Baaghi TV

Tag: صحافی

  • خیبر پختو نخوا میں مقامی صحافی کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ

    خیبر پختو نخوا میں مقامی صحافی کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ

    صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کو قتل کردیا گیا جبکہ خیبر پختو نخوا کے شہر ہنگو میں مقامی صحافی فاروق پراچہ کے گھر پر بھی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خیبر پختو نخوا کے شہر ہنگو میں مقامی صحافی فاروق پراچہ کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے پولیس کے مطابق فائرنگ سے صحافی کی کار اور گھر کے دروازے کو جزوی نقصان پہنچا ہے پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کو قتل کردیا گیا، جان محمد مہر آفس سے گھر جارہے تھے کہ قاسم پارک کے قریب مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا،صحافی جان محمد کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا

    سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سمیت دیگر نے واقعے کی مذمت کی اور پولیس سے 24 گھنٹے میں ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافی جان محمد مہر کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آئی جی سندھ کو صحافی جان محمد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی-

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے بھی صوبے کے سینئر صحافی جان محمد مہر پر قاتلانہ حملے میں شہادت پر اظہار افسوس کیا اورکہا کہ سندھ پولیس صحافی جان محمد مہر کے قتل کے ذمہ داروں کو فی الفور کیفرکردار تک پہنچائےان محمد مہر کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط صحافتی خدمات قابل قدر ہیں صحافی جان محمد مہرسکھر کی ایک توانا آواز تھے، ان کی غیرجانب دارانہ اور متوازن رائے ملک بھر کے سنجیدہ حلقوں میں مقبول تھی صحافی جان محمد مہر کے اندوہناک قتل پر جملہ لواحقین بشمول کے ٹی این عملے اور سکھر کی صحافی برادری سے بھی اظہار تعزیت کی-

    سرگودھا : بنیادی طبی مرکز صحت بچہ کلاں انجکشن لگنے سے حاملہ خاتون جاں بحق

  • پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    اسلام آباد : پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے 11 مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سیاستدان اور صحافی شامل ہیں،جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سید اکبر حسین، صابر شاکر، معید پیرزادہ، وجاہت سعید، عادل فاروق راجہ ،حیدر رضا مہدی ،شاہین صہبائی، پی ٹی آئی کے رہنما علی نواز اعوان، فرخ حبیب، مراد سعید اور حماد اظہر شامل ہیں۔


    پیمرا نے مذکورہ بالا 11افراد کو الیکٹرانک میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے،پیمرا نے ہدایت دی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر ایسے لوگوں کی کوریج کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے، ایسے افراد سے متعلق کسی بھی قسم کی خبر، بیانات نشر کرنے سے گریز کیا جائے کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

  • صحافیوں کی تنقید حقائق پر مبنی ہو تو بہت مدد ملتی ہے، وزیراعظم

    صحافیوں کی تنقید حقائق پر مبنی ہو تو بہت مدد ملتی ہے، وزیراعظم

    صحافیوں، میڈیاورکرز، فنکاوں اور ٹیکنیکل ریسورس کیلئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کے اجراء کی تقریب ہوئی

    وزیراعظم شہبازشریف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج صحافیوں اور فنکاروں کیلئے بڑا اہم دن ہے،صحافی بڑے کٹھن حالت اور چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہیں، مریم اورنگزیب اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، صحافت کے میدان میں یہ ایک انقلابی قدم ہے،مریم اورنگزیب نے بہت نیکی کا کام کیا ہے،اعظم نذیر تارڑ نے تمام قوانین کو ڈیجیٹلائزڈ کردیا ہے،اعظم نذیر تارڑ صاحب کی بھی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق صحافیوں کیلئے خصوصی فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دوران ڈیوٹی جاں بحق صحافیوں کے ورثا کیلئے اسپیشل فنڈ کا اعلان کرتا ہوں، جاں بحق صحافیوں کے ورثا کو 40 لاکھ روپے وزیراعظم فنڈ سے ملیں گے صحافیوں کی تنقید حقائق پر مبنی ہو تو بہت مدد ملتی ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ورکنگ جرنلسٹس کیلیے صحت کارڈ کا اجراء کیا جارہا ہے اس کیلیے مریم اورنگزیب صاحبہ انکے سیکرٹری اور انکی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔مریم اورنگزیب کیساتھ مشاورت کیساتھ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے جس کا میں انتہائی انکساری کیساتھ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ صحافی بھائی اور بہنیں جو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اسکے کیلیے ایک سپیشل فنڈ کے قیام کا اعلان کرتا ہوں ،مجھے اس ذمہ داری پر 16 ماہ ہوچکے ہیں اس دوران کسی صحافی یا کالم نویس نے ہمارے حق میں یا ہمارے خلاف کوئی سٹوری لکھی ہو تنقید کی ہو میں نے آج تک کسی سے گلہ تک نہیں کیا کیونکہ یہ آپکا فرض ہے۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • سوال پوچھنے پرچئیرمین پی ٹی آئی کے گارڈ نے صحافی پر حملہ کر دیا

    سوال پوچھنے پرچئیرمین پی ٹی آئی کے گارڈ نے صحافی پر حملہ کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے گارڈز نے سوال پوچھنے پر صحافی پر حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں عدالتی پیشی کے بعد واپس جاتے ہوئے نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی حیدر شیرازی نے ان سے سوال پوچھا تو عمران خان کے سکیورٹی گارڈز نے ان پر حملہ کردیا حیدر شیرازی نے ٹوئٹر پر واقعے کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے چئیرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا تھا کہ ایک سابق وزیراعظم کو قتل کے مقدمے میں پھانسی لگا دی تھی کیا آپ کو ریلیف ملے گی؟


    صحافی حیدر شیرازی کے مطابق سوال ختم ہی ہوا تھا کہ گارڈز نے انہیں دھکے دیتے ہوئے پیچھے ہٹا دیاحیدر شیرازی کے مطابق انہوں نے احتجاج کیا تو عمران خان بنا کوئی جواب دیئے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

    اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی …

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر حیدر شیرازی کے سوالات پر عمران خان غصے کا اظہار کرچکے ہیں۔

    قبل ازیں عمران خان توشہ خانہ فوجداری کیس میں حاضری کیلئے اسلام آباد کے 11 مرکز میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی نئی عمارت میں پیش ہوئے جو حال ہی میں ایف 8 سے یہاں منتقل کی گئی تھی عمران خان سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں بلٹ پروف شیٹس سے گھرے کچہری میں داخل ہو رہے تھے کہ ایک پانی کی بوتل اوپر سے ان کے اوپر گری، تاہم وہ شیٹس کی وجہ سے محفوظ رہے،توشہ خانہ کیس کی سماعت جج ہمایوں دلاور نے کی دورن سماعت جج ہمایوں دلاورنے چیئرمین پی ٹی آئی کو حاضری لگوا کر جانے کی اجازت دے دی۔

    بلاول بھٹو کی سفارش پر چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی …

  • برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کی کلاسیکل گلوکارہ ، اداکارہ ، صحافی، شاعرہ اور وکیل ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل 20 اکتوبر 1918 کو بمبئی آنند رائو وکیل کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں انہوں نے ایم ایس سی، ایل ایل ایم اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ سشیلا نے 7 سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

    1942 میں انہوں نے کلاسیکل گائیکی کا آغازکیا اوربعد ازاں انہوں نے School for music shiv sangeetanjali کی بنیاد رکھی۔ موسیقی کے اس اسکول میں ان کے کئی مشہور فنکار شاگرد پیدا ہوئے ڈاکٹر سشیلا نےکچھ عرصےبمبئی ہائیکورٹ میں وکالت کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا نے متعدد فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں فلم عالم آرا، خدا کی شان، یاد رہے اور سندیسہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    موسیقی اور اداکاری میں فلم پروڈیوسر بابو رائو پٹیل نے ان کی بہت بڑی مدد کی اور بعد میں انہوں نے بابو رائو پٹیل سے شادی کی۔ شادی کے بعد بابوراؤ پٹیل اور ڈاکٹر سشیلا نے ایک فلمی رسالے ” Filmindia کا جاری کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہیں اور شاعری بھی کرتی رہیں ۔ 24 جولائی 2014 بمبئی میں 96 برس کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ میوزک کو ” سشیلا بابو رائو پٹیل” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔

  • بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر 23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے حامد میر، بین الاقوانی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادیِ صحافت کے لیے ان کی بڑی جدوجہد اور کاوشیں ہیں۔ ان کے والد پروفیسر وارث میر بھی بہت بڑے اور بااصول صحافی اور دانشور تھے۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

    صحافتی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

    حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

    قاتلانہ حملہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لیے بہت بڑا دل اور ہمت چاہیے۔

    قابل قدر مکالمے
    ۔۔۔۔۔۔
    اور انعامات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے-

    ۔ بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے-

    ۔ 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا-

    ۔ مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
    ۔ وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا-

    ۔ 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی-

    ۔ 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمےاور 2001ء میں روزنامہ ڈان کےلیےگفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سےپہلی ملاقات تھی بی بی سی اور سی این این نےاسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001 کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لا جمہوری پبلیکیشنز لاہور

    کارہائے نمایاں:30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا،فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا اورسری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا-

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔

    زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔

    وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 04 جولائی؛ معروف اینکرپرسن عائشہ بخش  کا جنم دن

    04 جولائی؛ معروف اینکرپرسن عائشہ بخش کا جنم دن

    عائشہ بخش ایک پاکستانی ٹیلی وژن نیوز اینکر اور صحافی ہیں اور عائشہ بخش 04 جولائی 1981 کو ضلع پاکپتن ، پنجاب ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔وہ میاں محمد بخش اور روبینہ کی بیٹی ہیں۔ اس کے تین بہن بھائی ہیں: دو بھائی ذیشان بخش ( ڈان نیوز لاہور سے وابستہ صحافی) اور عثمان بخش اور ایک بہن صائمہ بخش ہیں۔ عائشہ بخش نے ساہیوال کے سینٹ میری کانوینٹ اسکول میں اسکول کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی ، راولپنڈی میں تعلیم حاصل کی اور مواصلاتی علوم میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

    عائشہ کی شادی فروری 2011 میں عدنان امین سے ہوئی تھی۔ جیو نیوز میں کام کرنے سے پہلے عائشہ اے آر وائی نیوز میں اینکر کی حیثیت سے کام کرتی تھیں ان کی اصل شہرت اور پہچان اے آر وائی نیوز سے بنی تاہم بعد میں ، جنوری 2007 میں ، عائشہ جیو ٹیلی ویژن میں شامل ہوگئیں اور جیو ٹیلی ویژن پر بطور اینکر ان کی پہلی پیش کش جیو کے پروگرام ، ” ناظم حاضر ” ہو میں تھی ۔ انھوں نے مستقل میزبانوں کی عدم موجودگی کے دوران کرائسس سیل ، آج کامران خان کی ساتھ اور” لیکن ” کی میزبانی بھی کی۔ فی الحال وہ جی این این نیوز پر کام کررہی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    وہ پاکستان میں مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے صحافیوں کے 12 رکنی وفد کا حصہ تھیں جو 4 جولائی 2011 کو چین کے شہر بیجنگ کا دورہ کرتی تھیں۔
    2012 اور 2014 میں ، انہوں نے تیسرے اور چوتھے پاکستان میڈیا ایوارڈ میں بہترین نیوزکاسٹر (خاتون) کا اعزاز حاصل کیا ۔ 2015 تک ، وہ ٹاک شو نیوز روم کی میزبانی کرتی رہیں اور اس کے بعد ایک نیا ٹاک شو رپورٹ کارڈ کی میزبانی کرتی رہیں۔

  • سقوط ڈھاکہ کے پس منظرمیں لکھی گئی کتاب Dead.Reckoning کی مصفنہ شرمیلا بوس

    سقوط ڈھاکہ کے پس منظرمیں لکھی گئی کتاب Dead.Reckoning کی مصفنہ شرمیلا بوس

    شرمیلا بوس صحافی ، محقق و مصنفہ

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی ممتاز صحافی ، محقق ، مصنفہ اور دانشور شرمیلا بوس 4 جولائی 1959 میں بوسٹن امریکہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ شرمیلا بوس کا تعلق کلکتہ کے بنگالی ہندو خاندان سے ہے وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما سبھاش بوس کی پوتی اور بھارت کے سابق آرمی چیف سین مانک شا کی بیٹی ہیں ۔ تحقیق کے میدان میں ان کا بہت بڑا مقام ہے اور وہ اس شعبے میں بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر نام کے طور پر شہرت کی حامل ہیں ۔

    وہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی ریسرچ ایسو سیئیٹ پروفیسر رہ چکی ہیں ۔ شرمیلا بوس اپنی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور کردار کے باعث ہندوؤں کی قوم پرست تنظیموں کی نظر میں اپنے وطن ہندوستان کی غدار اور پاکستانی ایجنٹ کے طور پر دیکھی جاتی ہیں سانحہ مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کے پس منظرمیں ان کی لکھی گئی کتاب Dead.Reckoning نےبین الاقوامی سطح پر شہرت اور پذیرائی حاصل کی ہے ۔

    شرمیلا بوس نے اپنی اس تصنیف میں پاکستانی فوج پر مشرقی پاکستان میں ہونے والے مبینہ مظالم، قتل عام اور پرتشدد واقعات کو جھوٹا پروپیگنڈہ مہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل میں بنگالی قوم پرستوں نے ہندوستانی فوج کے تعاون سے ڈھاکا سمیت بنگلہ دیش بھر میں مغربی پاکستان اور ہندوستان سے ہجرت کر کے جانے والے ہزاروں غیر بنگالی مہاجرین کو بچوں سمیت انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا جس کی تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے ۔

  • صحافی برادری کے تحفظ کی خاطر پنجاب کی نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    صحافی برادری کے تحفظ کی خاطر پنجاب کی نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    صحافی برادری کے تحفظ کی خاطر پنجاب کی نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    صوبے میں پنجاب جرنلسٹس پروٹیکشن کوارڈینیشن کمیٹی قائم کر دی گئی، نگران وزیر اطلاعات عامر میرکا کہنا ہے کہ کمیٹی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات اور انکا ازالہ کرے گی عامر میر کی کاوشوں سے محکمہ داخلہ پنجاب نے کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا کمیٹی کی منظوری پنجاب کی کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر نے دی ڈپٹی انسپکٹر جنرل لیگل پنجاب کو کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں صدر پی ایف یو جے، صدر پی یو جے اور صدر لاہور پریس کلب بھی شامل ہیں۔ پی جےایس سی پنجاب چیپٹر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریڈم نیٹ ورک بطور ممبر کمیٹی میں شامل ہیں،کمیٹی صوبے میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

    نگران وزیر اطلاعات عامر میرکا کہنا ہے کہ کمیٹی ضلعی پولیس افسران اور صحافیوں کے درمیان رابط کار کے طور پر بھی کام کرے گی۔ کمیٹی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی پر ایکشن تجویز کرے گی۔ کمیٹی صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کا جائزہ لےکر مناسب اقدامات کیا کریگی ۔ کمیٹی کا مقصد جرنلسٹ کمیونٹی کا تحفظ یقینی بنانا ہے کیئر ٹیکر گورنمنٹ میڈیا کی ازادی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟