Baaghi TV

Tag: صدارتی آرڈیننس

  • آزاد کشمیر حکومت نے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا، نوٹیفکیشن جاری

    آزاد کشمیر حکومت نے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا، نوٹیفکیشن جاری

    مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت نے جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی سے متعلق متنازع صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی :حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے تحت بغیر اجازت جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اب صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا گیا ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بیان میں حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا،اس کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ 90 روز کے اندر دیگر 12نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل ہوگا۔

    ایکشن کمیٹی نے 4 روز سے جاری پہیہ جام شٹرڈاون ہڑتال اور داخلی راستوں پر احتجاجی دھرنے ختم کردیئے، لانگ مارچ کے قافلے واپس لوٹ گئےاور بند دکانیں کاروباری مراکز کھل گئے جبکہ بین الاضلاعی اور پاکستان کے مختلف شہروں کے درمیان پبلک ٹرانسپور ٹ کا پہیہ بھی چل پڑا ۔

    آزاد کشمیر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت حکومت نے 13 مطالبات پورے کر لیے ہیں، آزاد کشمیر حکومت نے آٹے اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی بحال رکھنے، بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے، طلباء یونین کی بحالی اور بجلی کے کمرشل ٹیرف میں تبدیلی سمیت چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرنے پریقین دہانی کرائی ہے۔

    خیال رہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے ایک ماہ قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے احتجاجی جلسے، جلوس اور مظاہروں پر پابندی لگائی تھی، صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے 3 دسمبر کو آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے حکومت کا متنازع صدارتی آرڈیننس معطل کردیا تھا۔

    واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے حکومت آزاد کشمیر کو پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر آرڈیننس فوری واپس لینے کی ہدایت کی تھی،صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کو اس حوالے سے خط بھی لکھا تھا، جس کے بعد حکومت آزاد کشمیر نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔

    آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کسی بھی احتجاج اور جلسے سے ایک ہفتے قبل ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا تھا، اس کے علاوہ کسی غیر رجسٹرڈ جماعت یا تنظیم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

    اس آرڈیننس کو مرکزی بار ایسوسی ایشن مظفر آباد اور آزاد کشمیر بار کونسل کے 3 ارکان نے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھاہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں درخواست دائر کردی تھی۔

    تاہم سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے پرامن احتجاج اور امن عامہ سے متعلق آرڈیننس 2024 کا نفاذ معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2 اپیلیں منظور کرلی تھیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے آرڈیننس کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا-

  • پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر صدارتی آرڈیننس مسترد کر دیا

    پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر صدارتی آرڈیننس مسترد کر دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اجلاس زرداری ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی محترمہ فریال تالپور نے کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق تفصیلی غور و خوض کے بعد، پارلیمانی پارٹی نے حالیہ جاری کردہ صدارتی آرڈیننس کو مسترد کر دیا اور اسے آزاد کشمیر کے عوام کی امنگوں اور جمہوری خواہشات کے منافی قرار دیا۔پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ آرڈیننس عوام کے حقوق اور جمہوری عمل کو متاثر کرتا ہے، اور حکومت آزاد کشمیر پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد میں فوری طور پر اس آرڈیننس کو واپس لے۔اجلاس میں پی پی پی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی، جن میں شامل تھے سردار یعقوب خان،چوہدری محمد یاسین،چوہدری لطیف اکبر،فیصل ممتاز راٹھور،میاں وحید،جاوید ایوب،باذل نقوی، جاوید بدنوی،ضیا الحق قمر،قاسم مجید،امیر غفار لون،امیر یاسین،نبیلہ ایوب،شرکا نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان کے جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی انصاف، مساوات، اور کشمیری عوام کی امنگوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔

    وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

    فاروق ستار سے کراچی مارکیٹوں کے نمائندہ وفود کی ملاقات

  • کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ
    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہعئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے آرٹیکل 63 اے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج آپ سے کوئی سوالات نہیں کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمالیہ میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالا دیا گیا،وزیراعظم سے کمالیہ کی تقریر پر بات کی ہے، وزیر اعظم کا بیان عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،وزیراعطم کا بیان عدالت کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا کہ کمالیہ تقریر میں 1997 سپریم کورٹ حملے کے تناظر میں بات کی گئی تھی، عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے اور یقین ہے،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو کوئی ممبر اپنی رکنیت کا دعویٰ نہیں کرسکت منحرف اراکین کیلئے آئین کہتا ہے کہ وہ ممبرنہیں رہےگا اور سیٹ خالی تصور ہوگی، سیٹ خالی تصور ہونے کا مطلب ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوگا اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایک ممبرکوڈی سیٹ ہونے کے بعد کس بنیاد پر نا اہل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ نااہلی کی مدت 2 یا 5 سال تک مقرر کرسکتی ہے کیا ایک شخص کو تاحیات نااہل کرنے کیلئے انحراف کی بنیاد کافی ہے؟ جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ 62 اے میں ترمیم کرکے نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کررہی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی قانون میں نااہلی انحراف کے بنیاد پر ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی قانون میں تاحیات نااہلی بھی نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی آئین میں ارٹیکل 62/1F نہیں دیکھا جسٹس جمال خان مندوخیل نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ ڈی سیٹ ہونے کو بڑی سزا نہیں سمجھتے؟ ہمارے ہاں بلوچستان میں تو دوبارہ الیکشن لڑنے پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں. آئین بنانے والوں کی نظر میں ڈی سیٹ ہونا معمولی بات نہیں تھی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون سی طاقتیں ہوتی ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہوتا ہے جسٹس جمال خان نے کہا کہ ایماندار آدمی کو پارٹی پالیسی کے خلاف رائے دینے پر تلوار کیوں لٹکا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایماندار آدمی انحراف کرنے سے پہلے مستعفی کیوں نہیں ہوتا؟ جسٹس جمال خان نے کہا کہ کسی کو نشست سے مستعفی ہونے پر مجبور نہیں جاسکتا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیاکہ سندھ ہاؤس حملے کا کیا بنا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں بتایا کہ متعلقہ مجسٹریٹ سے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں اراکین اسمبلی سمیت تمام ملزمان گرفتار ہوں گے

    منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس بارے اٹارنی جنرل نے بڑا انکشاف کیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود ۲۰/۲۵ اراکین وفاداری تبدیلی پر تاحیات نااہلی کا قانون نہیں بننے دیتے اس کئیے حکومت سپریم کورٹ سے یہ کام کرانا چاہتی ہے، یہ قانون انکا ڈیتھ وارنٹ ہے۔

    قبل ازیں سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کی گرفتاری کا معاملہ آئی جی اسلام آباد نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ،رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی کا ثبوت نہیں مل سکا،ملزمان سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا،دہشت گردی کے ثبوت ملے تو مزید کارروائی کی جائے گی 16 ملزمان میں سے ایک رائے تنویر کی گرفتاری نہیں ہوسکی، رائے تنویر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،تمام گرفتار ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے ضمانت کرا لی تھی، ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے مجسٹریٹ کو درخواست دی ہے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ