Baaghi TV

Tag: صدرٹرمپ

  • امریکی صدر  چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    امریکی صدر چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اللہ کے فضل سے دشمن کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ جیتی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا بشمول امریکی صدر نے کیا ہے، جنہوں نے متعدد بار بھارت کو اس کے ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان اور تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کرائی، یہ فتح اتنی واضح تھی کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کا قد کاٹھ نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی تشخص اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ماضی میں جس ملک پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے تھے، آج وہی پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور جنگوں کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے،اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

    خواجہ آصف نے ان کامیابیوں اور امن کی کوششوں کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے باہمی تعاون سے پاکستان ایک نئی سمت میں گامزن ہے انہوں نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا۔

    وفاقی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    خواجہ آصف نےکہا کہ اب یورپ کے رویے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ،پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور ان شاء اللہ دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔

  • عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    امریکی سپریم کورٹ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آگیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے باعثِ شرم قرار دیا ہے،فوکس نیوز کے مطابق یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ بند کمرہ اجلاس کے دوران ایک معاون نے صدر ٹرمپ کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا،ا اجلاس میں موجود ایک ذریعے نے فوکس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ پڑھتے ہی اسے شرمناک کہا اور بتایا کہ میرے پاس متبادل موجود ہے اس کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں بڑے نقصان کے ایک دن بعد عالمی تجارتی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے یہ فیصلہ ٹرمپ کے پچھلے محصولات کے منصوبے کو عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد آیا ہے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل اور تفصیلی جائزے کے بعد وہ عالمی محصولات کو قانونی حد تک بڑھا رہے ہیں یہ اقدام امریکا کو عظیم بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کو اکانومی ایمرجنسی کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں عدالت نے واضح کیا کہ درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ٹیرف لگانے تک توسیع نہیں پاتا یہ کام صدر کا نہیں بلکہ کانگریس کا ہے جو اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کا قانونی اور مجاز ادارہ ہے۔

    جمعے کو سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی وسیع تجارتی محصولات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایمرجنسی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کیا، عدالت کے مطابق یہ قانون قومی ہنگامی حالات کے لیے ہے، لیکن صدر نے اسے عالمی تجارتی محصولات کے لیے استعمال کیا، جو اختیارات سے باہر تھا۔

    ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا ہے جب کہ اپوزیشن جماعت اسے انصاف کی کامیابی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیرف کو اپنی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، تاہم یہ حکمتِ عملی ابتدا ہی سے تنازع کا شکار رہی ہے۔