Baaghi TV

Tag: صدر عالمی بینک

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    واشنگٹن: صدر عالمی بینک اجے بنگا نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر عالمی بینک اجے بنگا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے سندھ طاس معاہدے کی تبدیلی یا خاتمہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ممکن ہے اور ورلڈ بینک کا کردار صرف ثالثی کا ہے فیصلہ سازی کا نہیں۔

    سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے کیا گیا تھا تاکہ پانی کے مسائل پر کوئی جنگ یا تنازع نہ ہو،زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔

  • غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    عالمی بینک نے اپنی شرح نمو میں ایک فیصد سے زائد کی کمی کر دی-

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے جنوری میں شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی تاہم اب عالمی بینک نے اب شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے-

    عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    صدر عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بہت سےممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا، رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا، دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔

    قبل ازیں عالمی بینک نے پاکستان کو 258 ملین ڈالرز امداد کی منظوری دے دی ہے عالمی بینک کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے لیے رقم کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے دی۔

    پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم پاکستان میں بنیادی صحت کے نظام میں بہتری کے لیے خرچ ہو گی کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کیلئے اصلاحات کی جائیں گی صوبائی ہیلتھ سسٹم کومضبوط بنانے میں بھی مدد دی جائے گی، جب کہ ہیلتھ کیئر کوریج، اسٹاف اور دواں کی سپلائی بہتربنائی جائے گی۔