Baaghi TV

Tag: صدر مادورو

  • وینزویلا کے صدر امریکی حراست میں،اسپین نے ثالثی کی پیشکش کردی

    وینزویلا کے صدر امریکی حراست میں،اسپین نے ثالثی کی پیشکش کردی

    وینزویلا پر امریکی حملوں اور صدر مادورو کی گرفتاری پر اسپین نے ثالثی کی پیشکش کردی۔

    وینزویلا میں امریکی فوج کی کارروائی اور صدو مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری پر دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے یورپی ممالک نے صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وینزویلا میں یورپی یونین کے سفیر سے بات کی ہےورپی یونین پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ صدر نکولس مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔

    وینزویلا کےصدر اور اہلیہ پر مقدمہ کہاں چلے گا؟ امریکی اٹارنی جنرل نے بتادیا

    بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے کہا کہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں بیلجیئم کا سفارتخانہ مکمل طور پر متحرک ہے اور صورتحال پر یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے کہا کہ وینزویلا میں صورتحال ابھی تک غیر واضح ہے تاہم وینزویلا میں اپنے سفارتخانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

    پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ملک میں موجود اپنے شہریوں کی تعداد کی تصدیق کی جا رہی ہے،فی الحال کسی پولش شہری کو مدد کی ضرورت کی اطلاع نہیں ملی، زیادہ تر پولش شہری وینزویلا میں طویل عرصے سے مقیم ہیں۔

    امریکہ نے باضابطہ طور پر وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر جاری کر دی

    ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کی حکومت وینزویلا میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہےوینزویلا میں اسپین کا سفارتخانہ اور قونصل خانے فعال ہیں، اور ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی، اس سے قبل اسپین کی وزارت خارجہ نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین وینزویلا میں پُرامن حل کے لیے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کے خلاف "مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی، روس نے خبردار کیا کہ یہ اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور زور دیا کہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔

    بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی امریکی کارروائی کی سخت مذمت کی، بیلاروس کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

    تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران نے امریکی حملے کو شدید طور پر غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی امن کو خطرے میں ڈالا ہےایران نے اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کونسل اور سیکرٹری جنرل سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    چین نےکہا ہے کہ وہ کسی بھی بہانے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہےچین نے امریکا سے پُرامن اور استحکام کی راہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی معاملات میں فوجی مداخلت عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل

    جرمنی سمیت بعض یورپی رہنماؤں نے کہا کہ امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور حتمی فیصلہ سازی کے تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا، جرمنی کے بعض قانون سازوں نے اسے یکطرفہ اقدام اور قانونی معیار کی خلاف ورزی بھی قرار دیا اور پُرامن مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

    فرانسیسی عہدیداروں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فوجی مداخلت علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو سکتی ہے،فرانس نے خطے میں تناؤ کم کرنے اور قانون کے مطابق حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

  • ٹرمپ کا امریکا کے وینزویلا پر "کامیاب” حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کا اعلان

    ٹرمپ کا امریکا کے وینزویلا پر "کامیاب” حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا پر فوجی حملے کے بعد صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے،یہ کارروائی بڑے پیمانے پر کی گئی، جس میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر حملہ کامیابی سے انجام دیا ہے، جس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    امریکی دعوے کے مطابق یہ لاطینی امریکا میں براہ راست امریکی فوجی مداخلت کی ایک بڑی مثال ہے، جہاں آخری بار 1989 میں پاناما پر حملہ کیا گیا تھا تاکہ فوجی حکمران مینوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔

    ملتان سلطانز کے انتظامی اور کرکٹ معاملات کون سنبھالے گا؟

    تاحال وینزویلا کی حکومت کی جانب سے صدر مادورو کی گرفتاری یا امریکی دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ صورتحال پر خاموشی برقرار ہے۔

    امریکا ماضی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ سے جڑی ریاست چلانے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزاما ت عائد کرتا رہا ہے، دوسری جانب مادورو، جو 2013 میں ہیوگو شاویز کے بعد اقتدار میں آئے تھے، مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جو دنیا میں سب سے بڑے سمجھے جاتے ہیں۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کے بعد امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سونے کی قیمت میں آج بڑی کمی ریکارڈ

    قبل ازیں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی حملے کی تصدیق کر تے ہوئےملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا،وینزویلین صدر نکولس مادورو نے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں، امریکی جارحیت بین الاقوامی امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    مادورو نے امریکی حملے کو ملکی وسائل پر قبضے کی ایک کوشش قرار دیا اور کہا تھا کہ امریکا وینزویلا کے اسٹریٹیجک وسائل، تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، انھوں نے کہا کہ ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

    سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کاراکاس میں سائرن بج رہے ہیں، دھماکوں کے بعد صدارتی محل کے ٹینک گشت کرنے لگے ہیں، وینزویلا حکومت کے ایک سرکاری بیان کے مطابق امریکا نے کئی ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں، حملے کاراکاس کے ساتھ ساتھ مرانڈا، اراگوا اور لا گوائرا کی ریاستوں میں ہوئے ہیں۔