنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن صحافیوں کی آنکھیں اور زبانیں بند کرنے کے لئے پنجاب حکومت آمرانہ ڈگر پر چل پڑی ہے۔ ہتک عزت قانون 2024کی برق رفتاری سے منظوری کرانے اور لاگو کرنے کی کوشش پنجاب حکومت کو مہنگی پڑے گی کیونکہ ان سے پہلے پرویز الٰہی کے ماضی قریب کے مختصر سے دور اور اس سے قبل بھرپور آمرانہ ادوار میں بھی آزادی صحافت پر ایسا شب خون مارنے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی تھی جو صحافیوں نے اپنے اتحاد سے ناکام بنائی تھی ۔

    اراکین گورننگ باڈی کا کہنا ہے کہ صحافت اور صحافیوں کا گلہ دبانے کی بجائے حکومت گورننس پر توجہ دے تو اضافی درآمدی گندم میں اربوں کے گھپلوں اور پھر کسانوں سے گندم نہ خرید سکنے کی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گورننگ باڈی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اب ہر وقت ہائیکورٹ ،ٹربیونل،جرمانے،گرفتاریوں کا خوف ڈال کر صحافیوں کی زبان بندی کی کوشش کی گئی ہے اور افسوس ہے کہ مختلف ادوار میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی مسلم لیگ ن یہ بوجھ اپنے کندھے پر اٹھانے کو تیار ہے بظاہر اس نئے قانون کے تحت ڈان لیکس جاری کرنے والوں اور ڈان لیکس چھپوانے والوں کو بھی بچنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ آزادی صحافت کی بات کرنے والی پنجاب حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی بھی اس کے خلاف آواز اٹھائے گی ۔

    گورننگ باڈی مطالبہ کرتی ہے کہ آزاد صحافت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اس سے رہنمائی لینے کا کام لیا جائے تو اس سے اصلاح ہو گی اور کوئی بھی قانون سازی تمام فریقین کی مشاورت سے کی جائے تو مثبت اور دیرپا نتائج حاصل ہوں گے لیکن صرف دو روز میں کمیٹی اور اسمبلی سے منظور ہونے والے کسی قانون کو صحافی برادری کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی اور ماضی کی روایات کے مطابق اس بل کو ردی کی ٹوکری میں پھینکے گی۔

    پنجاب حکومت جوش کی بجائے ہوش سے کام لے،ارشد انصاری
    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت جوش کی بجائے ہوش سے کام لے اور اس کام کو عجلت میں رات کی تاریکی میں کرنے کی کوشش نہ کرے۔لاہور پریس کلب اس سلسلے میں تمام صحافی تنظیموں، سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی سے رابطے میں ہے جلد ہی اس مجوزہ کالے قانون کے خلاف حکمت عملی طے کر لی جائے گی اور تمام صحافی تنظیموں کو لاہور پریس کلب کے متفقہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور حالات کی ذمے داری حکومت پنجاب پر ہو گی۔اس لئے اب بھی وقت ہے کہ دھونس اور جبر کی بجائے جمہوری انداز سے معاملات آگے بڑھائے جائیں تاکہ سسٹم کا پہیہ چلتا رہے۔

    ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے،عظمیٰ بخاری
    واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہتک عزت کے قانون میں جج تاریخ نہیں دیگا بلکہ جس پر الزام لگاہوگا اسے 21 روز میں خود ہی 3 تاریخیں دینے کیلئے کہا جائیگا جس میں جواب جمع کروانا ہوگا۔ الزام ثابت ہونے پر نہ پولیس کے پاس جانا ہوگا نہ ہی گرفتاری ہوگی بلکہ 30 لاکھ کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ہتک عزت کالا قانون ہے، بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،اسمبلی میں ہتک عزت کا نیا قانون لایاجارہا ہے،یہ ایک صوبے کا قانون ہے، میں چاہتی ہوں کوئی بھی وزیراعلیٰ آئے اس کی توہین جھوٹی خبر بناکرنہیں ہونی چاہیے، لوگ صحافی نہیں اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ ایک ایجنڈے کے تحت صبح اٹھتے ہیں،اب ایسا نہیں ہوگا، میری بہن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا،عزت اس وقت ہی ہوگی جب کرائیں گے ،ون سائیڈ عزت نہیں ہوگی، یہ اچھا ہوا کہ پہلا کیس میں خود لے کر جاؤں گی، نیا قانون سیاسی مقاصد کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہتے,180 دن میں ہتک عزت کے کیس کو مکمل کرنا ہوگا، ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ہتک عزت کا الزام ثابت ہونے پر 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، ملزم کی گرفتاری نہیں ہوگی لیکن اس کو ہرجانہ دینا ہوگا،اگر کسی کو لگے کہ اس کی ہتک 30 لاکھ سے زیادہ ہوئی یا اس کی ہتک کی نوعیت زیادہ تھی تو پھر اسے اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس پر تنقید کی جارہی ہے کہ صحافیوں کو عدالت میں زیر سماعت کیسز پر بولنے کی اجازت نہیں تو عدالتی معاملات کے حوالے سے بولنے کی اجازت پوری دنیا میں ہی نہیں ہوتی، ہتک عزت قانون کی کسی شق پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو اتوار تک تحریری جواب داخل کریں، اس پر ہم گفتگو کریں گے، یہ وزیر اعلی کی ہدایت ہے، لیکن مزے کیلئے کسی کی تضحیک کرنا غلط ہے

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • صدر پریس کلب خضدار  کی بم دھماکے میں موت پر مذمتی قرارداد قومی اسمبلی میں جمع

    صدر پریس کلب خضدار کی بم دھماکے میں موت پر مذمتی قرارداد قومی اسمبلی میں جمع

    صدر پریس کلب خضدار مولانا صدیق مینگل کی شہادت پر مذمتی قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے

    قرار داد جےیوآئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے قومی اسمبلی میں جمع کروائی ، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 3 مئی کو جےیوآئی کے صوبائی نائب امیر اور خضدار پریس کلب کے صدر مولانا صدیق مینگل کو شہید کیا گیا۔ مولانا صدیق مینگل جمعہ کی نماز پڑھانے جارہے تھے۔اس سانحہ کے دوران دو راہگیر بھی شہید ہوئے۔ یہ واقعہ اس دن پیش آیا جس دن پوری دنیاء میں آذادی یوم صحافت پیش آیا۔ مولانا صدیق مینگل انتہائی شریف آدمی تھے، اور بے ضرر انسان تھے ۔بلوچستان میں ایک بار پھر جےیوآئی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح دیکھا جاسکتا ہےکہ ملزم کس دیدہ دلیری کے ساتھ حملہ کرکے فرار ہوگیا۔ قرارداد میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا

    دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) خضدارکے ضلعی ترجمان نے کہا کہ خضدار میں بدامنی کے واقعات روزکا معمول بن چکے ہیں، شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی صحافی، سیاسی تاجربرادری، ہندو اقلیتی رہنما ودیگرمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی پر عوام سخت تشویش میں مبتلا ہیں، گزشتہ چند مہینوں سے شہر کی امن وامان کے خلاف پے درپے واقعات نے عوام کو نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے ۔ تاجر، صحافی، سیاسی اوراقلیتی رہنما خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں ۔ خضدار چمروک پر دن دیہاڑے خضدار پریس کلب کے صدر وجے یوآئی کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد صدیق مینگل کے گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بناکر دو راہ گیروں سمیت 3افراد کو جاں بحق کرنا المیے سے کم نہیں، مگر تاحال ملوث قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، اورشہر میں عوام عدم تحفظ کا شکار ہے عوام کی جان ومال عزت ونفس محفوظ نہیں ہے ۔ سینئر صحافی مولانا محمد صدیق مینگل کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف 9 مئی بروز جمعرات کے پہیہ جام ہڑتال کے کال کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔

    واضح رہے کہ آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں ایک اور صحافی شہید ہو گیا،خضدار پریس کلب کے صدر بم دھماکے میں شہید ہو گئے ہیں،چمروک کے مقام پر صدیق مینگل کی گاڑی کو دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر شہید جبکہ مزید 9 افراد زخمی ہوئے

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم