Baaghi TV

Tag: صحافی

  • رائیٹرز کا  ویڈیو گرافر اسام عبداللہ  اسرائیلی گولہ باری میں کیسے آیا؟

    رائیٹرز کا ویڈیو گرافر اسام عبداللہ اسرائیلی گولہ باری میں کیسے آیا؟

    اے ایف پی کے ایک زخمی نامہ نگار کے مطابق مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیلی سرحد کے قریب کام کر رہا تھا جب ان پر گولہ باری ہوئی ہے جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو جنوبی لبنان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے رائیٹرز کا ایک صحافی جان سے مارا گیا اور اے ایف پی، رائیٹرز اور الجزیرہ کے چھ دیگر صحافی بھی زخمی ہو گئے ہیں۔

    اے ایف پی کے دو زخمی نامہ نگاروں میں سے ایک نے بتایا ہے کہ مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیل کی سرحد کے قریب علما الشعب کے مقام پر وموجود تھا جب وہ گولہ باری میں پھنس گئے تاہم لبنان کے ایک سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایک فلسطینی گروپ کی جانب سے سرحد کے لبنانی حصے سے دراندازی کی کوشش کے بعد اسرائیل نے گولہ باری کی تھی۔

    خبر رساں ادارے رائیٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہمارے ویڈیو گرافر اسام عبداللہ جان سے گئے ہیں، رائیٹرز کے مطابق اسام جنوبی لبنان میں رائیٹرز کے عملے کا حصہ تھے تاہم رائیٹرز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ طاہر السوڈانی اور مہر نازیہ بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے اور اے ایف پی کی فوٹوگرافر کرسٹینا آسی اپنے ساتھی ویڈیو جرنلسٹ ڈیلن کولنز کے ساتھ اسی علاقے میں کام کر رہی تھیں۔ دونوں کو علاج کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غزہ میں اقوام متحدہ کے 11 ملازمین سمیت اسکولوں کے 30 طالب علم ہلاک

    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    علاوہ ازیں الجزیرہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے دو صحافی بھی شامل ہیں۔ ادارے نے اپنی گاڑی پر اسرائیلی بمباری کا الزام عائد کیا ہے تاہم واضح رہے کہ اے ایف پی کے گلوبل نیوز ڈائریکٹر فل چیٹوائنڈ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کا ایک گروپ، جن کی واضح طور پر شناخت کی گئی تھی، کام کرتے ہوئے جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔

  • نامور بھارتی صحافی،راہول کنول

    نامور بھارتی صحافی،راہول کنول

    راہول کنول نامور بھارتی صحافی

    راہول کنول ایک بھارتی ٹی وی صحافی اور انڈیا ٹوڈے میں نیوز ڈائریکٹر ہیں راہول 14 ستمبر 1980 کو مہاراشٹر کے دیولالی میں پیدا ہوئےراہول ہفتے کے دنوں میں پرائم ٹائم شو نیوز ٹریک اور انڈیا ٹوڈے ٹی وی پر انٹرویو پر مبنی شو جب وی میٹ کی میزبانی کرتے ہیں۔ وہ ایکسچینج 4 میڈیا نیوز براڈکاسٹنگ ایوارڈز، انڈین ٹیلی ویژن اکیڈمی ایوارڈز اور نیوز ٹیلی ویژن ایوارڈز کے فاتح ہیں۔

    راہول نے دہلی یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کی، وہ شیوننگ اسکالر ہیں اور کارڈف یونیورسٹی سے انٹرنیشنل براڈکاسٹ جرنلزم میں ایک پروگرام کیا ہے۔ اس نے ہوسٹائل انوائرمنٹ جرنلزم کے کورس کے لیے روری پیک ٹرسٹ گرانٹ بھی حاصل کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1999 میں بطور اینکر-کم-رپورٹر زی نیوز کے ساتھ کیا اور بعد میں 2002 میں آج تک میں شمولیت اختیار کی۔

    انہوں نے آج تک میں ایڈیٹر ایٹ لارج اور ٹی وی ٹوڈے گروپ میں ہیڈ لائنز ٹوڈے کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ راہول حال ہی میں ہندوستان کے مرکزی وزیر پیوش گوئل کے ساتھ ایک انٹرویو کے لئے خبروں میں تھے جہاں انہوں نے وزیر سے بالاکوٹ حملوں پر سوال کیا۔ ان پر اپنے ٹی وی شو میں سی آر پی ایف اور نکسل باغیوں کے درمیان جھڑپ کی نقل کرنے پر تنقید کی گئی۔

  • سوات سے صحافی گرفتار،نگران وزیر اطلاعات کا نوٹس

    سوات سے صحافی گرفتار،نگران وزیر اطلاعات کا نوٹس

    خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات سے صحافی فیاض ظفر کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے

    صحافی فیاض ظفر کی گرفتاری پر صحافی برادری نے احتجاج کیا تو نگران وزیراطلاعات مرتضی سولنگی نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، فیاض ظفر کو ایک دن قبل سوات سے گرفتار کیا گیا، انہیں سوات کی مقامی پولیس نے ایم پی او کے تحت گرفتار کیا ہے،جس کے بعد انہیں سوات جیل منتقل کر دیا گیا،

    صحافی فیاض ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بد نام زمانہ ٹارگٹ کلر شفیع اللہ گنڈا پور اور نا اہل رشوت خور ڈپٹی کمشنر نے مجھے دفتر سے گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، فیاض ظفر سنئیر صحافی، وائس آف امریکہ ( ڈیوہ ریڈیو) اور روزنامہ مشرق سوات کے بیور چیف ہیں

    فیاض ظفر سوات کے عوام کی آواز ہے،سینیٹر مشتاق احمد
    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ سوات کے سب سے سینئر منجھے ہوئے نمایاں جرنلسٹ فیاض ظفر کی نوآبادیاتی قانون 3MPO کے تحت گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ فیاض ظفر سوات کے عوام کی آواز ہے، امن کی آواز ہے، دہشتگردی کے خلاف سوات یونیورسٹی میں طالبات کی ہراسانی کے خلاف انظامیہ کی کرپشن کے خلاف ماضی قریب میں انہوں نے طاقتور انداز سے آواز اٹھائی ہے، ان کو بولنے کی ،آواز اٹھانے کی سزا دی جارہی ہے، یہ بدترین فسطایت ہے، شدید ترین سنسرشپ ہے، فیاض ظفر فالج اور اعصابی امراض سے متاثرہ ہیں،اور ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔صحافیوں کو 3MPO کے تحت گرفتار کرنا صحافت کا گلہ گھونٹنا پریس اور میڈیا کو زنجیریں اور ہتھکڑیاں ڈالنا ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، حکومت فوری طور پر 3MPO واپس لے اور فیاض ظفر کو رہا کرے.

    آج ڈپٹی کمشنر صاحب کو ایک صحافی سے خطرہ پیدا ہوگیا،ایمل ولی خان
    عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین اظہاررائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے لیکن یہاں بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے افراد اپنے آپ کو آقا سمجھ کر بڑے غرور کے ساتھ آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہیں۔ فیاض ظفر سوات کا سپوت، ایک بہادر اور سچا صحافی ہیں جنہوں نے بیماری کے باوجود حق اور سچ بات کی۔ آج ڈپٹی کمشنر صاحب کو ایک صحافی سے خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ انکے پوسٹس سے سوات میں امن کے قیام کو بڑا خطرہ ہے۔ ڈی سی صاحب! جو دہشتگرد ایک ‘شادی میں شرکت’ کیلئے سوات آئے تھے، اصل خطرہ ان سے ہے۔ فیاض ظفر کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر تشدد کرنیوالے پولیس اہلکار اور انکے آقاؤں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    دوسری جانب نگران وزیراطلاعات مرتضی سولنگی نے سوات کے سینئر صحافی فیاض ظفر پرمبینہ تشدد اور حراست کا نوٹس لے لیا اور فیاض ظفر پر تشدد اور گرفتاری کی رپورٹ طلب کرلی،نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے متعلقہ حکام سے فیاض ظفر سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیق یقینی بنائی جائے اورتمام تفصیلات مہیا کی جائیں عہدے کی طاقت صحافیوں کی آواز دبانے کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے فیاض ظفر کے معاملے میں پیش رفت پر نظر رکھیں گے،فیاض ظفر سے متعلق تمام حقائق سامنے آنے پر میڈیا کو اگاہ کریں گے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری،صحافیوں کا احتجاج

    صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری،صحافیوں کا احتجاج

    سینیئر صحافی شہید جان محمد کے قتل کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا، کی ٹی این نیوز کی جانب سے احتجاج میں کراچی پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے،پی ایف یو جے، کی یو جے، کراچی یونین آف جرنلسٹ سمیت دیگر تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے،جی ایم جمالی، لالا اسد پٹھان، خالد کھوکھر، شعیب احمد سمیت دیگر شریک تھے،صحافیوں نے جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

    جان محمد مہر کو چند روز قبل انکے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا،کئی دن گزر گئے تا ہم پولیس ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی

    نگراں وزیر قانون عمر سومرو،نگراں وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد کی جان محمد مہر کی رہائش گاہ آمد ہوئی،نگراں وزرا عمر سومرو،ڈاکٹر سعد خالد نے جان محمد مہر کے ورثا سے تعزیت کی،نگراں وزیر عمر سومرو نے حکومت سندھ کی جانب سے ورثا کو ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا، اس موقع پر عمر سومرو کا کہنا تھا کہ کچے کے چاروں اضلاع میں ڈاکوئوں کے خاتمے رینجرز کی نگرانی میں وزیر اعلی سندھ کو آپریشن کرنے کی سفارش کروں گا،آپریشن کیلئے 90 روز کے اخراجات کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے گا،سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے فیصلے کی روشنی میں ڈاکوئوں کے خاتمے کیلئے آپریشن کیلئے لکھیں گے،نگراں حکومت کو ایسی کوئی مجبوریاں نہیں کہ ہم کچے میں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن نا کرسکیں،یہاں بتایا گیا ہے کہ جو بھی بڑا واقعہ ہوتا ہے جرائم پیشہ افراد کچے میں جاکر چھپ جاتے ہیں،یہاں سے کشمور تک کچے میں ڈاکوئوں کا جو کینسر پھیلا ہوا ہے اس کے صفایا ہونے کی ضرورت ہے،جان محمد مہرکا زخمی ہونے کے بعد اسپتالوں میں بروقت علاج نا ہونے پر غفلت برتنے پر انکوائری کریں گے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سپریم کورٹ: پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری ہوئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لے لیا ،اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، صحافی ہر وہ چیز معلوم کرسکتے ہیں جس میں پبلک انٹرسٹ ہو، میڈیا کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے،دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں، ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سچ کی تلاش کے حوالے سے قرآنی آیات اور مختلف احادیث کے حوالے دیئے گئے، انکا کہنا تھا کہ جج آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے سچ اور انصاف کا گہرا تعلق ہے،میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیئے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • ایلون مسک کاصحافیوں کے لئے بڑا اعلان

    ایلون مسک کاصحافیوں کے لئے بڑا اعلان

    ایکس اور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ایکس استعمال کرنے والے صحافیوں کیلئے بڑا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری کردہ ٹویٹ میں انہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی اور لکھاریوں سے متعلق بیان جاری کیا ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگر آپ صحافی ہیں جو لکھتے ہوئے آزادی چاہتا ہے اور زیادہ آمدنی کا خواہش مند ہے تو اس پلیٹ فارم پر اپنی لکھائی پبلش کرے۔


    ایلون مسک کی ٹویٹ پر پاکستانی جرنلسٹ نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ہم اور دنیا بھر میں ہزاروں ایسے لوگ ہوں گے جو آزادانہ طور پر بات نہیں کر سکتے، یہ پلیٹ فارم صحافیوں کی زندگیاں بدل دے گا۔

    ایک صارف نے لکھا کہ میں ایک صحافی ہوں اور آپ نے قتل اور عصمت دری سے متعلق جرائم کی خبریں شیئر کرنے پر میرے اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی۔ اسی لیے ویب سائٹس اب بھی جرائم کی اطلاع دینے کے لیے اچھی ہیں۔ آپ کو پہلے اس مسئلے کو ٹھیک کرنا چاہیے۔


    ایک ایکس کے صارف نے لکھا کہ ‘سوشل میڈیا کا مستقبل اتنا روشن کبھی نہیں رہا ہے،ایک صارف نے لکھا کہ آپ ایک نعمت ہیں، ایلون! آپ کا وژن بے مثال ہے-

    ایلون مسک نے ایکس (ٹوئیٹر) پر بلاک فیچر ختم کرنے کا کہہ دیا

    قبل ازیں سوشل میڈیا ایپ ایکس کے مالک ایلون مسک نے کہا ہے کہ اب کوئی کسی کو بلاک نہیں کر سکے گا کیونکہ ایکش نے اہم فیچر ختم کرنے کا عندیہ دے دیا جبکہ ایکس کے بانی ایلون مسک نے ایک صارف کی جانب سے پوسٹ کیے گئے سوال کے جس میں انہوں نے پوچھا کہ کیا کبھی کسی کو بلاک کرنے یا خاموش کرنے کی کوئی وجہ ہے؟ اپنی وجوہات بتائیں۔

    واضح رہے کہ صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے دیگر صارفین کے سامنے سوالات رکھے تھے جس پر جواب خود مالک ایلون مسک نے دے دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ بلاک کو فیچر کے طور پر ڈیلیٹ کیا جائے گا، سوائے براہ راست میسج کے علاوہ ازیں انہوں نے لکھا کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

    تاہم خیال رہے کہ بلاک فیچر صارفین کو اپنے مواد کو مکمل طور پر دیکھنے سے روکنے کی اجازت دیتا ہے اور اس آپسن کو کب ہٹایا جائے گا اب تک اس حوالے سے مسک نے کوئی تاریخ نہیں دی ہے کیونکہ یہ آپشن ابھی تک موجود ہے جبکہ ایک صارف کی جانب سے یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ بلاک آپشن کو ہٹانا ایپ اسٹور کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیا اسے ہٹایا جائے گا یا پھر اس کا متبادل تلاش کیا جائے گا-

  • جیکب آباد میں صحافی ہوٹل سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ

    جیکب آباد میں صحافی ہوٹل سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ

    جیکب آباد میں صحافی اسرار چانڈیو لاپتہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی : اہل خانہ کے مطابق صحافی اسرار چانڈیو، وہ 24 گھنٹے سے لاپتہ ہیں، اسرار چانڈیو رات گئے شہر کے پیلس ہوٹل سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوئے،پولیس کے مطابق صحافی کی گمشدگی کی شکایت موصول نہیں ہوئی، پولیس نے صحافی اسرار چانڈیو کو گرفتار نہیں کیا۔

    قبل ازیں صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کو قتل کردیا گیا تھا جان محمد مہر آفس سے گھر جارہے تھے کہ قاسم پارک کے قریب مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا جان محمد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے-

    بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    دریں اثنا سمیع ابراہیم کو 24 مئی کو اسلام آباد میں نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے تھے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے کچھ علم نہیں ہوا کہ انہیں کہاں رکھا گیا تھا، سمیع ابراہیم کو دفتر سے گھرجاتے ہوئے سیونتھ ایونیو سے گرفتار کیا گیا تھا،تاہم 30 مئی کو وہ گھر پہنچ گئے تھے-

    آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے

  • گھر میں گھس کر صحافی کو گولیاں مار دی گئیں

    گھر میں گھس کر صحافی کو گولیاں مار دی گئیں

    گھر میں گھس کر صحافی کو گولیاں مار دی گئیں

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ کے علاقے رانی گنج میں جمع کی صبح صحافی ومل کمار کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں، گولیان لگنے سے صحافی کی موقع پر ہی موت ہو گئی ، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، ومل کمار ایک ہندی اخبار میں کام کرتے تھے، ومل کمار کے بھائی کو بھی دو برس قبل قتل کیا گیا تھا اور وہ اس قتل کے اہم گواہ تھے، پولیس حکام کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے اور صحافی کے گھر کا دروازہ بجایا، جب دروازہ کھولا گیا تو وہ گھر کے اندر گئے اور دروازے سے اندر جاتے ہی صھافی پر گولیاں برسا دیں

    پولیس حکام کے مطابق اس قتل کا مقتول کے بھائی کے کیس کے ساتھ لنک ہو سکتا ہے تا ہم حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، ملزمان کی تعداد چار سے پانچ تھی، مقتول اہم کیس میں گواہ تھے، اسلئے شاید وہ نشانہ بن گئے تا کہ عدالت میں گواہی نہ دے سکیں، پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا ہے، ومل کمار شادی شدہ تھے، سوگواران میں انہوں نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہے، واقعہ کے بعد مقامی صحافیوں نے بھی احتجاج کیا ہے وہ ومل کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    کابل: بچیوں کے اسکول کھلوانے کیلئے سینیئر افغان صحافی اور سماجی کارکن محبوبہ سراج طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے دفتر پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے افغان طالبان کے محلات اور پالیسی پر پہلی خصوصی دستاویزی فلم جاری کیجس میں خواتین کے حقوق کی رہنما اور صحافی محبوبہ سراج نے بھی ملاقات کی، جنہوں نے ان سے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کی اپیل کی،دستاویزی فلم کی مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں محبوبہ سراج کو ذبیح اللہ سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہےمختصر کلپ دستاویزی فلم کا حصہ ہے-

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان سے ملاقات کے دوران محبوبہ سراج نے کہا کہ خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو، افغانستان ایک ایسی نسل کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اسکول ہی نہ گئی ہو طاقت سے اقتدار حاصل تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا، جب تک طالبان حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کرتی دنیا ان کے خلاف ہی رہے گی۔


    اس موقع پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے محبوبہ سراج کے تحفظات افغان حکومت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اگر اسکول کی لڑکیاں حکومت کے خلاف جائیں گی تو یہ معاشرے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے وہ صرف ترجمان ہیں، معاملے کو عمائدین تک پہنچادیں گے۔

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    واضح رہے کہ طالبان حکام نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا،طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم ، خواتین کے پارک، جم، یونیورسٹیوں میں جانے سمیت غیر سرکاری گروپوں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں ملازمتوں پر پابندیاں عائد ہیں-

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

  • 76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    حکومت کی جانب سے ہر سال مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور ملک کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دینے والی اہم شخصیات کو مختلف قومی اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جشن آزادی کی 76 ویں سالگرہ کے موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کو حکومت کی طرف سے ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز اور پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا جائے گا، جن میں 14 صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

    نجی خبررساں ادارے کے مطابق شعبہ صحافت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے 14 نامور صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازا جائے گا، جبکہ ایک صحافی نے مبینہ طور پر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا ہےایک صحافی کو ہلال امتیاز، ایک کو ستارہ امتیاز، دو کو صدر کی طرف سے پرائڈ آف پرفارمنس جب کہ 9 صحافیوں کو تمغہ امتیاز سے نوازا جائے گا۔

    شہری کا انوکھا انداز؛ زیر سمندر پاکستانی جھنڈا لہرا دیا

    رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں زاہد ملک کو وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ہلال امتیاز، واصف ناگی کو حکومت پنجاب کی جانب سے ستارہ امتیاز، غلام محمد عارف نجمی اور سہیل سرور وڑائچ کو حکومت پنجاب جبکہ سلمان غنی کو وزارت اطلاعات و نشریات کی تجویز پر صدر پاکستان کی طرف سے پرائڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ ، امجد عزیز ملک، فہد سلیم ملک، سید نقی حیدر نقوی، غریدہ فاروقی، شمع جونیجو، وقار ستی، فاروق عادل، فہد حسین اور سلیم بخاری کو تمغہ امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

    نادیہ حسین کا یوم آزادی پر خصوصی پیغام